پاکستان
کی قومی اسمبلی کا اجلاس آج (جمعرات) دن
گیارہ بجے شروع ہو رہا ہے۔ قومی
اسمبلی کے اجلاس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کو اجلاس کی کارروائی سے متعلق طلب
کردہ ریکارڈ فراہم کرنے پر بحث کی جائے گی۔
بدھ
کے روز قومی اسمبلی کے ہونے والے اجلاس میں سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے
رہنما شاہد خاقان عباسی نے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے سپیکر اسمبلی پر زور دیا تھا کہ
وہ پورے ایوان کو ایک کمیٹی میں تبدیل کریں اور اسمبلی کی کارروائی کا ریکارڈ طلب
کرنے کے حوالے سے وضاحت کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کو طلب کریں۔
بدھ
کو اسمبلی اجلاس کے دوران پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے سپیکر
راجا پرویز اشرف سے کہا کہ وہ اسمبلی کی کارروائی کا ریکارڈ عدالت کو فراہم نہ کریں
کیونکہ وہ ارکان کی منظوری کے بغیر ایسا نہیں کر سکتے۔
واضح
رہے کہ سپریم کورٹ نے منگل کو اس قانون کے بارے میں پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ
طلب کیا تھا جسے پارلیمنٹ نے پہلے ہی منظور کیا تھا اور جس کا مقصد چیف جسٹس کے
کچھ اختیارات کو ختم کرنا تھا۔
چیف
جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ نے صدر کی منظوری سے
قبل ہی اس قانون پر عمل درآمد روک دیا تھا جس پر قانون سازوں کی جانب سے سخت ردعمل
سامنے آیا تھا۔
شاہد
خاقان عباسی نے بدھ کو اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ پارلیمنٹ کی
خودمختاری اور بالادستی سے متعلق ایک سنگین معاملہ ہے، انھوں نے کہا کہ ’اس معاملے
پر بحث کے لیے پورے ایوان کی ایک کمیٹی تشکیل دیں، چیف جسٹس کو بلا کر ان سے پوچھیں
کہ وہ ریکارڈ کیوں اور کس مقصد کے لیے مانگ رہے ہیں۔‘
اس
موقع پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے شاہد خاقان کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے اس مطالبے
کا اعادہ کیا کہ عدلیہ کے ماضی کے متنازع کردار کی پارلیمانی تحقیقات ہونی چاہیے۔
وفاقی
وزیر نے کہا کہ ’جب سے جسٹس منیر نے آئینی خلاف ورزیوں کو قانونی تحفظ فراہم کیا،
کمیٹی کو اس وقت سے اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی تحقیقات کا کام سونپا جانا چاہیے۔‘
اجلاس
کے دوران پی ٹی آئی کے منحرف رہنما اور قائد حزب اختلاف راجا ریاض نے بھی سپیکر
اسمبلی سے کہا کہ وہ چیف جسٹس کو کسی قسم کا پارلیمانی ریکارڈ فراہم نہ کریں۔
تاہم
گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے غوث بخش مہر نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی عدلیہ کے خلاف
جاری ہنگامہ آرائی کا حصہ نہیں ہے۔
بعدازاں
سپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے ڈان نیوز کے پروگرام ’لائیو ود عادل شاہزیب‘ میں گفتگو کرتے
ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی نااہلی ملک کو ایسے غیر متوقع صورت حال کی جانب دھکیل دے
گی جہاں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
انھوں نے پروگرام میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’اگر سپریم
کورٹ آف پاکستان نے وزیر اعظم شہباز شریف کو نااہل قرار دیا تو نتائج اور پارلیمنٹ
کے ردعمل سے سب کو ڈرنا چاہیے۔‘
میزبان کے اس سوال پر کہ کیا مارشل لا لگایا جا سکتا ہے؟ سپیکر
قومی اسمبلی نے کہا کہ ملک کو جس انتشار کی جانب دھکیلا جائے گا، مارشل لا بھی اسے
قابو نہیں کر سکے گا، ہمیں اس طرف جانے سے گریز کرنا ہوگا کیونکہ آگے بہت گہری
کھائی ہے۔
راجا پرویز اشرف نے سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق قومی
اسمبلی کی کارروائی کا ریکارڈ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم اپنی کارروائی
کا ریکارڈ سپریم کورٹ کو فراہم کریں تو پھر پارلیمنٹ کی بالادستی کیسے برقرار رہ
سکتی ہے۔
انھوں نے کہا پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دو ریاستی
اداروں یعنی پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے درمیان محاذ آرائی افسوس ناک
ہے اور سمجھتا ہوں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے قانون سازی
کے عمل میں براہ راست مداخلت کر رہی ہے، جو بل ابھی قانون بنا بھی نہیں اس پر
عدالت کیسے کوئی حکم دے سکتی ہے، اگر اعلیٰ عدلیہ یہی چاہتی ہے تو وہ آگے بڑھیں
اور آئین میں ترمیم کرے۔