آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک نیا جامع آپریشن شروع کرنے کی منظوری

پاکستان کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ملک میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک نیا جامع آپریشن شروع کرنے کی منظوری دی ہے۔ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔

لائیو کوریج

  1. ’عدالت عظمیٰ کا وقار اور اتھارٹی برقرار اور بحال رہنی چاہیے لیکن چاہتے ہیں کہ بڑی عدالت چھوٹی عدالت کے دائرہ کار میں مداخلت نہ کرے‘ سعد رفیق

    مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ ہم انتشار اور خلفشار نہیں چاہتے۔ چاہتے ہیں کہ فل کورٹ بٹھائیں اور (بشمول 25 اراکین کی نا اہلی کے فیصلے کے) ساری چیزیں ان کے سامنے رکھ دیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’عدالت عظمیٰ کا وقار اور اتھارٹی برقرار اور بحال رہنی چاہیے لیکن یہ بھی چاہتے ہیں کہ بڑی عدالت چھوٹی عدالت کے دائرہ کار میں مداخلت نہ کرے۔‘

  2. ’پہلے بھی حق بات کہنے کی پاداش میں ڈسکوالیفکیشز بھگتی ہیں، اب بھی بھگت لیں گے‘ مریم نواز

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا کہنا ہے کہ ’پہلے بھی حق بات کہنے کی پاداش میں ڈسکوالیفکیشز بھگتی ہیں، اب بھی بھگت لیں گے۔ یاد رہے کہ اقامہ جیسے مذاق پر نواز شریف کی ڈسکوالیفیکیشن آج بھی برقرار ہے۔‘

    مریم نواز صحافی اجمل جامی کی ٹویٹ کا جواب دے رہی تھیں جن میں ان کا کہنا تھا کہ ’فیصلہ مسترد کرنے سے توہین عدالت کی جانب دانستہ جایا جا رہا ہے، نتیجے میں نیا بیانیہ تو شاید مل جائے مگر ڈسکوالیفیکشین بھی ہوسکتی ہے‘

  3. ’سپریم کورٹ کے فیصلے نے پاکستان کی سیاست اور وفاق پر پنجاب کی اجارہ داری کی مہر ثبت کر دی ہے‘ احسن اقبال

    پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور وفاقی وزیر احسن اقبال نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’سپریم کورٹ کے دوسری بار عجلتی فیصلے نے پاکستان کی سیاست اور وفاق پہ ہمشہ کے لیے پنجاب کی اجارہ داری کی مہر ثبت کر دی ہے۔‘

    انھوں نے ٹویٹ کیا کہ ’قومی انتخابات سے چھ ماہ قبل پنجاب جہاں پاکستان کی اکثریت آبادی ہے اس کی سیاسی حکومت کی موجودگی میں جب الیکش ہوں گے تو وہی جیتے گا جسے پنجاب چاہے گا۔باقی صوبے فارغ۔

    پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے انھیں جواب دیتے ہوئے کہا ’بات یہ ہے کہ یہ پاکستان کے آئین میں واضح ہے کہ اسمبلی ٹوٹے گی نوے دن میں الیکشن ہوں گے، اگر آپ پورے ملک میں الیکشن چاہتے ہیں قومی اسمبلی توڑیں پورے ملک میں الیکشن کرا لیں، آپ کا رونا دھونا پورے ملک میں انتخاب کے لیے نہیں آپ اس ملک پر نامزدگیوں کے ذریعے بیٹھے رہنا چاہتے ہیں۔‘

  4. ہم نے کبھی نہیں کہا اسٹیبلشمنٹ اپنا راستہ پکڑے مگر سول ملٹری تعلق میں توازن ہونا چاہیے: عمران خان

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی انتظامی نظام اس وقت کام نہیں کر سکتا جب ذمہ داری منتخب حکوت کی ہو مگر اختیار کہیں اور ہو۔

    ڈی ڈبلیو اردو کو دیے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’اسٹیبلشمنٹ پاکستان میں ایک حقیقت ہے۔ ستر سال سے جو ان کا کردار ہے، ہم نے کبھی نہیں کہا کہ اسٹیبلشمنٹ اپنا راستہ پکڑ لے۔ ایسے نہیں ہوگا۔ لیکن سول ملٹری تعلق میں توازن چاہیے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’منتخب حکومت کے پاس اگر اختیار نہیں اور وہ اختیار کہیں اور ہے تو کوئی انتظامی نظام کام نہیں کر سکتا۔‘

    انھوں نے کہا سیاسی جماعت بیچ کا راستہ ڈھونڈتی ہے مگر الیکشن کے ذریعے سیاسی استحکام کے بغیر معیشت سنبھل نہیں سکے گی۔

    ’انھیں الیکشن میں اپنی موت نظر آ رہی ہے۔۔۔ تحریک انصاف نے 30 ضمنی الیکشن جیتے، اس کے باوجود کہ اسٹیبلشمنٹ پوری طرح ان کی حمایت کر رہی تھی۔ الیکشن کمیشن غیر جانبدار نہیں تھی۔ انھیں پنجاب میں ہار کا ڈر ہے۔‘

    چیئرمین تحریک انصاف نے کہا ’مارشل لا کی دھمکیاں غیر آئینی ہیں۔ پاکستان میں مارشل لا کے دن چلے گئے ہیں۔ آگے ہی ہمارے حالات بُرے ہیں۔ اگر آپ سپریم کورٹ کے فیصلے تسلیم نہیں کرتے تو اس کا مطلب پاکستان میں قانون ختم ہوگیا۔ جنگل کے قانون کی طرف جا رہے ہیں، یہ ہو ہی نہیں سکتا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو ٹھیک کرنے کے لیے سرجری کرنی پڑے گی، بڑے فیصلے کرنے ہوں گے جس کے لیے بڑا مینڈیٹ چاہیے جو الیکشن سے آئے گا۔

    ’میں نے ان سے کہا ہے اگر آپ مجھے دلدل سے نکلنے کا روڈ میپ دے دیں، ہم (اکتوبر میں) الیکشن کا انتظار کر لیں گے۔ اگر یہ وجہ دینی ہے کہ الیکشن کروانے کے پیسے نہیں تو اکتوبر میں کدھر سے پیسے آئیں گے۔ آپ اکتوبر میں کہیں گے تب بھی پیسے نہیں ہیں۔‘

  5. ’جسٹس فائز کے احکامات کا ازخود نوٹس کیسز پر اطلاق نہیں ہوتا‘ حافظ قرآن کو اضافی نمبر دینے کا ازخود نوٹس کیس نمٹا دیا گیا

    سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے حفاظ کرام کو میڈیکل داخلے میں اضافی 20 نمبر دینے سے متعلق از خود نوٹس کے مقدمے کو نمٹاتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، ازخود نوٹس غیر مؤثر ہونے پر نمٹا دیا جاتا ہے۔

    حافظ قرآن کو 20 اضافی نمبرز دینے پر ازخود نوٹس پر سپریم کورٹ کا تحریری حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔

    تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں چھ رکنی بنچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔

    تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ میڈیکل کے طلباء کو 20 اضافی نمبرز کے کیس میں بنچز کی تشکیل پر حکم جاری کر کے ازخود کارروائی کا اختیار استعمال کیا گیا، سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس کا اختیار استعمال کرکے پانچ رکنی بنچ کے حکم کی خلاف ورزی کی۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ازخود نوٹس کی کارروائی کا اختیار صرف چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس ہے۔

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ کی طرف سے جاری سرکلر میں درست وضاحت کی گئی تھی، سرکلر کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے احکامات کا ازخود نوٹس کیسز پر اطلاق نہیں ہوتا۔

    سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین کے چیف جسٹس کے از خود نوٹس اور بینچ کی تشکیل کے اختیارات سے متعلق فیصلے پر لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔

    یاد رہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے حافظ قرآن کو اضافی نمبر دینے کے کیس میں بینچ بنانے پر اعتراض کیا تھا اور تمام ازخود نوٹسز پر کارروائی روکنےکا فیصلہ دیا تھا۔

    سماعت کے دوران پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے وکیل افنان کنڈی نے کہا کہ 20 اضافی نمبر 2018 تک رولز کے تحت دیے جاتے تھے جبکہ 2021 میں نئے رولز بنے اور اضافی نمبر ختم ہوگئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ 20 اضافی نمبروں ختم ہوچکا ہے جس کے خلاف پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے پٹیشن لی تھی اور از خود نوٹس لیا گیا تھا۔

  6. ملک کا چیف جسٹس، وزیر اعظم، وزیر داخلہ، الیکشن کمیشن اور پارلیمنٹ کیسے بن سکتا ہے: نواز شریف

    مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہیں ون مین شو ہے۔ ان ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنا چاہیے۔

    لندن سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ سے عدلیہ کے فیصلے متنازع رہے ہیں۔

    انھوں نے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان، ملک کا وزیر اعظم، وزیر داخلہ، الیکشن کمیشن حتیٰ کہ پارلیمنٹ بن جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری فل کورٹ کی استدعا کو کیوں رد کیا، اور تین رکنی بینچ پر ہی اصرار کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ادارہ جب ایک کرپٹ جج کا تحفظ کرے گا تو ادارے کی ساکھ نہیں رہے گی۔

    عدلیہ نے ہمیشہ آمروں کے لیے نظریہ ضرورت ایجاد کیا جاتا ہے اور ہم جیسے وزرا اعظم کو ایک دھکا اور دیا جاتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آمروں کو عدالتیں گلے لگاتی ہے۔ مجھے عدالت کی جانب سے سیسلین مافیا اور گاڈ فادر کہا گیا۔ دوہرے معیار کی سمجھ نہیں آ رہی۔ آئین توڑنے والوں کو آئین سے کھلواڑ کی اجازت دی جاتی ہے۔

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت کی رٹ ختم کر دی گئی ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم ملک میں حکومت کیسے چلی گی۔ پارلیمنٹ سب سے بالا ادارہ ہے اور اس میں کی جانے والی قانونی سازی کی بھی کوئی اہمیت نہیں سمجھی جا رہی۔ ایک ہفتہ قبل پارلیمنٹ نے ایک قانون پاس کیا اور اس کی بھی پرواہ نہیں کی گئی۔

    جو کچھ پاکستان میں ہو رہا ہے وہ دنیا اور جنوبی ایشیا کے کسی ملک میں نہیں ہوا۔ ہم 70 سالوں سے یہ تماشا دیکھ رہے ہیں کہ آمروں کو گلے لگایا جاتا ہے اور منتخب وزرا اعظم کو نکال باہر دیا جاتا ہے۔

    مجھے ایک جج نے ایک مقدمے میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انھیں پتا ہونا چاہیے کہ اڈیالہ جیل میں بہت جگہ ہے۔

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن نے میرے خلاف فیصلے دیے ہوئے ہیں۔ پورا ملک جانتا ہے کہ میرے خلاف غلط فیصلہ دیا گیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر اس طرح کے فیصلے آئے گے تو ڈالر پانچ سو کا ہو جائے گا، دالیں سبزیاں بھی قوت خرید سے باہر ہو جائیں گی۔

    ایسے حربوں سے یہ نواز شریف کو سزا دینا چاہتے ہیں مگر اصل میں سزا پاکستان کی عوام کو مل رہی ہے۔

  7. چار اپریل کو ذوالفقار بھٹو کا عدالتی قتل ہوا اور آج ہی عدل و انصاف کا قتل ہوا: شہباز شریف

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ کی ستم ظریقی ہے کہ چار اپریل کو ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا اور آج ایک مرتبہ پھر چار اپریل کو ہی عدل و انصاف کا قتل ہوا۔

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج کابینہ میں فیصلہ ہوا کہ ذوالفقار علی بھٹو شہید کے عدالت قتل کا جو ریفرنس 12 سال سے پڑا ہے، اس پر عمل ہونا چاہیے اور اس حوالے سے فل کورٹ بیٹھے اور فیصلہ کرے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا سمجھتی ہے کہ یہ 1973 کے متفقہ آئین کے خالق ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینا ایک عدالتی قتل تھا، اگر میں غط نہیں تو فیصلہ کرنے والے ایک جج نے بھی بعد میں اپنی یادداشت میں اس بارے میں اعتراف کیا تھا۔

    انھوں نے کہا آج ہی کے دن الیکشن کے حوالے سے جو پچھلے 72 گھنٹوں میں کارروائیاں ہوئیں، آج پھر ایک مرتبہ چار اپریل کو عدل و انصاف کا قتل ہوا۔

  8. یہ عدالتی فیصلہ پارلیمانی قرار داد سے متصادم ہے، آج انصاف کی صریحاً نفی ہوئی ہے: اعظم نذیر تارڑ

    پاکستان کے وفاقی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ یہ عدالتی فیصلہ پارلیمانی قرار داد سے متصادم ہے۔ آج انصاف کی صریحاً نفی ہوئی ہے۔

    اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ادارے اپنے آئینی دائرہ کار میں کام کریں۔

    اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ایک ضدی شخص کی انا کی تسکین کے لیے دو صوبائی اسمبلیاں توڑی گئیں۔ اسمبلیاں توڑنے کا مقصد ملک میں سیاسی انتشار اور تقسیم پیدا کرنا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ملک کے عدل کے سب سے برے ایوان میں دراڑ ہے اور اسے کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی اسمبلی میں گذشتہ ہفتے ایک قرار داد منظور کی کہ ملک میں انتخابات کو شفاف کرانے اور اس کے لیے ساز گار ماحول بنانے کے لیے یہ کہا گیا کہ ملک میں ایک ساتھ نگران سیٹ اپ کے تحت انتخابات کروائے جائیں۔

    اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ آپ کے عدل کے ایوان میں تقسیم ہے اور آپ اپنے ایوان کو اکٹھا کریں اور ہاتھ جوڑ کر استدعا کی کہ معاملے کو انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہم نے استدعا کی تھی کہ اس معاملے کو انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔‘

    اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آج سپریم کورٹ نے تمام جائز مطالبات کو رد کرتے ہوئے ایک اقلیتی فیصلہ صادر کیا کہ 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن کروایا جائے۔ تین رکنی بینچ نے انتخابی شیڈول بھی جاری کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر نہیں جانا چاہیے کہ کوئی ادارہ کسی کے لیے سہولت کاری کا کام کر رہا ہے۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ سیاسی جماعتوں کو فریق کیوں نہیں بنایا گیا۔ عجلت میں دیے گئے فیصلوں سے استحکام نہیں آتا۔

  9. وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ کے الیکشن سے متعلق فیصلے کو مسترد کر دیا

    وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ کے الیکشن سے متعلق فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔

    گذشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کا جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں سپریم کورٹ کے اقلیتی فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور کابینہ نے سپریم کورٹ کا فیصلہ قابل عمل نہ ہونے کی رائے دی ہے۔

  10. سپریم کورٹ کا فیصلہ کسی کے لیے ’پاکستان کی فتح‘ تو کسی کے لیے ’آئینی بحران سنگین‘ ہونے کا پیش خیمہ

    چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کے آٹھ اکتوبر کو انتخابات کروانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ پنجاب میں الیکشن 14 مئی کو کروائے جائیں۔

    سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے خیرمقدم کیا گیا تاہم وفاقی وزیر قانون نے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔ اس فیصلے پر مختلف حلقوں کا ردِعمل جاننے کے لیے مزید پڑھیے

  11. سپریم کورٹ نے جسٹس فائز کے فیصلے پر لارجر بینچ تشکیل دے دیا

    سپریم کورٹ نے جسٹس فائز عیسیٰ کے فیصلے پر لارجر بینچ تشکیل دے دیا ہے اور کیس کی سماعت آج ہی دو بجے کی جائے گی۔

    چھ رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس اعجاز الاحسن کریں گے جبکہ بینچ میں جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس محمد امین کے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ جب تک عدالتی ضوابط تشکیل نہیں دیے جاتے تب تک چیف جسٹس کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت لیے گئے از خود نوٹس سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت ملتوی کر دی جائے۔

    یاد رہے کہ اس فیصلے کے بعد رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے جاری ایک سرکلر جاری کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا جسٹس فائز اور جسٹس امین الدین کے فیصلے میں آرٹیکل 184/3 سے متعلق آبزرویشن ازخود نوٹس کے زمرے میں نہیں آتی۔

    سرکلر میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ جسٹس فائز اور جسٹس امین نے جو فیصلہ دیا وہ تین رکنی بینچ کا فیصلہ ہے جبکہ سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ پہلے ہی اس معاملے کو طے کر چکا کہ ازخود نوٹس کا اختیار صرف چیف جسٹس سپریم کورٹ ہی استعمال کر سکتے ہیں۔

  12. خیبر پختونخوا میں الیکشن کے حوالے سے دوبارہ آئینی درخواست دائر کی جائے

    سپریم کورٹ نے جہاں الیکشن التوا کیس میں پنجاب میں 14 مئی کو صوبائی اسمبلی کے انتخابات کروانے کا حکم دیا ہے وہیں خیبر پختونخوا میں الیکشن کی تاریخ کے معاملے پر مناسب فورم پر دوبارہ آئینی درخواست دائر کرنے کو بھی کہا ہے۔

    الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بھی آٹھ اکتوبر کو ہی الیکشن کروانے کا حکم دیا ہوا ہے تاہم سپریم کورٹ نے فی الحال اسے منسوخ نہیں کیا ہے۔

  13. سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا 8 اکتوبر کو انتخاب کرانے کا حکم غیر آئینی قرار دے دیا

    چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کا آٹھ اکتوبر کو الیکشن کروانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ پنجاب میں الیکشن 14 مئی کو کروائے جائیں۔

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے آٹھ اکتوبر کو الیکشن کروانے کے 22 مارچ کے حکمنامے کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا۔

    سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب کے منسوخ کردہ الیکشن شیڈول پر عملدرآمد ہو گا جبکہ خیبرپختونخوا کے بارے میں صورتحال دیکھ کر مناسب فورم پر فیصلہ ہو گا۔

    سپریم کورٹ نے اس ضمن میں وفاقی حکومت کو 10 اپریل تک 20 ارب جاری کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن کو فنڈز کی صورتحال کے بارے میں رپورٹ 11 اپریل کو سپریم کورٹ میں جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

    سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اگر فنڈ مہیا نہیں کیے جاتے تو عدالت خصوصی احکامات جاری کرے گی۔

    پنجاب میں نگراں حکومت، چیف سیکریٹری اور آئی جی کو 10 اپریل تک الیکشن کا سکیورٹی پلان الیکشن کمیشن کو جمع کروانے کی تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اپنے ماتحت سکیورٹی اداروں جیسا کہ رینجرز، فوج، ایف سی اور دوسری فورسز کے حوالے سے 17 اپریل تک سکیورٹی پلان الیکشن کمیشن کو فراہم کرے۔

    سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر وفاقی حکومت اور پنجاب کی نگران حکومت الیکشن کمیشن کی معاونت میں ناکام رہتے ہیں تو کمیشن اس بارے میں سپریم کورٹ کو آگاہ کرے۔

    سپریم کورٹ نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ ابتدائی فیصلہ پانچ رکنی بینچ کا تھا جس میں تین ججوں نے فیصلہ دیا جبکہ دو ججوں نے اختلافی نوٹ دیا۔

  14. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    پاکستان کی سیاسی و معاشی صورتحال کی تازہ ترین خبریں جاننے کے لیے بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔

    4 اپریل تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔