آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کور کمانڈر ہاؤس حملہ: پنجاب پولیس کا یاسمین راشد کی رہائی کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ وہ لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس پر نو مئی کو ہونے والے حملے کے الزام میں پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما یاسمین راشد کی رہائی کے فیصلے کو چیلنج کیا جا رہا ہے کیونکہ ’عدالت نے پولیس کو کیس کی فرانزک شہادتیں پیش کرنے کا موقع نہیں دیا۔

لائیو کوریج

  1. سوشل میڈیا پر خواتین سے بدسلوکی کی پرانی تصاویر اور جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں، آئی جی پنجاب

    آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور نے سوشل میڈیا پر خواتین سے بدسلوکی سے متعلق خبروں پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت سی جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے متعدد سوشل میڈیا پوسٹس کا حوالہ دیتے ہوئے دعوی کیا کہ ان میں سے کوئی بھی حالیہ واقعات کی نہیں ہے۔

    آئی جی پنجاب پولیس نے کہا کہ ’جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا، ان کا ریکارڈ نادرا سے چیک کیا گیا۔ کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیو یا تصاویر لگوائیں، جن کے ذریعے ان کو گرفتار کیا گیا۔ جیو فینسنگ کے ذریعے بھی لوگوں کا پتہ چلا۔ واٹس ایپ گروپس سے بھی پتہ چلا، جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا، ان میں ہدایات تھیں۔ گرفتار لوگوں نے بھی دوسرے ملزمان کے بارے میں بتایا۔‘

    ’کسی نے کہا کہ جیل سے رہا ہونے والی خاتون کے جسم پر کٹ کے نشان تھے۔ جو لوگ جھوٹ بول رہے ہیں ان کو شرم آنی چاہیے۔ خواتین سے لیڈی پولیس کے علاوہ کسی نے تفتیش نہیں کی۔‘

    آئی جی پنجاب پولیس نے کہا کہ ’کسی ایک خاتون کے ساتھ اگر زیادتی ہوئی تو ہم ذمہ دار ہوں گے۔‘

    ایس ایس پی انوسٹی گیشن ڈاکٹر انوش نے بتایا کہ ’میں جیل میں جا کر خواتین سے ملی ہوں، مرد اس حصے میں داخل ہی نہیں ہو سکتے جہاں خواتین موجود ہیں۔‘

    ایس ایس پی نے بتایا کہ ’ہم کسی کو سپیشل ٹریٹمنٹ نہیں دے سکتے۔‘ انھوں نے کہا کہ خدیجہ شاہ کو دمہ کا مسئلہ تھا اور ان کو ضروری ادویات دی گئی ہیں۔

  2. متنازع ٹویٹ کا معاملہ: ایف آئی اے عدالت نے اعظم سواتی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    ایف آئی اے عدالت کے سپیشل جج سینٹرل اعظم خان نے متنازع ٹویٹ کے کیس میں تحریک انصاف رہنما اعظم سواتی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

    واضح رہے کہ عدالت نے اعظم سواتی کو آج فرد جرم عائد کرنے کے لیے طلب کر رکھا تھا تاہم وہ خود پیش نہیں ہوئے جبکہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر کی جانب سے اعظم سواتی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

    اعظم سواتی کے وکیل سہیل خان نے عدالت کو بتایا کہ ان کا اپنے موکل سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیس کے تفتشی افسر وارنٹ کی تعمیل کیلئے کہاں گئے اور کیسے تعمیل کروائی۔

    کیس کے تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انھوں نے وارنٹ کی تعمیل کروائی تاہم اعظم سواتی اپنے گھر میں موجود نہیں تھے۔ وارنٹ کی تعمیل کروانے والے ایف آئی اے اہلکار ممتاز نے عدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ اعظم سواتی گھر پر نہیں تھے اور نہ ہی کسی نے دروازہ کھولا۔

    سپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے اعظم سواتی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے جس میں ہر آدمی لمحہ بہ لمحہ آگاہ ہو جاتا ہے۔

    اعظم سواتی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا قانون ہی الگ ہے، اسے دیکھنا ہوگا۔ ان کا موقف تھا کہ عدالت قابل ضمانت وارنٹ کی تعمیل پہلے مکمل کروائے کیوں کہ ہائیکورٹ کے آرڈر کے مطابق پہلے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل ضروری ہے۔

    عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا اور بعد میں اعظم سواتی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

  3. سٹاک مارکیٹ میں تیزی ، انڈیکس میں 300 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور سٹاک مارکیٹ انڈیکس میں 324 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    واضح رہے کہ سٹاک مارکیٹ میں مسلسل دوسرے روز تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔

    سٹاک مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق آج صبح مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز سست روی کا شکار تھا تاہم آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے ساتھ کام کرنے کا بیان سامنے آنے کے بعد سٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی اور مارکیٹ پر اس کا مثبت اثر دیکھا گیا۔

    واضح رہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے ساتھ انگیج رہنے کا بیان میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے آئی ایم ایف ایم ڈی سے رابطے کے بعد سامنے آیا۔

  4. پشاور ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججوں کی تقرری کیخلاف وفاق کی درخواست خارج, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز کی تقرری کے خلاف وفاقی حکومت کی درخواستیں دو ایک کی اکثریت سے خارج کر دی ہیں۔ سپریم کورٹ کے جسٹس منیب اختر اور جسٹس محمد علی مظہر نے ان درخواستوں کو خارج کیا جبکہ جسٹس اطہر من اللہ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔

    سپریم کورٹ میں پشاور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز کی تقرری کے خلاف وفاقی حکومت کی درخواست پر سماعت جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی جس کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی نے پشاور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز جسٹس فہیم ولی، جسٹس اعجاز خان اور جسٹس کامران حیات کی منظوری دی جبکہ فضل سبحان، شاہد خان اور خورشید اقبال کے نام واپس بھجوائے۔

    انھوں نے بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی نے تین نام واپس بھجواتے ہوئے سینئیر ایڈیشنل ججز کے ناموں پر بھی غور کرنے کی تجویز دی۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہی وہ مجاز اتھارٹی ہیں جو ججز کی تقرری کی نامزدگی کا حق رکھتے ہیں۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 175 اے کے تحت کہاں لکھا ہے کہ ججز کی نامزدگی کا اختیار صرف متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو حاصل ہے؟

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ میں جب چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ تھا تو جوڈیشل کمیشن کے ہر ممبر سے مشاورت کرتا تھا، ہائیکورٹ میں ججز نامزدگی کا حتمی اختیار متعلقہ چیف جسٹس کو ہی حاصل ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا کیا ججز کی تقرری میں اندھا دھند سینیارٹی کے اصول کو دیکھا جائے اور قابلیت کو بالائے طاق رکھیں؟ کیا ججز کی تقرری میں سینیارٹی اصول کے ساتھ میرٹ کو نہیں دیکھنا چاہیے؟

    جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ کیا جوڈیشل کمیشن کے معاملات پر پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری جوڈیشل ریویو کر سکتی ہے؟

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا پارلیمنٹری کمیٹی جوڈیشل کمیشن کو تجویز دے سکتی ہے؟

    سپریم کورٹ نے اس معاملے پر پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

  5. چیف جسٹس سمیت آڈیو لیکس کمیشن کیس کی سماعت کرنے والے تین جج بینچ سے علیحدگی اختیار کریں: وفاقی حکومت کی درخواست, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    وفاقی حکومت نے آڈیو لیکس کمیشن کی تشکیل اور اس کے کام پر حکم امتناع جاری کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ پر اعتراضات اٹھا دیے ہیں۔

    وفاقی حکومت کی جانب سے یہ درخواست آڈیو لیکس کمیشن کے خلاف درخواستوں کے مقدمے میں جمع کروائی ہے جس میںتین ججوں بشمول چیف جسٹس آف پاکستان کی پانچ رکنی بینچ میں شمولیت پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔

    وفاقی حکومت نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الااحسن اور جسٹس منیب اختر کی بینچ میں شمولیت پر اعتراض کرتے ہوئے استدعا کی کہ یہ تینوں جج آڈیو لیکس کا مقدمہ نہ سُنیں۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ یہ تینوں جج پانچ رکنی لارجر بینچ میں بیٹھنے سے انکار کر دیں اور آڈیو لیکس کمیشن کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے لیے نیا بینچ تشکیل دیا جائے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ 26 مئی کو اس ضمن میں ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس پر اٹھائے گئے اعتراضات کو پذیرائی نہیں دی گئی جبکہ انکوائری کمیشن کے سامنے ایک آڈیو مبینہ طور پر چیف جسٹس کی خوش دامن سے متعلق بھی ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالتی فیصلوں اور ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق جج اپنے رشتہ داروں کا مقدمہ نہیں سن سکتے اور اسی بنا پر ماضی میں ارسلان افتخار کیس میں چیف جسٹس افتخار چوہدری نے حکومتی اعتراض پر خود کو بینچ سے الگ کر لیا تھا۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کے سامنے موجود چند آڈیو لیکس مبینہ طور پر جسٹس اعجاز الااحسن اور جسٹس منیب اختر سے بھی متعلقہ ہیں۔

  6. نو مئی کے واقعات: عمران خان نے انسداد دہشت گردی عدالت میں ضمانتی مچلکے جمع کروا دیے

    سابق وزیراعظم عمران خان نے لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ضمانتی مچلکے جمع کروا دیے ہیں۔

    یاد رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے چیئرمین تحریک انصاف کو نو مئی کے پرتشدد واقعات کے تناظر میں درج تین کیسوں میں 2 جون تک ضمانت دیتے ہوئے انھیں یہ مچلکے متعلقہ عدالت میں جمع کروانے کے احکامات جاری کیے تھے۔

    اس موقع پر عمران خان بھی اپنی قانونی ٹیم کے ہمراہ عدالت میں موجود تھے۔

  7. سیاسی لبادہ اوڑھے افراد جو ریاست پر حملہ آور ہوتے ہیں ان کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے: شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے سیاست میں ڈائیلاگ (مذاکرات) کی اہمیت پر زور دیا ہے مگر ساتھ یہ واضح کیا ہے کہ (ڈائیلاگ) سیاسی لبادہ اوڑھے ایسے افراد کے ساتھ نہیں ہو سکتا جو ریاست کی علامتوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔

    ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مذاکرات سیاسی عمل میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے جو جمہوریت کی ترقی اور پختگی میں مدد دیتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ماضی میں جب سیاسی رہنما کسی معاملے پر اکھٹے بیٹھے اور اتفاق کیا تو بہت سی سیاسی اور آئینی پیش رفتیں سامنے آئیں۔

    ’تاہم، یہاں ایک بڑا فرق ہے، انتشار پسند اور آتش زدگی کرنے والے جو سیاست دانوں کا لباس پہنتے ہیں اور ریاست کی علامتوں پر حملہ کرتے ہیں وہ ڈائیلاگ کے اہل نہیں ہیں۔ ان سے ڈائیلاگ کرنے کے بجائے ان کا اُن کی عسکری کارروائیوں کا محاسبہ کیا جانا چاہیے۔ ترقی یافتہ جمہوریتوں میں بھی یہی رواج ہے۔‘

    یاد رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف ماضی قریب میں مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں اور ان کی جانب سے اس ضمن میں ایک سات رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی۔ بی بی سی کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ ڈائیلاگ کے بدلے ان کے پاس آفر کرنے کے لیے کیا ہے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں یہ جاننے کے لیے متجسس ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ہمیں دوڑ سے باہر رکھنا ملک کے لیے کیسے فائدہ مند ہو گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں بات چیت اس لیے کرنا چاہتا ہوں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ سوچ کیا رہے ہیں۔ میں نے انھیں کہا ہے کہ آپ مجھے اس بات پر متفق کر لیں کہ یہ سب پاکستان کے لیے درست ہے تو میں متفق ہو جاؤں گا۔‘

  8. چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کو صحت سے متعلق ’بے بنیاد الزامات‘ عائد کرنے پر قانونی نوٹس

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کی جانب سے ان پر لگائے گئے الزمات کے جواب میں انھیں معافی مانگنے اور دس ارب روپے ہرجانہ ادا کرنے سے متعلق قانونی نوٹس بھیج دیا ہے۔

    یاد رہے کہ عمران خان کی نیب کیس میں گرفتاری کے بعد ان کا حکام کی جانب سے طبی معائنہ کیا گیا جس کی رپورٹ بعدازاں میڈیا کو بھی فراہم کی گئی تھی۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر وفاقی وزیر صحت نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ سابق وزیر اعظم کی پیشاب کی ابتدائی ٹیسٹ رپورٹ کے مطابق منشیات کے استعمال کے شواہد ملے ہیں۔ وفاقی وزیر نے عمران خان پر قاتلانہ حملے کے بعد ان کی ٹانگ پر لگائے گئے پلستر کے حوالے سے بھی چند دعوے کیے تھے۔

    تحریک انصاف کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق اب عمران خان نے اپنے وکلا کے ذریعے ’من گھڑت، جھوٹے اور بے بنیاد‘ الزامات عائد کرنے پر وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کو قانونی نوٹس بھیج دیا ہے۔ نوٹس چیئرمین تحریک انصاف کے وکیل ابوذر سلمان نیازی کی جانب سے بھجوایا گیا۔

    اس قانونی نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیر صحت 15 روز کے اندر اپنے الزامات واپس لیں، عمران خان سے غیرمشروط معافی مانگیں، 10 ارب بطور ہرجانہ ادا کریں جسے شوکت خانم ہسپتال میں جمع کروایا جائے گا۔

    نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔

  9. القادر ٹرسٹ سے متعلق معاملہ کابینہ میں آنے سے قبل میں میٹنگ چھوڑ کر جا چکا تھا: شیخ رشید

    تحریک انصاف کے دور حکومت میں وفاقی وزیر رہنے والے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے نیب کو آگاہ کیا ہے کہ ان کے پاس بطور گواہ القادر ٹرسٹ کیس سے متعلق نہ تو کوئی شواہد ہیں اور نہ ہی دستاویزات جو وہ تفتیش کے دوران نیب کے سامنے پیش کر سکیں۔

    یاد رہے کہ نیب ان دنوں القادر ٹرسٹ کیس کی تحقیقات کر رہا ہے اور اس سلسلے میں سابق وفاقی وزیر کو بطور گواہ آج (30 مئی) نیب کے سامنے پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

    شیخ رشید نے ٹوئٹر پر نیب کو لکھے گئے اپنے جواب کی کاپی شیئر کی ہے۔ انھوں نے اپنے جواب میں دعویٰ کیا کہ کابینہ کی 13 دسمبر 2019 کی میٹنگ میں وہ اُس وقت موجود نہیں تھے جب القادر ٹرسٹ سے متعلق آئٹم بحث کے لیے پیش کیا گیا تھا کیونکہ وہ پہلے ہی میٹنگ چھوڑ کر جا چکے تھے۔

    شیح رشید نے کہا کہ اسی لیے ان کے پاس نہ تو اس حوالے سے کوئی معلومات ہیں اور نہ ہی شواہد۔ ’اس کے علاوہ میرے مرزا شہزاد اکبر (مشیر احتساب) کے ساتھ تعلقات کشیدہ تھے اور ہماری درمیان بات چیت بھی نہیں تھی۔‘

    یاد رہے کہ کابینہ کی میٹنگ کے دوران منظوری کے لیے یہ آئٹم مرزا شہزاد اکبر نے پیش کیا تھا جو ان دنوں بیرون ملک ہیں۔

    شیخ رشید نے اپنے مختصر جواب میں مزید کہا کہ ’میرے پاس القادر ٹرسٹ کیس کے حوالے سے کوئی دستاویز یا شواہد نیب میں پیش کرنے کے لیے موجود نہیں ہیں۔‘

  10. معافی نامہ! عاصمہ شیرازی کا کالم

  11. عمران ریاض کا کوئی سراغ نہیں مل سکا، اس معاملے میں غیرملکی نمبرز استعمال ہوئے: آئی جی پنجاب

    سیکریٹری دفاع اور آئی جی پنجاب نے منگل کی صبح لاہور ہائیکورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ ٹی وی اینکر اور یو ٹیوبر عمران ریاض کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

    واضح رہے کہ عمران ریاض کو رواں ماہ 11 مئی کو سیالکوٹ کے ایئر پورٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ بیرون ملک روانہ ہونے کے لیے یہاں پہنچے تھے۔ تاہم بعدازاں پولیس نے دعویٰ کیا کہ اُن کو رہا کر دیا گیا تھا تاہم وہ کبھی گھر نہیں پہنچ سکے اور اس کے بعد سے لاپتہ ہیں۔

    آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے 16 مئی کو بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’عمران ریاض کو 11 مئی کو گرفتار کر کے جیل میں ڈالا گیا جہاں انھوں نے تحریری بیان میں اچھے رویے کی یقین دہانی کروائی جو عدالت میں بھی پیش کر دی گئی۔‘

    گرفتاری اور رہائی کے اگلے روز ان کے گھروالوں کی جانب سے ان کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ جمع کروائی گئی اور 15 مئی کو لاہور ہائی کورٹ نے عمران ریاض کی بازیابی کے لیے 48 گھنٹوں کی مہلت دی تھی۔

    منگل کے روز اس کیس کی لاہور ہائیکورٹ میں سماعت کے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ ’‏بتائیے اب تک عمران ریاض مِسنگ پرسن کیوں ہیں؟ انھوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ کیا اس ضمن میں وزارت دفاع اور وزارت داخلہ سے کوئی رپورٹ آئی ہے؟

    اس پر آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے جیو فینسنگ کی تیکنیک استعمال کی ہے مگر اب تک کوئی نمبر لوکیٹ نہیں ہو سکا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ تشویشناک بات یہ ہے کہ عمران ریاض کے معاملے میں کچھ غیرملکی نمبرز بھی استعمال ہوئے، جو نمبرز استعمال ہوئے وہ افغانستان کے ہیں اور پنجاب پولیس کے پاس افغانستان کے نمبرز ٹریس کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

    اس موقع پر سیکریٹری دفاع کے نمائندے نے بھی عدالت کو بتایا کہ ابھی تک عمران ریاض کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے دوران سماعت واضح کیا کہ انھوں نے اس کیس میں جاری کردہ اپنے آرڈر میں یہ نہیں کہا تھا کہ عمران ریاض ایجنسیوں کے پاس ہیں۔’‏ہم نے تو یہ کہا ہے کہ ایجنسیوں سے مدد لیں،‏ایجنسیوں کے علاوہ کون ڈھونڈ سکتا ہے؟‘

    یہ دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کو حکم جاری کیا کہ وہ ان سے چیمبر میں آ کر ملاقات کریں جس کے بعد ہی اس کیس میں کوئی حکم جاری کریں گے۔

    اس کیس میں گذشتہ سماعت کے دوران آئی جی پنجاب پولیس عثمان انور نے عدالت کو بتایا تھا کہ ’ہم نے تمام ایجنسیوں سے میٹنگ کی، پورے پاکستان کی پولیس سے پوچھا، کسی کے پاس عمران ریاض نہیں ہے۔‘ جبکہ عمران کے وکیل شاہزیب مسعود نے عدالتی کارروائی کے بعد میڈیا کو بتایا تھا کہ ’عدالت میں سی سی ٹی وی فوٹیج چلوائی گئی جس میں دکھایا گیا ہے ان کو زبردستی کھینچ کے گاڑی میں بٹھایا جا رہا ہے۔‘

    یاد رہے کہ عمران ریاض ماضی میں مختلف ٹی وی چینلز پر پروگرام کرتے رہے ہیں اور اپنے پروگرام کے مواد کے باعث تحریک انصاف اور فوج مخالف حلقوں میں کافی مقبول سمجھے جاتے رہے ہیں۔

  12. صحافی سمیع ابراہیم چھ روز لاپتہ رہنے کے بعد گھر واپس پہنچ گئے

    پاکستان میں نجی ٹی وی چینل ’بول‘ سے منسلک سینیئر صحافی سمیع ابراہیم چھ روز لاپتہ رہنے کے بعد اسلام آباد میں واقع اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سمیع ابراہیم فی الحال ایک مقامی نجی ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔

    سمیع ابراہیم 24 مئی کو اسلام آباد سے لاپتہ ہوئے اور ان کی اغوا کی رپورٹ ان کے بھائی کی مدعیت میں اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں جمع کروائی گئی تھی۔

    گھر واپسی کے بعد سمیع ابراہیم کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ’شکر الحمدللہ!‘ کی پوسٹ کی گئی جبکہ بول ہی سے منسلک صحافی صدیق جان نے بھی ان کی گھر واپسی کی خبر کی ٹوئٹر پر تصدیق کی ہے۔

  13. جی ایچ کیو گیٹ پر ہونے والی توڑ پھوڑ میں مبینہ طور پر ملوث آٹھ شہریوں کے مقدمات فوجی عدالت میں چلانے کی منظوری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے پاکستانی فوج کے ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں توڑ پھوڑ میں مبینہ طور پر ملوث آٹھ سویلین افراد کو ملٹری کورٹ میں ٹرائل کے لیے فوجی حکام کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

    ان افراد کے خلاف راولپنڈی کے تھانہ سول لائنز اور تھانہ آر اے بازار میں دو ایف آئی آرز درج کی گئی تھیں اور انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ابتدائی کارروائی کے بعد یہ ملزمان فی الحال راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں زیرحراست تھے۔

    یاد رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف کی پیرا ملٹری فورس یعنی پاکستان رینجرز کے ہاتھوں اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے اور ایسے ہی ایک مظاہرے کے دوران چند مشتعل افراد راولپنڈی کے علاقے صدر میں واقع پاکستانی فوج کے ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کی عمارت کی حدود میں داخل ہو گئے تھے۔

    پرتشدد احتجاج کے بعد مسلح افواج کی کور کمانڈر کانفرنس منعقد ہوئی جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ نو مئی کے احتجاج کے دوران عسکری تنصیبات اور املاک کو نقصان پہنچانے میں ملوث مظاہرین کے خلاف آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ بعض حلقے عام شہریوں یعنی سویلینز کے خلاف آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ جیسے سخت قوانین کے تحت کارروائی کی مذمت کر رہے ہیں اور وہ اسے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔

    پیر کے روز راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ہونے والی کارروائی کے دوران فوج کے کمانڈنگ افسران فرحان نذیر قریشی اور محمد یاسر نواز چیمہ کی جانب سے اپنے وکلا کے ذریعے عدالت کو آگاہ کیا کہ اڈیالہ جیل میں زیرحراست یہ آٹھ ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1952 کی دفعات 3، 7 اور 9 کے تحت مجرم قرار پائے گئے ہیں اسی لیے ان کی کسٹڈی (حوالگی) فوجی حکام کو دی جائے تاکہ مزید کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

    اس موقع پر عدالت میں موجود ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر جنرل ملک رفاقت علی نے فوجی حکام کی اس درخواست پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا جس کے بعد عدالت نے ان ملزمان کو فوجی حکام کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی۔

    یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے (25 مئی) تحریک انصاف کے ایک سابقہ ایم پی اے سمیت 16 افراد کو ملٹری کورٹ میں ٹرائل کے لیے فوجی حکام کے حوالے کیا گیا تھا۔ ان افراد پر الزام ہے کہ یہ لاہور کے کور کمانڈر ہاؤس میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث تھے۔ جبکہ اس سے قبل صوبہ خیبرپختونخوا میں قومی ہیروز کے مجسموں کی بے حرمتی کے الزام میں چھ ملزمان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمات چلانے کی درخواست کی منظوری دی گئی تھی۔

    آرمی ایکٹ کیا ہے اور اس کے تحت عام شہریوں کے خلاف کارروائی کیسے کی جاتی ہے؟

    پاکستان آرمی ایکٹ 1952 میں ان جرائم کا حوالہ دیا گیا ہے جن کا ٹرائل اس ایکٹ کے تحت اس صورت میں ہوتا ہے جب ان جرائم کا ارتکاب فوجی اہلکار کریں۔ تاہم اسی ایکٹ کے اطلاق کے حوالے سے کچھ شقوں میں یہ قانون بعض صورتوں میں عام شہریوں پر بھی نافذ ہوتا ہے۔ فوجی ایکٹ کے تحت کارروائی کی صورت میں ملزم کے خلاف ہونے والی عدالتی کارروائی کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کہا جاتا ہے اور یہ فوجی عدالت جی ایچ کیو ایجوٹنٹ جنرل (جیگ) برانچ کے زیر نگرانی کام کرتی ہے۔

    اس عدالت کا صدر ایک حاضر سروس فوجی افسر(عموماً لفٹیننٹ کرنل رینک) ہوتا ہے، استغاثہ کے وکیل بھی فوجی افسر ہوتے ہیں۔ یہاں ملزمان کو وکیل رکھنے کا حق دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی ملزم پرائیویٹ وکیل رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو فوجی افسر ان کی وکالت کرتے ہیں، انھیں ’فرینڈ آف دی ایکیوزڈ‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں ہونے والی کارروائی کے بعد ملزم اپیل کا حق رکھتا ہے۔

    سنہ 2015 میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے بعد ایوان بالا یعنی سینیٹ نے21 ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم کی متفقہ منظوری دی تھی۔

    15 مئی کو بی بی سی کی منزہ انوار سے بات کرتے ہوئے ماضی میں فوج کی جیگ برانچ سے منسلک رہنے والے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا کہنا تھا کہ آرمی ایکٹ کے سیکشن ٹو ون ڈی میں دو ایسی شقیں موجود ہیں جن کے تحت عام شہریوں پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے جن میں پہلی، جاسوسی یا عسکری راز فراہم کرنا اور دوسری فوجیوں کو حکم نہ ماننے پر اکسانا یا پھر فوج کے ادارے کے خلاف اکسانا شامل ہے۔

    آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی کے تحت کسی بھی سویلین کا معاملہ 31 ڈی میں لا کر اس کا کورٹ مارشل کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے پہلے اس سویلین کے خلاف کسی تھانے میں مقدمہ کے اندارج اور مجسٹریٹ کی اجازت ضروری ہے۔

    کرنل (ر) انعام کا کہنا ہے اس حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ اگر ملک میں جوڈیشل سسٹم چل رہا ہو تو سویلینز کے مقدمات کو سول کورٹ میں بھیجے جانے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

  14. عمران خان کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی خارج از امکان نہیں ہے: خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمران خان کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی خارج از امکان نہیں ہے۔

    نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے نو مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواجہ آصف نے بتایا کہ ’آج عمران خان مذاکرات کی پیش کر رہے ہیں جب کہ ماضی میں وہ ہم سے بات تک کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، وہ اسمبلی میں بھی نہیں آتے تھے، جہاں مشترکہ اجلاس میں اہم بریفنگز ہوتی تھیں، وہ وہاں بھی نہیں آتے تھے، جب ہم اپوزیشن میں تھے تو انھوں نے ہمارا مکمل بائیکاٹ کیا ہوا تھا۔‘

    وزیردفاع نے کہا کہ ہمارا اس وقت رویہ جمہوری تھا، شہباز شریف سمیت ہم نے انھیں مذاکرات اور بات چیت کی پیش کی تھی۔ وزیردفاع کے مطابق میثاق معیشت کرنے کی پیش کش کی تھی، معیشت ایک ایسا موضوع ہے جو مشترکہ تھا، انھوں نے ہماری تجاویز کو حقارت کے ساتھ ہمارا ہاتھ جھٹک دیا۔

    وزیر دفاع نے کہا کہ گذشتہ تین چار روز قبل تک بھی عمران خان یہ بیانات دیتے رہے ہیں کہ میں اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کو تیار ہوں، میں وضاحت دینے کو تیار ہوں، میں ان کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہوں، رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، جواب نہیں آرہا، گذشتہ دو، تین روز میں انھوں نے اپنا یہ مؤقف تبدیل کیا ہے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ یہ حکومت کا فیصلہ ہے کہ اب جو کچھ عسکری تنصیبات اور شہدا کی یادگاروں کے ساتھ ہوا ہے اس پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق سیاسی کارکنان پر برا وقت بھی آتا ہے اور وہ اس وقت تشدد کا رستہ یا دوڑ نہیں لگاتا بلکہ وہ یہ سب ایک خاص طرح سے سامنا کرتا ہے۔

  15. بریکنگ, کور کمانڈر ہاؤس تحقیقات: جے آئی ٹی نے عمران خان کو تفتیش کے لیے کل طلب کر لیا

    نو مئی واقعات کی تحقیقات کے لیےپنجاب حکومت کی قائم کردہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے اس دن کور کمانڈر ہاؤسں(جناح ہاؤس) اور عسکری ٹاور میں جلاؤ گھیراؤ کے معاملے پر سابق وزیراعظم عمران خان کو طلب کر لیا۔

    پولیس کے مطابق ڈی آئی جی کامران عادل کی سربراہی میں بننے والی جے آئی ٹی نے عمران خان کو کل 4 بجے طلب کیا گیا ہے۔

    عمران خان کو انویسٹی گیشن ہیڈکوارٹرز قلعہ گجر سنگھ میں طلب کیا گیا ہے جہاں جے آئی ٹی ان سے 9 مئی کے واقعات کے بارے میں تفتیش کرے گی۔

    پولیس حکام کے مطابق 9 مئی کے واقعات پر پنجاب حکومت نے 10 مختلف جے آئی ٹیز بنا رکھی ہیں۔

  16. بریکنگ, عوام اور فوج کے رشتے کو کمزور کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے: آرمی چیف

    پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے پیر کے روز کوئٹہ گریژن کے دورے پر خطاب کے دوران کہا ہے کہ عوام نے فوج سے محبت کے حالیہ اظہار سے دشمن کے مذموم عزائم کا منھ توڑ جواب دیا۔

    پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کوئٹہ گیریژن کا دورہ کے دوران کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کے افسران سے خطاب کیا اور روایتی، غیر روایتی اور ففتھ جنریشن وارفیئر کے لیے آپریشنل تیاریوں پر زور دیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ عوام اور فوج کے رشتے کو کمزور کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، پاکستان کی فوج ہمیشہ پاکستان کے بہادر اور قابل فخر لوگوں کی مقروض ہے۔

    جنرل عاصم منیر کا کہنا تھاکہ اندرونی عناصر اور بیرونی قوتوں کے درمیان گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے، اندرونی اور بیرونی عناصر کا گٹھ جوڑ عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے تھا، پاکستان کی فوج دنیا کی مضبوط ترین افواج میں سے ایک ہے۔

  17. بریکنگ, عمران نیازی کی معیشت کے بارے میں سمجھ کافی محدود ہے: وزیر اعظم شہباز شریف

    وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے ’ایسا لگتا ہے کہ عمران نیازی کی معیشت اور اس کے کام کرنے کے وسیع نظام کے بارے میں سمجھ کافی محدود ہے۔‘

    ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی سربراہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے لکھا کہ ’وہ باآسانی ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز کو مزید سنگین کرنے میں اپنا کردار بھول گئے ہیں۔ آئی ایم ایف معاہدے کو ختم کرنے سے لے کر، انھوں نے ہمیشہ پاکستان کو ڈیفالٹ کرنے کی خواہش کی ہے۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’یہ ان کی مسلسل ایجی ٹیشن، لانگ مارچ اور دھرنے کی سیاست کے منفی اثرات کے علاوہ ہے جو سیاسی عدم استحکام کے باعث معیشت پر پڑے ہیں۔ حتی کہ پاکستانی سرمایہ کار بھی عمران نیازی کی طرف سے جان بوجھ کر بنائے گئے ایسے غیر مستحکم ماحول میں اپنا سرمایہ لگانے سے کترائیں گے۔

    صرف 9 مئی کے خوفناک واقعات نے معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا اور یہ ان کے مذموم عزائم کی ناقابل تردید تائید ہے۔ اس میں کرپشن کے ان کیسز کا ذکر نہیں ہے جن میں وہ ملوث ہے۔‘

    وزیر اعظم شہباز شریف نے ملکی معیشت کو درپیش مسائل کا اعتراف کرتے ہوئے مزید لکھا ’جی ہاں ہمیں معاشی چیلنجز کا سامنا ہے لیکن ہم مشکل ترین وقت گزار چکے ہیں۔ اقتصادی طور پر ملک کو مضبوط بنانے اور بروقت پالیسی مداخلتوں کے ذریعے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مخلصانہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔

    ہم پاکستان کے دوستوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر جہاں ضرورت ہے وہاں مالیاتی خلا کو ختم کرنے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ ہمارے لیے اصل چیلنج درآمدات پر انحصار کم کرنا اور مہنگائی کو کم کرنا ہے، جو اس وقت ممکن ہے جب ہم برآمدات، سرمایہ کاری اور پیداوار کو معیشت کا انجن بنائیں۔ اور اس جانب ہم کوشش کر رہے ہیں۔ ‘

  18. سپریم کورٹ نظر ثانی ایکٹ کیا ہے اور کیا اس سے نواز شریف یا جہانگیر ترین کو فائدہ ہو سکتا ہے؟

  19. بریکنگ, ووٹ صرف عمران خان کا ہے کوئی ہو یا نا ہو کوئی فرق نہیں پڑتا، اسد عمر

    پی ٹی آئی کے رکن اور سابق رکن کور کمیٹی اسد عمر کا کہنا ہے کہ ووٹ صرف عمران خان کا ہے کوئی ہو یا نا ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

    پیر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ انھوں نے پارٹی عہدوں سے استعفیٰ دیا ہے پارٹی نہیں چھوڑی۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے پارٹی سے ایسی کنارہ کشی کی ہے کہ صبح سے تیسری عدالت میں پیش ہو رہا ہوں۔

    لاہور کے دورے میں عمران خان سے ملاقات کے امکان کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جی شاید ممکن ہے کہ ان سے ملاقات ہو جائے۔ پی ٹی آئی کے پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچنے سے متعلق سوال کو ٹالتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس پر کسی دن آرام سے تفصیلی بات کرینگے۔

    پریس کانفرنس کرنے والوں پر دباؤ سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ سوال آپ پریس کانفرنسز میں یہ بات کہنے والوں سے کریں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے کوئی ایک جیسی بات نہیں کی لہذا آپ میرے حوالے سے ایسی بات نہیں کر سکتے میری پریس کانفرنس مختلف تھی۔

    انھوں نے کہا کہ ذوالفقار بھٹو پر جب مشکل وقت آیا تھا تب باقی لیڈر کہاں گئے تھے، پیپلز پارٹی میں کوئی نہیں بچا تھا۔ اسی طرح مسلم لیگ ق نے جب 2002 میں حکومت بنائی تھی اس میں تمام مسلم لیگ ن کے لوگ تھے۔

    انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آپ جتنی بار مرضی پوچھیں میں پارٹی میں ہی ہوں، جلسوں اور ٹی وی پروگرام میں فیصلہ نہیں ہونا چاہیے کہ کس سیاستدان نے صحیح کیا یا غلط۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ جو سیاسی مخالف ہے اسے انتقام کا نشانہ بنانا چاہیے۔

    اسد عمر نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم نے جمہوریت مل کر چلانی ہے اس لیے جو مرضی پیسہ کھائے اسے کچھ نہیں کہا جائے۔ ملک میں قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے جو قانون توڑتا ہے اسے سزا ہونی چاہیے۔

  20. بریکنگ, ڈالر کی قیمت میں اضافے کا سلسلہ جاری ، اوپن مارکیٹ میں ایک روپے مزید بڑھ گیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں ہونے والا اضافہ سوموار کے روز بھی جاری رہا جب ایک ڈالر کی قیمت اوپن مارکیٹ میں ایک روپے مزید بڑھ گئی۔

    کرنسی مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر ایک ڈالر کی قیمت ایک روپے اضافے کے بعد 311 روپے کی سطح پر بند ہوئی جو گزشتہ کاروباری روز 310 روپے پر بند ہوئی تھی

    انٹر بینک میں بھی ڈالر کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ انٹر بینک میں 26 پیسے کے بعد ڈالر کی قیمت 285.41 روپے پر بند ہوئی