آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ہم نے کبھی نہیں کہا اسٹیبلشمنٹ اپنا راستہ پکڑے مگر سول ملٹری تعلق میں توازن ہونا چاہیے: عمران خان
سابق وزیر اعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ کوئی انتظامی نظام اس وقت کام نہیں کر سکتا جب ذمہ داری منتخب حکوت کی ہو مگر اختیار کہیں اور ہو۔ ادھر لندن سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ’ون مین شو ہے، ان ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنا چاہیے۔‘
لائیو کوریج
ہم نے کبھی نہیں کہا اسٹیبلشمنٹ اپنا راستہ پکڑے مگر سول ملٹری تعلق میں توازن ہونا چاہیے: عمران خان
سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی انتظامی نظام اس وقت کام نہیں کر سکتا جب ذمہ داری منتخب حکوت کی ہو مگر اختیار کہیں اور ہو۔
ڈی ڈبلیو اردو کو دیے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’اسٹیبلشمنٹ پاکستان میں ایک حقیقت ہے۔ ستر سال سے جو ان کا کردار ہے، ہم نے کبھی نہیں کہا کہ اسٹیبلشمنٹ اپنا راستہ پکڑ لے۔ ایسے نہیں ہوگا۔ لیکن سول ملٹری تعلق میں توازن چاہیے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’منتخب حکومت کے پاس اگر اختیار نہیں اور وہ اختیار کہیں اور ہے تو کوئی انتظامی نظام کام نہیں کر سکتا۔‘
انھوں نے کہا سیاسی جماعت بیچ کا راستہ ڈھونڈتی ہے مگر الیکشن کے ذریعے سیاسی استحکام کے بغیر معیشت سنبھل نہیں سکے گی۔
’انھیں الیکشن میں اپنی موت نظر آ رہی ہے۔۔۔ تحریک انصاف نے 30 ضمنی الیکشن جیتے، اس کے باوجود کہ اسٹیبلشمنٹ پوری طرح ان کی حمایت کر رہی تھی۔ الیکشن کمیشن غیر جانبدار نہیں تھی۔ انھیں پنجاب میں ہار کا ڈر ہے۔‘
چیئرمین تحریک انصاف نے کہا ’مارشل لا کی دھمکیاں غیر آئینی ہیں۔ پاکستان میں مارشل لا کے دن چلے گئے ہیں۔ آگے ہی ہمارے حالات بُرے ہیں۔ اگر آپ سپریم کورٹ کے فیصلے تسلیم نہیں کرتے تو اس کا مطلب پاکستان میں قانون ختم ہوگیا۔ جنگل کے قانون کی طرف جا رہے ہیں، یہ ہو ہی نہیں سکتا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو ٹھیک کرنے کے لیے سرجری کرنی پڑے گی، بڑے فیصلے کرنے ہوں گے جس کے لیے بڑا مینڈیٹ چاہیے جو الیکشن سے آئے گا۔
’میں نے ان سے کہا ہے اگر آپ مجھے دلدل سے نکلنے کا روڈ میپ دے دیں، ہم (اکتوبر میں) الیکشن کا انتظار کر لیں گے۔ اگر یہ وجہ دینی ہے کہ الیکشن کروانے کے پیسے نہیں تو اکتوبر میں کدھر سے پیسے آئیں گے۔ آپ اکتوبر میں کہیں گے تب بھی پیسے نہیں ہیں۔‘
’باہر نکل کر سپریم کورٹ کو پیغام دیں ہم آپ کے ساتھ ہیں‘
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ آج آئین کی حفاظت ہوئی ہے، حقیقی آزادی کا راستہ صرف انصاف سے ہی آتا ہے۔
منگل کی شام سوشل میڈیا پر خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے سپریم کورٹ کے پنجاب میں انتخابات کے حوالے سے دیے گئے فیصلے کو سراہاتے ہوئے کہا کہ آج کا فیصلہ پاکستان، آئین، جمہوریت اور قانون کی بالادستی کی جیت ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ آئین واضح ہے کہ نوے دن میں انتخابات ہوں گے اور اسی تناظر میں ہم نے اپنی دو اسمبلیاں تحلیل کی تھیں۔
انھوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’آج حکومت کہہ رہی ہے کہ ہم فیصلہ نہیں مانتے اور عدلیہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی حفاظت قوم نے کرنی ہے، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔‘
عمران خان نے مسلم لیگ ن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی عدلیہ پر حملوں اور عدلیہ مخالفت کی ایک پرانی تاریخ رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پوری قوم باہر نکلے اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر اظہار تشکر منا کر بتائے کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘
’جسٹس فائز کے احکامات کا ازخود نوٹس کیسز پر اطلاق نہیں ہوتا‘ حافظ قرآن کو اضافی نمبر دینے کا ازخود نوٹس کیس نمٹا دیا گیا
سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے حفاظ کرام کو میڈیکل داخلے میں اضافی 20 نمبر دینے سے متعلق از خود نوٹس کے مقدمے کو نمٹاتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، ازخود نوٹس غیر مؤثر ہونے پر نمٹا دیا جاتا ہے۔
حافظ قرآن کو 20 اضافی نمبرز دینے پر ازخود نوٹس پر سپریم کورٹ کا تحریری حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔
تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں چھ رکنی بنچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔
تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ میڈیکل کے طلباء کو 20 اضافی نمبرز کے کیس میں بنچز کی تشکیل پر حکم جاری کر کے ازخود کارروائی کا اختیار استعمال کیا گیا، سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس کا اختیار استعمال کرکے پانچ رکنی بنچ کے حکم کی خلاف ورزی کی۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ازخود نوٹس کی کارروائی کا اختیار صرف چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس ہے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ کی طرف سے جاری سرکلر میں درست وضاحت کی گئی تھی، سرکلر کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے احکامات کا ازخود نوٹس کیسز پر اطلاق نہیں ہوتا۔
سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین کے چیف جسٹس کے از خود نوٹس اور بینچ کی تشکیل کے اختیارات سے متعلق فیصلے پر لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔
یاد رہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے حافظ قرآن کو اضافی نمبر دینے کے کیس میں بینچ بنانے پر اعتراض کیا تھا اور تمام ازخود نوٹسز پر کارروائی روکنےکا فیصلہ دیا تھا۔
سماعت کے دوران پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے وکیل افنان کنڈی نے کہا کہ 20 اضافی نمبر 2018 تک رولز کے تحت دیے جاتے تھے جبکہ 2021 میں نئے رولز بنے اور اضافی نمبر ختم ہوگئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 20 اضافی نمبروں ختم ہوچکا ہے جس کے خلاف پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے پٹیشن لی تھی اور از خود نوٹس لیا گیا تھا۔
بریکنگ, ملک کا چیف جسٹس، وزیر اعظم، وزیر داخلہ، الیکشن کمیشن اور پارلیمنٹ کیسے بن سکتا ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہیں ون مین شو ہے۔ ان ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنا چاہیے۔
لندن سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ سے عدلیہ کے فیصلے متنازع رہے ہیں۔
انھوں نے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان، ملک کا وزیر اعظم، وزیر داخلہ، الیکشن کمیشن حتیٰ کہ پارلیمنٹ بن جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری فل کورٹ کی استدعا کو کیوں رد کیا، اور تین رکنی بینچ پر ہی اصرار کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ادارہ جب ایک کرپٹ جج کا تحفظ کرے گا تو ادارے کی ساکھ نہیں رہے گی۔
عدلیہ نے ہمیشہ آمروں کے لیے نظریہ ضرورت ایجاد کیا جاتا ہے اور ہم جیسے وزرا اعظم کو ایک دھکا اور دیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آمروں کو عدالتیں گلے لگاتی ہے۔ مجھے عدالت کی جانب سے سیسلین مافیا اور گاڈ فادر کہا گیا۔ دوہرے معیار کی سمجھ نہیں آ رہی۔ آئین توڑنے والوں کو آئین سے کھلواڑ کی اجازت دی جاتی ہے۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت کی رٹ ختم کر دی گئی ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم ملک میں حکومت کیسے چلی گی۔ پارلیمنٹ سب سے بالا ادارہ ہے اور اس میں کی جانے والی قانونی سازی کی بھی کوئی اہمیت نہیں سمجھی جا رہی۔ ایک ہفتہ قبل پارلیمنٹ نے ایک قانون پاس کیا اور اس کی بھی پرواہ نہیں کی گئی۔
جو کچھ پاکستان میں ہو رہا ہے وہ دنیا اور جنوبی ایشیا کے کسی ملک میں نہیں ہوا۔ ہم 70 سالوں سے یہ تماشا دیکھ رہے ہیں کہ آمروں کو گلے لگایا جاتا ہے اور منتخب وزرا اعظم کو نکال باہر دیا جاتا ہے۔
مجھے ایک جج نے ایک مقدمے میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انھیں پتا ہونا چاہیے کہ اڈیالہ جیل میں بہت جگہ ہے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن نے میرے خلاف فیصلے دیے ہوئے ہیں۔ پورا ملک جانتا ہے کہ میرے خلاف غلط فیصلہ دیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر اس طرح کے فیصلے آئے گے تو ڈالر پانچ سو کا ہو جائے گا، دالیں سبزیاں بھی قوت خرید سے باہر ہو جائیں گی۔
ایسے حربوں سے یہ نواز شریف کو سزا دینا چاہتے ہیں مگر اصل میں سزا پاکستان کی عوام کو مل رہی ہے۔
پاکستان میں سونے کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 214500 روپے فی تولہ پر پہنچ گئی, تنویر ملک، صحافی
پاکستان میں منگل کے روز سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا جب ایک تولہ سونے کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 214500 روپے پر بند ہوئی۔
منگل کے روز سونے کی قیمت میں 5000 روپے فی تولہ اضافہ ہوا۔
ڈیلرز کے مطابق سونے کی قیمت میں اضافے کی ایک وجہ تو ڈالر کی قیمت میں اضافہ تھا جس میں اضافے کے ساتھ سونے کی قیمت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے تو دوسری جانب سرمایہ کاروں کی جانب سے اس میں ہونے والی سرمایہ کاری نے بھی اس کی قیمت میں اضافہ کیا۔
بریکنگ, چار اپریل کو ذوالفقار بھٹو کا عدالتی قتل ہوا اور آج ہی عدل و انصاف کا قتل ہوا: شہباز شریف
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ کی ستم ظریقی ہے کہ چار اپریل کو ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا اور آج ایک مرتبہ پھر چار اپریل کو ہی عدل و انصاف کا قتل ہوا۔
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج کابینہ میں فیصلہ ہوا کہ ذوالفقار علی بھٹو شہید کے عدالت قتل کا جو ریفرنس 12 سال سے پڑا ہے، اس پر عمل ہونا چاہیے اور اس حوالے سے فل کورٹ بیٹھے اور فیصلہ کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا سمجھتی ہے کہ یہ 1973 کے متفقہ آئین کے خالق ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینا ایک عدالتی قتل تھا، اگر میں غط نہیں تو فیصلہ کرنے والے ایک جج نے بھی بعد میں اپنی یادداشت میں اس بارے میں اعتراف کیا تھا۔
انھوں نے کہا آج ہی کے دن الیکشن کے حوالے سے جو پچھلے 72 گھنٹوں میں کارروائیاں ہوئیں، آج پھر ایک مرتبہ چار اپریل کو عدل و انصاف کا قتل ہوا۔
بریکنگ, یہ عدالتی فیصلہ پارلیمانی قرار داد سے متصادم ہے، آج انصاف کی صریحاً نفی ہوئی ہے: اعظم نذیر تارڑ
پاکستان کے وفاقی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ یہ عدالتی فیصلہ پارلیمانی قرار داد سے متصادم ہے۔ آج انصاف کی صریحاً نفی ہوئی ہے۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ادارے اپنے آئینی دائرہ کار میں کام کریں۔
اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ایک ضدی شخص کی انا کی تسکین کے لیے دو صوبائی اسمبلیاں توڑی گئیں۔ اسمبلیاں توڑنے کا مقصد ملک میں سیاسی انتشار اور تقسیم پیدا کرنا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے عدل کے سب سے برے ایوان میں دراڑ ہے اور اسے کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی اسمبلی میں گذشتہ ہفتے ایک قرار داد منظور کی کہ ملک میں انتخابات کو شفاف کرانے اور اس کے لیے ساز گار ماحول بنانے کے لیے یہ کہا گیا کہ ملک میں ایک ساتھ نگران سیٹ اپ کے تحت انتخابات کروائے جائیں۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ آپ کے عدل کے ایوان میں تقسیم ہے اور آپ اپنے ایوان کو اکٹھا کریں اور ہاتھ جوڑ کر استدعا کی کہ معاملے کو انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہم نے استدعا کی تھی کہ اس معاملے کو انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔‘
اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آج سپریم کورٹ نے تمام جائز مطالبات کو رد کرتے ہوئے ایک اقلیتی فیصلہ صادر کیا کہ 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن کروایا جائے۔ تین رکنی بینچ نے انتخابی شیڈول بھی جاری کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر نہیں جانا چاہیے کہ کوئی ادارہ کسی کے لیے سہولت کاری کا کام کر رہا ہے۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ سیاسی جماعتوں کو فریق کیوں نہیں بنایا گیا۔ عجلت میں دیے گئے فیصلوں سے استحکام نہیں آتا۔
بریکنگ, وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ کے الیکشن سے متعلق فیصلے کو مسترد کر دیا
وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ کے الیکشن سے متعلق فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سپریم کورٹ کے اقلیتی فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور کابینہ نے سپریم کورٹ کا فیصلہ قابل عمل نہ ہونے کی رائے دی ہے۔
بریکنگ, سٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کر دیا, تنویر ملک، صحافی
پاکستان کے قومی بینک نے ملک میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں سو بیسز پوائنٹس یعنی ایک فیصد اضافہ کر دیا ہے۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے ایک فیصد اضافے کے بعد ملک میں شرح سود 21 فیصد ہو گئی۔
سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافے کا اعلان زری پالیسی کے اجلاس کے بعد منگل کے روز کیا گیا۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ کسی کے لیے ’پاکستان کی فتح‘ تو کسی کے لیے ’آئینی بحران سنگین‘ ہونے کا پیش خیمہ
سپریم کورٹ نے جسٹس فائز کے فیصلے پر لارجر بینچ تشکیل دے دیا
سپریم کورٹ نے جسٹس فائز عیسیٰ کے فیصلے پر لارجر بینچ تشکیل دے دیا ہے اور کیس کی سماعت آج ہی دو بجے کی جائے گی۔
چھ رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس اعجاز الاحسن کریں گے جبکہ بینچ میں جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس محمد امین کے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ جب تک عدالتی ضوابط تشکیل نہیں دیے جاتے تب تک چیف جسٹس کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت لیے گئے از خود نوٹس سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت ملتوی کر دی جائے۔
یاد رہے کہ اس فیصلے کے بعد رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے جاری ایک سرکلر جاری کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا جسٹس فائز اور جسٹس امین الدین کے فیصلے میں آرٹیکل 184/3 سے متعلق آبزرویشن ازخود نوٹس کے زمرے میں نہیں آتی۔
سرکلر میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ جسٹس فائز اور جسٹس امین نے جو فیصلہ دیا وہ تین رکنی بینچ کا فیصلہ ہے جبکہ سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ پہلے ہی اس معاملے کو طے کر چکا کہ ازخود نوٹس کا اختیار صرف چیف جسٹس سپریم کورٹ ہی استعمال کر سکتے ہیں۔
پنجاب میں 14 مئی کو الیکشن کروانے کا حکم: حکومت کے پاس قانونی اور سیاسی آپشن کیا ہیں؟
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا 8 اکتوبر کو انتخاب کرانے کا حکم غیر آئینی قرار دے دیا ہے اور پنجاب میں الیکشن 14 مئی کو کروانے کا بھی حکم دیا ہے۔
اس فیصلے کی روشنی میں حکومت کے پاس قانونی اور سیاسی آپشنز کیا ہیں؟
بریکنگ, خیبر پختونخوا میں الیکشن کے حوالے سے دوبارہ آئینی درخواست دائر کی جائے
سپریم کورٹ نے جہاں الیکشن التوا کیس میں پنجاب میں 14 مئی کو صوبائی اسمبلی کے انتخابات کروانے کا حکم دیا ہے وہیں خیبر پختونخوا میں الیکشن کی تاریخ کے معاملے پر مناسب فورم پر دوبارہ آئینی درخواست دائر کرنے کو بھی کہا ہے۔
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بھی آٹھ اکتوبر کو ہی الیکشن کروانے کا حکم دیا ہوا ہے تاہم سپریم کورٹ نے فی الحال اسے منسوخ نہیں کیا ہے۔
پی ٹی آئی وکیل فیصل چوہدری: ’یہ پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ ہے، عوام اس کا تحفظ بھی کریں گے‘
پاکستان تحریک انصاف کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا ہے کہ وہ نظریہ ضرورت دفن کرنے پر سپریم کورٹ کے شکر گزار ہیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا فیصل چوہدری نے کہا کہ پوری قم کو مبارکباد دیتا ہوں اور پوری قوم کی طرف سے جج صاحبان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
فیصل چوہدری نے مزید کہا کہ ’یہ پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ ہے اور پاکستان کے عوام اس فیصلے کا تحفظ بھی کریں گے۔ کسی بھی غیر آئینی اقدام کے خلاف اپنی عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ہمارا آئین، جمہوریت، سپریم کورٹ اور اعلی عدلیہ ہماری ریڈ لائن ہیں۔
قوم کو آئین کی فتح مبارک، سپریم کورٹ کا فیصلہ ہر پاکستانی کے حقوق کا فیصلہ ہے: فواد چوہدری
پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ قوم کو آئین کی فتح مبارک۔
انھوں نے ٹویٹ کیا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہر پاکستانی شہری کے حقوق کا فیصلہ ہے۔
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا 8 اکتوبر کو انتخاب کرانے کا حکم غیر آئینی قرار دے دیا
چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کا آٹھ اکتوبر کو الیکشن کروانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ پنجاب میں الیکشن 14 مئی کو کروائے جائیں۔
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے آٹھ اکتوبر کو الیکشن کروانے کے 22 مارچ کے حکمنامے کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب کے منسوخ کردہ الیکشن شیڈول پر عملدرآمد ہو گا جبکہ خیبرپختونخوا کے بارے میں صورتحال دیکھ کر مناسب فورم پر فیصلہ ہو گا۔
سپریم کورٹ نے اس ضمن میں وفاقی حکومت کو 10 اپریل تک 20 ارب جاری کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن کو فنڈز کی صورتحال کے بارے میں رپورٹ 11 اپریل کو سپریم کورٹ میں جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اگر فنڈ مہیا نہیں کیے جاتے تو عدالت خصوصی احکامات جاری کرے گی۔
پنجاب میں نگراں حکومت، چیف سیکریٹری اور آئی جی کو 10 اپریل تک الیکشن کا سکیورٹی پلان الیکشن کمیشن کو جمع کروانے کی تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اپنے ماتحت سکیورٹی اداروں جیسا کہ رینجرز، فوج، ایف سی اور دوسری فورسز کے حوالے سے 17 اپریل تک سکیورٹی پلان الیکشن کمیشن کو فراہم کرے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر وفاقی حکومت اور پنجاب کی نگران حکومت الیکشن کمیشن کی معاونت میں ناکام رہتے ہیں تو کمیشن اس بارے میں سپریم کورٹ کو آگاہ کرے۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ ابتدائی فیصلہ پانچ رکنی بینچ کا تھا جس میں تین ججوں نے فیصلہ دیا جبکہ دو ججوں نے اختلافی نوٹ دیا۔
ڈالر کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 287.50 پر پہنچ گئی, تنویر ملک ، صحافی
پاکستان میں امریکی ڈالر کی قیمت میں منگل کے روز بڑا اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے جب انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت میں 2.71 روپے کا اضافہ دیکھنے میں آیا اور انٹر بینک میں اس وقت ایک ڈالر کی قیمت 287.50 کی سطح پر پہنچ چکی ہے جو ملکی تاریخ کی بلندترین سطح ہے۔
دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی سطح میں چار روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ایک ڈالر کی قیمت 291 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
کرنسی مارکیٹ ڈیلروں کے مطابق پاکستان میں سیاسی بحران کے ساتھ آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے دو دن سے ڈالر کی قیمت میں اضافہ کیا جب کہ دوسری جانب ملک کی برآمدات میں مارچ کے مہینے میں پندرہ فیصد کی کمی ہوئی جس کا منفی اثر روپے کی قدر پر پڑا ہے۔
پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن: وزارتِ دفاع نے سکیورٹی اہلکاروں کی دستیابی سے متعلق رپورٹ چیف جسٹس کو پیش کر دی
سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات التوا کیس کے حوالے سے وزارتِ دفاع نے سکیورٹی اہلکاروں کی دستیابی سے متعلق سربمہر رپورٹ چیف جسٹس کو چیمبر میں پیش کردی ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن چیمبر میں رپورٹ کا جائزہ لے رہے ہیں۔
’پورے ملک میں الیکشن ایک وقت میں ہونا چاہییں، ایسا نہ ہوا تو انارکی پھیلے گی‘ رانا ثنا اللہ
پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کا فیصلہ فل کورٹ کے ذریعے کیا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ ملک میں الیکشن ایک وقت میں ہونے چاہییں اور اگر ایسا نہ ہوا تو ملک میں انارکی پھیلے گی۔
اسلام آباد میں مسلم لیگی رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آئین میں درج طریقہ کار کے مطابق کئیر ٹیکر سیٹ اپ کے ذریعے ملک میں فری اورفئیر الیکشن ہونے چاہیں۔