آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ضلع کرم میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں اساتذہ سمیت کم از کم آٹھ افراد ہلاک

پولیس ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع اپر کرم میں نامعلوم افراد کی جانب سے چلتی گاڑی پر فائرنگ سے ایک شخص کی ہلاکت کے بعد مسلح افراد نے ایک ہائی سکول میں گھس کر اساتذہ سمیت کم از کم سات افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق طوری بنگش قبائل سے تعلق رکھنے والے اساتذہ سکول میں امتحانی ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے۔

لائیو کوریج

  1. وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے انڈیا کے دورے پر پی ٹی آئی رہنماؤں کی تنقید

    پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے دورۂ انڈیا پر پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انڈیا کے مذاکرات سے انکار کے باوجود اسرائیل اور امریکہ کی خوشنودی کے لیے دوڑے دوڑے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ بلاول جمعرات کی صبح انڈیا کے شہر گوا میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔

    روانگی سے قبل انھوں نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ اس دورے پر تمام توجہ صرف ایس سی او اجلاس پر مرکوز ہے۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے دورے پر ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’بلاول کے گوا کے دورے کی سخت مذمت کرتا ہوں، بلاول بھٹو ویڈیو لنک پر اجلاس میں شرکت کر سکتے تھے لیکن مودی کی محبت میں ان حکمرانوں کے لیے کشمیریوں پر مظالم اور مسلمانوں اور اقلیتوں کے ساتھ ظلم کی کوئی اہمیت نہیں، مودی کو خوش کرنے کے لیے یہ حکمران ہر حد پار کرنے کو تیار ہیں۔‘

    جبکہ پی ٹی آئی کی رہنما شریں مزاری نے بھی تنقیدی ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’جیسا کہ میں نے پہلے بتایا تھا کہ امپورٹڈ وزیر خارجہ امریکہ کو اسرائیل اور انڈیا کے حوالے سے خوش کرنے کے باجوہ پلان کے ساتھ اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے گوا جانے کے لیے بے چین ہے۔

    انھوں نے پھر سے افغانستان کے اجلاس کو نظرانداز کیا کیونکہ وہاں کوئی فوٹو سیشن نہیں ہونا! انڈیا کی طرف سے دوطرفہ ملاقات سے انکار کے باوجود، وہ جانے کے لیے بے چین ہیں۔

  2. چوہدری شجاعت حسین ہی مسلم لیگ ق کے صدر ہوں گے، الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مسلم لیگ ق کی پارٹی صدارت سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ چوہدری شجاعت حسین ہی مسلم لیگ ق کے صدر ہوں گے۔

    جمعرات کو کیس کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ ق کے آئین میں ترمیم کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے حکم امتناع کے دوران آئینی ترمیم خلاف قانون ہے۔

    الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ ق کے آئین میں ترمیم کی چوہدری وجاہت کی درخواست خارج کر دی ہے۔

  3. بریکنگ, سپریم کورٹ رولز اینڈ پروسیجر بل پر عمل درآمد روکنے کا فیصلہ تاحکم ثانی برقرار: سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ

    عدالتی اصلاحات کے بل کا معاملہ سپریم کورٹ کا تفصیلی حکمنامہ جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ رولز اینڈ پروسیجر بل پر عمل درآمد روکنے کا فیصلہ تاحکم ثانی برقرار رکھا ہے۔

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحات کے بل سے متعلق عدالتی کارروائی کا چار صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کر دیا ہے۔

    عدالتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ ’عدالت کو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ رولز اینڈ پروسیجر بل کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ سپریم کورٹ رولز اینڈ پروسیجر بل پر عمل درآمد روکنے کا حکمنامہ تاحکم ثانی برقرار ہے۔‘

    عدالتی حکمنامے میں تمام سیاسی جماعتوں سمیت تمام فریقین کو تحریری جوابات جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جبکہ سپریم کورٹ رولز اینڈ پروسیجر بل کی منظوری کے وقت قومی اسمبلی اورپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی بحث کا مکمل ریکارڈ بھی اگلی پیشی تک طلب کیا گیا ہے۔

    عدالتی حکمنامے میں پاکستان بار کونسل کی طرف سے آٹھ رکنی بنچ پر اٹھائے گئے اعتراض کا کوئی تذکرہ شامل نہیں۔

    واضح رہے پاکستان بار کونسل نے فل کورٹ بنچ تشکیل دینے اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی بنچ میں موجودگی پر اعتراض اٹھایا تھا۔

    اس مقدمے کی سماعت آٹھ مئی دن ساڑھے بارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

  4. ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چٹھہ کے خلاف مبینہ کرپشن کا مقدمہ ناقابل سماعت قرار

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے تیس کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن کے مقدمہ میں ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چٹھہ کے خلاف کیس ناقابل سماعت قرار دے دیا ہے۔

    ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چٹھہ سمیت دیگر کی ضمانت منسوخی کی نیب درخواست پر جمعرات کو سماعت میں عدالت نے مقدمہ غیر موثر ہونے کی بنیاد پر نمٹا دیا۔

    چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی جس دوران اسپیشل پراسیکوٹر نیب نے کہا کہ نیب نے ریفرنس 20 ستمبر 2022 کو اینٹی کرپشن لاہور کو بھجوا دیا ہے، موجودہ کیس 50 کروڑ سے کم کرپشن کا ہے اور نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

    جس پر عدالت نے کہا کہ نیب ترامیم کے بعد لاہور کی احتساب عدالت نے ملزمان کے خلاف ریفرنس واپس بھجوا دیا اور مبینہ کرپشن کیس میں سہیل ظفر چھٹی سمیت ملزمان کی ضمانت منسوخی کی درخواستیں غیر موثر قرار دی جاتی ہیں۔

    نیب نے سہیل ظفر چٹھہ سمیت افسران کے ادوار میں بطور ڈی پی او گجرات کرپشن پر ریفرنس دائر کر رکھا تھا۔

  5. بریکنگ, انڈیا کے دورے کے دوران توجہ صرف شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس پر مرکوز ہو گی: بلاول بھٹو زرداری

    پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول زرداری بھٹو کا کہنا ہے کہ انڈیا دورے پر توجہ صرف شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس پر مرکوز ہو گی۔

    جمعرات کو انڈیا کے دورے پر روانگی سے قبل انھوں نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ میرے اس دورے کے دوران پوری توجہ صرف شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس پر مرکوز ہو گی۔

    ’اس دورے کے دوران میں دوست ممالک کے ہم منصبوں کے ساتھ تعمیری مذاکرات کے لیے پر امید ہوں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ گوا کے دورے پر میں پاکستانی وفد کی قیادت کر رہا ہوں اور میرا اس اجلاس میں شرکت کا فیصلہ یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کو کتنی اہمیت دیتا ہے اور اس کے چارٹر کے ساتھ مضبوط عزم کی نمائندگی کرتا ہے۔

    ’میں اس تنظیم کے ساتھ منسلک ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات و مذاکرات کے لیے پر امید ہوں۔‘

  6. قومی اسمبلی کا اجلاس کچھ دیر میں، ارکان کا عدلیہ کو اجلاس کی کارروائی سے متعلق ریکارڈ فراہم نہ کرنے زور

    پاکستان کی قومی اسمبلی کا اجلاس آج (جمعرات) دن گیارہ بجے شروع ہو رہا ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کو اجلاس کی کارروائی سے متعلق طلب کردہ ریکارڈ فراہم کرنے پر بحث کی جائے گی۔

    بدھ کے روز قومی اسمبلی کے ہونے والے اجلاس میں سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے سپیکر اسمبلی پر زور دیا تھا کہ وہ پورے ایوان کو ایک کمیٹی میں تبدیل کریں اور اسمبلی کی کارروائی کا ریکارڈ طلب کرنے کے حوالے سے وضاحت کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کو طلب کریں۔

    بدھ کو اسمبلی اجلاس کے دوران پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے سپیکر راجا پرویز اشرف سے کہا کہ وہ اسمبلی کی کارروائی کا ریکارڈ عدالت کو فراہم نہ کریں کیونکہ وہ ارکان کی منظوری کے بغیر ایسا نہیں کر سکتے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے منگل کو اس قانون کے بارے میں پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ طلب کیا تھا جسے پارلیمنٹ نے پہلے ہی منظور کیا تھا اور جس کا مقصد چیف جسٹس کے کچھ اختیارات کو ختم کرنا تھا۔

    چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ نے صدر کی منظوری سے قبل ہی اس قانون پر عمل درآمد روک دیا تھا جس پر قانون سازوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔

    شاہد خاقان عباسی نے بدھ کو اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ پارلیمنٹ کی خودمختاری اور بالادستی سے متعلق ایک سنگین معاملہ ہے، انھوں نے کہا کہ ’اس معاملے پر بحث کے لیے پورے ایوان کی ایک کمیٹی تشکیل دیں، چیف جسٹس کو بلا کر ان سے پوچھیں کہ وہ ریکارڈ کیوں اور کس مقصد کے لیے مانگ رہے ہیں۔‘

    اس موقع پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے شاہد خاقان کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے اس مطالبے کا اعادہ کیا کہ عدلیہ کے ماضی کے متنازع کردار کی پارلیمانی تحقیقات ہونی چاہیے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ ’جب سے جسٹس منیر نے آئینی خلاف ورزیوں کو قانونی تحفظ فراہم کیا، کمیٹی کو اس وقت سے اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی تحقیقات کا کام سونپا جانا چاہیے۔‘

    اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے منحرف رہنما اور قائد حزب اختلاف راجا ریاض نے بھی سپیکر اسمبلی سے کہا کہ وہ چیف جسٹس کو کسی قسم کا پارلیمانی ریکارڈ فراہم نہ کریں۔

    تاہم گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے غوث بخش مہر نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی عدلیہ کے خلاف جاری ہنگامہ آرائی کا حصہ نہیں ہے۔

    بعدازاں سپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے ڈان نیوز کے پروگرام ’لائیو ود عادل شاہزیب‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی نااہلی ملک کو ایسے غیر متوقع صورت حال کی جانب دھکیل دے گی جہاں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

    انھوں نے پروگرام میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’اگر سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیر اعظم شہباز شریف کو نااہل قرار دیا تو نتائج اور پارلیمنٹ کے ردعمل سے سب کو ڈرنا چاہیے۔‘

    میزبان کے اس سوال پر کہ کیا مارشل لا لگایا جا سکتا ہے؟ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ملک کو جس انتشار کی جانب دھکیلا جائے گا، مارشل لا بھی اسے قابو نہیں کر سکے گا، ہمیں اس طرف جانے سے گریز کرنا ہوگا کیونکہ آگے بہت گہری کھائی ہے۔

    راجا پرویز اشرف نے سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق قومی اسمبلی کی کارروائی کا ریکارڈ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم اپنی کارروائی کا ریکارڈ سپریم کورٹ کو فراہم کریں تو پھر پارلیمنٹ کی بالادستی کیسے برقرار رہ سکتی ہے۔

    انھوں نے کہا پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دو ریاستی اداروں یعنی پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے درمیان محاذ آرائی افسوس ناک ہے اور سمجھتا ہوں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے قانون سازی کے عمل میں براہ راست مداخلت کر رہی ہے، جو بل ابھی قانون بنا بھی نہیں اس پر عدالت کیسے کوئی حکم دے سکتی ہے، اگر اعلیٰ عدلیہ یہی چاہتی ہے تو وہ آگے بڑھیں اور آئین میں ترمیم کرے۔

  7. بریکنگ, ’اگر مجھے کچھ ہوا تو اس کے پیچھے ڈرٹی ہیری ہو گا، مجھے کسی سے نہیں صرف اس شخص سے خطرہ ہے‘: عمران خان

    پی ٹی آئی کے چیئرمین و سابق وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی سے قبل لاہور میں اپنی رہائش گاہ سے روانگی سے وقت ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’میں نے تین روز قبل لاہور ہائیکورٹ کو واضح طور پر کہا ہے کہ ڈرٹی ہیری نے مجھے دو مرتبہ قتل کرنے کی کوشش کی ہے، ایک مرتبہ وزیر آباد میں اور دوسری مرتبہ جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد میں۔‘

    انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وزیر آباد واقعے کی جے آئی ٹی کی تحقیقات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی۔

    پی ٹی آئی چیئرمین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اب مراد سعید کو دہشت گرد کہا جا رہا ہے اس کے پیچھے بھی انھیں لوگوں کا ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر مجھے کچھ ہوا تو اس کے پیچھے ڈرٹی ہیری ہو گا، مجھے کسی تنظیم سے خطرہ نہیں صرف اس شخص سے خطرہ ہے۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میرے پیر میں سوجن ہے لیکن میں پھر بھی عدالت پیش ہو رہا ہوں کیونکہ ہم اپنی عدالتوں کا احترام کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ عمران خان نو مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے ذاتی حیثیت میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہو رہے ہیں۔

    گذشتہ روز انھیں اسلام آباد ہائی کورٹ چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بنچ کے سامنے پیش ہونا تھا۔لیکن ان کے وکلا کی جانب سے ان کی پیر میں تکلیف کے باعث حاضری سے اسثتثنیٰ مانگا گیا تھا۔

    زمان پارک لاہور سے روانگی سے قبل عمران خان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان کی طرح نہیں کہ اگر فیصلہ ان کے حق میں نہ آئے تو یہ ججز کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ سنیچر کو شام ساڑھے پانچ بجے ملک بھر کے شہروں اور گاؤں میں چیف جسٹس آف پاکستان سے اظہار یکجہتی کے لیے ایک گھنٹے کے لیے نکلیں۔

    انھوں نے سنیچر کو لاہور، پشاور، راولپنڈی اور اسلام آباد میں ’عدلیہ و آئین بچاؤ تحریک‘ کے سلسلے میں ریلیاں نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

  8. بلاول بھٹو، جنھیں ان کی والدہ بے نظیر نے بتایا کہ ’ہر انڈین میں تھوڑا سا پاکستان ہے‘

  9. عالمی یوم صحافت پر بلوچستان کے صحافیوں کا تمام صحافیوں کے قتل کے واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ

    بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کےزیراہتمام سیمینارمیں صحافی سول سوسائٹی اور وکلاء رہنماوں نے ارشد شریف سمیت ہلاک کیے جانے والے تمام صحافیوں کے قتل کے واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کے ورثا کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ اس سیمنارمیں میڈیا ورکرز کے عدم تحفظ، معاشی مشکلات اورمیڈیا پرغیراعلامیہ سنسرشپ پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدرعرفان سعید نے کہا کہ بلوچستان کے صحافی انتہائی نامساعد حالات اورگھٹن زدہ ماحول میں اپنے صحافتی فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں 41کے قریب صحافی فرائض کی انجام دہی کے دوران ماردیئے گئے تاکہ صحافت کی آواز کو دبایا جاسکے۔

    انھوں نے کہا کہ ان میں سے کسی ایک کو بھی انصاف فراہم نہیں کیا جاسکا ہے لیکن ہم اپنے ساتھیوں کی قربانیوں کو کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کہ عالمی یوم صحافت کو ارشد شریف کے نام سے منسوب کیا گیا ہے ہم آج اس پلیٹ فارم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ارشد شریف کے قاتلوں کو گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا جائے اور ارشد شریف کیس کی تحقیقات بین الاقوامی اداروں سے کرائی جائے۔

    انھوں نے کہا کہ آج ہم عالمی یوم صحافت ایک ایسے وقت میں منا رہے ہیں جب صحافی انتہائی معاشی بدحالی اور عدم تحفظ کا شکار ہیں ایسے بھی میڈیا آفسزاوراخبارات ہیں جہاں تین ماہ سے صحافیوں کو ان کی تنخواہیں تک ادا نہیں کی گئی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا صحافت کی آزادی تب ہوگی جب صحافی معاشی حوالے سے مستحکم ہونگے مگر یہاں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان یونیورسٹی میں میڈیا جرنلزم کے سربراہ ڈاکٹر ببرک نیاز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی صحافت کو چیلنجز کا سامنا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں 2000کے قریب صحافی اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں تاہم الیکٹرانک میڈیا میں بلوچستان کہیں نظر نہیں آتا نہ ہی یہاں کے مسائل اورمعاملات کو اجاگر کیا جاتا ہے۔

  10. تحریک انصاف کی 14 مئی کو انتخابات کروانے سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواست

    سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں پنجاب میں 14 مئی کو انتخاب کے انعقاد کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف نے باضابطہ طور پر سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

    تحریک انصاف کی مذاکراتی ٹیم کی جانب سے سپریم کورٹ میں باضابطہ درخواست دائر کی گئی جس میں سپریم کورٹ سے پنجاب میں انتخابات کے حوالے سے 4 اپریل کے حکم نامے کے من و عن نفاذ کی استدعا کی گئی ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت کے فیصلے کی روشنی میں پنجاب میں 14 مئی کو انتخاب کروائے جائیں۔ تحریک انصاف کی درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے 19 اپریل کے اپنے حکم نامے میں سیاسی جماعتوں کے مابین مذاکرات کے ذریعے انتخابات کے انعقاد کے لائحہ عمل کی تیاری کی تجویز دی، تحریک انصاف نے عدالت میں کروائی گئی یقین دہانی کی روشنی میں خصوصی مذاکراتی کمیٹی قائم کی۔

    درخواست کے مطابق 'تحریک انصاف اور پی ڈی ایم اتحاد کی مذاکراتی ٹیموں نے پوری نیک نیتی سے 27، 28 اپریل اور 2 مئی کو بات چیت کی۔ اس بات چیت کے نتیجے میں فریقین کے مابین تین نکات پر اتفاق رائے ہوا'۔

    تحریک انصاف کی درخواست میں بتایا گیا کہ 'فریقین متفقہ طور پر سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کے مابین مذاکرات اہم ہیں اور تمام سیاسی تنازعات کا حل سیاسی جماعتوں کے پاس ہے۔'

    درخواست میں عدالت کو بتایا گیا ہے کہ 'فریقین اس بات پر بھی متفق ہیں کہ اس گفتگو کے سپریم کورٹ کے 4 اپریل کے حکم نامے پر اس وقت تک کوئی اثرات مرتب نہیں ہوں گے جب تک دونوں کے مابین آئینی حدود کے اندر کوئی معاہدہ طے پا کر روبا عمل نہیں ہو جاتا۔'

    تحریک انصاف کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ 'تحریک انصاف ابتدا میں یہ سمجھتی تھی کہ اسمبلیوں کے انتخابات 90 روز ہی میں منعقد ہونے چاہیں۔ عدالت پنجاب کے انتخابات کیلئے 14 مئی کی تاریخ مقرر کر چکی ہے۔ اس لیے 14 مئی کو انتخابات کا انعقاد آئینی تقاضا ہے جسے فریقین کی رائے سے بدلنا ممکن نہیں۔'

    اسی حوالے سے پی ڈی ایم اتحاد سے بھی آئین پر عمل کرنے اور 14 مئی کو پنجاب میں انتخاب کے انعقاد کے حوالے سے سپریم کورٹ کے حکم نامے پر عمل درآمد کی التماس کی گئی۔ پی ڈی ایم اتحاد پر خیبر پختو نخوا اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد پر بھی زور دیا گیا۔ پی ڈی ایم اتحاد کا خیال تھا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات اگست کے دوسرے ہفتے میں تمام اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد اکتوبر میں منعقد کیے جائیں۔ مفصل گفتگو اور پی ڈی ایم اتحاد کی مذاکراتی کمیٹی کی آراء کو سامنے رکھتے ہوئے تحریک انصاف نے ملک بھر میں ایک روز میں انتخابات کے حوالے سے درج ذیل تجویز پیش کیں۔ تحریک انصاف نے ملک میں ایک ہی روز انتخابات کروانے کیلئے 4 شرائط پیش کی ہیں۔

    1: تحریک انصاف ایک ہی روز انتخابات کیلئے تیار ہے بشر طیکہ قومی، سندھ اور بلوچستان کی اسمبلیوں کو 14 مئی یا اس سے پہلے تحلیل کر دیا جائے۔

    2: قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات تینوں اسمبلیوں کی تحلیل کے 60 روز کے اندر یعنی جولائی کے دوسرے ہفتے میں کروائے جائیں۔

    3: پنجاب اور پختو نخوا کے انتخابات کو 90 روز کی مدت گزر جانے کے بعد ایک آئینی تحفظ فراہم کیا جائے۔

    4: انتخابات میں تاخیر کو آئینی تحفظ فراہم کرنے کیلئے تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی ایوان میں واپس جائیں گے اور سیاسی جماعتوں کے مابین باہمی اتفاق رائے سے صرف ایک بار کیلئے موثر آئینی ترمیم کی جائے گی۔ تمام جماعتیں انتخابات کے نتائج قبول کریں گی۔ دونوں جماعتوں کے مابین ان نکات پر مبنی ایک تحریری معاہدہ کیا جائے گا جس پر من و عن عمل درآمد کیلئے اسے عدالت عظمیٰ کے سامنے رکھا جائے گا۔

    تحریک انصاف کی درخواست کے مطابق پی ڈی ایم اتحاد نے ان تجاویز سے اتفاق نہیں کیا۔ پی ڈی ایم اتحاد کے مطابق قومی اور سندھ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیاں 30 جولائی کو تحلیل کی جائیں گی۔ پی ڈی ایم کے مطابق قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات اسمبلیوں کی تحلیل کے 90 روز کے اندر بیک وقت اکتوبر کے پہلے ہفتے میں منعقد ہوں گے۔

    تحریک انصاف کی درخواست کے مطابق آئینی ترمیم کے ذریعے معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے آئینی ترمیم پر بھی دونوں جماعتوں میں اتفاق رائے کا فقدان ہے۔ چنانچہ معزز عدالت پنجاب میں انتخابات کے حوالے سے اپنے 4 اپریل کے حکم نامے کے من و عن نفاذ کا اہتمام کرے۔

  11. بلاول بھٹو 4۔5 مئی کو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے انڈیا جائیں گے

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری 4-5 مئی کو بھارت کے شہر گوا میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) وزرائے خارجہ کی کونسل (سی ایف ایم) میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔

    وزیر خارجہ ایس سی او سی ایف ایم کے موجودہ سربراہ اور انڈیا کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کی دعوت پر ایس سی او سی ایف ایم اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ پاکستان دفترِ خارجہ کے ایک بیان کے مطابق اجلاس میں پاکستان کی شرکت شنگھائی تعاون تنظیم کے چارٹر اور عمل کے لیے پاکستان کے عزم اور اس اہمیت کی عکاسی کرتی ہے جو پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں خطے کے لیے دیتا ہے۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ سال جولائی میں تاشقند میں ہونے والے وزرائے خارجہ کونسل کے آخری اجلاس میں بھی شرکت کی تھی۔

  12. عمران خان کےخلاف نو مقدمات میں دی گئی ضمانت میں ایک دن کی توسیع

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کےخلاف نو مقدمات میں ضمانت میں ایک دن کی توسیع کردی ہے۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ اگرملزم عمران خان جمعرات تک پیش نہ ہوئے تو ان کی ان مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری منسوخ کردی جائے گی۔ دوسری طرف پاکستان تحریکِ انصاف کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ عمران خان کل اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوں گے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں اسلام آباد میں دو رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی تو عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر روسٹرم پر آ گئے اوردلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کل لاہور ہائی کورٹ میں خود پیش ہوئے حالانکہ پیشی ضروری نہیں تھی اور پیشی کے بعد معلوم ہوا کہ کچھ غلط ہوا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ شام سات بجے عمران خان کی ٹانگ پر سوجن ہوئی تو شوکت خانم ہسپتال جانا پڑا جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکے موکل عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور انوسٹیگیشن بھی جوائن نہیں کی۔

    انھوں نے کہا کہ اگر ہم حاضری کو چھوڑ بھی دیں تو شامل تفتیش نہ ہونے کا کیا کریں؟

    عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے ججز نے کہا کہ آپ کو شامل تفتیش کروائیں گے۔

    بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ میڈیکل گراؤنڈ پر درخواست پہلی مرتبہ دی ہے جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ آپ میڈیکل رپورٹ بھی پرائیویٹ ہسپتال کا دے رہے ہیں اور سرکاری ہسپتال سے علاج کیوں نہیں کراتے۔

    چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو معلوم ہے کہ ایسے کیسز میں سرکاری ہسپتال کی رپورٹ ہوتی ہے۔‘

    عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کی عمر اکہتر سال ہے اور اس عمر میں زخم بھرنے میں بھی وقت لگتا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’قانون میں ضمانت قبل از گرفتاری میں حاضری سے معافی کہاں ہے؟‘ انھوں نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر بھی مثال دی تھی کہ کیا عام آدمی کی ضمانت ایسے ہو سکتی ہے؟

    بینچ میں موجود جسٹس گل حسن اورنگ زیب نے ریمارکس دیے کہ ’کبھی تھریٹ ہے، کبھی ٹانگ میں درد ہے، چار پیشیوں پرعمران خان حاضر نہیں ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ یہ آرڈر لے کر کوئی اور ملزم بھی آئے گا کہ یہ مثال موجود ہے۔‘

    عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ تین ماہ میں کسی ایک فرد کے خلاف 140 مقدمات نہیں بنے اور یہ غیر معمولی حالات بھی ہیں۔

    چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کسی بھی متعلقہ عدالت میں بھی جا سکتے ہیں۔ ہم پٹیشنر کی غیر موجودگی میں دلائل نہیں سنیں گے۔ عدالت کہہ چکی ہے کہ عبوری ضمانت واپس لینے پر غور کریں گے۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’کل صبح کے لیے آ جاتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ ہم خارج کر دیں گے۔‘

    اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ یہ شوکت خانم ہسپتال کی رپورٹ دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اپنا ہسپتال اور اپنا ڈاکٹر، یہ تو چھ ماہ تک ٹھیک نا ہونے کی رپورٹ دے دیں گے۔ ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ آج بھی ان کے لیے سیکورٹی کا بندوبست کیا ہے اور کل پھر کرنا پڑے گا۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کل پیش نہ ہوئے تو ضمانت مسترد کر دی جائے گی انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں قانون بڑا واضح اور سب کے لیے برابر ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی نو مقدمات میں ضمانت درخواستوں پر سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔

  13. ’نوے دن سے زیادہ نگران حکومتیں آئین کے بنیادی اصول کے خلاف ہیں‘

    رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے نگران وزرائے اعلیٰ کو فوری طور پر کام سے روکا جائے۔

    ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا ہے کہ ’سپریم کورٹ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں وزرائے اعلیٰ اور کابینہ کو کام کرنے سے فوری طور پر روک دے۔ اس سلسلے میں ہماری پیٹیشن فوری فکس کی جائے اور انتخابات تک معاملات چلانے کے لیے ایڈمنسٹریٹر مقرر کیے جائیں۔

    ’نوے دنوں سے زیادہ نگران حکومتیں آئین کے بنیادی اصول کے خلاف ہیں۔ آئین صرف عوام کے منتخب نمائندوں پرحکومت کو مانتا ہے۔‘

  14. ’سپریم کورٹ نے پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دے کر اختیارات سے تجاوز کیا‘ الیکشن کمیشن کی نظرثانی اپیل دائر, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    پنجاب اور خیبر پختونخوا (کے پی) میں انتخابات سے متعلق کیس میں الیکشن کمیشن نے نظرثانی کے لیے درخواست دائر کرتے ہوئے اہم آئینی سوالات اٹھا دیے ہیں اور درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کو الیکشن کمیشن کے اختیارات میں مداخلت کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

    اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ چار اپریل کو پنجاب میں انتخابات کرانے کے فیصلے میں تاریخ دینے کے معاملے پر نظرثانی کرے۔

    الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے 4 اپریل کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کرتے ہوئے پولنگ کی تاریخ، 14 مئی، واپس لینے کی استدعا کی ہے۔

    الیکشن کمیشن نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ آرٹیکل 254 سے استفادہ مدت معیاد گزرنے سے پہلے بھی اٹھایا جا سکتا ہے، سپریم کورٹ نے حاجی سیف اللہ کیس میں آرٹیکل 254 کو پری میچور یعنی قبل از وقت استعمال کیا جبکہ سپریم کورٹ کا 11 رکنی لارجر بینچ کا فیصلہ موجود ہے جس میں الیکشن کو چار ماہ آگے بڑھانے کی اجازت دی۔

    الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ انتخابات کے انعقاد سے متعلق آرٹیکلز کو ایک ساتھ پڑھا جائے۔

    الیکشن کمیشن نے درخواست میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے پاس انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار نہیں۔ ’پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دے کر اختیارات سے تجاوز کیا گیا۔‘

    اس نظر ثانی اپیل کے مطابق ’عدالت قانون کی تشریح کر سکتی ہے، قانون کو دوبارہ لکھ نہیں سکتی ہے۔ با اختیار الیکشن کمیشن وقت کی ضرورت ہے۔ وفاقی حکومت نے تاحال سکیورٹی اور فنڈز بھی فراہم نہیں کیے۔‘

    الیکشن کمیشن نے کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں پہلے الیکشن ہونے سے قومی اسمبلی کا الیکشن شفاف نہیں ہوگا۔ ’سپریم کورٹ پنجاب میں انتخابات سے متعلق 4 اپریل کے فیصلہ پر نظر ثانی کرے۔‘

  15. نیپرا نے صارفین کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت 34 پیسے مہنگی کر دی, تنویر ملک، صحافی

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک میں بجلی کی قیمت میں 34 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی ہے۔

    یہ اضافہ مارچ کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا جس سے بجلی صارفین پر مجموعی طور پر 2 ارب 90 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

    اس اضافے کا اطلاق لائف لائن اور کے الیکڑک صارفین پر نہیں ہوگا۔ تاہم باقی بجلی صارفین کو مئی کے بلوں میں اضافی ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔

  16. گلگت بلتستان میں ججز کی تعیناتی: سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھیج دیا گیا

    گلگت بلتستان میں ججز کی تعیناتی کے خلاف وزیر اعلیٰ کی درخواست پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے معاملہ لاجر بینچ بنانے کے لیے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو بھجوا دیا ہے۔

    سماعت پر وکیل مخدوم علی خان نے عدالت کو بتایا کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے تحت ججز کی تعیناتی کا اختیار صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ کے پاس ہے، ججز کی سمری پر گورنر گلگت بلتستان نے وزیر اعلیٰ اور صوبائی حکومت کو بائی پاس کیا۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے گورنر کی ایڈوائس پر ججز کی تعیناتی کی منظوری دی، ججز تعیناتی پر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور صوبائی حکومت سے مشاورت نہیں کی گئی۔

    انھوں نے دلائل دیے کہ گلگت بلتستان میں منتخب حکومت ہے جسے ججز تعیناتی میں بائی پاس کیا گیا، سیول ایوی ایشن کیس میں سپریم کورٹ نے 2019 میں ججز کی تعیناتی کے لیے کمیشن مقرر کرنے کا حکم دیا، سپریم کورٹ کے 2019 کے فیصلے پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ گلگت بلتستان میں ججز کی تعیناتی کا معاملہ اہم ہے اس لیے ساتھی جج سے مشاورت کی، بینچ نے مشاورت سے معاملہ چیف جسٹس کو لاجر بینچ بنانے کے لیے بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ وفاقی حکومت سپریم کورٹ میں جواب جمع کرا چکی ہے۔ انھوں نے استدعا کی کہ عدالت جلد مقدمہ سماعت کے لیے مقرر کرے۔

    سپریم کورٹ نے لاجر بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھجواتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

  17. انڈیا میں ایس سی او اجلاس میں بلاول زرداری کی شرکت: ’الیکشن کی فضا میں بی جے پی کسی نرمی کا اشارہ نہیں دے گی‘

  18. سپریم کورٹ اپنے حکم پر عملدرآمد کروائے: فواد

    رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت آج حکومت سے مذاکرات سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائے گی۔

    ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف آج سپریم کورٹ میں پی ڈی ایم اتحاد سے مذاکرات کی تفصیلی رپورٹ جمع کروا رہی ہے۔

    ’استدعا کی جا رہی ہے کہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ اپنے حکم پر عملدرآمد کروائے۔‘

  19. ’آڈیو لیکس‘ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے ’آڈیو لیکس‘ کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں مبینہ طور پر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم ثاقب اور تحریک انصاف کے ایک ٹکٹ ہولڈر کو آپس میں گفتگو کرتے سنا جاسکتا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق یہ کمیٹی ’آڈیو لیکس کی تحقیقات کرے گی اور قومی اسمبلی میں جامع رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیٹی کو تحقیقاتی ایجنسی کی معاونت حاصل ہوگی۔‘

    یہ آڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سے حکمراں اتحاد کی جانب سے یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ سابق چیف جسٹس نے تحریک انصاف میں ٹکٹوں کی تقسیم کے دوران فائدے حاصل کیے۔ تاہم ثاقب نثار نے اس الزام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان آڈیوز کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔

  20. عدالتی اوقات میں عمران خان پیش نہ ہوئے تو عبوری ضمانت خارج کردیں گے: چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی عدم موجودگی پر برہمی ظاہر کی ہے۔

    مقدمات کی تفصیل اور طلبی نوٹسز معطل کرنے کی درخواست پر سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ’کہاں ہیں درخواست گزار۔‘

    عمران خان کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے خراب صحت کے باعث حاضری سے استثنی کی درخواست دائر کی ہے۔

    اس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’یا ہم نیچے آ گئے ہیں یا وہ اوپر آ گئے ہیں۔‘

    انھوں نے ریمارکس دیے کہ ’عدالتی وقت تک درخواست گزار عمران خان پیش نہ ہوئے تو عبوری ضمانت خارج کردیں گے۔‘

    عمران خان کے وکیل خواجہ حارث بھی سماعت کے وقت پر عدالت میں موجود نہیں تھے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’عدالتوں کا مذاق بنا کر رکھا ہوا ہے۔ ہم تو سول کورٹس بن کر رہ گئے ہیں۔ کیس کے وقت کا پتہ تھا، وقت پر انھیں یہاں ہونا چاہیے تھا۔‘

    عدالت نے خواجہ حارث کی عدم موجودگی کے باعث سماعت میں وقفہ کردیا ہے۔