ضلع کرم میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں اساتذہ سمیت کم از کم آٹھ افراد ہلاک

پولیس ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع اپر کرم میں نامعلوم افراد کی جانب سے چلتی گاڑی پر فائرنگ سے ایک شخص کی ہلاکت کے بعد مسلح افراد نے ایک ہائی سکول میں گھس کر اساتذہ سمیت کم از کم سات افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق طوری بنگش قبائل سے تعلق رکھنے والے اساتذہ سکول میں امتحانی ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے۔

لائیو کوریج

  1. پرویز الٰہی کے خلاف اینٹی کرپشن کیس میں زیرِ حراست ایک ملزم فرار

    سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے خلاف اینٹی کرپشن کے مقدمے میں زیرِ حراست ایک ملزم فرار ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مقدمے میں زیرِ حراست ملزم سہیل اصغر تھانہ اینٹی کرپشن کی حراست سے فرار ہوئے۔

    اینٹی کرپشن حکام کے مطابق نامعلوم مسلح ملزمان نے سرکاری گاڑی کو راستے میں زبردستی روکا اور ملزم کو زبردستی چھڑا کر فرار ہوگئے۔

    اس حوالے سے درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ’ملزم نے طبعیت خراب ہونے پر شور مچایا تو اینٹی کرپشن حکام تھانے سے سول ہسپتال منتقل کرنے لے گئے تھے۔‘

  2. توشہ خانہ کیس پانچ مئی تک ملتوی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور ہوئی ہے۔

    ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں عمران خان کے وکلا نے پانچ مئی تک کیس ملتوی کرنے کی استدعا کی۔

    عدالت نے عمران خان کی حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کی جبکہ ان کے وکیل خواجہ حارث کی عدم موجودگی کے باعث سماعت پانچ مئی تک ملتوی کر دی گئی۔

    عدالت نے ہدایت دی کہ آئندہ سماعت پر درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل دیں۔

  3. الیکشن کی تاریخ کا تعین پیچیدہ عمل ہے، ملک کو بجٹ اور آئی ایم ایف کی نظرثانی درکار ہے: اسحاق ڈار

    اسحاق ڈار

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت کا پی ٹی آئی کے ساتھ اس بات پر اتفاق ہوچکا ہے کہ پورے ملک میں ایک دن الیکشن ہوں گے اور وہ بھی نگران حکومت کے ساتھ۔

    انھوں نے گذشتہ رات مزید کہا کہ ’مگر مرکزی نقطہ یہ ہے کہ الیکشن کب ہوں گے۔ دونوں فریقین کی اپنی اپنی تاریخیں ہیں، لچک آئی ہے مگر ایک پوائنٹ پر نہیں پہنچے۔ میں سمجھتا ہوں یہ بڑی پیشرفت ہے۔‘

    انھوں نے حکومت کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک کو بجٹ اور آئی ایم ایف کی نظرثانی درکار ہے۔ تاریخ کا تعین پیچیدہ عمل ہے۔ ہم جتنی لچک دکھا سکتے ہیں، دکھا رہے ہیں۔ دونوں فریقین ایسے ہی ساتھ چلیں گی تو تیسرا مرحلہ بھی حل ہوگا۔‘

    ادھر تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اسمبلی کی تحلیل اور الیکشن کی تاریخ پر اتفاق نہیں ہوسکا ’مگر ہم قریب آئے ہیں۔‘

    انھوں نے یہاں تک کہا کہ آئینی کور کے لیے ان کی جماعت قومی اسمبلی جانے کو تیار ہے۔ تاہم انھوں نے مذاکرات کے ساتھ گرفتاریوں اور وفاقی وزرا کے بیانات پر تنقید کی۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پنجاب کے الیکشن 14 مئی کو ہونے ہیں اور چونکہ مذاکرت میں پیشرفت نہیں ہوسکی، لہذا تحریک انصاف مذاکرات کا معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے رکھے گی۔

  4. صدر عارف علوی کو حکومت، پی ٹی آئی مذاکرات کی کامیابی کی امید

    صدر عارف علوی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صدر مملکت عارف علوی نے حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات کی کامیابی کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’الیکشن تو بہر حال ہونے ہی ہیں۔‘

    منگل کو ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ آئین سے کسی صورت انحراف نہیں ہونا چاہیے۔ ’یہ کہا جا رہا ہے کہ الیکشن کے لیے پیسے نہیں لیکن ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ملک کے اندر حالات خراب نہیں اور نہ ہی جنگ ہورہی ہے کہ الیکشن نہ ہو سکیں، اس حوالے سے کوئی جواز قبول نہیں کیا جاسکتا۔

    انھوں نے کہا کہ امریکہ میں خانہ جنگی کے دوران بھی وقت پر انتخابات کرائے گئے۔ ’یہ طرز عمل جمہوری اقدار کو مزید تقویت دیتا ہے۔ جمہوریت تب مضبوط ہو گی جب اصولوں پر کاربند رہا جائے۔‘

    عارف علوی نے کہا کہ وہ پچھلے 15 سال سے شفاف انتخابات کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین متعارف کرانے کی حمایت کر رہے ہیں لیکن اس ضمن میں متعلقہ فورم کی جانب سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا، اسی وجہ سے ہر الیکشن کے بعد دھاندلی کی آوازیں اٹھتی ہیں۔

  5. بریکنگ, حکومت سے اسمبلیوں کی تحلیل اور الیکشن کی تاریخ پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے: شاہ محمود قریشی

    شاہ محمود قریشی

    حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان انتخابات سے متعلق مذاکرات کے تیسرے اجلاس کے بعد تحریک انصاف کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی نے اپنی جماعت کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلیوں کی تحلیل اور ملک میں انتخابات کی تاریخ سے متعلق مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

    ان کے مطابق ہم ان مذاکرات میں اس نتیجے پرپہنچے ہیں کہ قومی، سندھ اور بلوچستان کی اسمبلیاں 14 مئی سے پہلے تحلیل کر دی جائیں اور پھر اس کے بعد 60 دن کے اندر ملک میں ایک ساتھ انتخابات کا انعقاد کیا جائے۔

    مذاکرات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 90 دن کی آئینی مدت کے بعد انتخابات کے لیے ایک وقت کے لیے آئینی ترمیم متعارف کی جائے اور اس کے لیے تحریک انصاف قومی اسمبلی واپس چلی جائے۔

    شاہ محمود قریشی کے مطابق انھوں نے یہ بھی تجویز دی کہ یہ معاہدہ تحریری ہو تا کہ اسے سپریم کورٹ کے سامنے رکھا جائے اور پھراس کی منظوری لی جا سکے۔

    شاہ محمود قریشی کے مطابق ہم نے ان مذاکرات میں خاصی لچک دکھائی ہے۔

    ان کے مطابق وہ اب مذاکرات کی ناکامی کی تفصیلات سپریم کورٹ کے سامنے پیش کرے گی اور عدالت سے یہ استدعا کریں گے کہ پنجاب میں 14 مئی اور خیبرپختونخوا میں بھی جلد سے جلد الیکشن ہوں۔

    ملک میں ایک دن الیکشن ہونے پر اتفاق ہونا بڑی کامیابی ہے: اسحاق ڈار

    مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اسحاق ڈار نے کہا کہ اتفاق ہوچکا ہے کہ الیکشن ایک ہی دن ہونے میں بہتری ہے، نگران حکومت کی موجودگی میں ملک میں الیکشن ہوں گے، ملک میں ایک دن الیکشن ہونے پر اتفاق ہونا بڑی کامیابی ہے۔ ان کے مطابق امید ہے کہ دونوں فریق خلوص کے ساتھ چلیں گی تو تیسرا مرحلہ بھی طے ہوجائے گا، الیکشن کی تاریخ پر دونوں فریقین کے اپنے اپنے مؤقف ہیں، الیکشن کی تاریخ پر ابھی اتفاق رائے نہیں ہوا، ہم نے کہا ہے کہ جو بھی الیکشن جیتے گا نتائج تسلیم کیے جائیں گے۔

  6. ترجمان الیکشن کمیشن کی طرف سے فواد چوہدری کے الزامات کی تردید

    الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ چوہدری فواد کے چیف الیکشن کمشنر پر لگائے گئے تمام الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں۔

    ایک بیان میں الیکنش کمیشن کا کہنا ہے کہ ’جھوٹے الزام لگانے والوں کو اپنے ماضی پر نظر رکھنی چاہیے۔ اس غلط فہمی کو بھی دور کر لینا چاہیے کہ ان اوچھے ہتھکنڈوں سے الیکشن کمیشن کسی قسم کے دباؤ میں آئے گا۔‘

    بیان کے مطابق ’الیکشن کمیشن میں تمام بھرتیاں شفاف طریقے سے کی گئی ہیں۔ کمیشن کے کسی بھی بڑے عہدیدار کے رشتہ دار کو بھرتی نہیں کیا گیا۔‘

    بیان میں وضاحت کی گئی ’الیکشن کمیشن میں ٹیکنیکل پوسٹوں پر بھرتیاں قواعد و ضوابط کے تحت کی گئی ہیں۔ ری ایمپلائمنٹ کے علاوہ جہاں پر بھی اشتہار کی ضرورت تھی اس کے بغیر کوئی بھرتی نہیں کی گئی۔ الیکشن کمیشن نے اپنے دفاتر کے لیے کوئی بھی نجی اراضی نہیں خریدی۔‘

    ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق الیکشن کمیشن کے تمام دفاتر سرکاری زمین پر بنائے گئے ہیں۔ ’سرگودھا کا دفتر پنجاب حکومت کی زمین پر بنایا جا رہا ہے جو کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں الیکشن کمیشن کو دی گئی تھی۔ جو بھی زمین دفاتر کے لیے حاصل کی گئی ہے وہ پنجاب حکومت سے سرکاری نرخوں پر پی ٹی آئی کی حکومت میں حاصل کی گئی۔ زمین کی قیمت وفاقی حکومت کے خزانے سے پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں پنجاب حکومت کو منتقل کی گئی۔ ‘

  7. بریکنگ, جج اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں اور اپنے پُرکھوں کا حساب دیں: خواجہ آصف

    خواجہ آصف

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جج اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں اور اپنی تاریخ کا حساب دیں۔

    ان کا خطاب میں کہنا تھا ’جن لوگوں نے آئین بنانے کی طاقت ایک وردی والے شخص کے سپرد کی اور اسے آئینی ترمیم کا بھی اختیار دیا۔ جنرل مشرف کو، ان کا کوئی احتساب ہوگا۔ ‘

    انھوں نے فوجی آمروں کی جانب سے آئین معطل کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’جمہوریت کا بار بار خون ہوا۔کیا ان عدالتی کارروائیوں کی پروسیڈنگ منگوائی جائیں گی؟ سپریم کورٹ اپنا ماضی صاف کرنے کے لیے کیا کرے گی؟ ‘

    خواجہ آصف کا کہنا تھا ’ہم لوگ اپنے جرائم کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن متحارب تھے، بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے چارٹرڈ آف ڈیموکریسی سائن کیا۔ اس کے بعد دو اسمبلیوں نے مدت پوری کی‘۔

    ان کا کہنا تھا ’یہ مقتدر ادارہ آئین کا محافظ ہے۔ آئین سے ماورا کوئی چیز نہیں ہوگی۔‘

    انھوں نے کہا اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تاریخ کا حساب دیا جائے۔ ’ہم ہر پانچ سال بعد عوام کو حساب دیتے ہیں۔ ہماری تنخواہ ایک لاکھ 68 ہزار ہے۔ ان سے پوچھیں ان کی کیا تنخواہ ہے۔‘

    انھوں نے کہا ’ایک سپیشل کمٹی بنائی جائے۔ جو آئین کی پامالی کا حساب لے۔ ہم اپنے پُرکھوں کا حساب دے رہے ہیں یہ اپنے پُرکھوں کا حساب دیں۔‘ انھوں نے ججوں سے کہا ’اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں۔‘

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’جو لوگ اس دنیا میں نہیں ان پر بھی مقدمہ چلایا جائے۔ جو زندہ ہیں انھیں بھی بلائیں۔ آئین شکنی کرنے والوں کو بلائیں۔ پارلیمنٹ ہتھیار نہیں ڈالے گئی۔ پارلیمنٹ وزیر اعظم کو بلی نہیں چڑھائے گی۔‘

    انھوں نے زور دے کر کہا کہ ’کمیٹی بنائیں اور ججوں پر مقدمے ہوں چاہے وہ زندہ ہیں یا مر گئے۔ تاکہ نئی نسل کو پتا چلے کہ ان کی کیا اوقات ہے۔ ‘

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’1947 سے لے کر اب تک انھوں نے کیا کیا گُل کھلائے ہیں۔ جتنے حملے اِنھوں نے کیے ہیں پارلیمنٹ نے نہیں کیے۔ ‘

    انھوں نے کہا ’اپنی ماضی کی غلطیوں پر ہم سب سے معافی مانگتے ہیں انھیں بھی معافی مانگنے دیں۔

  8. جج بلیک میلنگ میں آئے بغیر آزاد فیصلے کریں،عمل درآمد پاکستان کے لوگوں کا کام ہے: فواد چوہدری

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایک سسٹمیٹک طریقے سے عدالتی نظام کو غیر فعال کیا جا رہا ہے۔

    ایک نیوز کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ’کل مریم نواز نے اپنی تقریر میں چیف جسٹس کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا۔ 16 میں سے آٹھ ججز ن لیگ کے نشانے پر ہیں۔ ‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ن لیگ ان ججوں کو ٹارگٹ کر رہی ہے اور اس کی وجہ الیکشن نہیں، اور نہ ان ججوں کی ذات سے کوئی ایشو ہے۔ یہ سب ایک مقصد کے تحت ہو رہا ہے وہ یہ کہ چیف جسٹس اور اعجاز الاحسن کا تین رکنی بیچ جو نیب کے کیس کی سماعت کر رہا ہے وہ ڈسمس ہو جائے۔ ‘

    ’نواز اور زرداری فیملینز کی گردنیں اس کیس میں پھنسی ہوئی ہیں اگر سپریم کورٹ نے نیب ترمیم کو کالعدم قرار دے دیا اور مقدمے بحال ہو گئے تو ان کا رجیم چینج کا مقصد ختم ہو جائے گا۔ ‘

    فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ایک خاص انداز میں آڈیو لیکس کی جا رہی ہے اور مریم نواز نے آن ریکارڈ کا کہ ان کے پاس ویڈیو بھی ہیں۔ ’تو ہمیں ان کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔ ‘

    انھوں نے ججز سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’پورا پاکستان ان کے پیچھے کھڑا ہے بلیک میلنگ میں آئے بغیر آزاد فیصلے کریں۔ آئین اور قانون پر فیصلہ دیں۔ عمل درآمد پاکستان کے لوگوں کا کام ہے۔ ‘

    فواد چودری نے کہا کہ ’موجودہ چیف الیکشن کمشنر نے اپنے اقدامات سے اس عہدے کی عزت میں کمی کی ہے۔ ایک کروڑ اوور سیز پاکستانی ووٹ کے حق سے محروم ہے صرف الیکشن کمشنر کے رویے کے وجہ سے ہے۔ ‘

  9. بریکنگ, پاکستان میں اپریل میں مہنگائی کی شرح 36.4 فیصد کی بلند سطح پر پہنچ گئی, تنویر ملک ، صحافی

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں موجودہ مالی سال میں اپریل کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 36.4 فیصد کی بلند سطح پر پہنچ گئی جو گذشتہ مالی سال کے اسی مہینے میں 13.4 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

    ادارہ شماریات کے مطابق اپریل میں مہنگائی کی بلند شرح کی وجہ غذائی اشیا کی قیمتوں میں ہونے والا بڑا اضافہ بنا جو 49.5 فیصد کی شرح سے بڑھیں۔

    اپریل 2022 میں غذائی اشیا کی قیمتوں میں 16.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا موجودہ مالی سال کے پہلے دس مہینوں میں مہنگائی کی اوسط شرح 28.2 فیصد رہی جو گذشتہ مالی سال کے ان مہینوں میں گیارہ فیصد تھی۔

  10. اوگرا نے یکم مئی سے پیٹرول کی قیمت میں کمی کی سفارش نہیں کی: اسحاق ڈار

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اوگرا کی جانب سے یکم مئی سے پیٹرول کی قیمت میں کمی کی سفارش نہیں کی گئی تھی۔

    ایک پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ ’پریس اور الیکٹرانک میڈیا میں کچھ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ اوگرا نے حکومت کو موٹر سپرٹ/پیٹرول کی قیمتوں میں یکم مئی 2023 سے کمی کی سفارش کی جو کہ بے بنیاد اور جھوٹی ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کا شیڈول تبدیل

    قومی اسمبلی سکریٹریٹ کے مطابق پارلیمان کا مشترکہ اجلاس 15 مئی کو سہ پہر 4 بجے کے بجائے مورخہ 4 مئی 2023 کو دن 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو گا۔

  12. لاہور ہائیکورٹ نے پرویز الہی کی حفاظتی ضمانت 15 مئی تک منظور کر لی

    پرویز الہی

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی کی حفاظتی ضمانت 15 مئی تک منظور کی ہے۔

    جسٹس اسجد جاوید گھرال کی عدالت نے پرویز الہی کو متعلقہ عدالت سے بھی رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    پرویز الہی کے وکیل کا کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن کے مقدمے میں حفاظتی ضمانت ہائیکورٹ سے منظور ہوگئی ہے۔ ’روزانہ کی بنیاد پر مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔‘

  13. لاہور ہائیکورٹ کا عمران خان کو تمام مقدمات میں شامل تفتیش ہونے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو تمام مقدمات میں شامل تفتیش ہونے کا حکم دے دیا۔

    عدالت کے پانچ رکنی بینچ نے حکم میں کہا کہ عمران خان جمعے کو دو بجے پولیس تفتیش میں شامل ہوں اور پنجاب حکومت تفتیش مکمل کر کے 8 مئی تک مکمل رپورٹ عدالت میں جمع کرائے۔

    عمران خان کے وکیل نے کہا ہے کہ ’ہم جمعے کو شامل تفتیش ہو جائیں گے۔‘

    سماعت کے دوران عمران خان کے خود عدالت کو بتایا کہ ’انھوں نے وزیر آباد میں قتل کرنے کی کوشش کی۔ اس کی معلومات مجھے پہلے سے تھی۔ پھر اسلام آباد میں مجھے مارنے کی کوشش کی۔ آئی ایس آئی نے رات کو بلڈنگ کو کوور کیا ہوا تھا۔ وہ سی ٹی ڈی کے کپڑوں میں تھے۔ انھوں نے مجھے تیسری بار قتل کی کوشش کرنی ہے۔

    ’مجھے کوئی سکیورٹی نہیں ملی۔ میں کیسز سے بھاگ نہیں رہا لیکن ایکسپوژر کم کونا چاہیے۔‘

    پنجاب حکومت کے وکیل نے دلائل دیے تھے کہ ’عمران خان ایک بھی کیس میں شامل تفتیش نہیں ہوئے‘ جس پر جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ ’ہم آپ کو وقت دیتے ہیں، آپ تمام کیسز میں شامل تفتیش ہو جائیں۔‘

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیے کہ ’تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہونا ضروری ہے۔‘

    سماعت پیر تک ملتوی کی گئی ہے۔

  14. ’فل کورٹ بنانے کا اختیار چیف جسٹس کا ہے،‘ عدالتی اصلاحات کے خلاف حکم امتناع واپس لینے کی استدعا مسترد, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سپریم کورٹ

    عدالت عظمیٰ نے عدالتی اصلاحات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ رولز اینڈ پروسیجر بل پر ہونے والی پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ طلب کیا ہے جبکہ اٹارنی جنرل کی جانب سے حکم امتناع واپس لینے کی استدعا مسترد کی گئی ہے۔

    کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’سپریم کورٹ کے ججز کا فیصلہ عدالت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ہر ادارہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کا پابند ہے۔‘

    انھوں نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ ’سات سینیئر ججز اور فل کورٹ بنانا چیف جسٹس کا اختیار ہے۔‘

    عدالتی اصلاحات کے معاملے پر سپریم کورٹ نے تمام فریقین سے تحریری جواب مانگا ہے اور سماعت 8 مئی تک ملتوی کی ہے۔

    سیاسی فریقین انصاف نہیں فائدے چاہتے ہیں: چیف جسٹس

    سماعت کے آغاز پر درخواست گزار طارق رحیم نے دلائل دیے کہ عدالتی اصلاحات بل قانون کا حصہ بن چکا ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’گذشتہ حکمنامہ عبوری نوعیت کا تھا۔ جمہوریت آئین کے اہم خد و خال میں سے ہے۔ ‘

    ’آزاد عدلیہ اور وفاق بھی آئین کے اہم خد و خال میں سے ہیں۔ دیکھنا ہے کہ عدلیہ کا جزو تبدیل ہوسکتا ہے؟ عدلیہ کی آزادی بنیادی حق ہے۔ عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے یہ مقدمہ منفرد نوعیت کا ہے۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’مقدمے پر فریقین سے سنجیدہ بحث کی توقع ہے۔ لارجر بینج کو بہترین معاونت فراہم کرنی ہو گی۔‘

    سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحات کے معاملے پر تمام فریقین سے تحریری جواب مانگ لیا ہے۔ جبکہ سپریم کورٹ رولز اینڈ پروسیجر بل پر پارلیمانی کاررواٸی کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔

    اس سلسلے میں عدالت نے قاٸمہ کمیٹی میں ہونے والی بحث کا ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’الزام ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ آئین کے بنیادی جزو کی قانون سازی کے ذریعے خلاف ورزی کی گئی۔‘

    سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں اور وکلا تنظیموں سے 8 مئی تک جواب طلب کیا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’پاکستان بار نے ہمیشہ آئین اور عدلیہ کے لیے لڑائی لڑی ہے۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پاکستان میں سیاست نے تمام عدالتی کارروائی کو آلودہ کر دیا ہے کہ سیاسی فریقین انصاف نہیں فائدے چاہتے ہیں۔

    انھوں نے ریمارکس دیے کہ سیاسی لوگ انصاف نہیں من پسند فیصلے چاہتے ہیں اور سیاسی جماعتیں من پسند فیصلوں کے لیے ’پِک اینڈ چوز‘ چاہتی ہیں۔

    ’بینچ کی تعداد کم بھی کی جا سکتی ہے‘

    سینیئر ججز سے متعلق بار کونسل کے دلائل پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’یہاں پر جتنے بھی ججز ہیں، ان کی اپنی سوچ ہے اور کسی طور پر بھی ان کی سوچ پر اس بنیاد پر قدغن نہیں لگائی جاسکتی ہے کہ وہ درخواست گزار کے خلاف فیصلہ دیں گے۔‘

    پاکستان بار کونسل کی جانب سے حسن رضا پاشا نے دلائل میں کہا ’آپ شاید غصہ کر گئے، ہم چاہتے ہیں کہ آئینی معاملے میں روایت یہی رہی ہے کہ سپریم کورٹ کے سینیئر ججز کو بٹھایا جاتا ہے کیونکہ ان کی سوچ جونیئر ججز سے بہتر ہوتی ہے۔‘

    چیف جسٹس نے جواباً ریمارکس دیے کہ ’بینچوں کی تشکیل کا اختیار چیف جسٹس کے پاس ہے۔‘

    حسن رضا پاشا نے مطالبہ کیا ہے کہ چاروں صوبوں کی بار کونسلز کو بھی فریق بنایا جائے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’یہ پہلا قانون منظور ہوا ہے جس پر سپریم کورٹ پر تحفظات ظاہر کیے گئے۔ یہ پہلی دفعہ ہے کہ مقننہ نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔ آئین میں سپریم کورٹ سے متعلق قانون سازی کے حوالے سے حدود و قیود موجود ہیں، ہم نے انھیں بھی دیکھنا ہے۔‘

    حسن رضا پاشا نے کہا کہ ’مناسب ہوگا اگر اس مقدمے میں فل کورٹ تشکیل دیا جائے، پاکستان بار کونسل بینچ میں سات سینیئر ترین ججز شامل ہوں تو کوئی اعتراض نہیں کرسکے گا، بینچ کے ایک رکن کے خلاف چھ ریفرنس دائر کیے ہوئے ہیں۔‘ بار کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو بینچ سے الگ کرنے کی استدعا کی ہے۔

    دریں اثنا عدالت نے اٹارنی جنرل کی حکم امتناع واپس لینے کی استدعا مسترد کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’پہلے سمجھا تو دیں کہ قانون کیا ہے اور کیوں بنا؟‘

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’عدالت بینچ بڑھانے پر غور کرے‘ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’بینچ کی تعداد کم بھی کی جا سکتی ہے۔‘ فل کورٹ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو آئندہ سماعت پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

    دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے سماعت پیر تک ملتوی کر دی ہے۔

  15. بریکنگ, عدالتی اصلاحات کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری

  16. پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کسی صورت ممکن نہیں: الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ میں صوبائی اسمبلیوں میں انتخابات کے معاملے پر جمع کرائی گئی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن ’کسی صورت ممکن نہیں۔‘

    رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن انتخابات کے التوا کے بارے میں آئندہ ہفتے اعلامیہ جاری کرے گا۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب میں 14 مئی کو الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا۔

  17. تین کھیل، تین کھلاڑی: عاصمہ شیرازی کا کالم

  18. عمران خان حفاظتی ضمانت کے لیے آج لاہور ہائیکورٹ پیش ہوں گے

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف ’121 مقدمات‘ کے اخراج کے لیے درخواست پر سماعت آج لاہور ہائیکورٹ میں ہوگی۔

    اطلاعات کے مطابق عمران خان آج اپنی حفاظتی ضمانت کے لیے 12 بجے لاہور ہائیکورٹ پیش ہوں گے۔

  19. پاکستان میں گندم کی ’شاندار فصل‘ کے بعد کیا عوام کو سستا آٹا بھی ملے گا؟

  20. پاکستان کی سپریم کورٹ میں ’تقسیم‘ کا تاثر کیوں؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    حال ہی میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس عمر عطا بندیال، کے لیے ’ون مین شو‘ جیسے الفاظ استعمال ہوئے۔

    از خود نوٹس اور بینچوں کی تشکیل کے اختیارات کے ’غیر منصفانہ‘ استعمال پر چیف جسٹس اپنے ہی ساتھی ججز کی تنقید کی زد میں آئے اور الزامات کا سامنا بھر کرنا پڑا۔

    آخر سپریم کورٹ میں ہو کیا رہا ہے؟ یہ جاننے کے لیے دیکھیے فرحت جاوید اور نئیر عباس کی یہ ویڈیو