آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
میں کبھی یہ ملک چھوڑ کر باہر نہیں جاؤں گا، جیل جانے کو تیار ہوں: عمران خان
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو سوشل میڈیا پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی صورت میں ملک چھوڑ کر باہر نہیں جائیں گے اور نہ وہ یہ سب کسی ڈیل کے لیے کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’مائنس ون کی بات ہوتی ہے‘ مگر وہ ’جیل جانے کو تیار ہیں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘
لائیو کوریج
لوئر چترال میں گرج چمک کے ساتھ موسلادار بارشوں سے مختلف مقامات پر سیلابی ریلے گھروں میں داخل
لوئرچترال کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ موسلادار بارشوں کے مختلف مقامات پر سیلابی ریلے گھروں میں داخل ہو گئے ہیں۔
ریسکیو1122 کے مطابق ’موسلادار بارش کے باعث امدادی ٹیمیں متاثرہ گھروں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔‘
ریسکیو 1122 کے مطابق ’چترال گول نالے میں سیلابی صورتحال کے باعث نالے کے آس پاس کے لوگ محفوظ مقامات پر منتقل کر دیے گئے ہیں‘
جغور گول نالے میں سیلابی صورتحال کے باعث گاؤں ڈوم شغور کے لوگ بھی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیے گئے ہیں۔
وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وحشت و بربریت کی ایسی تاریخ یہاں بھی رقم کی جائے گی: عمران خان
سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ ’جبر و وحشت کی اس پالیسی سے اگرچہ وقتی طور پر عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا ہو مگر نفرت و ناراضگی کا لاوا کسی وقت بھی باہر آجائے گا۔‘
عمران خان کے مطابق ’ہم انڈین سرکار کے ہاتھوں (انڈیا کے زیر انتظام) کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف وزریوں کی داستانیں تو سُنا کرتے تھے مگر ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وحشت کی ایسی تاریخ یہاں (پاکستان میں) بھی رقم کی جائے گی۔‘ ۔‘
ٹوئٹر پر اپنے بیان میں عمران خان نے کہا ’آج ہمارے اپنے سکیورٹی اہلکار آدھی رات کو گھروں پر دھاوا بولتے، دروازے توڑتے، گھریلو ساز و سامان تباہ و برباد کرتے اور(قیمتی اشیاء) چوری کرکے ساتھ لے جاتے ہیں۔‘
عمران خان نے الزام عائد کیا کہ ’سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے، انہیں ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور اگر مطلوبہ شخص ہاتھ نہ آئے تو اس کے والد حتّٰی کہ گھریلو ملازمین تک کو (بالکل غیرقانونی طریقے سے) اٹھا کر قید کردیا جاتا ہے۔‘
عمران خان کے مطابق ’ایسے ہی ایک حملے کے دوران جب میرا بھانجا ہاتھ نہ لگا تو میری ہمشیرہ کے ڈرائیور اور باورچی رحیم کو اٹھا لیا گیا۔ دونوں کو قید کردیا گیا اور ایک چھوٹے سے ڈربے میں پھینک دیا گیا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا ’رحیم کو تو سانس کی تکلیف تھی چنانچہ رہائی کے بعد جب سے وہ واپس لوٹا ہے وینٹیلیٹر پرموت و حیات کی کشمکش میں ہے۔‘
پنجاب خیبر پختونخواہ انتخابات از خود نوٹس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد
سپریم کورٹ کا پنجاب خیبر پختونخواہ انتخابات از خود نوٹس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری ہو گیا ہے۔
43 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا جبکہ فیصلے میں 14 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ بھی شامل ہے۔
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’سپریم کورٹ کا انتخابات سے متعلق فیصلہ 4 اور 3 کا کہنا بالکل غلط ہے، 7 رکنی بینچ بنا ہی نہیں تو 4 اور 3 کا تناسب کیسے ہو سکتا ہے؟‘
سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق چیف جسٹس نے الیکشن ازخود نوٹس کیس پر سب سے پہلے 9 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا، 9 رکنی لارجر بینچ نے 23 فروری کو پہلی سماعت کی۔
فیصلے کے مطابق ’9 رکنی بینچ نے 23 فروری کی سماعت کے بعد ٹی روم میں ملاقات کی، ملاقات کے دوران 9 ججز نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا جسے 27 فروری کو جاری کیا گیا۔‘
تفصیلی فیصلے میں بینچ کی ازسر نو تشکیل کے حکم نامے کا حوالہ دیا گیا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’چیف جسٹس نے انتخابات ازخود نوٹس کیس پر صرف 2 بینچز تشکیل دیے، چیف جسٹس نے پہلے 9 رکنی اور پھر 5 رکنی بینچ تشکیل دیا، اس کیس میں کسی دوسرے بینچ کا کوئی وجود نہیں ہے۔‘
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’یہ بات قابل غور ہے کہ سپریم کورٹ کے یکم مارچ کے فیصلے پر پانچوں ججز کے دستخط موجود ہیں،‘
جسٹس منصور علی شاہ نے دستخط کے ساتھ لکھا ’میں نے الگ سے آرڈر لکھا ہے‘
جسٹس جمال مندوخیل لکھتے ہیں ’میں نے مرکزی فیصلے کےساتھ الگ نوٹ تحریر کیا ہے۔‘ اختلاف کرنے والے دونوں ججز نے مشترکہ آرڈر جاری کیا جس پر صرف دو ججز کے دستخط موجود تھے۔
قومی اسمبلی میں نو مئی میں ملوث افراد کے خلاف کیسز ملٹری ایکٹ کے تحت چلانے کی قرارداد منظور
قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے نو مئی میں ملوث افراد کے خلاف کیسز ملٹری ایکٹ کے تحت چلانے کی قرارداد پیش کی جو ایوان کی جانب سے منظور کر لی گئی۔
قرارداد کے متن کے مطابق ایک جماعت اور اس کے قائد نے 9 مئی کو تمام حدود پار کردیں، اور آئین اور قانون کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔‘
قرارداد کے مطابق ’ان کے حملوں سے ریاستی اداروں اور ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، آئین اور قانون کے تحت ان کے خلاف کارروائی مکمل کی جائے۔‘
قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ ’دنیا میں فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے پر کارروائی کا اختیار افواج کو حاصل ہوتا ہے، تمام افراد کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے سزائیں دی جائیں۔‘
جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر مولانا عبدالاکبر چترالی نے قرارداد کی مخالفت کی۔ انھوں نے کہا کہ ’کیا عدالتی نظام معطل ہو چکا ہے جو آپ سویلین کے کیسز فوجی عدالتوں میں لے کر جا رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جماعت اسلامی فوجی عدالتوں میں سویلین کے کیسز بھجوانے کی مخالفت کرتی ہے۔‘
اجلاس میں قرارداد پیش کرتے وقت وفاقی وزیر دفاع نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں کسی اور چیز کو ہاتھ نہیں لگایا گیا سوائے فوجی تنصیبات اور شہدا کی یادگاروں کے۔‘
خواجہ آصف کے مطابق ’ ہر روز چاہے وانا ہو سوات یا میرانشاہ ہو تمام مقامات پر فوجی سپاہی شہید ہوتے ہیں اور جس وقت وہ سب پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑ رہے ہیں ایک سیاسی جماعت اور اس کے سربراہ پاکستان کی افواج کے خلاف اعلان جنگ کریں ۔‘
ان کے مطابق ’دفاعی فورسز کا حق ہے کہ ان کی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔جو قانون کتابوں میں موجود ہے اسی کے تحت ملٹری کورٹس میں ٹرائل ہوں گے۔‘
اس سے قبل ایوان بالا میں نو مئی کے پرتشدد واقعات پر متفقہ طور پر مذمتی قرارداد منظور کی گئی جس میں نو مئی میں ملوث افراد اور سہولت کاروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔
جس کو نو مئی سے سب سے زیادہ فائدہ ہوا وہی ان واقعات میں ملوث تھا: عمران خان
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ نو مئی کے واقعات کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ 9 مئی کے واقعات سے آخر کسی کو تو فائدہ ہوا ہے۔
عمران خان نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں دعوی کیا ’ میری کسی سے ذاتی دشمنی نہیں، جس کو نو مئی سے سب سے زیادہ فائدہ ہوا وہی ان واقعات میں ملوث تھا۔‘
عمران خان نے کسی کا نام لیے بعیر کہا ’جس طرح کی کارروائیاں چل رہی ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ان کو کوئی پوچھ ہی نہیں سکتا۔ ہمارے ملک میں ایک طبقہ قانون سے بالاتر ہے۔‘
چیئرمین تحریک انصاف نے کہا ’ ہمارا کارکن اب بھی ساتھ کھڑا ہے، یاسمین راشد ،اعجاز چوہدری ،میاں محمود الرشید سب ڈٹے ہوئے ہیں۔ میاں محمود الرشید نے آکر بتایا کہ ان کو ایجنسیوں نے ٹارچر کیا۔‘
بریکنگ, مرکزی بینک کا شرح سود 21 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ, تنویر ملک، صحافی
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے سوموار کے روز ملک میں شرح سود کو تبدیل نہ کرنے اور 21فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مرکزی بینک کے مطابق اپریل اور مئی کے بلند مہنگائی کے اعدادوشمار زیادہ تر توقع کے مطابق ظاہر ہوئے۔
مرکزی بینک کی زری کمیٹی نے صارفین اور کاروباری اداروں دونوں کی مہنگائی کی توقعات میں حالیہ نقطہ عروج سے ترتیب وار کمی بھی نوٹ کی۔
مزید یہ کہ ’کمیٹی توقع کرتی ہے کہ ملکی طلب کم رہے گی جس کا سبب سخت زری موقف، ملکی غیریقینی کیفیت اور بیرونی کھاتے پر مسلسل دباؤ ہے۔‘
اس پس منظر میں اور گرتے ہوئے ماہ بہ ماہ رجحان کے پیش نظر مانیٹری پالیسی کمیٹی یہ سمجھتی ہے کہ مئی 2023ء میں مہنگائی 38 فیصد پر اپنے نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہے اور اگر کوئی نادیدہ حالات پیش نہ آئے تو توقع ہے کہ جون اور اس کے بعد اس میں کمی آنا شروع ہوگی۔
استحکام پاکستان پارٹی کے صدر علیم خان اور سیکریٹری جنرل عامر محمود کیانی ہوں گے: جہانگیر ترین کا اعلان
استحکام پاکستان پارٹی کے عہدے دراوں کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
جہانگیرخان ترین نے اپنی ٹویٹ میں اعلان کیا کہ ’عبد العلیم خان پاکستان استحکام پارٹی کے صدر مقرر کیے گئے ہیں جبکہ عمر محمود کیانی سیکریٹری جنرل، عون چوہدری ایڈیشنل سیکریٹری جنرل اور پارٹی کے ترجمان ہوں گے۔
واضح رہے کہ استحکام پاکستان پارٹی میں بڑی تعداد میں تحریک انصاف کے سابق رہنما شامل ہیں اور اس جماعت کے بانی جہانگیر ترین ہیں جنھوں نے اس کے قیام کا اعلان چند روز قبل کیا ہے۔
لاہور میں جلاؤ گھیراؤ کا کیس: یاسمین راشد کا مذید جسمانی ریمانڈ دینے کی درخواست مسترد، جیل بھجوانے کا حکم, ترہب اصغر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے پولیس کی جانب سے تحریک انصاف رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کا مذید جسمانی ریمانڈ دینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انھیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے کا حکم دیا ہے۔
گلبرگ پلازہ میں جلاؤ گھیراؤ کیس کی سماعت کے دوران پولیس نے ڈاکٹر یاسمین راشد کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا۔
تفتیشی افسر نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد گلبرگ عسکری ٹاور حملہ کیس میں ملوث ہیں اور تفتیش کیلئے ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
تاہم عدالت کی جانب سے یہ درخواست مسترد کر دی گئی اور ڈاکٹر یاسمین راشد کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے کا حکم دیا۔
دوبارہ حکومت آئی تو انصاف کا نظام درست کروں گا، عمران خان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ان کو اقتدار ایک بار پھر ملا تو وہ نظام انصاف کو درست کریں گے۔
چیئرمین پی ٹی آئی اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی عدالت میں میڈیا سے بات کر رہے تھے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں لیگل سسٹم کا جائزہ لے رہا ہوں، دوبارہ آیا تو اسے ٹھیک کروں گا۔‘
غیر رسمی گفتگو میں عمران خان نے کہا کہ میرے خلاف لوگوں کو وعدہ معاف گواہ بنایا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا ’ملٹری کورٹس شروع ہوئیں تو جمہوریت ختم ہے پھر۔ کبھی سنا ہے کہ ملٹری کورٹس دنیا میں ہیں کہیں جہاں سمری ٹرائل ہوتا ہو۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’شیریں مزاری کے جانے کا بہت دکھ ہوا، اس کی صحت اجازت نہیں دیتی تھی کہ وہ پریشر برداشت کرتی۔‘
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ’میرے لیے یہ کوئی بڑا کرائسس نہیں ہے۔ ہر کرائسس میں opportunity ہوتی ہے۔‘
ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’لیہ کے علاقہ میں ساری ریت ہے اور میری بہنوں پر چھ ارب کا کیس بنا دیا ہے۔‘
قومی سلامتی اداروں کے خلاف حملوں پر اکسانے کا الزام: شاہین صہبائی، عادل راجہ، وجاہت سعید اور سید حیدر رضا مہدی کے خلاف مقدمہ درج, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں قومی سلامتی اداروں کے خلاف عوام کو حملوں پر اکسانے کے الزامات کے تحت چار بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے خلاف انسداد دہشت گردی اور غداری کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
اسلام آباد کے رہائشی محمد اسلم کی درخواست پر درج ہونے والے اس مقدمے میں شاہین صبائی، سید حیدر رضا مہدی، وجاہت سعید خان کے علاوہ عادل فاروق راجہ کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
اس مقدمہ میں، جو انسداد دہشت گردی اور غداری کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، الزام لگایا گیا ہے کہ نو مئی کے دن ملزمان نے بیرون ملک سے عسکری اداروں کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ افراد ملک کے اندر بغاوت اور انتشار پھیلا رہے تھے اور ملزمان غیر ملکی ایجنسیوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔
شاہین صہبائی اور وجاہت سعید خان صحافی ہیں اور سوشل میڈیا پر یو ٹیوب چینل چلاتے ہیں۔
خدیجہ شاہ کی درخواست ضمانت: ’پولیس نے ایک اہم شہادت ضائع کر دی‘
انسداد دہشت گردی عدالت میں آج کور کمانڈر ہاؤس لاہور پر حملے کے کیس میں گرفتار فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ کے وکیل نے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر دلائل دیے ہیں۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ دوران حراست خدیجہ شاہ کو فیملی اور وکیل سے ملنے نہیں گیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ خدیجہ شاہ کو شناخت پریڈ سے پہلے غیر قانونی حراست میں رکھا گیا۔
جج نے ریمارکس دیے کہ ’عدالت نے خدیجہ شاہ کو شناخت پریڈ کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر بھجوایا تھا۔‘
وکیل نے دہرایا کہ شناخت پریڈ سے پہلے خدیجہ شاہ کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا پر خدیجہ شاہ کی خبریں چلتی رہیں جس سے ان کی شناخت عوام پر عیاں ہو گئی۔
انھوں نے ضمانت پر رہائی کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ شناخت عیاں ہونے سے شناخت پریڈ غیر مؤثر ہو گئی تھی۔ ’خدیجہ شاہ ایف آئی آر میں نامزد نہیں، ان کا کردار واقعے میں واضح نہیں۔ یہ مزید انکوائری کا کیس ہے، ضمانت پر رہائی دی جائے۔‘
’ملزمہ دمے کی مریضہ ہیں۔ ان کو سانس کی تکلیف ہے، خواتین کو زیادہ جیل میں رکھنا خلاف قانونی ہے۔‘
جج نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ لاہور ہائیکورٹ میں بھی زیر التوا ہے۔
وکیل نے دعویٰ کیا کہ سات گھنٹے کی تاخیر سے ایف آئی آر درج ہوئی جبکہ ملزمہ سے کچھ برآمد نہیں ہوا۔
جج نے ریمارکس دیے کہ کئی گھنٹے تو ہنگامہ آرائی ختم ہی نہیں ہوئی، خدیجہ شاہ کا موبائل برآمد ہو گیا ہے۔ اس پر وکیل نے کہا موبائل پولیس نے برآمد نہیں کیا۔
جج نے ریمارکس دیے کہ ’اس کا مطلب ہے پولیس نے ایک اہم شہادت ضائع کر دی۔‘
عدالت نے دیگر خواتین کے وکلا سے دلائل طلب کیے ہیں۔
نیب بیان دے کہ انور مجید کا کیس دائرہ کار میں نہیں آتا تو حکم دے دیتے ہیں: چیف جسٹس
سپریم کورٹ میں کاروباری شخصیت انور مجید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے کیس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’نیب بیان دے کہ انور مجید کا کیس ان کے دائرہ کار میں نہیں آتا تو حکم دے دیتے ہیں۔‘
سماعت کے دوران نیب کے پراسیکیورٹر نے عدالت کو بتایا کہ نیب انور مجید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے خط لکھ چکی ہے۔
چیف جسمس نے استفسار کیا کہ ’کیا وہ خط انور مجید کے وکیل کو دکھایا گیا ہے؟‘
وکیل نے بتایا کہ نیب عدالت نے انور مجید کا کیس بینکنگ کورٹ کو بھجوا دیا ہے، عدالت کو کیس بھجوانے کا ابھی تحریری حکمنامہ نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی عمر 81 سال عمر ہے، نیب کو بھی بیرون ملک جانے پر کوئی اعتراض نہیں، عدالت اجازت دے تو وہ علاج کے لیے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’سپریم کورٹ نے نیب ریفرنس میں نام ای سی ایل میں ڈالا تھا۔ جب تک نیب تسلیم نہ کر لے ہم حکم جاری نہیں کر سکتے۔ دوسری صورت میں پھر کیس کو تفصیلی سن کر فیصلہ کرنا ہو گا۔
’نیب بیان دے کہ انور مجید کا کیس ان کے دائرہ کار میں نہیں آتا تو حکم دے دیتے ہیں۔ بینکنگ عدالت میں کیس بھجوانے کا فیصلہ بھی نیب کے بیان کے بعد دیا گیا ہوگا۔‘
عدالت نے نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں دیا نیب بیان طلب کیا ہے اور مزید سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔
’میں جنرل باجوہ کو ڈی نوٹیفائی کر سکتا تھا‘
صحافیوں سے اس غیر رسمی گفتگو کے دوران عمران خان نے مزید کہا کہ حکومت نے ’جو بجٹ دیا ہے، اس کو آگے کون چلائے گا۔ قرضوں پر سود وفاقی بجٹ سے زیادہ ہے۔ ان کے پاس کوئی حل نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ملک کی آمدنی بڑھانے کے علاوہ کوئی حل نہیں۔ ملک کا دیوالیہ نکل گیا، انڈسٹری تباہ ہوگئی ہے۔ درآمدات 13 فیصد نیچے گر گئیں، ڈالر کم ہوگئے ہیں۔
’جو طاقتیں بیٹھی ہیں، ان سے پوچھتا ہوں ٹھیک ہے آپ نے مجھے باہر کر دیا لیکن کیا یہ حل ہے؟ ملک کو کون اس دلدل سے نکالے گا؟ آگے ان کا پلان کیا ہے؟‘
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’میری بہن کے اوپر چھ ارب روپے کی زمین کا الزام ہے، میں چیلنج کرتا ہوں کہ صحافی وہاں جا کر خود دیکھیں اور اس کی قیمت کا تخمینہ لگائیں۔ میں انھیں پانچ ارب کی بیچ دیتا ہوں۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں نے کسی سے غداری نہیں کی۔ مجھ سے غداری ہوئی ہے۔‘
عمران خان نے دعویٰ کیا کہ سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ نے ’میری پیٹھ میں چھرا گھونپا۔ میں باجوہ کو ڈی نوٹیفائی کر سکتا تھا، تین دفعہ اسے خوف تھا کہ ڈی نوٹیفائی کر دوں گا۔‘
انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ صحافی ارشد شریف کے قتل کے کیس میں جے آئی ٹی سے تعاون کریں گے۔ ’جو مجھ سے بات کرنا چاہتا ہے، اس کے لیے ویگو ڈالا پہنچ جاتا ہے۔‘
چیئرمین پی ٹی آئی نے صحافیوں سے کہا کہ ’کہا جاتا ہے کہ عمران خان آئے گا تو بدلہ لے گا۔ ہم نبی کریم کے امتی ہیں، انھوں نے سب کو معاف کیا۔ میں ذات کے لیے نہیں رول آف لا قائم کرنے کی کوشش کروں گا۔‘
فیصلہ ساز تو وہ ہیں نا، ان کے ساتھ بیٹھنے کا فائدہ نہیں: عمران خان
سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اصل طاقت اور فیصلہ سازی اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہے۔
عدالت پیشی کے موقع پر غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف سے پوچھا گیا کہ حکمراں اتحاد کی جماعت ن لیگ نے واضع کیا ہے کہ مذاکرات وزیر اعظم شہباز شریف سے ہوں گے مگر آپ کیوں اسٹیبلشمنٹ کو بیچ میں لاتے ہیں؟
اس پر عمران خان نے ردعمل دیا کہ ’اصل طاقت اور فیصلہ سازی تو اسٹیبلشمنٹ ہے نا۔‘
خیال رہے کہ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے گذشتہ دنوں یہ بیان دیا تھا کہ مذاکرات صرف وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ ہوسکتے ہیں۔
ایک صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ ’آصف علی زرداری نے تو کہا تھا کہ اکانومی کے چارٹر پر مل کر بیٹھنا ہو گا‘ جس پر عمران خان نے کہا کہ ’ان حکمرانوں کے پاس ہی کچھ اختیار نہیں ان کے پاس کیا بیٹھوں۔‘
عمران خان سے پوچھا گیا کہ ’سیاستدانوں نے خود مل کر ہی تو جمہوری دستاویزات پر دستخط کیے، آپ کیوں نہیں بات کرنا پسند کرتے؟‘
انھوں نے جواب دیا کہ ’فیصلہ ساز تو وہ ہیں نا۔ ان کے ساتھ بیٹھنے کا فائدہ نہیں۔‘
چارٹر آف ڈیموکریسی سے متعلق سوال پر عمران خان نے کہا کہ ’اب صورتحال مختلف ہے۔‘
ادھر چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ ڈیرہ غازی خان میں درج مقدمے میں عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر رہے ہیں۔
چیف کمشنر آج ہی عمران خان کی عدالت منتقلی کی درخواست پر فیصلہ کریں: اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم
اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے چیف کمشنر کو حکم دیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی عدالت منتقلی کی درخواست پر آج ہی فیصلہ کیا جائے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کے کیسز میں عدالت منتقلی کی درخواست پر سماعت کی جس دوران وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ’ہم نے سیشن عدالت منتقلی کی درخواست دائر کی ہے‘ جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ’آپ نے کمشنر کو درخواست دی ہے؟‘
اس پر وکیل نے جواب دیا ’جی ہم نے کمشنر کو درخواست دی ہے۔‘
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ ’عدالت منتقلی کا آرڈر ہائیکورٹ نے نہیں کرنا، کمشنر نے کرنا ہے۔ ہم انھیں بھیج دیتے ہیں۔۔۔ عدالت کہہ دیتی ہے وہ کر دیں گے۔‘
اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ ’چیف کمشنر آج ہی عدالت منتقلی کی درخواست پر فیصلہ کریں۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’اگر فیصلہ آپ کے خلاف ہو تو دوبارہ عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ آپ ہائیکورٹ میں آج ہی سماعت کے لیے درخواست دائر کر سکتے ہیں۔‘
ادھر عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ پیشی کے موقع پر عدالت میں بعض وکلا کو داخلے سے روکا گیا ہے جبکہ ہائی کورٹ کے مرکزی دروازے بند ہونے سے صحافیوں اور سائلین بھی وہاں داخل نہیں ہو پا رہے۔
اطلاعات کے مطابق ہائی کورٹ کے دروازے کے باہر ایک بڑی تعداد میں وکلا موجود ہیں۔ وکلا کا دعویٰ ہے کہ ان کے کیسز لگے ہوئے ہیں تاہم انھیں اندر جانے نہیں دیا جا رہا۔
’انتہائی شدت‘ اختیار کرنے والا سمندری طوفان ’بپر جوائے‘ کراچی کے ساحل سے 690 کے فاصلے پر
پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ کے مطابق بحیرہ عرب کے مشرقی وسط میں ’انتہائی شدت‘ اختیار کرنے والا سمندری طوفان ’بپر جوائے‘ کراچی کے ساحل سے قریب 690 کلو میٹر، ٹھٹہ سے 670 کلو میٹر اور اورماڑا سے 720 کلو میٹر دور ہے۔ خدشہ ہے کہ سائیکلون بپر جوائے جنوب مشرقی سندھ میں کیٹی بندر گاہ اور انڈیا میں گجرات کے ساحل سے 15 جون کو ٹکرائے گا۔
اتوار کی شب اپنے بیان میں حکام نے کہا کہ اس کی سطح پر ہواؤں کی رفتار 180 سے 200 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے جبکہ سسٹم کا مرکز 220 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ لہروں کی زیادہ سے زیادہ اونچائی 35 سے 40 فٹ ہے۔
میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ کے مطابق یہ 13 سے 17 جون کے درمیان 80 سے 100 کلو میٹر فی گھنٹہ رفتار کی ہواؤں کے ساتھ سندھ کے جنوب مشرقی ساحل میں ٹھٹہ، سجاول، بدین، تھرمارکر اور عمر کوٹ کے اضلاع میں شدید بارشوں کی صورت اثرا انداز ہوسکتا ہے۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق 13 سے 16 جون کے درمیان کراچی، حیدر آباد، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو اللہ یار اور میرپور خاص میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی ہے۔
تشدد کی پالیسی صرف وقتی طور پر خوف پھیلا سکتی ہے: عمران خان
سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کے لوگوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی پالیسی صرف وقتی طور پر لوگوں میں خوف پھیلا سکتی ہے۔
ٹوئٹر پر پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ ’آج ہماری اپنی سکیورٹی فورسز رات گئے ہمارے گھروں پر چھاپے مارتی ہیں، دروازے توڑتی ہیں، گھروں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کرتی ہیں۔ خواتین کے ساتھ ہراسانی کی جاتی ہے، انھیں دھمکی دی جاتی ہے۔ اگر (مطلوبہ) شخص وہاں نہ ہو تو ان کے بیٹوں، والد اور ملازمین کو اٹھا کر جیل میں ڈال دیتے ہیں۔‘
’میری بہن کے ڈرائیور اور کُک رحیم کو اٹھا لیا گیا جب پولیس کو ان کا بیٹا نہ ملا۔ دونوں کو جیل میں ڈال دیا۔۔۔ اس دہشت کے ذمہ دار سمجھتے ہیں کہ وہ قانون سے ماورا ہیں۔‘
عمران خان نے مزید کہا کہ ’یہ پالیسی وقتی طور پر لوگوں میں خوف پھیلا سکتی ہے۔ یہ صرف وقت کی بات ہے جب نفرت کھلے عام ظاہر ہوجائے گی۔‘
تحریک انصاف کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مطابق آج چیئرمین تحریک انصاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے لیے لاہور سے روانہ ہوچکے ہیں۔
اب تک کی اہم خبریں
- روس سے درآمد کیے جانے والے خام تیل کا پہلا کارگو پاکستان میں کراچی بندرگاہ پر اتوار کو پہنچ گیا ہے جس میں 45 ہزار ٹن خام تیل ہے
- مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ ایک شخص کو اقتدار جانے کا اتنا صدمہ ہوا کہ اس نے ملک جلا دیا۔ ’جو ملک کو بناتا ہے، کیا وہ ملک کو جلا سکتا ہے؟‘
- وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کرنے میں اب کوئی دقت نہیں۔ ان کی تمام شرائط ایمانداری اور خلوص سے پوری کیں تاکہ قرضے کی بقایا اقساط مل جائیں۔ امید ہے اسی ماہ آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو گا اور ہمیں اقساط ملیں گی۔‘
- وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبے کے ساحلی علاقوں میں سمندری طوفان بپر جوائے کا خطرہ ہے۔ ٹھٹہ، سجاول اور بدین میں ’زیادہ خطرے‘ کے پیش نظر کمشنرز اور حکام کو وہاں بھیج دیا گیا ہے۔
- وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ دو سے تین ہفتوں میں نو مئی کے حملوں کے منصوبہ ساز کے خلاف فوجی ایکٹ کے تحت کارروائی شروع ہوسکتی ہے۔
بی بی سی کی لائیو کوریج میں خوش آمدید
پاکستان کے سیاسی منظر نامے سے متعلق خبروں، تبصروں اور تجزیے کے لیے بی بی سی نے یہ لائیو کوریج شروع کی ہے۔