عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف عدت میں نکاح کا کیس جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی درخواست منظور کر لی گئی ہے۔
جس کے بعد اب سے کچھ دیر قبل عمران خان اور بشری بی بی کے نکاح خواں مفتی محمد سعید اپنا بیان قلمبند کروانے اپنے وکیل راجہ رضوان عباسی کے ساتھ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں سینئر سول جج نصرمِن اللہ کی عدالت پہنچے تھے۔
نکاح خواں مفتی محمد سعید احمد نے عدالت میں بیان دیا کہ ’میری 62 سال عمرہے، مدرسے میں پرنسپل ہوں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’میرے عمران خان سے اچھے تعلقات تھے، ان کی کور کمیٹی کا ممبر تھا اور یکم جنوری 2018 کو عمران خان نے مجھ سے کال پر رابطہ کیا۔‘
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ’عمران خان نے مجھ سے کہا میرا نکاح بشریٰ بی بی سے پڑھوا دو اور یہ بھی بتایا کہ نکاح کے لیے لاہور جانا ہے۔‘
مفتی محمد سعید خان کا کہنا تھا کہ عمران خان مجھے اپنے ساتھ لاہور کے علاقے ڈیفینس کی کوٹھی میں لے گئے جہاں بشریٰ بی بی کے ساتھ ایک خاتون نے خود کو بشریٰ بی بی کی بہن ظاہر کیا۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ’خاتون سے میں نے پوچھا کہ کیا بشریٰ بی بی کا نکاح شرعی طور پر ہوسکتا ہے؟ جس پر خاتون نے بتایا کہ بشریٰ بی بی کے نکاح کی تمام شرعی شرائط مکمل ہیں اور خاتون نے بتایا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کا نکاح پڑھایا جا سکتا ہے۔‘
مفتی محمد سعید خان کا کہنا تھا کہ ’یکم جنوری 2018 کو خاتون کی یقین دہانی پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کا نکاح پڑھا دیا اور نکاح کے بعد عمران خان اور بشریٰ بی بی اسلام آباد میں ساتھ رہنے لگے۔‘
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ’عمران خان نے مجھ سے فروری 2018 کو دوبارہ رابطہ کیا اور عمران خان نے درخواست کی کہ بشریٰ بی بی سے دوبارہ نکاح پڑھانا ہے۔‘ مفتی محمد سعید خان نے عدالت کو بتایا کہ ’عمران خان نے کہا کہ پہلے نکاح کے وقت بشریٰ بی بی کا عدت کا دورانیہ مکمل نہیں ہوا تھا۔‘
انھوں نے بیان دیا کہ ’عمران خان نے کہا کہ نومبر 2017 میں بشریٰ بی بی کو طلاق ہوئی تھی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’عمران خان نے مجھے بتایا کہ بشریٰ بی بی سے نکاح کرنے پر پیشگوئی تھی کہ وہ وزیراعظم بن جائیں گے۔‘
مفتی محمد سعید نے بیان دیا کہ ’عمران خان نے بتایا کہ پہلا نکاح غیرشرعی تھا۔‘ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ’عمران خان اور بشریٰ بی بی نے سب جانتے ہوئے بھی نکاح اور شادی کی تقریب منقعد کی۔‘
مفتی محمد سعید خان نے بیان دیا کہ ’رمضان المبارک کا چوتھا دن تھا، تراویح کے بعد درخواست گزار محمد حنیف میرے پاس آئے۔ درخواست گزار محمد حنیف سے میرے تعلقات دوستانہ ہیں اور انھوں نے مجھ سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی شادی کے حوالے سے پوچھا۔‘
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے درخواست گزار کو تمام تفصیلات بتا دیں۔
انھوں نے بیان دیا کہ ’اگر قانونی اور شرعی لحاظ سےدیکھا جائے تو یکم جنوری 2018 کا نکاح غیر شرعی اور غیر قانونی تھا۔‘
یاد رہے یہ درخواست پہلے 28 اپریل کو سماعت کے لیے مقرر تھی۔ درخواست گزار نے عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف کیس کی جلد سماعت کرنے کی استدعا کی تھی، جسے منظور کرتے ہوئے آج ہی سماعت ہوئی۔
مفتی محمد سعید کا بیان قلمبند کرنے کے بعد عدالت نے اس درخواست کی سماعت 19 اپریل تک ملتوی کر دی ہے۔
مفتی سعید کے وکیل راجہ رضوان عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرواتے وقت ان کے موکل نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان نے انھیں کہا تھا کہ بشری بی بی نے نکاح کرنے کے بارے میں پیش گوئی کی تھی کہ اگر سنہ 2018کے پہلے دن نکاح ہونے کی صورت میں وہ پاکستان کے وزیر اعظم بن جائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ عدالت میں بیا ن ریکارڈ کرواتے وقت مفتی سعید نے یہ بھی کہا کہ عمران خان نے فروری سنہ 2018میں دوبارہ رابطہ کیا اور انھیں بتایا تھا کہ پہلے نکاح کے وقت بشری بی بی کی عدت کا دورانیہ مکمل نہیں ہوا تھا۔
انھوں نے کہا جس وقت مفتی سعید نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا اس وقت پی ٹی آئی یا عمران خان کا کوئی وکیل کا نمائندہ عدالت میں موجود نہیں تھا۔