بپرجوائے سے پاکستان میں بڑے نقصان کا خطرہ ٹل گیا، متاثرین کو حکومتی ہدایات تک واپسی کی اجازت نہیں ہو گی

پاکستان کی وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان کے مطابق سمندری طوفان بپرجوائے سے ملک کے ساحلی علاقوں میں بڑے نقصان کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ ادھر انڈیا کے محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کی شدت میں ایک درجہ کمی آئی ہے اور شام تک مزید کمزور ہونے کا امکان ہے۔

لائیو کوریج

  1. بپر جوائے طوفان سے کون سے علاقے متاثر ہو سکتے ہیں اور آپ اس سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

    بحیرہ عرب میں موجود ’بپر جوائے‘ نامی سمندری طوفان اب انتہائی شدید سائیکلون میں تبدیل ہو گیا ہے اور اس کا رُخ بدستور پاکستان اور انڈیا کے ساحلی علاقوں کی جانب ہے۔

    یہ طوفان کن علاقوں کو متاثر کرے گا اور وہاں رہنے والے افراد اس سے بچنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ دیکھیں حسن عباس، رباب بتول اور ٖفرقان الٰہی کی اس ویڈیو میں۔

    ،ویڈیو کیپشنبپر جوائے کن علاقوں کو متاثر کر سکتا ہے اور اس سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
  2. بریکنگ, سمندری طوفان ’بپر جوائے‘ کی تازہ ترین شدت اور صورتحال کیا ہے؟

    Cyclone

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بحیرہ عرب میں موجود ’بپر جوائے‘ نامی سمندری طوفان اب انتہائی شدید سائیکلون میں تبدیل ہو گیا ہے اور اس کا رُخ بدستور پاکستان اور انڈیا کے ساحلی علاقوں کی جانب ہے۔

    پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق یہ سائیکلون منگل کی صبح ک کراچی سے تقریباً 470 کلومیٹر جبکہ ٹھٹہ سے 460 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود تھا۔

    یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس طوفان کے مرکز میں اس وقت ہوا کی رفتار 170 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جبکہ اس کے نتیجے میں 35 سے 40 فٹ بلند سمندری لہریں اٹھ رہی ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ یہ طوفان 15 جون کی سہ پہر تک سندھ میں کیٹی بندر اور انڈیا میں گجرات کے علاقوں سے ٹکرا سکتا ہے۔

  3. پاکستان میں آنے والے بڑے سمندری طوفان: ’میرے والد سمیت لاپتہ ہونے والوں کو سمندر کی لہریں اپنے ساتھ لے گئی تھیں‘

    طوفان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ’اب جب سمندری طوفان کی باتیں ہو رہی ہیں تو مجھے وہ وقت یاد آ جاتا ہے جب کئی برس پہلے ہم نے افراتفری میں اپنا گھر بار چھوڑا تھا۔ ہر طرف سے ایک ہی آواز آ رہی تھی کہ ’بھاگو، طوفان آ رہا ہے۔‘ میں اس وقت چھوٹا تھا، میں بھی اپنے والد کے ساتھ بھاگا مگر بعد میں میرے والد لاپتہ جبکہ ایک بہن ہلاک ہو گئی تھی۔ ہم لوگ کافی دنوں تک کیمپ میں رہے تھے۔‘

    یہ کہنا ہے صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹھہ کے رہائشی محمد اکرم کا جو اس وقت کراچی میں ملازمت کرتے ہیں۔ محمد اکرم کا خاندان سنہ 1999 کے پاکستان کی تاریخ کے بدترین سمندری طوفان کے متاثرین میں سے ہے۔

  4. بریکنگ, حکومت سندھ نے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں؟

    نقل مکانی

    ،تصویر کا ذریعہSindh Government

    وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق سمندری طوفان کے پیش نظر ساحلی پٹی کے شہروں اور علاقوں سے لوگوں کا انخلا رات بھر جاری رہا۔

    کیٹی بندر کی 13000 آبادی خطرے میں ہے جس میں سے 3000 افراد کو رات بھر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کے جاری کردہ بیان کے مطابق گھوڑا باڑی کے علاقے میں 5000 افراد کی آبادی طوفان سے خطرہ ہے جس میں 100 لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

    جبکہ ساحلی علاقے شہید فاضل راہو کی 4000 افراد پر مشتمل آبادی کو طوفان کا خطرہ ہے جس میں سے 3000 افراد کو منتقل کیا گیا ہے۔ اسی طرح بدین کی 2500 افراد کی آبادی کو خطرہ ہے جس میں سے 540 افراد ابھی تک محفوظ مقام پر منتقل ہو چکے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ کے جاری کردہ بیان کے مطابق شاہ بندر کی 5000 افراد پر مشتمل آبادی سمندری طوفان کی زد میں آنے کا خطرہ ہے اس لیے 90 لوگوں کو رات منتقل کیا گیا ہے۔

    اسی طرح ساحلی علاقے جاتی کی افراد کی 10,000 آبادی کو طوفان کا خطرہ ہے اور گذشتہ رات 100 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ کھاروچھان کی 1300 کی آبادی میں سے صرف چھ افراد منتقل کیے گئے۔

    وزیر اعلیٰ کے جاری کردہ بیان کے مطابق ابھی تک 40800 میں سے 6836 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ باقی افراد کی منتقلی کا سلسلہ جاری ہے۔

    ٹھٹھہ، بدین، اور سجاول کے اضلاع سے بھی لوگوں کا انخلا جاری ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ لوگ اپنے گھر چھوڑنا نہیں چاہتے لیکن ان کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ وزیراعلیٰ نے لوگوں کو اپیل کی کہ انتظامیہ سے تعاون کریں اور محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔

    cyclone

    ،تصویر کا ذریعہSindh Government

    اس سے قبل پیر کے روز بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے اہم اقدام لوگوں کو پاکستان کے ساحلی علاقوں سے نکال کر محفوظ مقامات کی جانب منتقل کرنا ہے اور پر کام جاری ہے جبکہ کراچی اور دیگر شہری علاقے جو طوفان کے دوران آنے والی ممکنہ بارشوں سے متاثر ہو سکتے ہیں وہاں پمپنگ مشینیں لگائی جا رہی ہیں تاکہ نکاسی آب کا کام بروقت ہو سکے۔

    انھوں نے کہا کہ لگ بھگ 60 ہزار افراد کا مختلف علاقوں اور ساحلی آبادیوں سے انخلا کیا جائے گا جبکہ کراچی شہر میں انتہائی خستہ اور پرانی 60 عمارتوں سے بھی لوگوں کو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔

    مراد علی شاہ کے مطابق ’اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا انخلا آسان کام نہیں۔ تیز ہواؤں اور بارشوں کا بھی خدشہ ہے اور اس ضمن میں اگلے تین، چار دن اہم ہیں۔

    انھوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ بارش اور تیز ہواؤں کے دوران عوام بلاوجہ گھروں سے نہ نکلیں جبکہ ان علاقوں سے جانب سے مکمل گریز کیا جائے جہاں تعمیراتی کام جاری ہے یا سڑکیں کھدی ہوئی ہیں۔

  5. ڈی ایچ اے کا رہائشیوں کو انخلا کا نوٹس

    کراچی میں ڈی ایچ اے ہاؤسنگ سوسائٹی نے اپنے رہائشیوں کو سمندری طوفان بپر جوائے کے پیش نظررضا کارانہ طور پر انخلا کر کے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا کہا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  6. سمندری طوفان تباہ کن کیوں ہوتے ہیں؟

    cyclone

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پانی کی سطح پر سفر کے دوران سمندری طوفان کی شدت بڑھتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طوفان کے اوپر موجود گرم ہوا ایندھن کا کام کرتی ہے۔

    جیسے جیسے یہ گرم ہوا بلند ہوتی ہے اس کی جگہ متبادل ہوا لے لیتی ہے اور اسی سے طوفان یا سائیکل بنتا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ کئی سمندری طوفانوں کا حجم بڑھتا جاتا ہے۔

    تاہم جب یہ سمندری طوفان زمین کے قریب پہنچتے ہیں تو ان کی شدت میں کمی آتی ہے کیوں کہ وہ گرم پانی پر سفر نہیں کر رہے ہوتے اور اسی لیے ان کا ایندھن کم ہوتا جاتا ہے۔

    اس کے باوجود یہ طوفان تیز رفتار ہواؤں اور بارش سے کافی نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    تاہم یہ پیشگوئی کرنا کافی مشکل ہوتا ہے کہ سمندری طوفان کتنا طاقتور ہو گا اور زمین کے کس حصے سے ٹکرائے گا۔

    ان کی سمت کا تعین کیا جا سکتا ہے اور وقت سے پہلے تیاری ان کے اثرات سے نمٹنے میں مدد فراہم کر سکتی ہیں۔

    ایسے علاقے جو ساحل کے قریب ہوں، وہاں عمارات کی تعمیر میں اس بات کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ سمندری طوفان سے ان کو زیادہ نقصان نہ ہو۔

    ایسے ہی ان علاقوں میں سائرن کے ذریعے مقامی افراد کو خبردار کیا جا سکتا ہے۔ چند ممالک میں شہریوں کو تاکید کی جاتی ہے کہ وہ ضروری سامان پہلے سے ہی خرید کر رکھ لیں جس میں خوراک، پانی اور طبی امداد کا سامان شامل ہوتا ہے۔

  7. پاکستان میں آنے والے بڑے سمندری طوفان: ’میرے والد سمیت لاپتہ ہونے والوں کی لاشیں سمندر کی لہریں اپنے ساتھ لے گئی تھیں‘

  8. سائیکلون یا سمندری طوفان کیسے بنتا ہے؟

    Cyclone

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    سائیکلون گرم ہوا کی وجہ سے جنم لیتے ہیں اور ایک گول دائرے کی شکل میں آگے بڑھتے ہیں۔ ایسے طوفان اپنے ساتھ کافی تیز ہوائیں اور بارش لاتے ہیں جو سمندروں کے گرم پانی کے اوپر جنم لے کر آگے بڑھتے ہوئے شدت اختیار کرتے جاتے ہیں۔

    جب سمندر کی گرم ہوا اوپر اٹھتی ہے تو اس کی حدت میں کمی آتی ہے اور یہ بادل کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اسے زیادہ دباؤ کا علاقہ کہا جاتا ہے۔

    جیسے جیسے یہ ہوا بلند ہوتی ہے سمندری سطح کے قریب ہوا میں کمی ہوتی ہے۔ اسے کم دباؤ کا علاقہ کہتے ہیں۔

    اس کم دباؤ والے علاقے کی جانب خلا کو پُر کرنے کے لیے اور ہوا حرکت میں آتی ہے جو گرم ہو کر ایک گول دائرے کی صورت میں گھومتی ہے۔

    ایسے سمندری طوفان جو گھومتے ہیں، ان کا ایک مرکزی نقطہ ضرور ہوتا ہے۔ اسے طوفان کی آنکھ یعنی ’آئی آف دی سٹورم‘ کہا جاتا ہے جو پرسکون حصہ ہوتا ہے۔

    یہاں ہوا کا دباؤ کم ہوتا ہے اور اسی نقطے کے گرد طوفان گھومتا ہے۔

  9. بپر جوائے سے کیا نقصان ہو سکتا ہے؟

    cyclone

    ،تصویر کا ذریعہPAKMET

    محکمہ موسمیات کے مطابق بپر جوائے کی وجہ سے تیز رفتار ہوائیں کچی عمارات اور سولر پینل جیسی اشیا کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ محکمہ موسمیات کی ممکنہ نقصانات کے حوالے سے تنبیہ جاری ہونے کے بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کراچی ایئرپورٹ پرپیشگی اقدامات کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

    سی اے اے کے شعبہ ایئرسائیڈ نے متعلقہ اداروں کو الرٹ کردیا ہے اور تجویز کیا ہے کہ ہلکے وزن کے ہوائی جہازوں کو محفوظ مقامات پرمنتقل کیا جائے یا کسی مظبوط چیز سے باندھا جائے اور رن ویز اور ٹارمک ایریا کے آس پاس اشیا کو تصادم کے خدشے کا باعث محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔

    طوفان کی آمد کی وجہ سے کیٹی بندر کے اردگرد آٹھ سے 12 فٹ بلند سمندری لہریں متوقع ہیں جو نزدیکی علاقوں کو زیر آب لا سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ بدین اور ٹھٹہ کے ساحلی علاقوں میں بھی سیلابی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔

    سمندری طوفان کی وجہ سے بجلی، انٹرنیٹ کا نظام بھی متاثر ہو سکتا ہے اور این ڈی ایم اے نے کے الیکٹرک کو کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق پنجاب میں آندھی اور بارش کی صورتحال کے باعث کھڑی فصلوں اور بوسیدہ عمارتوں کو شدید نقصان کا خطرہ ہے۔

    اس کے علاوہ تیز رفتار ہواؤں کی وجہ سے بجلی کے کھمبے یا درخت اکھڑنے کاخدشہ موجود ہوتا ہے جو سڑکوں اور راستوں کو بند کر سکتے ہیں۔

    تیز رفتار ہوائیں کھڑی فصلوں کو بھی کافی نقصان پہچا سکتی ہیں جبکہ طوفان کی وجہ سے آنے والی بارشوں سے سیلابی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔

    این ڈی ایم اے نے اسی لیے تجویز دی ہے کہ شہری حکومت ندی نالوں اور شہر میں انڈر پاس کی صفائی اور نکاسی آب کا انتظام کرے۔

    واضح رہے کہ 17 جون تک ماہی گیروں کو کھلے سمندر میں نہ جانے کی تلقین کی گئی ہے۔

    کمشنر کراچی نے شہریوں کے سمندر کی طرف جانے، مچھلی پکڑنے اور نہانے پر 11 جون سے لے کر طوفان تھمنے تک پابندی عائد کی ہے۔

  10. بریکنگ, سمندری طوفان بپر جوائے سے کون کون سے علاقے متاثر ہو سکتے ہیں؟

    Cyclone

    محکمہ موسمیات کے مطابق امکان ہے کہ بحیرۂ عرب میں یہ سمندری طوفان 14 جون کی صبح تک شمال کی سمت میں چلتا رہے گا جس کے بعد یہ شمال مشرق کی جانب مڑے گا اور 15 جون کو پاکستان میں کیٹی بندر اور انڈیا میں گجرات کے ساحل سے گزرے گا۔

    حکام کے مطابق اس طوفان کی ممکنہ آمد کے ساتھ ہی سندھ کے جنوب مشرقی علاقوں میں تیز ہواؤں اور طوفانی بارش کا امکان ہے جبکہ 13 سے 17 جون تک ٹھٹہ، سجاول، بدین، تھرپارکر، میر پور خاص اور عمر کوٹ کے اضلاع میں 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک کی تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق اس طوفان کے باعث کراچی میں 100 ملی میٹر سے زیادہ جبکہ سجاول، بدین اور ٹھٹھہ میں 300 سے 400 ملی میٹر شدید بارش کا امکان ہو سکتا ہے، اس کے علاوہ 13 جون (منگل) کی شام سے جنوبی اور جنوب مشرقی سندھ کے دیگر علاقوں بشمول تھرپارکر اور میرپورخاص میں گرج چمک اور تیز آندھی کے ساتھ شدید بارش ہو سکتی ہے جس کے باعث ساحلی علاقوں میں اربن فلڈنگ ہو سکتی ہے۔

    14 سے 16 جون تک کراچی، حیدر آباد، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو اللہ یار، شہید بینظیر آباد اور سانگھڑ میں بھی بارش اور تیز ہواؤں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق اگر طوفان کا رُخ شمال مغرب کی طرف ہی رہا تو کراچی متاثر ہو سکتا ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب نے بھی اس حوالے جاری کردہ الرٹ میں پنجاب کے تمام اداروں و ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات کی ہے۔

    الرٹ کے مطابق سمندری طوفان کی وجہ سے ملک کے بالائی علاقوں میں مغربی ہوائیں 14 جون سے داخل ہونے کا امکان ہے جس کے باعث لاہور، اسلام آباد، مری، گلیات، راولپنڈی، اٹک، چکوال، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، منڈی بہاؤالدین اور نارووال میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق 15سے 18 جون کے دوران ان اضلاع میں وقفے وقفے سے تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کی توقع ہے سے تیزہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے جبکہ مری کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔

  11. ’بپر جوائے‘ کا مطلب کیا ہے؟

    cyclone

    ،تصویر کا ذریعہPAKMET Department

    سائیکلون کا نام ’بپر جوائے‘ بنگلہ دیش کی جانب سے رکھا گیا ہے جس کا بنگالی میں مطلب تباہی یا قدرتی آفت ہے۔

    پاکستان کی طرح انڈیا کے محکمہ موسمیات کی جانب سے بھی پیشگوئی کی جا چکی ہے کہ یہ سمندری طوفان اگلے کچھ گھنٹوں میں ’انتہائی شدید سائیکلونک طوفان‘ میں بدل سکتا ہے۔

    انڈیا کے محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند دنوں میں اس کی وجہ سے بحیرہ عرب میں ہوائیں 155 سے 165 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتی ہیں اور آگے بڑھتے ہوئے ہوا کی رفتار 190 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔

    انڈین محکمہ موسمیات کے مطابق سمندری طوفان بِپرجوئے دھیرے دھیرے مضبوط ہو رہا ہے اور آنے والے دنوں میں گجرات کے ساحل کے بہت قریب آ جائے گا۔

  12. بریکنگ, بپر جوائے سائیکلون سے متعلق بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    Cyclone

    ،تصویر کا ذریعہZoomEarth

    بحیرۂ عرب میں موجود ’بپر جوائے‘ نامی سمندری طوفان سے متعلق تازہ ترین معلومات جاننے کے لیے بی بی سی کے لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید!

  13. بپر جوائے: اس سمندری طوفان سے پاکستان کے کون سے علاقے متاثر ہو سکتے ہیں؟