امریکی سفارت خانے کی درخواست پر خدیجہ شاہ کو قونصلر رسائی دینے کی منظوری
وزارت داخلہ نے امریکی سفارتخانے کی درخواست پر نو مئی کے پرتشدد واقعات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے باعث گرفتار ہونے والی معروف ڈیزائنر خدیجہ شاہ کو قونصلر رسائی دینے کی منظوری دے دی ہے۔
لائیو کوریج
’پاکستان کے کس رہنما کو یہ سہولت مل سکی ہے؟‘
،تصویر کا ذریعہPMLN
توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی روکنے کے حکم میں توسیع پر بیرسٹر محسن شاہنواز رانجھا نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے یہ سوال کیا ہے کہ ’پاکستان کے کس لیڈر کو یہ سہولت مل سکی ہے؟‘
مسلم لیگ ن کے رہنما محسن شاہنواز رانجھا نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل کی طرف سے ’120 دن والا تاثر‘ دینا غلط ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ کیس سپیکر کی طرف سے بھجوایا گیا تھا۔ ’جب چوری کا پتا چلے گا تب ہی تو چور کے خلاف کارروائی ہو گی۔
’عمران خان نے جھوٹ بولا اور وہ ثابت ہو گیا۔ یہ کہیں نہیں لکھا جب چوری کا پتا چلا تب وقت گزر گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کریمنل کیس میں سٹے آرڈر کا جواز نہیں ہے۔‘
حسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ ’یہ نہیں ہو سکتا کہ چوری کا جب پتا چلے تو کہا جائے کہ وقت گزر گیا اور اب چور ایماندار ہو گیا۔
’سپریم کورٹ میں ایک مرتبہ رکن اسمبلی کی جانب سے حقائق چھپانے کا معاملہ آیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ حقائق چھپانے کا پتا چلے تو متعلقہ رکن اسمبلی کو ڈی توٹیفائی کیا جائے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلے کی موجودگی میں گنجائش نہیں ہے کہ کریمنل کارروائی کے خلاف کوئی سٹے آرڈر دیا جائے۔ چھ سے آٹھ مہینے تو فرد جرم نہیں لگی کیونکہ چیئرمین پی ٹی آئی عدالت میں پیش نہیں ہوتے تھے۔‘
وہ سوال کرتے ہیں کہ ’یہ دسواں مہینہ ہے اور پاکستان کے کس لیڈر کو یہ سہولت مل سکی ہے؟ کیا نواز شریف کا مقدمہ دس مہینے لٹک سکا تھا؟‘
’نواز شریف کے کیس کی تو روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہوتی تھی، نواز شریف کے کیس کا الیکشن سے پہلے فیصلہ کیا گیا۔‘
توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی روکنے کے حکم میں 14 جون تک توسیع, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف سیشن کورٹ میں جاری توشہ خانہ فوجداری کارروائی روکنے کے حکم میں 14 جون تک توسیع کی ہے۔
عدالت نے سیشن کورٹ کی کارروائی پر حکم امتناع جاری کر رکھا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ فیصلے کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی۔
سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے کیس آئندہ ہفتے تک ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ جبکہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے ٹرائل کورٹ کو کارروائی سے روکنے کا حکم واپس لینے کی استدعا کردی۔
انتخابی ادارے کے وکیل نے کہا کہ عدالت نے ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روک رکھا ہے، عدالت ٹرائل کورٹ کو کارروائی سے روکنے کا حکم واپس لے۔
وکیل امجد پرویز نے کہا کہ چھ ہفتے تک کا وقت دیا گیا تھا، ابھی تک ٹرائل کورٹ کی کارروائی رُکی ہوئی ہے۔ ’ٹرائل کورٹ کو کیس کی کارروائی آگے بڑھانے کی اجازت دی جائے۔‘
چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ آئندہ جمعرات کو سماعت کر کے دلائل سن لیے جائیں۔
الیکشن کمیشن کے وکیل بولے کہ یہ سابق چیف ایگزیکٹو کے خلاف کیس ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم کے خلاف سیشن کورٹ میں جاری کارروائی روکنے کے حکم میں 14 جون تک توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
اسلام آباد میں عمران خان آج مختلف مقدمات میں ضمانت کے لیے عدالتوں میں پیش ہوں گے
سابق وزیر اعظم عمران خان آج اسلام آباد میں مختلف مقدمات میں ضمانت کے لیے مختلف عدالتوں میں پیش ہوں گے۔
یہ سماعتیں ہائیکورٹ، ڈسٹرکٹ کورٹس اور انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہوں گی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق دن دو بجے عمران خان کی ضمانت کی دو درخواستوں پر سماعت کریں گے۔
جوڈیشل کمپلیکس ہنگامہ آرائی و دیگر آٹھ کیسز میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت بھی ہو گی۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کو آج تک کی ضمانت دے رکھی ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس اس کیس کی سماعت کریں گے۔
9 مئی کے احتجاج پر درج چھ مقدمات میں چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت کی
درخواستیں آج دائر ہوں گی۔ آج ایک دن کے لیے عدالت ایف ایٹ کچہری سے جوڈیشل کمپلیکس منتقل کی گئی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سکیورٹی وجوہات پر عدالت منتقلی کی ہدایت کی تھی۔
پاکستان میں ذرائع ابلاغ پر دباؤ اور فیک نیوز: ’ہم سے ایک فرمائش کی گئی کہ عمران خان کا نام نہیں لینا‘
ہماری فوج یوکرین کی مدد کر رہی ہے شاید اس لیے برطانیہ اور امریکہ ان کے ساتھ ہیں: عمران خان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ سمیت مغربی طاقتیں شاید اس لیے پاکستانی فوج کے ساتھ کھڑی ہیں کیونکہ وہ روس کے ساتھ جنگ میں یوکرین کی مدد کر رہی ہے۔
اینکر پیئرز مورگن نے اپنے پروگرام کے دوران عمران خان سے پوچھا کہ عالمی رہنماؤں نے تحریک انصاف کے خلاف کریک ڈاؤن پر خاموشی دکھائی ہے تو کیا وہ چاہتے تھے کہ برطانوی وزیر اعظم رشی سونک یا امریکی صدر جو بائیڈن بھی ان کے لیے آواز اٹھاتے۔
اس پر چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ’مجھے ساڑھے تین سال بطور وزیر اعظم اس بارے میں معلوم ہوا۔ اخلاقیات، جمہوریت، آئین، رول آف لا، بنیادی حقوق، کسٹوڈیئل ٹارچر جیسی نام نہاد مغربی اقدار۔۔۔ یہ سب پاکستان میں ہو رہا ہے پھر بھی مجھے لگتا ہے کہ برطانیہ، امریکہ جیسی طاقتوں کا مفاد ہماری فوج کے ساتھ منسلک ہے۔
’اس کی کوئی بھی وجہ ہوسکتی ہے، شاید اس لیے کہ وہ ان کی یوکرین میں حمایت کر رہے ہیں۔‘
خیال رہے کہ پاکستان کے دفتر خارجہ نے روس، یوکرین جنگ میں یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کے دعوؤں کو مسترد کیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ پاکستان غیر جانبدار ہے اور اس نے یوکرین کو کسی قسم کا اسلحہ یا گولہ بارود سپلائی نہیں کیا ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں ہمیشہ آزاد خارجہ پالیسی چاہتا تھا کیونکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اسی ہزار پاکستانی ہلاک ہوئے۔ میں اس کے خلاف تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ شاید وہ (برطانیہ اور امریکہ) سوچتے ہیں کہ ان کے مفادات موجودہ حکومت کے ذریعے حاصل ہوسکتے ہیں۔ جب بھی ایسا ہوتا ہے تو اقدار بحث کا حصہ نہیں رہتے۔‘
عمران خان نے بائیڈن اور سونک کو پیغام دیا کہ ’ملک ہمیشہ اندر سے اپنے مسائل حل کرتے ہیں لیکن برطانیہ اور امریکہ کے اقدار جمہوریت، بنیادی حقوق اور رول آف لا ہیں۔ وہ ہمیشہ ہانگ کانگ یا چین میں اویغور (کے معاملے) یا روس پر انسانی حقوق، بنیادی حقوق، جمہوریت کے فقدان پر تنقید کرتے ہیں۔
’لیکن یہاں ایک شخص جمہوریت کے لیے کھڑا ہے مگر تمام اقدار کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ اس کے باوجود ان کی طرف سے ایک لفظ نہیں سننے کو مل رہا۔ مجھے زیادہ کی توقع نہیں تھی تاہم مغربی میڈیا یہ سمجھ چکا ہے کہ اس ملک میں کیا ہو رہا ہے۔‘
حکومتی بیانات اور فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیے کا عمران خان کے لیے کیا مطلب ہے؟
بریکنگ, جہانگیر ترین نے نئی سیاسی جماعت استحکام پاکستان کا اعلان کر دیا
،تصویر کا ذریعہAleem Khan Group
پاکستان کی سیاست میں گٹھ جوڑ کے لیے جانے جانے والے
سیاستدان جہانگیر ترین نے اپنی نئی سیاسی جماعت کا اعلان کر دیا ہے۔
عبدالعلیم
خان کی رہائش گاہ پر جہانگیر ترین اور ان کے گروپ کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں
استحکام پاکستان پارٹی کے نام سے جہانگیر ترین نے نئی سیاسی پارٹی کا اعلان کیا۔
عبدالعلیم
خان کی جانب سے جہانگیر ترین گروپ کے ارکان میں دیے گئے عشائیے میں ملک بھر سے سو
کے قریب سیاستدان رہنماؤں نے شرکت کی جن میں بہت سے تحریک انصاف کے اہم سابق رہنما
بھی شامل ہیں۔
سندھ
سے عمران اسماعیل، علی زیدی، محمود مولوی، جے پرکاش، قبائلی اضلاع سے جی جی جمال، خیبر
پختونخوا سے اجمل وزیر عشائیے میں شریک ہوئے۔
جبکہ
پنجاب سے مراد راس، فیاض الحسن چوہان، فردوس عاشق اعوان، نعمان لنگرٹیال اور نوریز
شکور شریک ہوئے۔
سیاسی
رہنماؤں نے جہانگیر ترین پر مکمل اعتماد اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو
مشکلات سے نکال کر استحکام کی طرف لے جانا ہے۔
،تصویر کا ذریعہAleem Khan Group
اس
موقع پر فردوس عاشق اعوان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان کو استحکام
کی جانب لے جانے کی اینٹ رکھ دی گئی ہے۔
انھوں
نے کہا کہ قائد اعظم کا حقیقی پاکستان کے خواب کو آنکھوں میں سجائے ایک بار پھر
نئے جذبے اور ولولے کے ساتھ نکل پڑے ہیں۔
فردوس
عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ کل اس سیاسی جماعت کو لانچ کرتے ہوئے اس کے منشور کا
اعلان کیا جائے گا۔
انھوں
نے کہا کہ استحکام پاکستان جماعت کا عزم ہے کہ پاکستان سیاسی ، معاشی عدم استحکام
کا شکار ہے اور ملک مہنگائی و بیروزگاری کی
وجہ سے پیچھے جا رہا ہے۔ ایسی صورت میں ایک ایسی جماعت کی ضرورت تھی جو ملک کو ترقی
کی طرف گامزن کرے گی۔
فردوس
عاشق اعوان نے کہا کہ جہانگیر ترین، علیم خان سمیت سرکردہ رہنما ایک نئے عزم کے
ساتھ میدان میں نکلنے جارہے ہیں۔ مایوسی کا شکار پاکستان میں نئی امید اٹھنے جا رہی
ہے۔
انھوں
نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کا حل ہو گا اور بہتر پاکستان کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔
جہانگیر ترین کا ذاتی مفاد صرف اتنا ہے کہ وہ پاکستان کو خوشخال دیکھنا چاہتے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہAleem Khan Group
بریکنگ, میں کل اسلام آباد جا رہا ہوں، پورا تیار ہوں کہ یہ مجھے پھر سے پکڑیں گے: عمران خان
،تصویر کا ذریعہPTI
سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ ’آج میرے اوپر دو اور کیسز کر دیے گئے۔جس وقت میں نظر بند تھا اس وقت بھی چھ کیسز بنا دیئے گئے۔ اس وقت کوئٹہ کے کیس کی بات کرنا چاہ رہا ہوں۔‘
عمران خان نے سوشل میڈیا پر وڈیو لنک کے ذریعے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ایسا کیس جس میں جان ہی نہیں تھی اس میں قتل میں میرا نام لگا دیا گیا۔ کل مجھے 16 کیسز میں اسلام آباد پیش ہو کر ضمانت لینی ہے۔ کبھی کسی سیاسی لیڈر کے ساتھ ایسا ہوا ہے؟ اس قتل کا کیس جو مجھ پر کیا اس کا مقصد ہی یہ ہے کہ کسی طرح عمران خان کو پھر سے پکڑ لیں۔ میں اس کے لیے تیار ہوں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
عمران خان کے مطابق ’مجھے اس مقدمے کی تفصیل کا تو پتہ ہی نہیں تھا کیونکہ میرے اوپر اتنے کیسز بنا دیے گئے ہیں۔ مجھے صرف یہ پتہ تھا کہ بلوچستان میں میرے اوپر کیس بنا ہوا ہے۔‘
عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ’ مقدمہ انتہائی فولش ہے اور اب اس آدمی کا قتل ہوتا ہے فیملی کہتی ہے خاندانی دشمنی کی وجہ سے ہوا ہے اورچار گھنٹے میں وزیر قانون پریس کانفرنس کرتا ہے کہ اس میں عمران خان ملوث ہیں۔ اس کے بعد آئی جی اس کے بیٹے کو اٹھاتا ہے اورپھر یہ نیا بیان آ جاتا ہے۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’ہم آج جدھر جا کر کھڑے ہو گئے ہیں کیا ہمیں اندازہ ہے کہ ہم ملک کو کتنا نقصان پہنچا رہے ہیں۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’ظلم کے سامنے کبھی نہیں جھکوں گا۔ میں آخری سانس تک ظلم کے نظام کا مقابلہ کروں گا۔ جب تک حقیقی آذادی نہیں آئے گی۔ چاہے دھمکیاں دیں یا جیلوں میں ڈالیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
عمران خان نے کہا ’جس ملک میں یہ حالات ہوں کہ جس کو مرضی پکڑ لیں۔ میڈیا کا حال دیکھیں اس پر بھی کوئی بات نہیں کر رہا کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’میری سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے،سکیورٹی کا چیف غائب ہے۔ سیکورٹی کی جو گاڑیاں تھیں ان کو پولیس اٹھا کر لے گئی ہے۔ انھوں نے سب پر ایف آئی آرز کاٹ دی ہیں۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ میں اس کے اوپر ان کے پاس جا کر معافی مانگوں گا تو میں قوم کو بھی کہنا چاہتا ہوں کہ کبھی اس نظام کو قبول نہ کرنا ورنہ پاکستان میں آپ کا کوئی مستقبل نہیں رہے گا۔‘
عمران خان کے مطابق ’پی ٹی آئی کے 10 ہزار لوگوں کو پکڑا ہوا ہے۔ سیاسی کارکنوں پر جو ظلم ہو رہا ہے کیا کبھی پاکستان میں ایسے ہوا ہے۔‘
پنجاب کے تمام بڑے بزنس مین اکھٹا ہو جائیں تو سرمایہ کاری کی گارنٹی دیتا ہوں: آصف علی زرداری
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان اب بھی آگے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ معیشت کی بہتری کے لیے چارٹر آف اکانومی پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔
لاہور میں تقریب سے خطاب میں آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ’پنجاب کے تمام بڑے بزنس مین اکھٹا ہو جائیں تو میں سرمایہ کاری کی ضمانت دیتا ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ کراچی میں بسیں بھی اسی پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چل رہی ہیں۔ معاشی منصوبہ بندی دنوں نہیں سالوں کے لیے ہوتی ہے۔‘
سابق صدر زرداری کے مطابق ’ایکسپورٹ بڑھنے سے
مسائل حل ہوتے ہیں،پاکستان کو اس پر توجہ دینا ہو گی۔ غیر ملکی سرمایہ کار پیسہ لگاتا ہے تو پیسہ لے کر بھی جاتا ہے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’آپ نے پانچ سال ہماری
حکومت دیکھی تھی جو دیگر حکومتوں سے بہتر
ضرور تھی۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ
تاجروں کا خیال رکھا ہے۔‘
پشاور ہائی کورٹ کا پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان کو رہا کرنے کا حکم, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
،تصویر کا ذریعہTwitter/@Ali_MuhammadPTI
پشاور ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
اپنے مختصر فیصلے میں عدالت نے علی محمد خان کو ایک ایک لاکھ کے دو ضمانتی مچلکے جمع کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے تھری ایم کے تحت گرفتار دیگر ملزمان کی درخواستیں بھی منظور کرلی ہیں۔
پشاور ہائی کورٹ میں تھری ایم پی او میں گرفتار سابق وفاقی وزیر مملکت علی محمد خان اور دیگرکی درخواستوں پر سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ایس ایم عتیق شاہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی تھی۔
بریکنگ, بگاڑ پیدا کرنے اورٖٖٖ انسانی حقوق کی فرضی خلاف ورزیوں کے پیچھے پناہ لینے کی تمام کوششیں بے سود ہیں: آرمی چیف
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی زِیر صدارت جی ایچ کیو میں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق’ فارمیشن کمانڈ کانفرنس کے شرکاء نے یوم سیاہ سانحہ 9 مئی کے واقعات کی سخت ترین مذمت کی۔‘
کانفرنس سے خطاب میں آرمی چیف نے کہا کہ ’رِیاست پاکستان اور مسلح اَفواج، شہداء پاکستان اور اِن کے اہلخانہ کو احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہیں اور ان کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ سراہتی رہے گی‘
اعلامیے کے مطابق آرمی چیف نے کہا’ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز پر پرتشدد حملے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی سرگرمیوں کو روکنے کے بے بنیاد الزامات کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور مسلح افواج کو بدنام کرکے مذموم سیاسی مفادات کا حصول ہے۔‘
آرمی چیف نے کہا ’ملک دشمن عناصر اور ان کے حامی، جعلی اور بے بنیاد خبروں اور پروپیگنڈہ کے ذریعے معاشرتی تفرقہ اور انتشار پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، قوم کے بھرپور تعاون سے تمام تر ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔‘
آرمی چیف نے کہا ’بگاڑ پیدا کرنے کی اورٖٖٖفرضی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے پیچھے پناہ لینے کی تمام تر کوششیں بے سودہیں۔ کثرت سے جمع کیے گئے ناقابلِ تردید شواہد کونہ جھٹلایا اور نہ ہی بگاڑا جا سکتا ہے۔‘
اعلامیے کے مطابق آرمی چیف نے کہا ’مخالف قوتوں کے ناپاک عزائم کو مکمل طور پر ناکام بنانے کی راہ میں کسی بھی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کرنے اور ابہام پیدا کرنے کی کوششوں کو آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔‘
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کانفرنس کے شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ’ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کے منصوبہ سازوں اور ماسٹر مائنڈز کے خلاف قانون کی گرفت مضبوط کی جائے۔ شہدا کی یادگاروں، جناح ہاؤس کی بے حرمتی کرنے والوں اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کو پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت جلد انصاف کے کٹہرے میں لا کر کیفرِ کردارتک پہنچایاجائے۔ کانفرنس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ افواجِ پاکستان، ملک کی سلامتی اور استحکام کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔
کانفرنس میں کور کمانڈرز، پرنسپل اسٹاف آفیسرز اور پاک فوج کے تمام فارمیشن کمانڈرز نے شرکت کی۔
بریکنگ, کوئٹہ میں وکیل کے قتل کا مقدمہ عمران خان کے خلاف درج, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام
سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل
عبدالرزاق شر کے قتل کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین
عمران خان کو نامزد کر دیا گیا ہے۔
مقدمہ مقتول کے بیٹے ایڈووکیٹ سراج احمد کی جانب سے جمیل کاکڑ پولیس سٹیشن میں درج کیا گیا۔
مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 302،109 اور 34 کے علاوہ انسداد دہشتگردی
ایکٹ 6 اور7 کے تحت عمران خان کے خلاف درج کیا گیا۔
عبدالرزاق شرایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے وکیل تھے
۔ انھیں منگل کے روز اس وقت عالمو چوک کے علاقے میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے
ہلاک کیا جب وہ گھر سے ہائیکورٹ کی جانب آرہے تھے۔
مقامی پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ
عبدالرزاق شر ایک آلٹوکارمیں عدالت کی جانب جارہے تھے۔ اس حملے میں ان کے ڈرائیورمحفوظ رہے تھے۔
ایف آئی آر کے متن میں کیا ہے؟
ایف آئی آر کے مطابق مدعی نے کہا کہ انھیں
اطلاع ملی کہ ان کے والد عبدالرزاق شر ایڈووکیٹ پرفائرنگ ہوئی ہے اوروہ سول ہسپتال
کوئٹہ میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں فوراً سول ہسپتال
کوئٹہ پہنچا جہاں میرا والد کی خون میں لت پت نعش موجود تھی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے سابق وزیر
اعظم عمران خان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6کے تحت بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک درخواست
دائر کی تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’مجھے
قوی یقین ہے عمران خان اور پی ٹی آئی کے کارکنان نے اسی رنجش کی بنیاد پر ایئرپورٹ روڈ
بالمقابل سوزوکی شوروم میرے والد کو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے بوقت نو بجکر20 منٹ آتشی اسلحہ سے اندھا دھند فائرنگ کر کے ناحق قتل کرکے عوام میں خوف و
ہراس اور دہشت پھیلائی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان
جن کے مبینہ ایما پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے میرے والد کو قتل
کیا، ان کے خلاف آئینی درخواست کی پیشی بدھ کو تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس پیشی کی مناسبت سے
والد نے مجھے بتایا تھا کہ اس کیس کے حوالے سے انھیں سنگین دھمکیاں بھی دی جارہی
تھیں۔اس لیے وہ رپورٹ کرتے ہیں تاکہ اس سلسلے میں
قانونی کارروائی کی جائے۔‘
وزیر اعظم کے مشیرعطا تارڑ نے ایف آئی آر سے
پہلے ایسے ہی الزام عائد کیے تھے؟
عبدالرزاق شر کے قتل کا ایف آئی آر درج ہونے
سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر عطاتارڑ نے بھی اس قتل کے حوالے سے عمران خان
پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔
تاہم قتل کے بعد جب بی بی سی نے متعلقہ علاقے
کے ایک سینیئر پولیس اہلکار سے قتل کے محرکات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے
ابتدائی تحقیق کے حوالے سے بتایا کہ اس قتل کا محرک دشمنی ہے۔
بعض وکلاء رہنمائوں نے بھی یہ بتایا کہ
عبدالرزاق شرکی دشمنی تھی جس میں فریقین کے لوگ بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
عبدالرزاق شر ایڈووکیٹ کے خلاف آئینی درخواست
میں کیا موقف اختیار کیا گیا ہے؟
واضح رہے کہ مقتول وکیل نے عمران خان کے خلاف
غداری کے مقدمے کے اندراج کے لیے بلوچستان ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائرکی تھی۔
انھوں نے یہ موقف اخیتارکیا تھا کہ عمران خان
نے قومی اسمبلی کو غیرآئینی طورپرتوڑا تھا۔
مقتول وکیل کا یہ موقف تھا کہ عمران خان کا
یہ عمل غیرآئینی تھا اس لیے ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ
درج کیا جائے۔
آئین کی خلاف ورزی پر آئین کے آرٹیکل 6 کی
روشنی میں سنگین غداری کے کیس کی درخواست ہائیکورٹ میں دائر کی گئی تھی جس کی
بدھ کے روز سماعت ہونی تھی۔
مقتول درخواست گزار کے وکیل امان اللہ کنرانی
ایڈووکیٹ نے بتایا کہ بنچ کی عدم دستیابی کے باعث اس کی سماعت نہیں ہو سکی۔
اس درخواست کی سماعت بلوچستان ہائیکورٹ
کے چیف جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں ایک بینچ کررہا تھا۔
چونکہ چیف جسٹس سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس
میں شرکت کے لیے اسلام آباد گئے تھے جس کے باعث مقتول وکیل کے درخواست کی سماعت
نہیں ہوسکی ۔
بحریہ ٹاؤن نے 458 کنال زمین، 285 ملین روپے القادر ٹرسٹ کو دیے: بشریٰ بی بی
سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی نے نیب کے طلبی نوٹس پر اپنے جواب میں کہا ہے کہ ’میں ایک با پردہ خاتون ہوں اور اپنے شوہر کے ساتھ اسلام آباد آنا چاہتی ہوں لہذا میری پیشی آٹھ جون کو منتقل کر دی جائے۔‘
بشری بی بی نے کہا ہے کہ ’میری نیب طلبی کی تاریخ والے دن ہی آپ نے میرے شوہر کو بھی طلب کیا ہے۔ میرے شوہر نے آپ کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ وہ اسلام آباد کی عدالتوں اور نیب میں 8 جون کو پیش ہوں گے۔‘
’میں باپردہ خاتون ہوں اور گذشتہ سماعت پر اسلام آباد اپنے شوہر کے ہمراہ آئی تھی۔ 8 جون کو بھی اپنے شوہر کے ہمراہ نیب میں پیش ہوں گی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق آپ شامل تفتیش کرنے کے لیے ٹھوس مواد مہیا کریں۔ میرے پاس نیشنل کرائم ایجنسی اور بحریہ ٹاؤن کے درمیان معاہدے کی معلومات نہیں۔‘
بشریٰ بی بی نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ ’458 کنال زمین، 285 ملین روپے، بلڈنگ و دیگر عطیات بحریہ ٹاؤن نے القادر ٹرسٹ کو معاہدے کے تحت دیے۔۔۔ القادر یونیورسٹی ایک ٹرسٹ ہے جس سے کسی شخص یا اس کے ٹرسٹیز کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔‘
’جو دستاویزات مانگے گئے وہ القادر ٹرسٹ کے چیف فنانشل افسر کے پاس ہیں۔ القادر ٹرسٹ کی تمام چیزوں کو سیکریٹری دیکھتے ہیں۔‘
بشریٰ بی بی نے کہا ہے کہ ان سمیت کسی ٹرسٹی کو ملک ریاض، ان کے خاندان یا بحریہ ٹاؤن سے کوئی زمین، تحفہ یا قیمتی چیز نہیں دی گئی۔
یاسمین راشد کی بریت کے خلاف اپیل پر مقدمے کا ریکارڈ طلب
،تصویر کا ذریعہPTI
لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کی رہنما یاسمین راشد کی کور کمانڈر ہاؤس پر حملے کے مقدمے میں بریت کے خلاف حکومتی اپیل پر مقدمے کا ریکارڈ طلب کیا ہے سماعت کل تک ملتوی کر دی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے آج اس حکومتی اپیل پر سماعت کی ہے۔
حکومت کی جانب سے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل خرم خان اور سید فرہاد شاہ پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران جسٹس وحید نے استفسار کیا کہ اپیل میں کہاں لکھا ہے کہ آپ نے انھیں کس طرح ملوث کیا۔
جسٹس شہباز رضوی نے استفسار کیا کہ ’آپ کے پاس ریکارڈ ہے تو بتائیں۔ آپ نے ویڈیو کی جانچ پڑتال کرائی؟‘
جسٹس وحید نے ریمارکس دیے کہ ’استغاثہ کا پہلا کام تھا کہ وہ ڈاکٹر یاسمین کو نامزد کراتا۔‘ جسٹس شہباز نے ریمارکس دیے کہ ’تفتیشی کے پاس کچھ نہیں کہ وہ کچھ کرتا۔‘
عمران خان، بشریٰ بی بی کے خلاف گھڑیوں، کف لنکس کی فروخت کے لیے جعلی رسیدیں استعمال کرنے کے الزام میں مقدمہ درج, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام
،تصویر کا ذریعہSocial Media
اسلام آباد پولیس نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی
اہلیہ بشریٰ بی بی سمیت دیگر افراد کے خلاف توشہ خانہ سے حاصل کی گئی گھڑیوں، کلف
لنکس اور دیگر اشیا کی خرید و فروخت کے لیے مبینہ طور پر جعلی رسیدوں کے استعمال
پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔
مقدمے میں سابق مشیر برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر، سابق
وفاقی وزیر زلفی بخاری، فرحت شہزادی اور دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ
وفاقی دارالحکومت میں ’آرٹ آف ٹائم‘ نامی دکان کے ایک ملازم کی مدعیت میں درج کیا
گیا ہے۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق یہ دکان مہنگی گھڑیوں کی خرید و فروخت کے
کاروبار سے منسلک ہے۔
یہ مقدمہ دھوکہ دہی اور فراڈ جیسی دفعات کے تحت درج کیا گیا
ہے۔
مدعی مقدمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان سمیت نامزد دیگر
افراد نے توشہ خانہ کے تحائف بیچنے کے لیے اُن کی دکان کے جعلی لیٹر ہیڈ اور
رسیدیں استعمال کیں جس سے ان کے کاروبار کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔
مدعی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انھوں نے کبھی وہ گھڑیاں، کف
لنکس یا دیگر اشیا ان افراد سے نہ تو کبھی خریدیں اور نہ ہی فروخت کیں۔
اسلام آباد کے تھانہ کوہسار نے مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز
کر دیا ہے۔
پنجاب انتخابات کا کیس سپریم کورٹ کے فیصلوں پر نظرثانی ایکٹ کے ساتھ سُنا جائے گا: چیف جسٹس
،تصویر کا ذریعہEPA
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کروانے کے فیصلے پر الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پر سماعت کی ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ سپریم کورٹ پنجاب انتخابات سے متعلق نظرثانی درخواست کو ریویو ایکٹ یعنی سپریم کورٹ کے فیصلوں پر اپیل کے نئے حکومتی قانون کے ساتھ سُنے گا۔
خیال رہے کہ صدر عارف علوی کی منظوری سے ایک نیا قانون نافذ العمل ہو چکا ہے جس کے تحت آئین کی شق 184 تین کے تحت عدالت عظمیٰ کے فیصلوں پر اپیل کا حق فراہم کر دیا گیا ہے۔ اس قانون سے قبل سپریم کورٹ کی جانب سے ازخودنوٹس کیسز پر فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق موجود نہیں تھا جبکہ نئے قانون میں اپیل پر سماعت عدالت کے لارجر بینچ کو کرنا ہو گی۔
سماعت کے آغاز پر عدالت نے پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کو روسٹرم پر بلایا اور استفسار کیا کہ ’سپریم کورٹ نظر ثانی پر نئے قانون پر آپ کا کیا موقف ہے؟‘
اس پر علی ظفر کا کہنا تپا کہ ’میرا خیال ہے الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست کو سنا جائے، میں نے الیکشن کمیشن کی درخواست پر جواب تیار کر رکھا ہے۔ عدالت ساتھ ساتھ نظرثانی پوائنٹ کے خلاف بھی درخواست سن لے، اگر ریویو پوائنٹ برقرار رہا تو پھر الیکشن کمیشن کی درخواست لارجر بینچ سن لے۔‘
علی ظفر نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کا نظر ثانی پر نیا قانون آئین سے متصادم اور پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کا تسلسل ہے۔‘
اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ہمارے پاس نئے نظر ثانی قانون کے خلاف کچھ درخواستیں آئی ہیں۔ نظر ثانی ایکٹ کے معاملے کو کسی نہ کسی سٹیج پر تو دیکھنا ہے۔‘
بینچ کے ممبر جسٹس منیب اختر نے اس موقع پر استفسار کیا کہ عدالت
کیسے پنجاب انتخابات کیس سنے اگر سپریم کورٹ نظرثانی ایکٹ نافذ ہو چکا ہے؟ انھوں
نے کہا کہ آپ (علی ظفر) کیا کہتے ہیں الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پرانے
قانون کے تحت سُنی جائے؟ جسٹس منیب اختر
اس پر علی ظفر نے استدعا کی کہ ’جی ابھی اس درخواست کو
پرانے قانون کے تحت سن لیں۔‘
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’یہ پہلے سے ہوئے فیصلے
کے خلاف اپیل ہے، یہ کوئی نیا کیس نہیں ہے۔ آئین پر سب متفق ہیں لیکن آئین کے نفاذ
کے معاملے پر سب کلئیر نہیں ہیں۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ اگر نئے قانون کے الیکشن کمیشن کی
نظرثانی درخواست پر لارجر بینچ بنا تو اس کے سامنے فریقین کی جانب سے نئے نکات بھی
اٹھائے جائیں گے۔‘
چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ دوران سماعت ’ایک بات اچھی
ہوئی کہ حکومت اور اداروں نے کہا ہے کہ وہ عدالت میں ہی دلائل دیں گے، جو قانونی بات
ہے، ورنہ یہ تو عدالت کے دروازے کے باہر احتجاج کر رہے تھے، اس احتجاج کا کیا مقصد
تھا؟‘
چیف جسٹس نے کہا کہ 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کروانے سے متعلق فیصلہ اب واپس نہیں لیا جا سکتا، 90 روز میں انتخابات کروانا آئینی تقاضا ہے، وقت گزر چکا ہے، اگرچہ 90 روز نہیں، پھر بھی سپریم کورٹ نے اس تقاضے کو کسی حد تک پورا کرنے کی کوشش کی۔
سماعت کے اختتام پر سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سمیت تمام فریقین
کونوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت آئندہ منگل
تک ملتوی کر دی ہے۔
میجر ریٹائرڈ طاہر صادق نے دہشتگردی کی دفعات کے تحت درج مقدمے میں درخواست ضمانت واپس لے لی
اسلام آباد کی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے جوڈیشل کمپلیکس اور ہائیکورٹ میں توڑ پھوڑ سے متعلق کیس میں سیاسی رہنما میجر ریٹائرڈ طاہر صادق نے اپنی درخواست ضمانت واپس لے لی ہے جس پر کیس کو نمٹا دیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران طاہر صادق کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ وہ درخواستِ ضمانت کو آگے نہیں چلانا چاہتے اور درخواست واپس لیتے ہیں۔
معاون وکیل رائے تجمل نے کہا کہ میجر ریٹائرڈ طاہر صادق کے گھر پر چھاپہ مارا گیا اور انھیں عدالت آنے سے روکا جا رہا ہے۔
جج راجہ جواد عباس نے پوچھا کہ ’آپ کے کلائنٹ نے اب تک پریس کانفرنس نہیں کی کیا؟‘
معاون وکیل نے جواب دیا ’نہیں سر۔۔۔ اور نہ کرنے کا ارادہ ہے۔‘
عدالت نے درخواست ضمانت واپس لینے پر کیس کو نمٹا دیا۔
طاہر صادق کے خلاف تھانہ رمنا میں دہشتگردی کی دفعات کے تحت دو مقدمات درج ہیں۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں شرکت پر صوبائی وزیر نور محمد دمڑ سے قلمدان واپس لے لیا گیا, محمد کاظم/بی بی سی اردو، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہTWITTER
بلوچستان حکومت نے اسلام آباد میں قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس کا بائیکاٹ کر رکھا تھا اور اس کے باوجود وہاں شرکت پر بلوچستان کے وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات نور محمد دمڑ سے محکمے کا قلمدان واپس لیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ ان سمیت بلوچستان سے این ای سی کا کوئی رکن منگل کو اسلام آباد میں ہونے والے این ای سی اجلاس میں بطور احتجاج شرکت نہیں کرے گا۔
لیکن اس کے برعکس نور محمد دمڑ نے اس اجلاس میں شرکت کی جس پر وزیر اعلیٰ میرعبدالقدوس بزنجو نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے منصوبہ بندی و ترقیات کا قلمدان فوری طور پرواپس لے لیا۔
ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ این ای سی میں شرکت نہ کرنے کا حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کے عدم تعاون کے رویے کو دیکھتے ہوئے کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کے حوالے سے جو بھی یقین دہانیاں اور وعدے اب تک کیے ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ رویہ انتہائی مایوس کن صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔
ان کے مطابق حتیٰ کہ وزیر اعظم کی جانب سے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے اعلان کردہ 10 ارب روپے بھی فراہم نہیں کیے گیے ہیں۔
سپریم کورٹ میں پنجاب میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت آج, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد
سپریم کورٹ میں آج پنجاب میں چودہ مئی کو انتخابات کروانے سے متعلق عدالتی حکم کے خلاف الیکشن کمیشن کی نظر ثانی کی درخواست کی سماعت ہوگی۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ اس کی سماعت کرے گا۔ پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے ریویو آف ججمنٹس کے قانون کے بعد الیکشن کمیشن کی طرف سے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ازخود نوٹس کے تحت کیے گئے فیصلوں پر نظرثانی کا حق دیا گیا ہے جس کے تحت نظر ثانی کی اپیل کی سماعت فیصلہ دینے والے بینچ سے بڑا بینچ سنے گا۔
گذشتہ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے اس قانون سے متعلق عدالت کو بتایا تھا تو اس کے بعد عدالت نے اس کی سماعت ملتوی کر دی تھی۔
چودہ مئی کو پنجاب میں انتخابات کروانے کا حکم چیف جسٹس کی سربراہی میں اسی تین رکنی بینچ نے دیا تھا جو اب نظرثانی کی درخواست کی سماعت کر رہا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر اس بیچ کا حصہ ہیں۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی آج نیب کی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوں گے, شہزاد ملک/بی بی سی اردو، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہEPA
قومی احتساب بیورو نیب نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل کی تحقیقات کے سلسلے میں آج طلب کر رکھا ہے تاہم وکلا کے مطابق وہ آج پیش نہیں ہوں گے۔
عمران خان اس سے پہلے گذشتہ ماہ نیب راولپنڈی کے دفتر میں پیش ہوئے تھے جہاں حکام نے ان سے تین گھنٹے سے زائد وقت تک تفتیش کی تھیں۔
نیب ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیم میں شامل نیب کے حکام عمران خان کے جواب سے مطمئن نہیں ہوئے تھے، اس لیے انھیں دستاویزات کے ساتھ دوبارہ طلب کیا گیا تھا۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے عمران خان کی اس مقدمے میں 19 جون تک ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر رکھی ہے۔
وکلا کے مطابق عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پہلی مرتبہ تفتیشی ٹیم کے سامنے کل پیش ہوں گی۔ بشریٰ بی بی نے اسلام آباد کی احتساب عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کی تھی تاہم گذشتہ سماعت کے دوران نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا تھا کہ نیب کو بشریٰ بی بی کی اس وقت گرفتاری مطلوب نہیں ہے جس کی بعد ان کی درخواست غیر مؤثر ہو گئی تھی۔
عمران خان اور ان کی اہلیہ کی نیب راولپنڈی میں پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
عمران خان کی وکلا ٹیم میں شامل ایک وکیل کا کہنا ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ آج نیب میں پیش نہیں ہوں گے۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق عمران خان اپنی اہلیہ سمیت کل نیب میں پیش ہوں گے کیونکہ آٹھ جون کو انھوں نے اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں بھی پیش ہونا ہے۔