آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

میں کبھی یہ ملک چھوڑ کر باہر نہیں جاؤں گا، جیل جانے کو تیار ہوں: عمران خان

پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو سوشل میڈیا پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی صورت میں ملک چھوڑ کر باہر نہیں جائیں گے اور نہ وہ یہ سب کسی ڈیل کے لیے کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’مائنس ون کی بات ہوتی ہے‘ مگر وہ ’جیل جانے کو تیار ہیں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

لائیو کوریج

  1. اسحاق ڈار کی ٹانگیں کھینچنے والوں کو پارٹی میں رہنے کا کوئی حق نہیں: شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ پارٹی میں جو لوگ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی ٹانگیں کھینچتے ہیں، انھیں پارٹی میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔

    انھیں مسلم لیگ ن کے جنرل کونسل اجلاس میں پارٹی صدر منتخب کیا گیا تو اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’جنرل کونسل اجلاس مؤخر کرتا رہا تاکہ نواز شریف خود اس میں شرکت کر سکیں۔ ناگزیر وجوہات کی بدولت ایسا نہ ہوسکا، الیکشن کمیشن کی تلوار لٹک رہی تھی لہذا آج یہ انتخاب کرایا۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’جس دن نواز شریف آئیں گے یہ امانت ہم انھیں واپس کر دیں گے۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ ’آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے ہم الٹے سیدھے ہوگئے۔ قلیل مدتی تقاضہ تھا کہ آئی ایم ایف معاہدے کر کے ملک کو ترقی کے راستے پر لے جائیں۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی مگر ہم نے ہمت نہیں ہاری۔ شدید مالی مشکلات کے باوجود تنخواہوں و پنشنز میں اضافہ کیا گیا۔‘

    ’آئی ایم ایف سے آج بھی ہمارے سنگھ پھنسے ہوئے ہیں۔ دعا کریں ہم اس سے نکل جائیں گے۔‘

    وزیر اعظم نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ نواز شریف آئیں اور اگلا الیکشن لڑ کر چوتھی بار وزیر اعظم بنیں۔

    ’پارٹی کے جو لوگ اسحاق ڈار کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں انھیں پارٹی میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ انھوں (اسحاق ڈار) نے (ملک کی خاطر) اپنی صحت خراب کر لی۔‘

  2. ’اسلام آباد پولیس اعظم خان کی گمشدگی کے حوالے سے قانونی کارروائی عمل میں لائے گی‘

    سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کی گمشدگی پر ترجمان اسلام آباد پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پولیس اس معاملے پر قانونی کارروائی عمل میں لائے گی۔

    ’درخواست دہندہ متعلقہ تھانہ سے رابطہ کرے تاکہ قانونی کارروائی کی جا سکے۔ اعظم خان کے حوالے سے کسی کے پاس کوئی بھی اطلاع ہوتو پکار 15 پر اطلاع دیں۔‘

  3. اسی سال نواز شریف کی قیادت میں ترقی کا سفر دوبارہ شروع کریں گے: رانا ثنا اللہ

    وزیر داخلہ اور مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ’اگر اللہ نے ہمیں دوبارہ موقع دیا تو اسی سال نواز شریف کی قیادت میں ترقی کا سفر دوبارہ شروع کریں گے۔‘

    مسلم لیگ ن کی جنرل کونسل سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ ’نو مئی کے بعد جو حالات ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ یہ اللہ کا انصاف ہے۔

    ’مسلم لیگ ن اور نواز شریف کو اس واقعے نے سرخرو کیا ہے اب حالات ایسے ہیں کہ آپ پورے حوصلے اور جرات کے ساتھ آگے بڑھیں۔ اللہ ہمیں دوبارہ موقع دے گا کہ ملک کی ترقی اور عوام کی خدمت کا سفر جو جولائی 2017 میں روکا گیا تھا وہ اسی سال نواز شریف کی قیادت میں دوبارہ شروع ہو۔‘

    رانا ثنا اللہ نے عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ ’جو کہتا تھا میں بہت مقبول ہوں، اس سے آج کوئی رابطہ نہیں کرتا۔

    ’جو منھ سے آگ برساتے تھے، آج ان کا حال یہ ہے کہ میڈیا پر آ کر کہتے ہیں قید تنہائی میں تھا، اب تحریک انصاف کو خدا حافظ۔۔ ان سے ایک ہفتے کی قید برداشت نہیں ہو رہی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہی فرق ہے سیاسی جماعت، سیاسی لیڈر اور کارکن میں۔ اللہ نے کیسا انصاف کیا ہے، میرے قائد اور دوسرے قائدین کو سرخرو کیا۔ پارٹی پر بُرا وقت آیا تو کسی نے اس قسم کی آوازیں سنی تھیں؟

    ’یہ خود کو سیاسی لیڈر اور کارکن کہتے تھے۔ ہماری بہنوں، بیٹیوں کو صرف اس لیے گرفتار کیا گیا کہ ان کا حوصلہ ٹوٹ جائے۔‘

  4. پاکستان کے تجارتی خسارے میں ساڑھے سترہ ارب ڈالر کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کے تجارتی خسارے میں موجودہ مالی سال کے پہلے 11 مہینوں میں 40.5 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    گذشتہ مالی سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں ملک کا تجارتی خسارہ 43.4 ارب ڈالر تھا جو موجودہ مالی سال کے پہلے 11 مہینوں میں 25.8 ارب ڈالر رہ گیا۔

    وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جمعے کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تجارتی خسارے میں کمی کی وجہ ملکی درآمدات میں ہونے والی کمی ہے جو زیر جائزہ مہینوں میں 29.2 فیصد کمی کے بعد 51.2 ارب ڈالر رہ گئیں۔

    گذشتہ سال کے ان مہینوں میں ملکی درآمدات کا حجم 72.2 ارب ڈالر تھا۔ تاہم ان مہینوں میں ملکی برآمدات میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جب 12.1 فیصد کمی کے بعد ان کا حجم 25.3 ارب ڈالر رہ گیا جو گذشتہ مالی سال میں 28.8 ارب ڈالر تھیں۔

    برآمدات کے شعبے میں سب سے بڑے برآمدی شعبے ٹیکسٹائل سمیت سب شعبوں میں منفی گروتھ ریکارڈ کی گئی۔

  5. ’اعظم خان لاپتہ ہیں، جسے بھی میرے قریب سمجھا جائے اسے نشانہ بنایا جاتا ہے‘ عمران خان

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کے دور حکومت کے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان گذشتہ شب سے لاپتہ ہیں۔

    ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’جسے بھی میرے نزدیک سمجھا جائے اسے نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘

    ’میں سابق گورنر لطیف کھوسہ کے گھر حملے کی مذمت کرتا ہوں۔ انھیں اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ وہ اس فاشزم پر تنقید کر رہے تھے جس سے قوم متاثر ہو رہی ہے۔‘

    عمران خان نے اعظم خان کی گمشدگی پر پولیس کو درج کرائی گئی شکایت کی تصویر بھی شیئر کی ہے جس میں لکھا ہے کہ اعظم خان کا فون بند ہے اور ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔

  6. ’کسی فرد سے متعلق قانون سازی اچھی قانون سازی نہیں‘

    نااہلی کی مدت پر قانون سازی پر تبصرہ کرتے ہوئے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ ’آئین بالکل خاموش نہیں ہے، آئین کی تشریح عدالت نے کرنی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’کسی فرد سے متعلق قانون سازی اچھی قانون سازی میں شمار نہیں ہوتی۔ آپ آئینی ترمیم کر دیں۔‘

    جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ’(آرٹیکل) 62 اور 63 اسلام کا تقاضا ہے۔

    ’یہ قانون سازی مخصوص افراد کے لیے کی جا رہی ہے۔ اگر ایسا ہے تو اس کو ایجنڈے کے ہٹ کر سپلیمنٹری ایجنڈے میں کیوں لایا گیا؟‘

    سابق وزیر اعظم اور موجودہ سینیٹر یوسف رضا گیلانی نے اپنی رائے دی کہ ’جب میری حکومت تھی تو ہم نے 58 ٹو بی کا اختیار صدر سے لے کر پارلیمنٹ کو دیا۔

    ’میں اپنی سزا بھگت چکا لیکن آنے والوں کے راستہ ہموار کرنا چاہتا ہوں۔‘

    دریں اثنا سینیٹر شہزاد وسیم نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کی بھی مخالفت کی ہے۔ ’اگر یہ سیدھی بات ہے تو بل کو ضمنی ایجنڈا میں کیوں پیش کیا۔ ضمنی ایجنڈا کا مقصد ہے کہ قانون کو بل ڈوز کیا گیا جہاں آئینی ترمیم کی ضرورت ہے۔ اس کو یہ سادہ قانون سازی کے ذریعے پورا کر رہے ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’کوئی بھی قانون آئین سے بالا نہیں ہو سکتا۔ آئین الیکشن تاریخ کے حوالے سے واضح ہے۔ آئین میں کہا گیا ہے کہ صدر اور گورنر الیکشن تاریخ دے۔

    ’آئین نے کہہ دیا ہے کہ اسمبلی مدت پوری کرے تو الیکشن ساٹھ دن میں اور پہلے تحلیل ہو تو نوے دن میں ہوں گے۔ جو تاریخ ان سے باہر ہو گی وہ آئین کی خلاف ورزی ہو گی۔ الیکشن کمیشن کو کھلی اجازت دے دینا آئین کے ساتھ زیادتی ہو گی۔‘

    شہزاد وسیم نے مزید کہا کہ ’الیکشن کمیشن کی جو حالیہ کارکردگی رہی ہے، قانون سازی سے الیکشن کمیشن کو کھلی اجازت نہیں دے سکتے۔ اس بل پر دوبارہ غور کریں۔‘

  7. مہنگائی میں اضافے سے چائے، دال، آٹے، چاول، آلو کی قیمتیں بڑھ گئیں, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں سالانہ بنیاد پر ہفتہ وار مہنگائی میں 35 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق موجودہ ہفتے میں گذشتہ سال کے اسی ہفتے کے مقابلے میں کھانے پینے کی اشیا میں 34.9 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ اس مہینے کے گذشتہ ہفتے کے مقابلے میں موجودہ ہفتے میں مہنگائی کی شرح میں 0.20 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق سالانہ بنیاد پر چائے کی قیمت میں 115 فیصد، آٹے کی قیمت میں 110 فیصد، چاول کی قیمت میں 78 فیصد، آلو کی قیمت میں 67 فیصد اور دال کی قیمت میں پچاس فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

  8. بریکنگ, الیکشن ایکٹ میں ترمیم سینیٹ سے منظور: ’آرٹیکل 62، 63 کے تحت نااہلی کی مدت پانچ سال سے زیادہ نہیں ہو گی‘

    سینیٹ نے الیکشن ایکٹ کی اہلی اور نااہلی سے متعلق سیکشن 232 میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔

    ترمیم کے مطابق جہاں آئین میں مدت کا تعین نہیں کیا گیا وہاں نااہلی کی مدت پانچ سال سے زیادہ نہیں ہو گی۔

    ترمیم کے مطابق ’طریقہ اور مدت ایسی ہو جیسا آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 میں فراہم کیا گیا ہے اور جہاں آئین میں اس کے لیے کوئی طریقہ کار، طریقہ یا مدت فراہم نہیں کی گئی ہے، اس ایکٹ کی دفعات لاگو ہوں گی۔‘

    ترمیم کے مطابق ’سپریم کورٹ، ہائی کورٹ یا کسی بھی عدالت کے فیصلے، آرڈر یا حکم کے تحت سزا یافتہ شخص فیصلے کے دن سے پانچ سال کے لیے نااہل ہو سکے گا۔

    ’آئین کے آرٹیکل 62 کی کلاز ون ایف کے تحت پانچ سال سے زیادہ کی نااہلی کی سزا نہیں ہو گی اور اس کے بعد متعلقہ شخص پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کا رکن بننے کا اہل ہو گا۔‘

    خیال رہے کہ قومی اسمبلی سے منظور کیے گئے الیکشن ایکٹ کو سینیٹ بھیجا گیا تھا جس میں اس مخصوص ترمیم کا اضافہ کیا گیا ہے اور اب اسے دوبارہ منظوری کے لیے قومی اسمبلی بھیجا جائے گا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نااہلی کو تاحیات تصور کیا جاتا تھا اور سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور پی ٹی آئی کے سابق رہنما جہانگیر ترین کو سنہ 2017 میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ہی تاحیات نااہلی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

  9. ہم ازخود نوٹس کے اختیار کے خلاف کسی بھی ریلیف کو خوش آمدید کہیں گے، اگر اسے احتیاط کے ساتھ کیا جائے: چیف جسٹس عمر عطا بندیال, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

    پنجاب انتخابات اور ریویو اینڈ ججمنٹ ایکٹ سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت میں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے اپنے دلائل میں کہا کہ نظرثانی کا دائرہ وسیع ہونے سے فریقین عدالت کو پوری طرح قائل کر سکیں گے اور حتی کہ سنگین غداری کے مقدمے میں بھی اپیل کا حق دیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ 184/3 دائرہ کار محدود ہونے پر کئی متاثرہ افراد نظرثانی دائر ہی نہیں کرتے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ اس قانون میں وسیع دائرہ کار کیساتھ لارجر بنچ کی سماعت بھی اسی نظریے سے شامل کی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ لارجر بنچ کا مطلب یہ نہیں کہ پہلے فیصلہ کرنے والے ججز اس میں شامل نہیں ہونگے، تین رکنی بنچ فیصلہ کرے تو نظرثانی میں ان کے ساتھ مزید دو ججز کیس سنیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ انصاف دینا کسی فیصلے کے حتمی ہونے سے کم اہم نہیں، مکمل انصاف ہی خدائی منشاء ہےجس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے سامنے ایک مکمل انصاف کا ٹیسٹ ہے اور انڈین قانون میں بھی یہی ہے،اپیل میں کیس کو دوبارہ سنا جاتا ہے، ہمیں اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے، سوال یہ ہے نظر ثانی کس بنیاد پر ہونی چاہیے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پنجاب انتخابات اور ریویو اینڈ ججمنٹ ایکٹ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

    اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں عدالت کو بتایا کہ ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ تک فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع ملتا ہے، یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ نے نظرثانی کا دائرہ کار محدود رکھا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ آرٹیکل 184/3 میں سپریم کورٹ براہ راست مقدمہ سنتی ہےاور آرٹیکل 184/3 میں نظرثانی کا دائرہ کار اسی وجہ سے وسیع کیا گیا ہے۔ جس پر بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ آپ کے دونوں نکات نوٹ کر لیے اب آگے بڑھیں۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے عدالت کو بتایا کہ میں دس منٹ دلائل دینا چاہتا ہوں۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو ہم مہمان کے طور پر بلاتے ہیں، ہم ابھی آپ کا کیس نہیں سن رہے، اٹارنی جنرل صاحب پہلے دلائل دے رہے ہیں۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’کل سپریم کورٹ کا 184(3) پر نقطہ نظر دوبارہ منظور الہی کیس والا ہو گیا تو اس سے آج کے قانون پر فرق نہیں پڑتا۔‘

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ’آپ کا پوائنٹ نوٹ کر لیا ہے آگے چلیں۔ اٹارنی جنرل نے دلائل میں انڈین سپریم کورٹ کے 2002 کیوریٹو ریویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’انڈین سپریم کورٹ نے کہا کہ انصاف دینا کسی فیصلے کے حتمی ہونے سے کم اہم نہیں۔

    ’فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ مکمل انصاف ہی خدائی منشا ہے۔ جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ نظر ثانی تو نظر ثانی ہی رہتی ہے اسے اپیل کا درجہ تو پھر بھی نہیں۔

    اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ’مسابقتی ایکٹ، الیکشن کمیشن فیصلوں کے خلاف اپیل موجود ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ سنگین غداری کیس میں بھی اپیل کا حق دیا گیا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ان تمام قوانین میں فیصلہ کے خلاف اپیل کا ذکر ہے۔ یہاں اس قانون میں آپ نظر ثانی کو اپیل بنانے کی بات کر رہے ہیں۔

    دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیں اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے۔ ہم 184(3) کے خلاف کسی بھی ریمیڈی کو ویلکم کریں گے۔ اگر اس کو احتیاط کے ساتھ کیا جائے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ سوال یہ ہے نظر ثانی کس بنیاد پر ہونی چاہیے،عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت انیس جون تک کے لیے ملتوی کر دی۔

  10. پاکستان کے تجارتی خسارے میں ساڑھے سترہ ارب ڈالر کی کمی، برآمدات اور درآمدات دونوں گر گئیں, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کے تجارتی خسارے میں موجودہ مالی سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں 40.5 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    گذشتہ مالی سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں ملک کا تجارتی خسارہ 43.4 ارب ڈالر تھا جو موجودہ مالی سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں 25.8 ارب ڈالر رہ گیا۔

    وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جمعے کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تجارتی خسارے میں کمی کی وجہ ملکی درآمدات میں ہونے والی کمی ہے جو زیر جائزہ مہینوں میں 29.2 فیصد کمی کے بعد 51.2 ارب ڈالر رہ گئیں۔

    گذشتہ سال کے ان مہینوں میں ملکی درآمدات کا حجم 72.2 ارب ڈالر تھا۔ تاہم ان مہینوں میں ملکی برآمدات میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جب 12.1 فیصد کمی کے بعد ان کا حجم 25.3 ارب ڈالر رہ گیا جو گذشتہ مالی سال میں 28.8 ارب ڈالر تھیں۔

    برآمدات کے شعبے میں سب سے بڑے برآمدی شعبے ٹیکسٹائل سمیت سب شعبوں میں منفی گروتھ ریکارڈ کی گئی۔

  11. کوئٹہ میں وکیل کے قتل کا مقدمہ: عمران خان کی وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواست خارج, محمد کاظم/ بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی اپنے خلاف سینیئر وکیل عبدالرزاق شر کے قتل کی ایف آئی آر کی منسوخی کی درخواست خارج کر دی ہے۔

    درخواست کی سماعت بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عامر نواز رانا نے کی۔ اس درخواست میں انسپیکٹر جنرل پولیس بلوچستان اور دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔

    سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل اقبال شاہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ عمران خان کو 19 جون تک اسلام آباد ہائیکورٹ نے حفاظتی ضمانت دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان کے خلاف قتل کی ایف آئی آر غیرقانونی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عمران خان کے خلاف ایف آئی آر کو منسوخ کیا جائے۔

    عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس درخواست کو نمٹانے تک ایف آئی آر، تحقیقات اور انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے ان کے مؤکل کے خلاف وارنٹ گرفتاری کو معطل کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ مدعا علیہان کو یہ بھی ہدایت کی جائے کہ درخواست کو نمٹانے تک عمران خان کو اس کیس میں گرفتار نہ کریں۔

    عدالت کے استفسار پر عمران خان کے وکیل نے بتایا کہ قتل کے مقدمے کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں لیکن تاحال ان کے مؤکل کو تحقیقات میں شامل نہیں کیا گیا کیونکہ ابھی تک ان کو تفتیش کے لیے طلب نہیں کیا گیا۔

    وکیل نے عدالت کی توجہ مقتول وکیل کی بیوہ کی پریس کانفرنس کی جانب بھی دلائی جس میں مقتول کی بیوہ نے اپنے رشتہ داروں کو قتل کا ذمہ دار ٹہرایا۔

    سابق وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ مقتول وکیل خود تحریک انصاف کا رکن بھی تھا۔ انھوں نے درخواست کے ساتھ ان کی تحریک انصاف میں شمولیت کی تصاویر کو بھی منسلک کیا تھا۔

    عدالت نے عمران خان کی درخواست کو خارج کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ تحقیقات جاری ہیں، اس لیے اس مرحلے میں تحقیقات کو نہیں روکا جاسکتا۔

  12. ’آئی ایم ایف سے مذاکرات آپ نے ناکام کیے ہوں گے، میرے نزدیک کوئی ناکام نہیں‘

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپنی ہی ایک ویڈیو ری ٹویٹ کی ہے جس میں انھیں یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات ’آپ نے ناکام کیے ہوں گے، میرے نزدیک کوئی ناکام نہیں۔‘

    صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’نواں ریویو ہوگا، اسی مہینے ہوگا۔ ہر چیز کا انتظام موجود ہے۔۔۔ ہر ادائیگی ہو رہی ہے۔‘

  13. سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے میں دس کروڑ ڈالر سے زائد کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کے مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران دس کروڑ ستر لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد اس کے زرمبادلہ ذخائر چار ارب ڈالر کی سطح عبور کر گئے ہیں۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس کے پاس زرمبادلہ ذخائر کی مد میں چار ارب ڈالر موجود ہیں جو گذشتہ ہفتے 3.9 ارب ڈالر تھے۔

    سٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کے کمرشل بینکوں کے پاس 5.3 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر موجود ہیں اور ملک کے پاس مجموعی طور پر 9.3 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر موجود ہیں۔

  14. آئی ایم ایف چاہتا ہے پاکستان سری لنکا بنے اور پھر مذاکرات کریں: اسحاق ڈار کا دعویٰ

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) چاہتا ہے کہ پاکستان سری لنکا کی طرح ڈیفالٹ کرے جس کے بعد پاکستانی حکومت سے دوبارہ مذاکرات شروع کیے جائیں۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں شرکت کے دوران بریفننگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’آئی ایم ایف چاہتا ہے پاکستان سری لنکا بنے اور پھر ہم مذاکرات کریں۔‘

    انھوں نے الزام لگایا کہ ’ہمارے خلاف جیو پولیٹکس ہو رہی کہ پاکستان ڈیفالٹ کر جائے۔ گذشتہ حکومت نے سٹیٹ بینک ایکٹ میں جو ترامیم کیں، وہ ناقابل برداشت ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سٹیٹ بینک ایکٹ میں ترامیم کی ہیں لیکن ابھی مکمل نہیں ہوئی، سٹیٹ بینک پاکستان کا بینک ہے کسی عالمی ادارے کا نہیں۔‘

    اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ اولین ترجیح ہے کہ جو ادائیگیاں کرنی ہیں وہ بروقت کی جائیں گی، بانڈز سمیت کوئی ادائیگی تاخیر کا شکار نہیں ہوئی۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’پیرس کلب کے پاس قرض ری شیڈول کے لیے نہیں جائیں گے۔‘

    ’چار سالوں میں ستر ارب ڈالر کا قرض سو ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔‘

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ’آئی ایم ایف کے بغیر پاکستان کو کچھ نہیں ہوگا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ بجٹ میں کچھ شعبوں کو ٹیکس میں چھوٹ دی گئی اس معاملے پر آئی ایم ایف کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

  15. ’زرداری صاحب نے بلایا تو انکار نہیں کر سکا اور سیاست میں آ گیا‘: پیپلز پارٹی کے پہلے میئر کراچی کون ہیں؟

  16. گرینڈ حیات ہوٹل نظرِ ثانی کیس: ’پیسے کے معاملے میں فیصلہ نہیں دوں گا، بھول جائیں کہ 17 ارب کو 10 ارب کروں گا، چییف جسٹس سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں کانسٹیٹوشن ایونیو ون (گرینڈ حیات ہوٹل) سے متعلق نظر ثانی کیس کی سماعت ہوئی ہے جس پر عدالت نے سی ڈی اے اور ہوٹل مالکان کی نظر ثانی درخواستیں غیر موثر ہونے پر نمٹا دی ہیں۔

    سی ڈی اے نے گرینڈ حیات ہوٹل کے ساتھ ہونے والی لیز کو چار ارب روپے سے بڑھا کر سترہ ارب روپے کردیا تھا اور کہا تھا کہ سات سالوں میں اس رقم کو جمع کروایا جائے۔

    تاہم گرینڈ حیات ہوٹل کی طرف سے رقم جمع نہ کروانے پر سی ڈی اے نے ان لی لیز کو کینسل کر دیا تھا جس کے خلاف وہ نظرثانی کی اپیل میں گئے تھے کیونکہ اس سے پہلے سپریم کورٹ ان کی سی ڈی اے کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کو خارج کر چکی ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا حکم بڑا واضح ہے۔ ایک بھی قسط ڈیفالٹ کرنے پر سی ڈی اے لیز منسوخ کر سکتا تھا۔

    ہوٹل کے وکیل نے استفسار کیا کہ ’پراجیکٹ کی رقم بڑھانے سے پراجیکٹ چلانا ممکن نہیں رہا وکیل ہوٹل عدالت رقم اور مدت کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔‘

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’میں کسی پیسے کے معاملے میں فیصلہ نہیں دوں گا۔ بھول جائیں کہ 17 ارب کو 10 ارب کر دوں گا۔‘

  17. پاکستان میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں اس مالی سال میں نو فیصد سے زائد کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں موجودہ مالی سال کے پہلے دس مہینوں میں ملک کی بڑی صنعتوں کی پیداور میں 9.4 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کی وجہ تقریباً تمام صنعتی شعبوں میں منفی گروتھ رہی۔

    موجودہ سال اپریل کےمہینے میں صنعتی پیداوار میں گذشتہ سال اپریل کے مقابلے میں 21 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی جب کہ اپریل کے مہینے میں مارچ کے مقابلے میں بھی صنعتی پیداوار تقریباً دس فیصد گر گئی ہے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سب سے بڑے صنعتی شعبے ٹیکسٹائل کی پیداوار میں موجودہ مالی سال کے زیر جائزہ مہینوں میں 3.5 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ پٹرولیم، کیمیکل، فارماسوٹیکل، مشروبات، آئرن اور سٹیل، برقی آلات، گاڑیاں بنانے کی صنعتوں میں منفی گروتھ ریکارڈ کی گئی۔

  18. بریکنگ, پیپلز پارٹی کے مرتضیٰ وہاب جماعت اسلامی کے حافظ نعیم کو شکست دے کر میئر کراچی منتخب

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے مرتضیٰ وہاب 173 ووٹ لے کر میئر کراچی منتخب ہو گئے ہیں۔

    خیال رہے کہ میئر کراچی کے انتخاب کے لیے پیپلزپارٹی کے امیدوار مرتضیٰ وہاب اور جماعت اسلامی کے حافظ نعیم کے درمیان مقابلہ ہوا جس میں غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مرتضیٰ وہاب کو 173 ووٹ جبکہ حافظ نعیم کو 161 ووٹ ملے۔

    نتیجے کا حتمی اعلان الیکشن کمیشن کی جانب سے کچھ دیر بعد کیا جائے گا۔

    اس غیر حتمی اعلان کے بعد کراچی کی آرٹس کونسل جسے پولنگ سٹیشن کا درجہ دیا گیا تھا، کے باہر پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

    پی پی پی چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے مرتضیٰ وہاب کو میئر کراچی منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے۔

    پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں بلاول بھٹو سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آج پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک تاریخی کامیابی ملی ہے، یہ کامیابی پورے پاکستان کی فتح ہے۔‘

  19. کراچی کے میئر کے پاس کیا اختیارات ہوتے ہیں؟

  20. صرف اسٹیبلشمنٹ اور آرمی چیف سے بات کرنا چاہتا ہوں پی ڈی ایم کے ہاتھ میں کچھ نہیں: عمران خان

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عمران خان نے گذشتہ رات یوٹیوب کے ذریعے نشر ہونے والے اپنے خطاب میں ایک مرتبہ پھر پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کی مذمت کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اب تک کور کمانڈر ہاؤس پر ہونے والے حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے نہیں آئی، جب ٹرمپ کے حامیوں نے کیپیٹل ہل پر حملہ کیا تھا تو سب سے پہلے پولیس کے اعلٰی عہدیدار کو نوکری سے برخاست کیا گیا تھا، یہاں پولیس کا آئی جی دندناتا پھر رہا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم تو پہلے دن سے کہتے ہیں کہ جنھوں نے کور کمانڈر ہاؤس، ریڈیو پاکستان اور پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگائی ان کی نشاندہی کریں اور ان کو سزا دیں۔ نو مئی کا فائدہ کس کو ہوا، پی ٹی آئی کو نہیں ہوا، جس کو فائدہ ہوا وہ اس کا ذمہ دار ہے۔‘

    عمران خان نے خاص طور پر پی ٹی آئی رہنما شہریار آفریدی کو جیل میں رکھنے کے بارے میں کہا کہ ’شہریار آفریدی کے بھائی کی وفات پر بھی انھیں گھر نہیں جانے دیا گیا۔ جب نواز شریف کی اہلیہ کی وفات ہوئی تھی تو ہم نے انھیں چار دن کا وقت دیا تھا۔‘

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’یاسمین راشد تو ویڈیو میں کہہ رہی ہیں کہ کور کمانڈر کے گھر کے اندر نہ جاؤ، انھیں بھی 75 سال کی عمر میں جیل میں رکھا ہوا ہے۔

    ’کوئی ملک بھی ایسے نہیں چل سکتا، مجھے باہر رکھنے کے لیے پورے ملک کی اخلاقیات اور نظام برباد کیا جا رہا ہے۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں صرف اسٹیبلشمنٹ اور آرمی چیف سے بات کرنا چاہتا ہوں کیونکہ پی ڈی ایم کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔ ابھی بھی وقت ہے اپنے سمت درست کریں، میں کسی سے بھیک نہیں مانگ رہا مجھے صرف اس ملک کی فکر ہے۔‘