مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہیں ون مین شو ہے۔ ان ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنا چاہیے۔
لندن سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ سے عدلیہ کے فیصلے متنازع رہے ہیں۔
انھوں نے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان، ملک کا وزیر اعظم، وزیر داخلہ، الیکشن کمیشن حتیٰ کہ پارلیمنٹ بن جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری فل کورٹ کی استدعا کو کیوں رد کیا، اور تین رکنی بینچ پر ہی اصرار کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ادارہ جب ایک کرپٹ جج کا تحفظ کرے گا تو ادارے کی ساکھ نہیں رہے گی۔
عدلیہ نے ہمیشہ آمروں کے لیے نظریہ ضرورت ایجاد کیا جاتا ہے اور ہم جیسے وزرا اعظم کو ایک دھکا اور دیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آمروں کو عدالتیں گلے لگاتی ہے۔ مجھے عدالت کی جانب سے سیسلین مافیا اور گاڈ فادر کہا گیا۔ دوہرے معیار کی سمجھ نہیں آ رہی۔ آئین توڑنے والوں کو آئین سے کھلواڑ کی اجازت دی جاتی ہے۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت کی رٹ ختم کر دی گئی ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم ملک میں حکومت کیسے چلی گی۔ پارلیمنٹ سب سے بالا ادارہ ہے اور اس میں کی جانے والی قانونی سازی کی بھی کوئی اہمیت نہیں سمجھی جا رہی۔ ایک ہفتہ قبل پارلیمنٹ نے ایک قانون پاس کیا اور اس کی بھی پرواہ نہیں کی گئی۔
جو کچھ پاکستان میں ہو رہا ہے وہ دنیا اور جنوبی ایشیا کے کسی ملک میں نہیں ہوا۔ ہم 70 سالوں سے یہ تماشا دیکھ رہے ہیں کہ آمروں کو گلے لگایا جاتا ہے اور منتخب وزرا اعظم کو نکال باہر دیا جاتا ہے۔
مجھے ایک جج نے ایک مقدمے میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انھیں پتا ہونا چاہیے کہ اڈیالہ جیل میں بہت جگہ ہے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن نے میرے خلاف فیصلے دیے ہوئے ہیں۔ پورا ملک جانتا ہے کہ میرے خلاف غلط فیصلہ دیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر اس طرح کے فیصلے آئے گے تو ڈالر پانچ سو کا ہو جائے گا، دالیں سبزیاں بھی قوت خرید سے باہر ہو جائیں گی۔
ایسے حربوں سے یہ نواز شریف کو سزا دینا چاہتے ہیں مگر اصل میں سزا پاکستان کی عوام کو مل رہی ہے۔