سنئیر صحافی ارشد شریف قتل از خود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کی۔ دوران سماعت سپیشل جے آئی ٹی کی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی گئی۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ’سپیشل جے آئی ٹی کی رپورٹ بعض وجوہات کی وجہ سے کچھ تاخیر کا شکار ہوئی۔ انٹر پول کے ساتھ کمیونیکیشن جاری ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’وزارت خارجہ کے مطابق باہمی قانونی معاونت کے معاہدے (ایم ایل اے) سائن ہونے تک آگے نہیں بڑھ سکتے۔‘
بینچ میں موجود جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے کہا کہ ’کیا وجہ ہے کہ کینیا کے احکام نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے ساتھ تعاون کیا لیکن سپیشل جے آئی ٹی کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔‘
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ’نو جون کو کیینیا کے ہائی کمیشن نے کہا پہلے ایم ایل اے سائن کرنا ضروری ہے۔ ‘
انھوں نے کہا کہ کینیا نے ایک ڈرافٹ بھیجا ہے جو مختلف اداروں کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔ عثمان منصور کا کہنا تھا کہ ’عدالت کو ڈرافٹ سے متعلق چیمبر میں آگاہ کرو گا۔ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ شائع ہونے کے بعد بہت سی چیزیں بدل گئی ہیں۔‘
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کیوں شائع کی گئی، فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے متعلق احتیاط کیوں نہیں کی گئی۔‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ارشد شریف کی بیوہ نے اپنی رپورٹ میں مختلف عالمی قوانین کا حوالہ دیا ہے۔‘چیف جسٹس نے ارشد شریف کی بیوہ کے وکیل سے استفسار کیا کہ عالمی قوانین تک رسائی کا کیا طریقہ کار ہے؟
بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ کیا تحقیاتی ٹیم کا دورہ کینیا لاحاصل مشق تھی؟
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ فیکٹ فائیڈنگ رپورٹ کا لیک ہونا بھی بدقسمتی ہے۔الیکٹرانک میڈیا پر رپورٹ دیکھ کر سرپرائز ہوا۔‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جو جرم ہوا وہ بہت سنگین تھا۔ ایک صحافی کا قتل ہونا پوری دنیا کے لیے باعث تشویش تھا۔
مقتول صحافی ارشد شریف کی بیوہ جویریہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’اقوام متحدہ فورم کے تحت درخواست دی جا سکتی ہے کہ متعلقہ ملک میں تفتیش کے لیے ٹیم بھجوا سکتے ہیں، سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کی تحقیقات بھی اس قانون کے تحت ہو رہی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے کمیٹی کو درخواست بھیجی جاتی ہے تو اسکا اثر زیادہ ہو گا،
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’عدالت خود ان سے متعلق فیصلہ نہیں کر سکتی۔ عدالت اٹارنی جنرل سے کہے گی وہ اس رپورٹ کا جائزہ لیں اور عدالت کی معاونت کریں۔‘
بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ دیکھنا ہو گا کہ ارشد شریف کینیا کیوں گئے۔
انھوں نے کہا ’اس گاڑی کا جائزہ لینا بھی ضروری ہےجس میں ارشد شریف کو قتل کیا گیا۔ ارشد شریف کی وجہ قتل معلوم کرنا ضروری ہے ،ارشد شریف کے قتل میں تاحال کوئی پیشرفت نہ ہوسکی۔‘
مقتول کی بیوہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر کینیا کے ساتھ معاہدہ نہیں ہوتا تو عالمی کنونشنز کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔
چیف جسٹس نے کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھیں اور اٹارنی جنرل کی رپورٹنگ میں احتیاط کریںگ
انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کینیا کے ساتھ باہمی قانونی معاونت کا زکر موجود ہے،عدالت نے ارشد شریف قتل سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت جولائی کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔