بپرجوائے سے پاکستان میں بڑے نقصان کا خطرہ ٹل گیا، متاثرین کو حکومتی ہدایات تک واپسی کی اجازت نہیں ہو گی

پاکستان کی وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان کے مطابق سمندری طوفان بپرجوائے سے ملک کے ساحلی علاقوں میں بڑے نقصان کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ ادھر انڈیا کے محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کی شدت میں ایک درجہ کمی آئی ہے اور شام تک مزید کمزور ہونے کا امکان ہے۔

لائیو کوریج

  1. سمندری طوفان بپرجوائے: کیٹی بندر سے 240، کراچی سے 310 جبکہ ٹھٹھہ سے 300 کلو میٹر دور

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی دارے این ڈی ایم اے کے مطابق سمندری طوفان بپرجوائے کیٹی بندر سے 240، کراچی سے 310 جبکہ ٹھٹھہ سے 300 کلو میٹر کے فاصلے پر جنوب میں موجود ہے۔

    ادارے کے مطابق طوفان کا رخ شمال مشرق کی طرف جانے کا امکان ہے۔

    سمندری طوفان کے ممکنہ اثرات سے تھرپارکر، بدین اور ٹھٹھہ کے اضلاع اورکراچی ڈویژن میں بارش کا امکان ہے.این ڈی ایم اے کے مطابق مقامی انتظامیہ کی جانب سے 75 کے قریب ریلیف کیمپس لگائے گئے ہیں۔

    ادارے کے مطابق پاکستانی فوج، نیوی اور رینجرز کی مدد سے ٹھٹھہ، سجاول، بدین سے اب تک تقریباً 73 ہزار افراد کو محفوظ کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ کیمپوں میں خوراک و طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. بپرجوائے: سندھ کا علاقہ کیٹی بندر زیر آب آ گیا

    سمندری طوفان بپرجوائے کی وجہ سے سندھ کا علاقہ کیٹی بندر زیر آب آ گیا ہے اور سمندری پانی ماہی گیروں کی بستیوں میں داخل ہو گیا ہے۔

    دیکھیے ریاض سہیل اور محمد نبیل کی یہ رپورٹ

    ،ویڈیو کیپشنبپرجوائے: سندھ کے علاقے کیٹی بندر میں ماہی گیروں کی بستیاں زیر آب
  3. جناح انٹرنیشل ایئرپورٹ سے سی ویو تک: کراچی کی تازہ ترین صورتحال, سحر بلوچ بی بی سی اردو کراچی

    Saher in Karachi

    میں جب اسلام آباد سے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچی تو وہاں سے اپنا سفر سی ویو کی جانب شروع کیا تاکہ یہ جان سکوں کے بپرجوائے سمندری طوفان کے پیش نظر وہاں اب تازہ صورتحال کیا ہے۔

    میرے لیے یہ بات حیران کن تھی کہ پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شہر کراچی میں بِل بورڈز نظر نہیں آ رہے تھے۔ شہری انتظامیہ نے لوگوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے بلند عمارتوں اور پُلوں سے بڑی تعداد میں یہ بل بورڈ ہٹا دیے ہیں۔

    مجھے حکام نے یہ بھی بتایا کہ پیشگی اقدامات کے طور پر شہری انتظامیہ نے شہر کی مخدوش عمارتوں کی بھی ایک فہرست مرتب کی ہے، جس کے تحت کراچی کی 500 ایسی عمارتوں کی تفصیلات سامنے آئی ہے کہ جو تیز ہواؤں کے باعث متاثر ہو سکتی ہیں۔

    سمندری طوفان بپر جوائے کے بارے میں حکام نے مجھے یہ بتایا ہے کہ یہ پاکستان میں سب سے پہلے سندھ کے ساحلی علاقے کیٹی بندر سے ٹکرائے گا۔

    جب یہ نظارے کرتے ہوئے اور خبریں سنتے ہوئے میں سی ویو کے مقام پر پہنچی تو میں نے دیکھا کہ سی ویو سے کافی حد تک انخلا کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ تاہم ابھی بھی قریبی علاقوں کے لوگ وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    پولیس والے سمندر کی طرف جانے والوں کو روک رہے ہیں۔

    ساحل سمندر سے بہت پہلے ہی پولیس کی جانب سے رکاوٹیں لگا دی گئی ہیں اور وہاں سے آگے لوگوں کو جانے نہیں دیا جا رہا ہے۔

    لوگ فوٹوز اور ویڈیوز بنا رہے ہیں اور وہاں سے آگے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب تک میں وہاں ٹھہری رہی تو میں نے دیکھا کہ وقفے وقفے سے بارش شروع ہو جاتی اور پھر کچھ وقت کے لیے دھوپ نکل آتی تھی۔

  4. بپر جوائے طوفان کے پیش نظر سوئی سدرن گیس کمپنی نے صنعتوں، فرٹیلائزر اور سی این جی کے شعبوں کو گیس سپلائی معطل کر دی, تنویر ملک، صحافی

    سندھ اور بلوچستان میں گیس سپلائی کرنے والے وفاقی ادارے سوئی سدرن گیس کمپنی نے وفاقی حکومت کی ہدایات پر صنعتوں، کھاد بنانے اور سی این جی شعبوں کو گیس کی سپلائی معطل کر دی ہے تاکہ بجلی کے شعبے کو زیادہ سے زیادہ گیس سپلائی فراہم کر کے اس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    کمپنی کے اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ سمندری طوفان بپر جوائے کے پیش نظر لیا گیا ہے۔

    کمپنی کے مطابق صنعتوں اور دوسرے شعبوں کو نوٹس کے ذریعے گیس سپلائی معطلی کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے تاکہ اس گیس زیادہ سے زیادہ گیس بجلی کے شعبے کو دی جا سکے اور اس کی فراہمی کو بغیر کسی رکاوٹ کے یقینی بنایا جا سکے۔

    کمپنی کے مطابق کے الیکٹرک کو قدرتی گیس اور آر ایل این جی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ اس کی آپریشنل ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

  5. فوج سمیت تمام متعلقہ اداروں سے مکمل کوآرڈینیشن قائم رکھی ہوئی ہے: این ڈی ایم اے

    پاکستان کے ہنگامی صورتحال سے نمنٹے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وفاقی وزیر شیری رحمان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بپرجوائے طوفان کے پیش نظر فوج سمیت تمام اداروں اور صوبوں سے ہمارا رابطہ ہے۔

    ان کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے ایمرجنسی اور امداد کے اداروں کو الرٹ رکھا ہوا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ فوج کے ساتھ بھی مکمل کوآرڈینیشن قائم رکھی ہوئی ہے اور وہ ہر طرح سے سویلین اداروں کو مدد فراہم کر رہے ہیں۔

  6. سمندری طوفان سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر بہت اہم ہیں: شیری رحمان

    وفاقی وزیر شیری رحمان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سمندری طوفان سے محفوظ رہنے کے لیے شہری احتیاطی تدابیر پر لازمی عمل کریں۔

    انھوں نے کہا کہ وہ لوگ جو اس طوفان سے متاثر ہو سکتے ہیں ان کے لیے ضروری ہے کہ اپنے گھر کے درمیان والے حصے میں رہیں اور گھر کی بیرونی کھڑکیوں سے دور رہیں جبکہ گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو ڈھانپ کر رکھیں۔

    انھوں نے کہا کہ گھر کے اندر یا باہر موجود وہ درخت جن کی شاخیں اور ٹہنیاں پہلے ہی کمزور ہیں انھیں کاٹ دیں مگر درختوں کو مکمل طور پر نہ کاٹیں۔ موبائل فون اور دیگر ڈیوائسز چارج رکھیں تاکہ ہنگامی صورتحال میں رابطہ ممکن ہو سکے۔

    انھوں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ ساحل سمندر کا رخ نہ کریں اور وہاں جا کر ٹک ٹاک بنانے سے گریز کریں کیونکہ اس وقت ساحلی علاقوں میں سیکشن 44 کا نفاذ ہو چکا ہے جبکہ ایمرجنسی کٹ تیار رکھیں تاکہ بوقت ضرورت کام آ سکے۔

  7. بپرجوائے کا کراچی سے فاصلہ زیادہ جبکہ کیٹی بندر سے کم ہو رہا ہے: شیری رحمان

    شیری رحمان

    وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے کہا ہے کہ بپرجوائے سمندری طوفان کی اصل شدت کا کل (جمعرات) تک واضح ہو سکے گی کیونکہ یہ 15 جون کی صبح گیارہ بجے پاکستان کے ساحلی علاقوں تک پہنچے گا۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’اس کا لینڈ فال (یعنی سمندر سے ساحلی علاقوں میں داخل ہونے کا وقت) کیٹی بندر اور انڈین گجرات کے ساحلوں پر ہو سکتا ہے۔‘

    ’شام ساڑھے چار بجے موصول ہونے والی تازہ اطلاعات کے مطابق ہوا کی شدت 150 سے 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہے۔ کراچی سے اس کا فاصلہ دور ہوتا جا رہا ہے۔ کراچی سے فی الحال اس کا فاصلہ 370 کلومیٹر ہے جبکہ کیٹی بندر سے اس کا فاصلہ کم ہو کر 290 کلومیٹر ہے جبکہ یہ پاکستانی ساحلی علاقوں کی جانب 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ اس کے لینڈ فال (یعنی زمین سے اس کے ٹکراؤ کے وقت) ہوا کی رفتار 100 سے 120 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہو گی۔‘

    شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان نیوی نے سمندری طوفان بپرجوائے سے درپیش ممکنہ خطرات کی پیش نظر اپنے اثاثے محفوط جگہوں پر منتقل کر دیے ہیں۔

    شیری رحمان کے مطابق گذشتہ چار سے پانچ راتوں سے سندھ کے ساحلی علاقوں سے انخلا جاری ہے اور اب تک 66 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کر دیا گیا ہے۔

    شیری رحمان نے عوام سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ خود سے واپس اپنے گھروں میں نہ جائیں بلکہ اسی وقت جائیں جب حکومت اور ادارے اس کی اجازت دیں گے۔

    شیری رحمان نے کہا ہے کہ رینجرز اور سندھ پولیس کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

    ان کے مطابق حکومت نے وہ تمام اقدامات اٹھا لیے ہیں جو طوفان کے آنے سے پہلے اٹھانے ضروری ہوتے ہیں اور اب جب یہ سمندری طوفان سندھ کی ساحلی پٹی سے ٹکرائے گا تو پھر اس کے انقصانات کے بارے میں پتا چل سکے گا۔

    انھوں نے کہا کہ یہ ماحولیاتی اثرات کے شاخسانے ہیں جو سائیکلون کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ شیری رحمان کے مطابق اب ایسے سائیکلون کی تعداد اور شدت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس نوعیت کی آفات کی وجہ قدرت کو قرار دینا مناسب نہیں کیونکہ یہ انسانی سرگرمیوں اور آلودگی کی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔

    وفاقی وزیر کے مطابق ترقی یافتہ دنیا میں جس طرح کی ماحول دشمن سرگرمیاں ہو رہی ہیں اس وجہ سے اب ماحول پر دباؤ بڑھ چکا ہے۔

  8. بپرجوائے: کراچی کے ساحل ’سی ویو‘ پر اس وقت کیا صورتحال ہے؟

  9. بپرجوائے: کراچی کے ساحل ’سی ویو‘ پر اس وقت کیا صورتحال ہے؟

    پاکستان کے صوبہ سندھ کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق سمندری طوفان بپر جوائے کے پیش نظر صوبے کے ساحلی علاقوں سے 64 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ حکام نے کہا ہے کہ سمندری طوفان بدستور شدت سے آگے بڑھ رہا ہے اس لیے عوام محتاط رہیں۔

    کراچی کے معروف ساحل ’سی ویو‘ پر اس وقت کیا صورتحال ہے اس حوالے سے دیکھیے بی بی سی اُردو کی یہ خصوصی ویڈیو۔

    ،ویڈیو کیپشنبپرجوائے: کراچی کے ساحل ’سی ویو‘ پر اس وقت کیا صورتحال ہے؟
  10. سمندری طوفان شدت سے آگے بڑھ رہا ہے، محتاط رہیں: این ڈی ایم اے

    سمندری طوفان بیپر جوائے شدت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، ماہی گیر، ملاح، عوام ساحلی پٹی سے دور رہیں۔ تیز سمندری لہریں نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔ خطرہ ختم ہونے تک احتیاط کریں اور متعلقہ مقامی انتظامیہ سے تعاون کریں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. سمندری طوفان بپر جوائے پر وزیراعظم نے کمیٹی تشکیل دے دی

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. سمندری طوفان کے دنوں میں پنجاب کا موسم کیسا رہے گا؟, عمر دراز ننگیانہ بی بی سی اردو لاہور

    محکمہ موسمیات کے مطابق صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔ تاہم مری، گلیات، خطۂ پوٹھوہا، نارووال، سیالکوٹ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، ساہیوال، اوکاڑہ، سرگودھا، منڈی بہاؤالدین، فیصل آباد، قصور، میانوالی، لیہ، بھکر، نور پورتھل، خوشاب، ملتان، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان میں آندھی/گرد آلود ہوائیں چلنے اورگرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقا مات پر موسلا دھار بارش/ژالہ باری کا امکان ہے۔ جمعرات کے روز صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔ تاہم مری، گلیات، خطۂ پوٹھوہار، نارووال، سیالکوٹ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، ساہیوال، اوکاڑہ، سرگودھا، منڈی بہاؤالدین، فیصل آباد،جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، حافظہ آباد، قصور، میانوالی، لیہ، بھکر، نور پورتھل، خوشاب، ملتان، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان میں آندھی/گرد آلود ہوائیں چلنے اورگرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر موسلا دھار بارش/ژالہ باری کا امکان ہے۔

  13. سمندری طوفان بپر جوائے کراچی سے 370 کلومیٹر دوری پر, ریاض سہیل بی بی سی اردو کراچی

    Cyclone

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بپر جوائے سائیکلون نے گذشتہ چھ گھنٹے سے اپنا رخ تبدیل کر کے شمال مشرق کی جانب بڑھ رہا ہے اوراب یہ کراچی سے محض 370 کلومیٹر کی دوریپر ہے۔

    مطابق اس طوفان سے پاکستان میں زیریں سندھ کے تین اضلاع ٹھٹہ، سجاول اور بدین زیادہ خطرے کا شکار ہیں اور جن علاقوں سے یہ سمندری طوفان ٹکرائے گا وہاں پر ساحلی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

    کہ بپر جوائے سندھ کے ساحلی علاقوں کی طرف 150 سے 170 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے۔ اس کے اردگرد ہوا کی رفتار 150 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جبکہ لہروں کی اونچائی 30 فٹ ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. بلوچستان کے سمندری طوفان کے متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ نہیں: پی ڈی ایم اے, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل جہانزیب خان نے کہا ہے کہ بلوچستان کی حد تک سمندری طوفان سے بہت زیادہ خطرہ نہیں ہے جس کے باعث اب تک یہاں کسی علاقے سے آبادی کا انخلا نہیں کیا گیا ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ سمندری طوفان سے خطرہ زیادہ نہیں ہے تاہم دونوں ساحلی اضلاع حب اور گوادرمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ٹیمیں موجود ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ضلع گوادر میں اورماڑہ اور سربندر میں پانی زیادہ ہے لیکن ہوا بند ہونے سے وہاں بھی بہت زیادہ خطرہ نہیں ہے۔

    پسنی فش فیکٹری

    ادھر ضلع گوادر کے علاقے اورماڑہ میں بدھ کی صبح ایک مرتبہ پھر سمندری پانی داخل ہوا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر پسنی کے مطابق پانی فش فیکٹری کے علاقے میں داخل ہوا تاہم وہاں لوگوں کے مکانات نہیں ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ اورماڑہ میں جن علاقوں کو زیادہ خطرہ ہے ان میں اڈ گور، طاق اور بل شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اورماڑہ میں خطرات کے باعث مختلف علاقوں میں کیمپ قائم کیے گئے ہیں لیکن ابھی تک اورماڑہ سے آبادی کا انخلا نہیں ہوا ہے۔

    اسسٹنٹ کمشنر پسنی کے مطابق پاکستانی بحریہ کی مدد سے اورماڑہ میں ماہی گیروں کی ڈیڑھ سو کشتیوں کو محفوظ بنایا گیا ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پسنی میں کلمت کے علاقے کو خطرہ ہے جس کی آبادی سات سو نفوس پر مشتمل ہے اور خطرہ بہت زیادہ بڑھ جانے کی صورت میں کلمت سے آبادی کے انخلا کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

  15. بپر جوائے کا رخ تبدیل، جمعرات کی شام کیٹی بندر سے ٹکرائے گا: محکمہ موسمیات, محمد زبیر خان، صحافی

    بپر جوائے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر سردار سرفراز کے مطابق بپر جوائے سائیکلون نے اب اپنا رخ تبدیل کر کے شمال مشرق کی جانب کر لیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ پاکستان میں ٹھٹہ کی تحصیل کیٹی بندر اور انڈیا میں راجستھان سے گجرات تک جمعرات کی شام ٹکرائے گا۔

    سردار سرفراز کا کہنا تھا کہ بپر جوائے سندھ کے ساحلی علاقوں کی طرف 150 سے 170 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے۔ اس کے اردگرد ہوا کی رفتار 150 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جبکہ لہروں کی اونچائی 30 فٹ ہے۔

    ان کے مطابق اس طوفان سے پاکستان میں زیریں سندھ کے تین اضلاع ٹھٹہ، سجاول اور بدین زیادہ خطرے کا شکار ہیں اور جن علاقوں سے یہ سمندری طوفان ٹکرائے گا وہاں پر ساحلی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق ٹھٹھہ، سجاول، بدین، تھرپارکر اور عمرکوٹ کے اضلاع میں آندھی، گرج چمک، تیز ہواؤں کے ساتھ شدید بارش اور تیز ہواؤں کے جھکڑ چل سکتے ہیں جن کی رفتار 80 سے 120 کلومیٹر فی گھنٹہ ہو سکتی ہے۔

    حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طوفان کی وجہ سے دیہی سندھ کے ساحلی علاقوں میں آندھی و گرج چمک کے ساتھ 300 ملی میٹر بارشیں ہوسکتی ہیں جبکہ کراچی میں بدھ کی شام سے بارش کا امکان ہے اور شہر میں 24 گھنٹوں کے دوران 100 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہو سکتی ہے۔

  16. ٹھٹہ، بدین اور سجاول سے انخلا کا سلسلہ جاری، تینوں اضلاع میں37 ریلیف کیمپ بھی قائم

    سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل میمن کے مطابق حکومت کی جانب سے ساحلی پٹی سے لوگوں کو نکالنے کا سلسلہ جاری ہے اور طوفان سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے 74343 افراد میں سے بدھ کی صبح تک 64107 افراد محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔

    صوبائی وزیر کے مطابق ان افراد کا تعلق ٹھٹہ، بدین اور سجاول کے اضلاع سے ہے جبکہ ان اضلاع میں انخلا کا سلسلہ جاری ہے اور باقی 10236 افراد کو بھی جلد محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔ ان تینوں اضلاع میں مجموعی طور پر 37 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ 64 ہزار افراد میں سے 44 ہزار کے قریب افراد کو حکومت کی جانب سے قائم کردہ کیمپوں یا عمارتوں میں رکھا گیا ہے جبکہ 20 ہزار افراد رضاکارانہ طور پر خود منتقل ہوئے ہیں۔

    شرجیل میمن کے مطابق کیٹی بندر سے، جہاں پاکستان میں طوفان کے ٹکرانے کا سب سے زیادہ خطرہ ہے، تین ہزار افراد کو نکالا گیا ہے جبکہ تحصیل گھوڑا باری سے 1500، تحصیل شہید فاضل راہو سے 19038، تحصیل بدین سے 12300 اور سجاول شاہ بندر سے 8300 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

    اس کے علاوہ تحصیل شہید فاضل راہو سے 5160 جبکہ تحصیل بدین سے 5600 افراد رضاکارانہ طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں۔

  17. بریکنگ, بپر جوائے طوفان کے پیش نظر کراچی ایئرپورٹ کی بندش کی خبریں درست نہیں: سول ایوی ایشن

    پاکستان کی سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ بپر جوائے طوفان کے پیش نظر کراچی ایئرپورٹ کی بندش کی خبریں درست نہیں ہے۔

    سول ایویشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق خراب موسم کی پیشگوئی کی صورت میں ایئرپورٹس پر طے شدہ ایس او پیز کے تحت حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں۔

    ایئرپورٹس پر ہوا کی رفتار اور موسم کے حوالے سے پائلٹوں کو مسلسل باخبر رکھا جانا معمول کی بات ہے۔ غیر معمولی حالات میں پائلٹوں زمینی و موسمی حقائق دیکھتے ہوئے ٹیک آف یا لینڈنگ کے لیے قریبی موزوں منزل کا فیصلہ کرتے ہیں۔

    سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ایئرلائنز اور پائلٹوں کو پہلے ہی احتیاط برتنے کا نوٹم جاری کیا جا چکا ہے۔ تاہم خراب موسم میں ایئرلائنز کی جانب سے پروازوں کے شیڈول میں خلل پڑ سکتا ہے۔

  18. بریکنگ, بپر جوائے: ساحلی علاقوں سے انخلا مکمل، کراچی میں چھوٹے طیاروں کا آپریشن بند، شیری رحمان

    cyclone

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان بپر جوائے کل صوبہ سندھ کے مشرقی علاقے کیٹی بندر سے ٹکرائے گا جس کے پیش نظر ساحلی علاقے سے لوگوں کے انخلا کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔

    صوبہ سندھ کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق اب تک 65 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ساحلی علاقوں سے منتقل کیے گئے افراد کو 36 کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔

    ’تمام ادارے لوگوں کی نقل مکانی کے لیے متحرک ہیں اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔‘

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ کراچی میں بھی سمندری طوفان کے اثرات مرتب ہوں گے جس کے پیش نظر بند کراچی ایئرپورٹ سے چھوٹے طیاروں کا آپریشن بند کر دیا گیا ہے جبکہ کمرشل پروازوں کے بارے میں فیصلہ بدھ کی شام کیا جائے گا۔

    انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ساحل سمندر پر جانے سے اجتناب کریں اور ماہی گیر بھی سمندر میں جانے سے گریز کریں۔

  19. بریکنگ, بپر جوائے: انڈیا میں 69 ٹرینیں منسوخ، ساحلی پٹی سے 47 ہزار افراد محفوظ مقامات پر منتقل

    India

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سمندری طوفان بپر جوائے کے پش نظر انڈین ریاست گجرات میں بھی ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق ساحلی علاقوں سے 47 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ ویسٹرن ریلوے نے 69 ٹرینیوں کو منسوخ کردیا ہے۔

    انڈیا کی ویسٹرن ریلوے کے تعلقات عامہ کے افسر سمت ٹھاکر کے مطابق 69 ٹرینیوں کو مسافروں کی حفاظت کے پیش نظر منسوخ کیا گیا ہے جبکہ 33 ٹرینوں کے روٹس کو چھوٹا کر دیا گیا ہے۔

    انڈیا کی کوسٹ گارڈز کا کہنا ہے کہ انھوں نہ گجرات کے تیل کے کنویں سے 50 افراد کو بھی محفوظ مقام پر منتقل کیا ہے۔

  20. بپر جوائے کے پیش نظر ساحلی علاقوں سے 65 ہزار افراد محفوظ مقامات پر منتقل

    cyclone

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ سندھ کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے حکام کے مطابق سمندری طوفان بپر جوائے کے پیش نظر پاکستان کے ساحلی علاقوں سے اس وقت تک 65 ہزار کے قریب افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق یہ افراد سجاول، ٹھٹہ اور بدین کے ساحلی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں ان کے 36 کیمپ لگائے گئے ہیں۔ پی ڈی ایم کا دعویٰ ہے کہ ان علاقوں میں 74 ہزار آبادی تھی جس میں سے 65 ہزار کو محفوظ بنایا گیا ہے۔