عدالت عظمیٰ نے عدالتی اصلاحات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ رولز اینڈ پروسیجر بل پر ہونے والی پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ طلب کیا ہے جبکہ اٹارنی جنرل کی جانب سے حکم امتناع واپس لینے کی استدعا مسترد کی گئی ہے۔
کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’سپریم کورٹ کے ججز کا فیصلہ عدالت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ہر ادارہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کا پابند ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ ’سات سینیئر ججز اور فل کورٹ بنانا چیف جسٹس کا اختیار ہے۔‘
عدالتی اصلاحات کے معاملے پر سپریم کورٹ نے تمام فریقین سے تحریری جواب مانگا ہے اور سماعت 8 مئی تک ملتوی کی ہے۔
سیاسی فریقین انصاف نہیں فائدے چاہتے ہیں: چیف جسٹس
سماعت کے آغاز پر درخواست گزار طارق رحیم نے دلائل دیے کہ عدالتی اصلاحات بل قانون کا حصہ بن چکا ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’گذشتہ حکمنامہ عبوری نوعیت کا تھا۔ جمہوریت آئین کے اہم خد و خال میں سے ہے۔ ‘
’آزاد عدلیہ اور وفاق بھی آئین کے اہم خد و خال میں سے ہیں۔ دیکھنا ہے کہ عدلیہ کا جزو تبدیل ہوسکتا ہے؟ عدلیہ کی آزادی بنیادی حق ہے۔ عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے یہ مقدمہ منفرد نوعیت کا ہے۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’مقدمے پر فریقین سے سنجیدہ بحث کی توقع ہے۔ لارجر بینج کو بہترین معاونت فراہم کرنی ہو گی۔‘
سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحات کے معاملے پر تمام فریقین سے تحریری جواب مانگ لیا ہے۔ جبکہ سپریم کورٹ رولز اینڈ پروسیجر بل پر پارلیمانی کاررواٸی کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں عدالت نے قاٸمہ کمیٹی میں ہونے والی بحث کا ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’الزام ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ آئین کے بنیادی جزو کی قانون سازی کے ذریعے خلاف ورزی کی گئی۔‘
سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں اور وکلا تنظیموں سے 8 مئی تک جواب طلب کیا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’پاکستان بار نے ہمیشہ آئین اور عدلیہ کے لیے لڑائی لڑی ہے۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پاکستان میں سیاست نے تمام عدالتی کارروائی کو آلودہ کر دیا ہے کہ سیاسی فریقین انصاف نہیں فائدے چاہتے ہیں۔
انھوں نے ریمارکس دیے کہ سیاسی لوگ انصاف نہیں من پسند فیصلے چاہتے ہیں اور سیاسی جماعتیں من پسند فیصلوں کے لیے ’پِک اینڈ چوز‘ چاہتی ہیں۔
’بینچ کی تعداد کم بھی کی جا سکتی ہے‘
سینیئر ججز سے متعلق بار کونسل کے دلائل پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’یہاں پر جتنے بھی ججز ہیں، ان کی اپنی سوچ ہے اور کسی طور پر بھی ان کی سوچ پر اس بنیاد پر قدغن نہیں لگائی جاسکتی ہے کہ وہ درخواست گزار کے خلاف فیصلہ دیں گے۔‘
پاکستان بار کونسل کی جانب سے حسن رضا پاشا نے دلائل میں کہا ’آپ شاید غصہ کر گئے، ہم چاہتے ہیں کہ آئینی معاملے میں روایت یہی رہی ہے کہ سپریم کورٹ کے سینیئر ججز کو بٹھایا جاتا ہے کیونکہ ان کی سوچ جونیئر ججز سے بہتر ہوتی ہے۔‘
چیف جسٹس نے جواباً ریمارکس دیے کہ ’بینچوں کی تشکیل کا اختیار چیف جسٹس کے پاس ہے۔‘
حسن رضا پاشا نے مطالبہ کیا ہے کہ چاروں صوبوں کی بار کونسلز کو بھی فریق بنایا جائے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’یہ پہلا قانون منظور ہوا ہے جس پر سپریم کورٹ پر تحفظات ظاہر کیے گئے۔ یہ پہلی دفعہ ہے کہ مقننہ نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔ آئین میں سپریم کورٹ سے متعلق قانون سازی کے حوالے سے حدود و قیود موجود ہیں، ہم نے انھیں بھی دیکھنا ہے۔‘
حسن رضا پاشا نے کہا کہ ’مناسب ہوگا اگر اس مقدمے میں فل کورٹ تشکیل دیا جائے، پاکستان بار کونسل بینچ میں سات سینیئر ترین ججز شامل ہوں تو کوئی اعتراض نہیں کرسکے گا، بینچ کے ایک رکن کے خلاف چھ ریفرنس دائر کیے ہوئے ہیں۔‘ بار کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو بینچ سے الگ کرنے کی استدعا کی ہے۔
دریں اثنا عدالت نے اٹارنی جنرل کی حکم امتناع واپس لینے کی استدعا مسترد کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’پہلے سمجھا تو دیں کہ قانون کیا ہے اور کیوں بنا؟‘
اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’عدالت بینچ بڑھانے پر غور کرے‘ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’بینچ کی تعداد کم بھی کی جا سکتی ہے۔‘ فل کورٹ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو آئندہ سماعت پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے سماعت پیر تک ملتوی کر دی ہے۔