سپریم کورٹ نے پنجاب میں چودہ مئی کو انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی طرف سے دائر کی جانے والی نظرثانی کی درخواست کی سماعت عدالتی فیصلوں پر نظرثانی کے نئے قانون کے نفاذ کے بعد یکم جون تک ملتوی کر دی ہے۔
پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ ملک کا موجودہ سیاسی درجۂ حرارت معیشیت اور امن و امان کے لیے بہتر نہیں اور چیزوں کو جوڑنے سے ہی سسٹم میں استحکام آئے گا۔
پیر کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت شروع کی تو اٹارنی جنرل منصور عثمان روسٹرم پر آئے اور کہا کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ عدالت کی طرف سے اجازت ملنے کے بعد انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے نظرثانی دائرہ اختیار سے متعلق نیا قانون بن چکا جس کی صدر مملکت نے بھی منظوری دے دی ہےا ور اس کا اطلاق جمعہ سے ہو بھی چکا۔
واضح رہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے گذشتہ ہفتے ایک بل منظور کیا تھا جس میں از خود نوٹس پر فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دیا گیا ہے اور فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی سماعت بھی فیصلہ دینے والے بینچ سے بڑے بینچ کو سونپنے کا کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اپیل کندہ کو اپنا وکیل بھی تبدیل کرنے کا حق دیا گیا ہے۔
اٹارنی جنرل کی بات پر بینچ میں موجود جسٹس منیب اختر نے کہا کہ نظر ثانی کے نئے قانون کا سن کر الیکشن کمیشن کے وکیل کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’نظر ثانی سے متعلق اب نیا قانون بھی آ چکا ہے اور ہم بات سمجھ بھی چکے ہیں اور ہمیں نئے قانون کا مکمل ادراک ہے، تاہم تحریک انصاف کو بھی نئے قانون کا علم ہو جائے اس کے بعد ہم سماعت کر لیں گے فی الحال ہم سماعت جمعرات تک ملتوی کرتے ہیں۔‘
بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا اس ایکٹ کے نافذ ہونے کے بعد پارلیمنٹ کی طرف سے بینچ کی تشکیل اور از خود نوٹس سے متعلق جو قانون پاس کیا گیا تھا وہ کالعدم ہو گیا ہے تاہم اٹارنی جنرل نے اس سوال پر عدالت کو کوئی جواب نہیں دیا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی بینچ نے بینچ کی تشکیل اور از خود نوٹس پر نظرثانی کی اپیل کا حق دینے سے متعلق پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے قانون کے خلاف حکم امتناع جاری کر رکھا ہے۔