عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹیلنا جارجیوا کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ پاکستان اپنا موجودہ پروگرام کامیابی سے مکمل کر لے گا اور اسے معاشی بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
کرسٹالینا جارجیوا نے جمعرات کو واشنگٹن میں ایک نیوز بریفنگ میں کہا کہ پاکستان نے جن معاملات پر اتفاق رائے کیا ہے ان پر عمل درآمد سے پروگرام مکمل کیا جا سکتا ہیں اور ہمیں امید ہے کہ یہ ہم سب کی خیرسگالی سے ممکن ہو پائے گا۔
پاکستانی معیشت پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں جارجیوا کا کہنا تھا کہ 2011 میں مجھے دیکھنے کا موقع ملا کہ پاکستان کے لوگوں کے لیے موسمیاتی تبدیلی کا کیا مطلب ہے اور میں جانتی ہوں کہ گذشتہ سال کا سیلاب اس سے کہیں زیادہ تباہ کن رہا ہے جس کا میں نے 2011 میں مشاہدہ کیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان فرنٹ لائن پر رہے گا۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں زراعت کے مستقبل کے حوالے سے مزاحمتی انداز میں سوچنا ہو گا۔
2109 پیکج کی بحالی کے لیے آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں جارجیوا کا کہنا تھا کہ ’موجودہ پروگرام کے تناظر میں ہم پاکستان میں حکام کے ساتھ بہت محنت کر رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پاکستان کے پاس ضروری پالیسی فریم ورک موجود ہے اور اس صورتحال سے بچا جا سکے جس کے بارے میں آپ پوچھ رہے ہیں۔‘
رپورٹر نے اپنے سوال میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے قرضوں کے تناظر میں معاشی بحران اور غیر یقینی جانب اشارہ کیا تھا۔
تاہم جارجیوا کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف اورکستان کے درمیان بات چیت کا مقصد اس صورتحال تک پہنچنے سے بچنا ہے جہاں ملک غیر مستحکم ہو جائے۔ ہم ابھی تک وہاں نہیں پہنچے اور وہاں نہ جانا ہی بہتر ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام اس بات پر بھی تبادلہ خیال کر رہے تھے کہ پاکستان کو مالی یقین دہانیوں کی فراہمی کے حوالے سے کس طرح مدد کی جائے تاکہ ہم اس پروگرام کو مکمل کر سکیں۔
یاد رہے کہ فروری کے اوائل سے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ معاہدہ بحال ہونے کی صورت میں آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر قرضے کی قسط جاری ہو سکے گی۔