آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کور کمانڈر ہاؤس حملہ: پنجاب پولیس کا یاسمین راشد کی رہائی کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ وہ لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس پر نو مئی کو ہونے والے حملے کے الزام میں پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما یاسمین راشد کی رہائی کے فیصلے کو چیلنج کیا جا رہا ہے کیونکہ ’عدالت نے پولیس کو کیس کی فرانزک شہادتیں پیش کرنے کا موقع نہیں دیا۔

لائیو کوریج

  1. پرویز الٰہی کی گرفتاری ثابت کرتی ہے کہ ملک میں نہ آئینی حقوق ہیں اور نہ قانونی تحفظ، بابر اعوان

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما بابر اعوان نے پرویز الٰہی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرویز الہی کو راستے میں روک کر اہلِ خانہ کی موجودگی میں ہراساں اور پھر گرفتار کرنا ثابت کرتا ہے، ملک میں نہ آئینی حقوق ہیں اور نہ قانونی تحفظ۔۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ پرویز الہی کی گرفتاری انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ اُمید ہے عدالتیں انہیں جلد انصاف اور رہائی دیں گی۔

  2. مراد سعید کی سوات میں واقع رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا، پی ٹی آئی کا دعویٰ

    پاکستان تحریکِ انصاف کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ رات گئے پی ٹی آئی رہنما مراد سعید کی سوات میں واقع رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی نے ٹویٹر پر ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے جس میں پولیس اہلکاروں کو احاطے میں داخل ہوتے دیکھایا گیا ہے۔

  3. بریکنگ, پی ٹی آئی رہنما پرویز خٹک کا پارٹی عہدہ چھوڑنے کا اعلان

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما پرویز خٹک نے پارٹی عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ پرویز خٹک پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر تھے۔

    پرویز خٹک نے جمعرات کی رات اچانک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’نو مئی کے واقعات کی پہلے ہی مذمت کر چکا ہوں اور گذشتہ چند روز سے ملکی صورتحال کو دیکھ رہا تھا۔

    خیال رہے کہ عمران خان کی جانب سے تقریر کے دوران دعویٰ کیا گیا تھا کہ پرویز خٹک اور اسد قیصر کو اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مذاکرات کے لیے بلایا گیا تھا تاہم انھیں سیف ہاؤس میں ہی بٹھا لیا گیا اور وہاں ان پر پارٹی اور عمران خان سے راہیں جدا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

  4. عمران خان کی پرویز الٰہی کی گرفتاری کی مذمت

  5. بریکنگ, پرویز خٹک اور اسد قیصر کو اسٹیبلشمنٹ نے مذاکرات کے لیے بلا کر سیف ہاؤس میں بٹھا لیا ہے: عمران خان کا دعویٰ

    عمران خان کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے جو مذاکراتی کمیٹی بنائی تھی جس میں پرویز خٹک اور اسد قیصر شامل تھے انھیں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مذاکرات کے بہانے بلا کر سیف ہاؤس میں رکھا گیا ہے اور ان سے پی ٹی آئی چھوڑنے کا کہا جا رہا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ ’وہ ابھی بھی سیف ہاؤس میں ہیں۔ ان کو کہا جا رہا ہے کہ آپ کو تب چھوڑیں گے جب آپ یہ کہیں گے کہ ہم تحریکِ انصاف اور عمران خان کو چھوڑ رہے ہیں۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’آپ کو پتا ہے کہ آپ یہ کہہ کر دراصل کیا کر رہے ہیں کہ آپ سیاست چھوڑ دیں۔ کیونکہ اس وقت جو پی ٹی آئی چھوڑے گا اسے لوگوں نے ووٹ بھی نہیں ڈالنے۔‘

    عمران خان نے اس بارے میں مزدی کہا کہ ’وہ بات چیت کرنے گئے تھے انھیں ہی بٹھا لیا گیا، اس کا مطلب ہے کہ یہ بات چیت نہیں کرنا چاہتے۔

    ’اس کا مطلب ہے کہ بند کمروں میں فیصلہ ہو گیا ہے کہ پارٹی کو ختم کرنا ہے، عمران خان کو اکیلا کرنا ہے۔ عمران خان اکیلا ہو چکا ہے، عمران خان کے اردگرد کوئی بھی نہیں ہے۔ نہ میں کسی کو کال کر سکتا ہوں، نہ میں کسی سے بات کر سکتا ہوں کیونکہ سب چھپے ہوئے ہیں۔

    عمران خان نے ایک بار پھر دہرایا کہ الیکشن میں ان کی جماعت ہی جیتے گی چاہے کچھ بھی کر لیا جائے۔

    انھوں نے اپنی تقریر کے دوران یہ بات بھی دہرائی کہ اس وقت جو ظلم ان کے کارکنوں اور رہنماؤں کے ساتھ کیے جا رہے ہیں وہ ان کے دور میں اپوزیشن کے ساتھ نہیں کیے گئے تھے۔

    ’ہم نے کتنے گھروں میں گھس کر لوگوں کو اٹھایا، کتنے لوگوں پر تشدد کیا، کتنے لوگوں پر جھوٹے مقدمے کیے اور ان کی خواتین کو اٹھایا گیا؟‘

    عمران خان نے رانا ثنا اللہ کے خلاف منشیات کے کیس کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’رانا ثنا اللہ پر منشیات کا کیس اے این ایف نے کیا تھا اور اس ادارے پر ایک میجر جنرل صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔‘

  6. بریکنگ, پی ڈی ایم سے کہتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ کا پلان اے سے پلان بی میں جانے میں پتا بھی نہیں چلتا: عمران خان

    پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پی ڈی ایم جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا پلان اے سے پلان بی میں جانے میں پتا نہیں چلتا، جو ہمارے ساتھ ہو رہا ہے وہ آپ کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم والے سمجھتے ہیں کہ وہ بچ جائیں گے جب پلان بی بنے کا تو آپ کو پتا بھی نہیں چلے گا۔

    عمران خان کی جانب سے پی ٹی آئی کے یوٹیوب چینل سے نشر ہونے والے خطاب کا آغاز نیب چیئرمین احمد نذیر بٹ کو ہرجانے کا نوٹس بھیجنے کے اعلان سے کیا۔ یہ خطاب کسی بھی دوسرے ٹی وی چینل سے نہیں دکھایا جا رہا۔

    انھوں نے کہا کہ ’نیب چیئرمین کو 15 ارب کے ہرجانے کا لیگل نوٹس بھجوایا ہے۔ اس آدمی نے سب کچھ بدنیتی پر کیا، نیب انکوائری جب تحقیقات میں تبدیل ہوتی ہیں تو ملزم کو بتایا جاتا ہے، مجھے بار بار نوٹس نہیں دیا گیا۔

    ’ان کی وجہ سے باہر کی دنیا میں یہ خبر گئی کہ عمران خان کو کرپشن کیس میں پکڑا ہے۔ اس سے میرے فلاحی اداروں کے لیے رقم جمع کرنے کی مہم متاثر ہو سکتی ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھی شکایت کروں گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’رینجرز آپ تب استعمال کرتے ہیں جب آپ کو کسی دہشتگرد کو پکڑنا ہوتا ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’جو تحریکِ انصاف کے کارکنوں کے ساتھ ہوا اس کے بعد نفرت پھیلائی جا رہی ہے جو یہیں ختم نہیں ہو گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ جو ہمارے 25 لوگ ہلاک ہوئے ہیں ان کے خاندان ڈر کر سامنے نہیں آ رہے، جو کارکن گرفتار ہوئے یا چھپے ہوئے ہیں ان کے بارے میں بھی کچھ پتا نہیں چل رہا۔

  7. پرویز الٰہی کرپشن کے مختلف کیسز میں مطلوب تھے: ترجمان اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ

    ترجمان اینٹی کرپشن اسٹیبلمشنٹ نے چوہدری پرویز الہٰی کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرویز الٰہی کرپشن کے مختلف کیسز میں اینٹی کرپشن کو مطلوب تھے۔

    ان کی جانب سے جاری ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کی ضمانت چند دن قبل اینٹی کرپشن عدالت نے منسوخ کر دی تھی۔

    ترجمان اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے دعویٰ کیا کہ ’چوہدری پرویز الٰہی نے ضمانت کے لیے جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کیا تھا۔‘

  8. والد نے کہا تھا کہ چاہے مجھے بھی گرفتار کر لیں ہم نے عمران خان کا ساتھ دینا ہے: مونس الٰہی

    پی ٹی آئی صدر چوہدری پرویز الٰہی کی گرفتاری پر ردِ عمل دیتے ہوئے ان کے بیٹے مونس الٰہی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جنوری سے پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کیا تھا تب میرے والد نے مجھے یہ کہا تھا کہ چاہے مجھے بھی گرفتار کر لیں ہم نے عمران خان کا ساتھ دینا ہے۔

    ’تین دن پہلے میرے والد اور والدہ نے یہی چیز دہرائی۔ اب کہا جا رہا ہے کہ پولیس نے میرے والد کو جھوٹے مقدموں میں گرفتار کیا ہے۔ ہم انشااللہ پی ٹی آئی میں ہیں اور رہیں گے۔‘

  9. بریکنگ, پی ٹی آئی صدر چوہدری پرویز الہٰی لاہور میں رہائش گاہ کے باہر سے گرفتار, عمر دراز ننگیانہ، بی بی سی اردو لاہور

    پاکستان تحریکِ انصاف کے صدر چوہدری پرویز الہٰی کو ان کی رہائش گاہ کے باہر سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ترجمان پرویز الہٰی کی جانب سے ان کی گرفتاری کی تصدیق کی گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پرویز الٰہی کی گرفتاری ان کی رہائش گاہ کے باہر چوہدری ظہور الٰہی روڈ پر کی گئی۔

    نگراں وزیرِ اطلاعات پنجاب عامر میر نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی کرپشن یونٹ نے پرویز الٰہی کو پولیس کی مدد سے گرفتار کیا ہے اور وہ کرپشن کے مقدمے میں مطلوب تھے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل پنجاب پولیس کی جانب سے پرویز الٰہی کی گرفتاری کے لیے ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا تھا تاہم گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی تھی۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اس وقت مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ پرویز الٰہی کو انسداد کرپشن کے مقدمے میں گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

  10. پاکستان میں سونے کی قیمت میں ایک دن میں 5400 روپے فی تولہ کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں سونے کی قیمت میں جمعرات کے روز بڑی کمی دیکھی گئی جب ایک تولہ سونے کی قیمت میں 5400 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    کاروبار کے اختتام پر ایک تولہ سونے کی قیمت 229000 روپے پر بند ہوئی دس گرام سونے کی قیمت بھی 4629 روپے کی کمی کے بعد 196331 روپے پر بند ہوئی۔

  11. بریکنگ, مئی میں مہنگائی کی شرح ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 38 فیصد تک پہنچ گئی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں موجودہ مالی سال میں مئی کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 38 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو ملکی تاریخ میں ایک مہینےمیں مہنگائی کی بلند ترین شرح ہے۔

    ادارہ شماریات کے جاردی کردہ اعداد و شمار کے مطابق موجودہ مالی سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں مہنگائی کی شرح 29.2 فیصد رہی جو گذشتہ مالی سال کے ان گیارہ مہینوں میں 11.3 فیصد تھی۔

    معاشی تجزیہ کار طاہر عباس کے مطابق مئی کے مہینے میں مہنگائی کی شرح ایک مہینے میں بلند ترین شرح ہے۔ انھوں نے کہا پاکستان میں مہنگائی کی شرح کے اعداد و شمار جولائی 1965 میں جمع کرنے کا آغاز کیا گیا اور اس وقت سے لے کر آج تک اس سے زیادہ مہنگائی کی شرح ریکارڈ نہیں کی گئی۔

    اعداد و شمار کے مطابق مئی کے مہینے میں غذائی اشیا کی قیمتوں میں 48.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تعمیراتی شعبے میں اشیا کی قیمتوں میں 20.5 فیصد اضافہ ہوا۔ جوتوں اور کپڑوں کی قیمتیں 22.5 فیصد کی شرح سے بڑھیں۔

    ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں 53 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تعلیمی اخراجات میں میں 8.4 فیصد اضافہ اورعلاج معالجے کے اخراجات میں 19.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

  12. مئی کے مہینے میں پاکستان میں 605 ارب روپے کا ٹیکس جمع, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں ٹیکس جمع کرنے والے ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے موجودہ مالی سال میں مئی کے مہینے میں 605 ارب کا ٹیکس اکٹھا جو مئی کے مہینے میں 621 ارب روپے کے ہدف سے سولہ ارب روپے کم رہا۔

    ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق مئی کے مہینے میں 33 ارب روپے کے ریفنڈ جاری کرنے کے بعد نیٹ ٹیکس 572 ارب روپے رہا مئی کے مہینے میں 205 ارب روپے کا انکم ٹیکس جمع کیا گیا جو گذشتہ سال مئی میں 131 ارب روپے تھا۔

    انکم ٹیکس میں ہونے والے اضافے کی شرح 57 فیصد رہی۔ ایف بی آر نے ڈومیسٹک سیلز ٹیکس کی مد میں تقریباً 100ارب روپے جمع کئے ہیں جو گذشتہ سال کے مقابلہ میں 28 فیصد زیادہ ہیں۔

    فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں تقریباً 41ارب روپے اکٹھے کئے گئے ہیں جو سال بہ سال کی بنیاد پر 32 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

    تاہم ڈومیسٹک ٹیکسز کی مد میں مجموعی طور پر 44 فیصد اضافہ حاصل کیا گیا ہے۔ ایف بی آر نے یہ تمام اہداف معیشت میں سست روی اورجی ڈی پی گروتھ ریٹ کو کم کرنے کے باوجود حاصل کئے ہیں۔

  13. ’فواد چوہدری جو کر رہے ہیں میں اس میں ایکٹو نہیں ہوں‘ اسد عمر

    پی ٹی آئی کے سابق جنرل سیکرٹری اسد عمر کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری جو کر رہے ہیں میں اس میں ایکٹو نہیں ہوں۔

    پی ٹی آئی کے سابق رہنما اسد عمر گلبرگ میں عسکری ٹاور پر حملہ اور جلاؤ گھیراؤ سے متعلق کیس میں لاہور کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش ہوئے۔

    اس موقع پر انھوں نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو بھی کی۔

    انسداد دہشت گردی عدالت نے اسد عمر کی عبوری ضمانت 13 جون تک منظور کر لی ہے اور انھیں ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔

    یاد رہے گذشتہ روز تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کرنے والے چند اہم رہنماؤں نے اڈیالہ جیل میں پی ٹی آئی وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی سے ملاقات کے بعد انکشاف کیا کہ سابقہ رہنماؤں کے درمیان مستقبل کے لائحہ عمل کو طے کرنے کے لیے رابطے جاری ہیں۔

    فواد چوہدری، عمران اسماعیل، عامر کیانی اور مولوی محمود نے اڈیالہ جیل میں شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی جس کے بعد انھوں نے میڈیا سے گفتگو کی۔

    فواد چوہدری نے اس موقع پر کہا کہ ’پاکستان کے اندر معاشی، آئینی، سیاسی غیر یقینی موجود ہے جس کی ذمہ دار پی ڈی ایم حکومت ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ان حالات میں اپوزیشن کی پوزیشن خالی نہیں رہنی چاہیے۔ بحران کو حل کرنے کے لیے ہم کوششیں کریں گے۔‘

    فواد چوہدری کے اس بیان کے بعد اسد قیصر سمیت تحریکِ انصاف کے متعدد رہنماؤں نے ان سے رابطوں ترید کی۔

    شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی کا کہنا تھا کہ آج اڈیالہ جیل میں تحریک انصاف کے سابق رہنماؤں سے شاہ محمود قریشی کی ملاقات پر میڈیا میں جو تاثر دیا جا رہا ہے میں اُس کی تردید کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ مخدوم صاحب پارٹی کے وائس چیئرمین ہیں اورپی ٹی آئی ایک نظریے کا نام ہے، ہم تحریک انصاف اور عمران خان کے نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی نے آج تک صرف اصولوں اور خدمت کی سیاست کی، نہ کوئی عہدہ نہ کوئی لالچ شاہ صاحب کو خرید سکتی ہے۔ کل بھی عمران خان کے ساتھ تھے، آج بھی ہیں۔

  14. سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ: یہ معاملہ پارلیمنٹ کو نہیں بھیجیں گے، پارلیمنٹ اور حکومت اگر کوئی تجویز دیں تو اس پر غور کریں گے، چیف جسٹس کے ریمارکس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

    دورانِ سماعت امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہ عدالت نے پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ مانگا تھا۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اخبارات کے مطابق پارلیمنٹ نے کارروائی عدالت کو فراہم کرنے سے انکار کیا، لیکن ہم نے پارلیمنٹ کی کارروائی ان کی ویب سائٹ سے لے لی ہے، پارلیمنٹ کو شاید معلوم نہیں تھا کہ خوش قسمتی سے تمام کارروائی ویب سائٹ پر موجود ہے۔

    دورانِ سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ یہ دیکھنا ہو گا کہ اگر قوانین ایک جیسے ہیں تو اس کا حل کیا جا سکتا ہے یا نہیں، اگر قوانین آپس میں مماثلت رکھتے ہیں تو فل کورٹ سے متعلق درخواستیں سننا وقت کا ضیاع ہو گا۔

    جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ عدالت اس معاملے کو پارلیمنٹ کو بھیج سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کو نہیں بھیجیں گے، پارلیمنٹ اور حکومت اگر کوئی تجویز دیں تو اس پر غور کریں گے۔

    چیف جسٹس پاکستان کی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آپ حکومت سے ہدایات لے لیں تب تک کسی اور کو سن لیتے ہیں۔

    چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ اگلے ہفتے اس کیس کو سنیں گے، تمام وکلا جو کراچی سے لمبا سفر کر کے آئے ان سے معذرت کرتے ہیں۔ جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ یہاں موسم خوشگوار ہے امید ہے سب انجوائے کریں گے۔

  15. بریکنگ, سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ: حکومت کو عدلیہ کی قانون سازی سے متعلق سپریم کورٹ سے مشاورت کرنی چاہیے، چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف کیس کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔

    دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خوش آئندہ بات ہے کہ حکومت سپریم کورٹ سے متعلق دونوں قوانین پر دوبارہ غور کرے گی، حکومت کو عدلیہ کی قانون سازی سے متعلق سپریم کورٹ سے مشاورت کرنی چاہیے۔

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی لارجر بنچ سماعت کر رہا ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر اور شاہد وحید، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس محمد علی مظہر بھی آٹھ رکنی لارجر بنچ کا حصہ ہیں۔

    دورانِ سماعت چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفار کیا کہ کیا وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟ جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ ہمارے دو قوانین ہیں، ایک سپریم کورٹ ریویو آف آرڈر اینڈ ججمنٹ ایکٹ ہے، اور دوسرا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ہے۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ دونوں قوانین میں ریویو اور وکیل کرنے کی شقوں کی آپس میں مماثلت ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خوشی ہے کہ پارلیمنٹ اور حکومت مماثلت والے قوانین میں ترمیم کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو عدلیہ کی قانون سازی سے متعلق سپریم کورٹ سے مشاورت کرنی چاہیے۔

    جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ زیادہ وسیع ہے۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں سپریم کورٹ کے اندرونی معاملات سے متعلق شقیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں قوانین میں سے کس پر انحصار کرنا ہے اس کیلئے ایک حل پر پہنچنا ضروری ہے۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دونوں قوانین میں ہم آہنگی کے لیے پارلیمنٹ کو دیکھنے کا کہہ سکتے ہیں۔ جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ آپ کی اس تجویز کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خوش آئندہ بات ہے کہ حکومت سپریم کورٹ سے متعلق دونوں قوانین پر دوبارہ غور کرے گی۔

    اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پہلے قانون کی شق 6 اور دوسرے کی شق 4 ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

  16. ’فوج واپسی کی اجازت دے اور تسلیم کرے کہ الطاف حسین کی قیادت میں ایم کیو ایم ایک حقیقت ہے‘

  17. بریکنگ, لاہور سمیت 11 اضلاع میں تحریکِ انصاف کے کارکنوں کی نظربندی کالعدم قرار, ترہب اصغر، بی بی سی اردو

    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے 11 اضلاع میں نو مئی کے بعد تحریکِ انصاف کے کارکنوں کی نظری بندی کے احکامات کالعدم قرار دے دیے ہیں۔

    جسٹس صفدر سلیم شاہد نے ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر افراد کی نظر بندی کے احکامات کے خلاف متفرق درخواستوں پر فیصلہ جمعرات کو جاری کیا۔

    اس فیصلے کے مطابق لاہور، وزیرآباد، جھنگ، شیخوپوہ، حافظ آباد، سیالکوٹ، منڈی بہاؤ الدین، گجرات، ننکانہ صاحب، گجرانولہ اور نارووال میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی نظر بندی کے احکامات کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سیاسی لیڈر کی گرفتاری پر ملک بھر میں افسوسناک ردعمل آیا لیکن بغیر مقدمات کے شہریوں کو اٹھا کر جیلوں میں ڈالنا افسوسناک ہے۔

    فیصلے کے مطابق امن و امان قائم رکھنا حکومت کی ذمہ داری تھی اور نو مئی کے بعد حکومت نے بغیر سوچے سمجھے لاتعداد نظر بندی کے احکامات جاری کیے جبکہ اس کے پاس اگر کوئی شواہد موجود تھے تو فوجداری مقدمات میں گرفتاری کے لیے بہت وقت تھا۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے ہر نوٹیفکیشن میں صرف ڈی پی او کی رپورٹ پر شہریوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ فیصلے کے مطابق ڈپٹی کمشنرز کا نظربندی کا فیصلہ خود پبلک مینٹیس آرڈیننس 1960 کے سیکشن 3 کی خلاف ورزی ہے اس لیے تمام نظر بند افراد کو فوری طور رہا کیا جائے۔

  18. بریکنگ, اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں 11 روپے کی بڑی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں جمعرات کے روز بڑی کمی ریکارڈ کی گئی جب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 12 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اوپن مارکیٹ ریٹ کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت اس وقت 299.50 روپے ہے جو گذشتہ روز 311 روپے پر بند ہوئی تھی۔

    دوسری جانب انٹر بینک میں بھی ڈالر 47 پیسے سستا ہوکر285روپے کا ہو گیا ہے۔

    کرنسی ڈیلروں کے مطابق یہ کمی سٹیٹ بینک کی جانب سے کریڈٹ کارڈ کی ادائیگی کے لیے ڈالر کی انٹر بینک سے خریداری کی اجازت دینے کی وجہ سے آئی ہے۔

    واضح رہے گذشتہ روز، سٹیٹ بینک نے کریڈٹ کارڈز کی بیرونی ادائیگیوں کے لیے ڈالرز بینکوں سے خریدنے کی اجازت دی تھی۔

    پہلے کریڈٹ کارڈز کی ادائیگیوں کے لیے ڈالرز اوپن مارکیٹ سے خریدے جارہے تھے۔ کریڈٹ کارڈز کی ادائیگیوں کا دباؤ ختم ہونے کا فری مارکیٹ پر مثبت اثر پڑا ہے۔

    ’پاکستان کی تاریخ میں آج پہلی بار ڈالر کی قیمت میں 27 روپے کمی ہوئی‘ ملک بوستان کا دعویٰ

    ادھر ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے صدرملک بوستان نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں آج پہلی بار ڈالر کی قیمت میں 27 روپے کمی ہوئی۔

    نجی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ کمرشل بینکوں کے ڈالر خریدنے سے اوپن مارکیٹ پر اثر ہوا۔ کمرشل بینکوں کو کہا ہے کہ وہ اوپن مارکیٹ سے ڈالر خرید سکتے ہیں۔

  19. سپریم کورٹ پروسیجر اینڈ پریکٹس ایکٹ: ایکٹ سے عدلیہ کی آزادی میں کمی نہیں اضافہ ہو گا، مسلم لیگ ق کا جواب, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل میں ترامیم کے حوالے سے مسلم لیگ ق نے ایکٹ کے خلاف دائر درخواستوں کو مسترد کرنے کی استدعا کر دی ہے۔

    مسلم لیگ ق نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب جمع کروایا ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایکٹ سے عدلیہ کی آزادی میں کمی نہیں اضافہ ہو گا۔

    مسلم لیگ ق کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ملک میں چلنے والی وکلا تحریک کے بعد ریفارمز کے موقع کو گنوا دیا گیا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایکٹ کاسیکشن 4 سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو وسیع کرتا ہے۔

    جس پر مسلم لیگ ق نے موقف دیا کہ ایکٹ کا سیکشن 3 عدلیہ کے 184(3) کے اختیار کے استعمال کو کم نہیں کرتا۔ سیکشن 3 چیف جسٹس کے از خود نوٹس کے اختیار کے بے ترتیب استعمال کو سینئر ججز کے ساتھ مل کر استعمال کا کہتا ہے۔

    مسلم لیگ ق نے موقف دیا ہے کہ کمیٹی کے جانب سے مقدمات کے مقرر کرنا از خود نوٹس کے اختیارات کے استعمال سے عوام کا اعتماد بڑھے گا۔ مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ سابقہ چیف جسٹسز افتخار چودھری، گلزار احمد، ثاقب نثار کی جانب اختیارات کا متحرک استعمال کیا گیا۔

    مسلم لیگ ق نے موقف دیا کہ چیف جسٹس کے اختیارات کے استعمال کے نتائج سٹیل مل، پی کے ایل ائی اور نسلہ ٹاور کی صورت میں سامنے آئے۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ جیسی قانون سازی سے ایسے نتائج سے بچا جا سکتا تھا۔

    مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ آزاد عدلیہ کا مطلب ہر جج کے بغیر پابندی، دباؤ اور مداخلت کے فرائض کی انجام دہی ہے۔

  20. اسلام آباد ہائی کورٹ: اب تک شہریار آفریدی کو متعلقہ عدالت میں کیوں نہیں پیش کیا گیا، کل تک اس معاملے پر جواب دیں: جسٹس ارباب, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    پی ٹی آئی رہنما شہریار آفریدی کی عدالتی حکم کے باوجود دوبارہ گرفتاری اور متعلقہ عدالت میں پیش نہ کرنے پر توہین عدالت کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔

    عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو درخواست پر نوٹس جاری کیا ہے۔

    دورانِ سماعت شہریار آفریدی کے وکیل شہر افضل مروت نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم کے باوجود شہریار آفریدی کی دوبارہ گرفتاری کی گئی اور کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

    عدالت نے سٹیٹ کونسل سے استفسار کیا کہ اب تک متعلقہ عدالت میں کیوں نہیں پیش کیا گیا؟ کل تک اس معاملے پر جواب دیں۔

    وکیل شیر افضل مروت نے عدالت نے درخواست کی کہ آج ہدایت کے ساتھ ہماری درخواست نمٹا دیں، کل مرکزی کیس بھی لگا ہوا ہے۔

    وکیل شہر افضل مروت نے عدالت کو بتایا کہ شہریار آفریدی کو ڈیتھ سیل میں رکھا گیا ہے۔ انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ آپ نے ڈیتھ سیل سے نکالنے کا زبانی حکم دیا تھا، تحریری حکمنامہ جاری کر دیں۔

    اس پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہمارے آرڈر کی تعمیل نہ کی گئی ہو۔ انھوں نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کا کیس ہے اور ہم اس کو نمٹا نہیں رہے کل دوبارہ سماعت رکھیں گے۔

    عدالت نے شہریار آفریدی کی پولیس کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی ہے۔