آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پارلیمان پر قدغن لگانی ہے تو آئین سازی بھی سپریم کورٹ ہی کر لے: راجہ پرویز اشرف

سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سیاسی معاملات خود طے کیے جانے چاہیے کیونکہ اگر آپ عدالتوں میں جائیں گے تو اس سے عدلیہ کا نقصان ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ سیاست میں تقسیم ضروری ہے لیکن سپریم کورٹ میں تقسیم خطرناک ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, سپریم کورٹ میں اِن چیمبر سماعت شروع: وفاقی حکومت بےبس ہے، پارلیمان نے فنڈز جاری کرنے کا اختیار ہی نہیں دیا، اٹارنی جنرل

    پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کے لیے فنڈز کی عدم فراہمی کے معاملے پر سپریم کورٹ میں اِن چیمبر سماعت شروع ہو گئی ہے۔

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال ان چیمبر سماعت کر رہے ہیں جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی سماعت میں موجود ہیں۔

    وزارت خزانہ کے حکام، اٹارنی جنرل، وزارت خزانہ کے حکام چیف جسٹس کے چیمبر میں پیش ہوئے ہیں۔

    یاد رہے چیف جسٹس نے تمام افسران کو انتخابات اور فنڈز سے متعلق ریکارڈ سمیت پیش ہونے کے احکامات دیے تھے۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت انتخابات کے لیے فنڈز کے اجرا میں بے بس ہے۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ نے حکومت کو فنڈز جاری کرنے کا اختیار ہی نہیں دیا۔

  2. بریکنگ, متحدہ عرب امارات نے آئی ایم ایف کو پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر دینے کی تصدیق کر دی: اسحاق ڈار

    پاکستان کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے حکام نے آئی ایم ایف کو پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر دینے کی تصدیق کر دی ہے۔

    انھوں نے آئی ایم ایف پروگرام کی نویں جائزہ رپورٹ کے حوالے سے ٹویٹ کیا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان اب متحدہ عرب امارات کے حکام سے مذکورہ ڈپازٹ لینے کے لیے ضروری دستاویزات مکمل کرنے کے عمل میں مصروف ہے۔

  3. عدالت ہر معاملے کا سوموٹو نوٹس لیتی ہے، لیکن جو کچھ عدالتوں میں ہورہا ہے کوئی اس کا سوموٹو کیوں نہیں لیتا؟ شاہد خاقان عباسی

    مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ عدالت ہر معاملے کا سوموٹو نوٹس لیتی ہے، لیکن جو کچھ عدالتوں میں ہورہا ہے کوئی اس کا سوموٹو کیوں نہیں لیتا؟

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے نظام میں خرابیاں ہیں اور آج عدالت کا نظام ایسا ہے کہ ہر بات پر سوموٹو نوٹس لیتا ہے۔ شادی گھروں کا بھی سوموٹو لیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ لوگ سالوں سے عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں، کیا یہاں انصاف نہیں ہونا چاہیے۔ کیا انصاف کی تاخیر ناانصافی نہیں ؟ عدالتیں ہر بات کا سوموٹو لیتی ہیں سوائے اس ملک میں انصاف کے نظام کے۔

    ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سے توقع ہے وہ اپنی ذمہ داری آئین اور قانون کے مطابق پوری کریں گے۔

    ملک کے حالات مشکل ہیں، انھیں سنبھالنے کی ضرورت ہے اور انتشار کی کیفیت ہو گی تو اس کا اثر ملک پر پڑے گا۔

  4. پنجاب اور خیبر پختونخوا انتخابات کے لیے فنڈز کی فراہمی: گورنر سٹیٹ بینک اور سیکرٹری خزانہ آج چیف جسٹس کے چیمبر میں پیش ہوں گے

    گورنر اسٹیٹ بینک، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری الیکشن کمیشن اور الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل لا محمد ارشد آج چیف جسٹس کے چیمبر میں پیش ہوں گے۔

    عدالت نے سٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کے سیکنڈ سینیئر ترین افسران کو بھی طلب کیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق سیکرٹری خزانہ یعقوب حامد امریکہ کے دورے پر ہیں۔

    یاد رہے چیف جسٹس نے تمام افسران کو انتخابات اور فنڈز سے متعلق ریکارڈ سمیت پیش ہونے کے احکامات دیے تھے۔

    تمام فریقین کو اپنی رپورٹس چیف جسٹس چیمبر میں پیش کرنےکا حکم دیا گیا تھا۔

  5. ’پاکستان ابھی اس صورتحال تک نہیں پہنچا اور نہ پہنچنا ہی بہتر ہے‘ ڈیفالٹ سے متعلق سوال پر آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کا جواب

    عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹیلنا جارجیوا کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ پاکستان اپنا موجودہ پروگرام کامیابی سے مکمل کر لے گا اور اسے معاشی بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

    کرسٹالینا جارجیوا نے جمعرات کو واشنگٹن میں ایک نیوز بریفنگ میں کہا کہ پاکستان نے جن معاملات پر اتفاق رائے کیا ہے ان پر عمل درآمد سے پروگرام مکمل کیا جا سکتا ہیں اور ہمیں امید ہے کہ یہ ہم سب کی خیرسگالی سے ممکن ہو پائے گا۔

    پاکستانی معیشت پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں جارجیوا کا کہنا تھا کہ 2011 میں مجھے دیکھنے کا موقع ملا کہ پاکستان کے لوگوں کے لیے موسمیاتی تبدیلی کا کیا مطلب ہے اور میں جانتی ہوں کہ گذشتہ سال کا سیلاب اس سے کہیں زیادہ تباہ کن رہا ہے جس کا میں نے 2011 میں مشاہدہ کیا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان فرنٹ لائن پر رہے گا۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں زراعت کے مستقبل کے حوالے سے مزاحمتی انداز میں سوچنا ہو گا۔

    2109 پیکج کی بحالی کے لیے آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں جارجیوا کا کہنا تھا کہ ’موجودہ پروگرام کے تناظر میں ہم پاکستان میں حکام کے ساتھ بہت محنت کر رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پاکستان کے پاس ضروری پالیسی فریم ورک موجود ہے اور اس صورتحال سے بچا جا سکے جس کے بارے میں آپ پوچھ رہے ہیں۔‘

    رپورٹر نے اپنے سوال میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے قرضوں کے تناظر میں معاشی بحران اور غیر یقینی جانب اشارہ کیا تھا۔

    تاہم جارجیوا کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف اورکستان کے درمیان بات چیت کا مقصد اس صورتحال تک پہنچنے سے بچنا ہے جہاں ملک غیر مستحکم ہو جائے۔ ہم ابھی تک وہاں نہیں پہنچے اور وہاں نہ جانا ہی بہتر ہے۔‘

    انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام اس بات پر بھی تبادلہ خیال کر رہے تھے کہ پاکستان کو مالی یقین دہانیوں کی فراہمی کے حوالے سے کس طرح مدد کی جائے تاکہ ہم اس پروگرام کو مکمل کر سکیں۔

    یاد رہے کہ فروری کے اوائل سے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ معاہدہ بحال ہونے کی صورت میں آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر قرضے کی قسط جاری ہو سکے گی۔

  6. قومی سلامتی پر قومی اسمبلی کا ان کیمرہ اجلاس آج ہو گا، عسکری حکام سکیورٹی صورت حال پر بریفنگ دیں گے

    پاکستان کی قومی اسمبلی کا ان کیمرہ اجلاس جمعے کے دن ڈھائی بجے منعقد ہونے جا رہا ہے جس میں عسکری حکام ملک کی سکیورٹی صورت حال پر بریفنگ دیں گے۔

    واضح رہے کہ یہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی کی صدارت میں ہو گا جس میں وفاقی وزرا سمیت تمام قومی اسمبلی ممبران کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

    ریڈیو پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق عسکری حکام اس اجلاس کو موجودہ سکیورٹی صورت حال پر بریفنگ دیں گے۔

    وفاقی سیکرٹری برائے داخلہ، خارجہ امور، خزانہ، دفاع اور اطلاعات کے علاوہ چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس بھی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

  7. ’یہ فیصلہ نہیں، ون مین شو ہے‘ حکومت نے سپریم کورٹ کا حکم مسترد کر دیا

    حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں نے ایک مشترکہ اعلامیے میں عدالتی اصلاحات کے بل پر تا حکم ثانی عمل روکنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کیا ہے۔

    اس مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’حکمران جماعتوں نے سپریم کورٹ کے سپریم کورٹ پروسیجر اینڈ پریکٹس بل پر تاحکم ثانی عمل روکنے کا حکم مسترد کیا۔

    ’یہ عہد کرتے ہیں کہ عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ اور اس کے آئینی اختیار کا تحفظ اور دفاع کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ نہیں، ون میں شو کا شاخسانہ ہے۔‘

    حکومتی جماعت مسلم لیگ ن نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’ون مین شو اِز ریجیکٹڈ۔‘

    ایک دوسرے ٹویٹ میں لکھا گیا کہ ’پارلیمنٹ ڈکٹیشن نہیں لے گی۔‘

    ’حکمران جماعتیں بھرپور مزاحمت کریں گی‘

    اس مشترکہ بیان میں آٹھ رکنی بینچ کے فیصلے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ قانون ابھی بنا بھی نہیں، نافذ بھی نہیں ہوا لیکن ایک متنازعہ اور یک طرفہ بینچ بنا کر اس کو جنم لینے سے ہی روک دیا گیا ہے۔

    ’محض ایک اندازے اور تصور کی بنیاد پر یہ کام کیا گیا جو نہ صرف مروجہ قانونی طریقہ کار ہی نہیں منطق کے بھی خلاف ہے۔ یہ مفادات کے ٹکراؤ کی کھلی اور سنگین ترین مثال ہے۔ یہ عدل وانصاف اور سپریم کورٹ کی ساکھ کا قتل ہے۔‘

    حکمران جماعتیں ’اس عدالتی ناانصافی کو نامنظور کرتے ہوئے اس کی بھرپور مزاحمت کریں گی۔‘

    بیان کے تحت ’حکمران جماعتیں نظام عدل میں عدل لانے کے لیے حکمت عملی تیار کریں گی اور مشاورت سے مستقبل کا لائحہ عمل مرتب کریں گی تاکہ ملک و قوم کو بحران سے نجات دلائی جائے اور قومی مفادات کا تحفظ یقینی ہو جن میں اولین معاشی بحالی ہے۔‘

    ’یہ عہد کرتے ہیں کہ عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ اور اس کے آئینی اختیار کا تحفظ اور دفاع کیا جائے گا۔‘

  8. خبیر پختونخوا میں ضمنی انتخابات کا شیڈول معطل

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خبیر پختونخوا میں ضمنی انتخابات کا شیڈول معطل کر دیا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق خبیر پختونخوا میں ضمنی انتخابات کا شیڈول پشاور ہائیکورٹ کے آرڈرز تک معطل رہے گا۔ خبیر پختونخوا کے تین حلقوں میں ضمنی انتخابات 30 اپریل کو ہونا تھے۔

    واضح رہے کہ این اے 22 مردان، 24 چارسدہ اور 31 پشاور پر 30 اپریل کو ضمنی انتخابات شیڈول تھے۔ تینوں نشستیں سابق وزیر اعظم عمران خان کے حلف نہ لینے کے باعث خالی ہوئی تھیں۔

  9. بریکنگ, ’مجوزہ قانون بظاہر عدلیہ کی آزادی میں مداخلت‘، سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحات بل پر تا حکم ثانی عمل روک دیا, شہزاد ملک، بی بی سی، اسلام آباد

    سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی لارجر بینج نے چیف جسٹس کے از خود نوٹس اور بینچوں کی تشکیل سے متعلق اختیارات سے جڑی اصلاحات کے بل پر عملدرآمد روک دیا ہے۔

    عدالت عظمی کے 8 رکنی لارجر بینچ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر آج کی عدالتی کارروائی کا حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت اٹارنی جنرل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کو نسل کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

    عبوری حکم میں کہا گیا ہے کہ عدالت کسی قانون کو معطل نہیں کر سکتی اور بادی النظر میں بل کے ذریعے عدلیہ کی آزادی میں مداخلت کی گئی۔

    ’بظاہر مجوزہ قانون سے عدلیہ کی آزادی میں مداخلت کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسجرل بل پر تا حکم ثانی کسی انداز سے عمل نہیں کیا جائے گا۔ جس لمحے مجوزہ قانون پر صدر مملکت دستخط کرے اس سے اگلے لمحے بل پر کسی انداز سے عمل نہیں کیا جا سکے گا۔‘

    حکم میں کہا گیا ہے کہ بینچ اس مجوزہ قانون کی متوقع منظوری سے پیدا ہونے والے ناتلافی خطرے کے پیش نظر عبوری اقدام ضروری سمجھتا ہے۔

    حکمنامے میں یہ سوال رکھا گیا ہے کہ ’کیا مقننہ کے پاس سپریم کورٹ کے قوانین میں رد و بدل کا اختیار ہے؟‘

    ’عدالت کی پریکٹس اور پروسیجر میں رد و بدل خواہ کتنا ہی ضروری ہو عدلیہ کی آزادی کو متاثر کرتا ہے۔ مجوزہ بل یا ایکٹ کو آئین کے مطابق ہونا چاہیے۔‘

    اس کے مطابق ’واضح ہونا ضروری ہے کہ پارلیمنٹ آرٹیکل 191 میں دیے گئے اختیارات میں رد و بدل کا اختیار رکھتی ہے یا نہیں۔ ‏سیاسی جماعتیں چاہیں تو اپنے وکلا کے ذریعے فریق بن سکتی ہیں۔ بل قانون کا حصہ بنتے ہی عدلیہ کی آزادی میں مداخلت شروع ہو جائے گی۔‘

    کیس کی سماعت 2 مئی تک ملتوی کی گئی ہے۔

  10. قومی اسمبلی کا سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی بینچ کو تحلیل کرنے کا مطالبہ

    قومی اسمبلی نے اس قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کیا ہے جس میں سپریم کورٹ رولز پر سماعت کرنے والے بینچ کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

    یہ قرارداد جمعرات کو رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ نے جمع کرائی جس میں کہا گیا ہے کہ آئین سازی پارلیمنٹ کا اختیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ درخواست عجلت میں سماعت کے لیے مقرر کرنے کی مذمت کرتا ہے اور آٹھ رکنی بینچ کو یکسر مسترد کرتا ہے۔۔۔ ایوان سمجھتا ہے کہ بل قانون بننے سے پہلے بینچ کی تشکیل غیر ضروری ہے اور اسے تحلیل کیا جائے۔‘

    اس قرارداد میں عدالت عظمیٰ کی جانب سے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کرنے کی مذمت کی گئی ہے۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ بینچ میں سینیئر ترین ججز کو شامل نہیں کیا گیا جبکہ سپریم کورٹ غیر منصفانہ فیصلے کر رہی ہے اور اس کی مداخلت کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

  11. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر: نئے وزیر اعظم کے انتخاب کا شیڈول جمعے کو جاری ہونے کا امکان, ایم اے جرال، صحافی

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا اجلاس آغاز کے ساتھ پندرہ منٹ کے وقفے کے بعد کل دو بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

    خطے کی سپریم کورٹ کی جانب سے سردار تنویر الیاس کی سزا معطل کرنے کی درخواست خارج کرنے کے بعد اجلاس کی کارروائی کا آغاز جمعرات کے روز ہوا مگر کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے پندرہ منٹ وقفے کے بعد ڈپٹی سپیکر چوہدری ریاض احمد نے کل دن دو بجے تک ملتوی کر دیا۔

    وزیراعظم سردار تنویر الیاس کو توہین عدالت میں نااہل قرار دیے جانے کے بعد پہلا اجلاس آج ہوا۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے عبوری آئین کے آرٹیکل (2)17 اور قانون ساز اسمبلی کے قواعد انضباط کار قاعدہ 16 کے تحت فوری طور اس خطے کے وزیراعظم کا انتخاب کرنا ضروری ہے۔

    جمعے کے روز اسمبلی اجلاس یا اس سے قبل اس خطے کے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے شیڈول جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

    اسمبلی قاعدہ معطل کر کے بھی فوری طور پر وزیراعظم کا انتخاب کر سکتی ہے۔ وزیراعظم کے انتخاب کے لیے اوپن ووٹنگ ہوتی ہے۔ اراکین اسمبلی پریذائیڈنگ عملے کے پاس جا کر اپنا ووٹ درج کرواتے ہیں۔

    اسمبلی اجلاس جاری ہونے کی صورت میں 7 سے 14 دن میں وزیراعظم کے انتخاب کی قدغن نہیں ہے۔ آئین کے تحت اسمبلی اجلاس جاری ہونے کی صورت میں اسمبلی اسی اجلاس میں نئے وزیراعظم کا انتخاب عمل میں لائے گی۔

    سابق وزیراعظم سردار تنویرالیاس کی نااہلی کے وقت قانون ساز اسمبلی کا اجلاس جاری تھا۔

  12. ’الیکشن کمیشن پر حکومتی دباؤ نہیں‘ ترجمان کا صدر کے بیان پر اظہارِ افسوس

    ترجمان الیکشن کمیشن نے صدر مملکت عارف علوی کے ایک بیان پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے اس کی تردید کی ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’الیکشن کمیشن پر حکومت کا بہت دباؤ ہے اور الیکشن کمیشن حکومت کا پریشر لے رہا ہے۔‘

    ترجمان نے کہا ہے کہ ’کمیشن نے نہ ہی ماضی میں کسی حکومت کا دباؤ قبول کیا اور نہ ہی مستقبل میں کرے گا۔ البتہ صدر مملکت کے بھارتی الیکشن کمیشن کے حوالے سے دیے گئے بیان سے کمیشن مکمل اتفاق کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ بھارتی الیکشن کمیشن کی طرز پر پاکستان کے الیکشن کمیشن کو صاف اور شفاف الیکشن منعقد کرانے کے لیے مطلوبہ اختیارات حاصل ہوں۔‘

  13. سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر سترہ کروڑ ڈالر کی کمی کے بعد چار ارب ڈالر کی سطح پر آگئے, تنویر ملک، صحافی

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران سترہ کروڑ ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے جس کے بعد مجموعی زرمبادلہ ذخائر چار ارب ڈالر تک نیچے آگئے۔

    مرکزی بینک کے اعلامیے کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں کمی بیرونی قرضے کی ادائیگی کی وجہ سے ہوئی۔

    کمرشل بینکوں کے پاس 5.5 ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں جبکہ ملک کے پاس مجموعی طور پر زرمبادلہ ذخائر 9.5 ارب ڈالر ہیں۔

  14. بریکنگ, قومی اسمبلی نے انتخابی اخراجات کی فراہمی سے متعلق بل مسترد کر دیا

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن کے لیے فنڈز کی فراہمی کا بل مسترد کیا گیا ہے۔

    یہ بل وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پیش کیا تھا جسے ارکان نے کثرت رائے سے مسترد کیا۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے وفاقی حکومت کو یہ حکم دیا تھا کہ دونوں صوبوں میں انتخابی اخراجات کی مد میں الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے ادا کیے جائیں۔

  15. بریکنگ, سکیورٹی معاملات پر بریفنگ کے لیے قومی اسمبلی کا اِن کیمرا اجلاس کل طلب

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے ملک میں سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ کے لیے کل دوپہر ڈھائی بجے اِن کیمرا اجلاس طلب کیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق آرمی چیف سمیت دیگر فوجی قیادت کو دہشتگردی کے خلاف نئے آپریشن پر بریفنگ کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے آج قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ ’یقین دلاتا ہو وزیرستان کے ارکان کے (سکیورٹی صورتحال سے متعلق) خدشات کی شنوائی ہوگی اور سنجیدگی سے جواب دیا جائے گا۔‘

    ’کل قومی اسمبلی کے اجلاس کو ان کیمرا بریفنگ دی جائے گی اور اگر ارکان چاہیں گے تو سکیورٹی حکام سے سوالات کر سکیں گے۔ خرابی کو ٹھیک کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔‘

    خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ملک میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک نیا جامع آپریشن شروع کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ’کمیٹی نے دہشت گردی کی حالیہ لہر کو ٹی ٹی پی کے ساتھ نرم گوشہ اور عدم سوچ بچار پر مبنی پالیسی کا نتیجہ قرار دیا، جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کو بلا رکاوٹ واپس آنے کی نہ صرف اجازت دی گئی بلکہ ٹی ٹی پی کے خطرناک دہشت گردوں کو اعتماد سازی کے نام پر جیلوں سے رہا بھی کر دیا گیا۔‘

    ’واپس آنے والے اِن خطرناک دہشت گردوں اور افغانستان میں بڑی تعداد میں موجود مختلف دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے مدد ملنے کے نتیجے میں ملک میں امن واستحکام منتشر ہوا جو بے شمار قربانیوں اور مسلسل کاوشوں کا ثمر تھا۔‘

  16. بریکنگ, عدالتی اصلاحات بل پر سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی: ’جائزہ لینا ہے کہ کوئی آئینی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی،‘ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحات قانون کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’جائزہ لینا ہے کہ اس معاملہ میں آئینی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔‘

    آئندہ سماعت کے متعلق چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں ججز کے ساتھ مشاورت کریں گے اور کیس کو جلد دوبارہ مقرر کیا جائے گا۔

    چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ممکن ہے اس درخواست پر عدالتی معاون مقرر کریں۔

    سپریم کورٹ نے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کیے ہیں اور اٹارنی جنرل کو معاونت کی ہدایت بھی کی ہے۔

    سیاسی جماعتوں، وفاقی حکومت، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کو بھی معاونت کے لیے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدلیہ کی آزادی اہم معاملہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ کا بہت احترام ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم آ ج کی سماعت کا آرڈر بعد میں جاری کریں گے۔

    سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ حسبہ بل ریفرنس کی صورت میں آیا تھا اور حسبہ بل میں گورنر کو بل پر دستخط سے روکا گیا تھا۔

    درخواست گزار کے وکیل امتیاز صدیقی نے عدالت سے استدعا کی وزارت قانون کو فیصلے تک مجوزہ ایکٹ بطور قانون نوٹیفائی کرنے سے روکا جائے۔

  17. بریکنگ, کیا پارلیمینٹ عدلیہ کے اندرونی معاملے کو ریگولیٹ کرسکتی ہے؟ امتیاز صدیقی

    سپریم کورٹ میں عدالتی اصلاحات بل 2023 کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران درخواست گزار راجہ عامر کے وکیل امتیاز صدیقی کے دلائل جاری ہیں۔۔

    امتیاز صدیقی کا کہنا ہے کہ حسبہ بل کے کیس میں بھی سپریم کورٹ نے منظور شدہ بل کا جائزہ لیا، حسبہ بل کیس ناقابل سماعت ہونے کے اعتراضات سپریم کورٹ نے مسترد کیے اور سپریم کورٹ نے حسبہ بل کو غیر آئینی قرارد دیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ حسبہ بل صدارتی ریفرنس کی صورت میں سپریم کورٹ آیا تھا، موجودہ کیس آرٹیکل 184/3 کا ہے جس میں عدالت ذیادہ با اختیار ہے، آرٹیکل 184/3 میں سپریم کورٹ شادی ہال تک گرانے کا حکم دے چکی ہے، عدالت کے تمام احکامات بنیادی حقوق کے پیرائے میں تھے۔

    امتیاز صدیقی نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کیا عدلیہ کی آزادی عوام کا بنیادی حق نہیں ہے؟ مجوزہ قانون کے زریعے چیف جسٹس کے اختیارات کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ آئین 184/3 میں اپیل نہیں نظرثانی کا حق دیتا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا ایک جج دوسرے جج کے خلاف اپیل نہیں سن سکتا، کئی مرتبہ ہم وکلا بھی 184/3 کا شکار ہوئے ہیں۔ امتیاز صدیقی کا کہنا ہے کہ عام مقدمات میں نظرثانی کیس پانچ منٹ بھی نہیں چلتا، کچھ مقدمات میں نظر ثانی مقدمات کئی ماہ چلتے ہیں۔

    امتیاز صدیقی نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمینٹ عدلیہ کے اندرونی معاملے کو ریگولیٹ کرسکتی ہے؟

  18. قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا الیکشن کے لیے فنڈ دینےکا بل مسترد کر دیا

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن کے لیے فنڈ دینےکا بل مسترد کر دیا ہے۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس چیئرمین قیصر احمد شیخ کی زیر صدارت ہوا تھا۔ اجلاس میں قائمہ کمیٹی خزانہ نے منی بل اتفاق رائے سے مسترد کر دیا ہے۔

    وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے سخت پروگرام میں ہے اور ہمیں فنڈز کی قلت اور بھاری خسارے کا سامنا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس مختص بجٹ کے علاوہ اضافی فنڈ دستیاب نہیں ہیں، اضافی فنڈ فراہم کیے تو یہ آئی ایم ایف پروگرام سے تجاوز ہو گا اس لیے آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ خسارے تک محدود رہنا چاہتے ہیں۔

    سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ میں کل 21 ارب کی فنڈنگ پر جواب دینا ہے۔ الیکشن کیلئے بجٹ میں صرف پانچ ارب روپے جاری ہوئے۔‘

  19. بریکنگ, عدالت کا موجودہ کیس میں حکم زیر التوا قانون سازی میں مداخلت نہیں ہو گا، امتیاز صدیقی

    سپریم کورٹ میں عدالتی اصلاحات بل 2023 کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران درخواست گزار راجہ عامر کے وکیل امتیاز صدیقی کے دلائل جاری ہیں۔۔

    ان کا کہنا ہے کہ عدالت آئین کی محافظ اور انصاف کرنے کیلئے بااختیار ہے اور تمام ادارے سپریم کورٹ کے احکامات ماننے کے پابند ہیں۔

    امتیاز صدیقی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے رولز موجود ہیں جن میں پارلیمنٹ ترمیم نہیں کرسکتی۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کے مطابق عدلیہ کی آزادی بنیادی حق ہے جس کو آئین کا مکمل تحفظ حاصل ہے اور آپ کے مطابق پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو کی طرح عدلیہ کو بھی آئینی تحفظ حاصل ہے۔

    جس پر امتیاز صدیقی نے دلائل دیے کہ صدر ریاست پاکستان کی وحدانیت کی علامت ہے اور صدر کا عہدہ صرف رسمی نوعیت کا نہیں ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ صدر نے بل کا دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت کی، اسمبلی منظوری کے بعد بل میں ترمیم نہیں ہوسکتی، بل کی منظوری کے بعد قانون سازی کا عمل مکمل تصور ہوتا ہے۔

    امتیاز صدیقی کا کہنا ہے کہ عدالت کا موجودہ کیس میں حکم زیر التوا قانون سازی میں مداخلت نہیں ہو گا، ان کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ اپنا کام مکمل کرچکی اس لیے یہ مداخلت تصور نہیں ہو گی۔

  20. بریکنگ, وزیر اعظم شہباز شریف، مریم نواز، اسحاق ڈار اور راجہ پرویز اشرف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ میں وزیر اعظم شہباز شریف، مریم نواز اور اسحاق ڈار اور راجہ پرویز اشرف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی ہے۔

    درخواست ایڈوکیٹ مولوی اقبال حیدر نے دائر کی ہے اور درخواست میں سیکرٹری خزانہ کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف، مریم نواز اور اسحاق ڈار کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے۔

    درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف اور سیکرٹری خزانہ کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مذکورہ حکومت شخصیات نے سپریم کورٹ کے 4 اپریل کے حکم کی توہین کی۔

    مزید کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے نہ دے کر توہین عدالت کی گئی ہے۔