آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ضلع کرم میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں اساتذہ سمیت کم از کم آٹھ افراد ہلاک

پولیس ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع اپر کرم میں نامعلوم افراد کی جانب سے چلتی گاڑی پر فائرنگ سے ایک شخص کی ہلاکت کے بعد مسلح افراد نے ایک ہائی سکول میں گھس کر اساتذہ سمیت کم از کم سات افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق طوری بنگش قبائل سے تعلق رکھنے والے اساتذہ سکول میں امتحانی ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے۔

لائیو کوریج

  1. چیف جسٹس کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ عدالتی اصلاحات کے خلاف کیس کی سماعت آج کرے گا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف کیس کی سماعت آج کرے گا۔

    سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، پاکستان بار کونسل کے علاوہ مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی سمیت نو سیاسی جماعتوں کو نوٹسز جاری کر رکھے ہیں۔

    اس بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ پارلیمان نے چیف جسٹس آف پاکستان کے ازخود نوٹس لینے اور بینچوں کی تشکیل کے اختیارات کو محدود کرنے سے متعلق بل منظور کر کے اسے قانون بنایا تھا تاہم سپریم کورٹ اس قانون کے خلاف عبوری حکم کے تحت اس پر عمل درآمد سے روک چکی ہے۔۔

    اس قانون کے تحت عدالت عظمیٰ میں ازخود نوٹس لینے اور بینچ کی تشکیل کا اختیار چیف جسٹس کے بجائے ایک کمیٹی کے حوالے کیا جائے گا جس میں چیف جسٹس اور دو سینیئر ترین جج شامل ہوں گے۔

    عدالتی اصلاحات کے تحت بنائے جانے والے اس قانون پر صدر مملکت عارف علوی نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد معینہ مدت پوری ہونے پر یہ بل آئین کے تحت قانون کی شکل اختیار کر گیا اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے پرنٹنگ کارپوریشن کو گزٹ نوٹیفکیشن کا حکم دیا۔

    پاکستان کی قومی اسمبلی کے بعد پارلیمان کے ایوان بالا (سینیٹ) نے عدالتی اصلاحات سے متعلقہ ’سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023‘ تیس مارچ کو منظور کر لیا تھا تاہم 13 اپریل کو سپریم کورٹ نے اس کے خلاف عبوری حکم جاری کیا جس میں اس پر عملدرآمد تاحکم ثانی روک دیا گیا۔