اسلام
آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے استثنی کی درخواستیں منظور کرتے
ہوئے آٹھ مقدمات میں عبوری ضمانت کی توسیع
کردی ہے۔
چیف
جسٹس عامرفاروق اورجسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ڈویژن بنچ میں سماعت کے
دوران عمران خان کے وکیل نےعمران خان کے استثنی کی درخواست دائر کی اور کہا کہ
وکلاء نے تقریب میں وزیر اعظم شہباز شریف کو مدعو کر رکھا ہے، وزیراعظم شہباز شریف
آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں آ رہے ہیں۔
چیف
جسٹس نے کہا کہ ’موجودہ وزیراعظم آ رہے ہیں تو سابقہ نہیں آ سکتے۔‘
سلمان
صفدر ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’عمران خان انسداد دہشت گردی عدالت کے سامنے پیش ہونا
چاہتے ہیں، ہماری استدعا ہے کہ عید کے بعد تک کا وقت دیدیا جائے، عمران خان عید کے
بعد انسداد دہشت گردی عدالت کے سامنے سرینڈر کر دیں گے۔‘
چیف
جسٹس نےریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’کوئی ایسا
ریلیف نہیں دے سکتے جو کسی اور کو نہ دیا جا سکے۔‘
سلمان
صفدر ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’عمران خان کے خلاف بہت سے کرمنل مقدمات درج ہو چکے ہیں۔‘
چیف
جسٹس نے کہا کہ ’امریکا کے سابق صدر تو عدالت پیش ہوئے اور فرد جرم کا سامنا کیا۔‘
عمران
خان کے وکیل نے کہا کہ ’اس بحث میں نہیں جانا چاہتا فلڈ گیٹ کھل جائے گا، ایک سو
چالیس کیس کس پر ہوتے ہیں؟‘
چیف
جسٹس نے کہا کہ ’تو آپ ریکارڈ بنا رہے ہیں نا۔‘
اس پر عمران
خان کے وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ ’
ایک اور وزیر اعظم کے ساتھ وہ نہیں ہونا چاہیے جو ماضی میں ہوا، ہمیں ایک سابق وزیر
اعظم کو لاحق خطرات کو ختم کرنا چاہیے، عید کے بعد کی ایک تاریخ دیں عمران خان آئیں
گے، عمران خان عید کے بعد اس عدالت میں آئیں گے اسی دن ٹرائل کورٹ سرنڈر کر دیں گے۔
عید کے بعد دوسرے یا تیسرے ورکنگ ڈے تک ریلیف دے دیں، اتنے کیسز ہیں اور تفتیش بھی
جوائن کرنی ہے، ابھی تک جے آئی ٹی نے تفتیش کے لیے نہیں بلایا۔‘
اس پر چیف
جسٹس نے کہا کہ ’ماتحت عدالتوں میں بھی ڈیکورم برقرار رکھنا چاہیے، ابھی تو پندرہ
رمضان ہے اور عید میں آدھا مہینہ ہے، ضمانت قبل از گرفتاری میں دو ہفتے کی ڈیٹ کیسے
دیں؟‘
دوران
سماعت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ ’سکیورٹی
تھریٹ تو ان کو زندگی بھر رہیں گی، کروڑوں روپے سکیورٹی پر خرچ آتا ہے، یہ ایک ڈیٹ
بتا دیں کہ کس تاریخ کو پیش ہوں گے۔‘
عمران
خان کے وکیل نے کہا کہ ’معاشی بحران چل رہا ہے، سکیورٹی پر بے پناہ خرچ آتا ہے، تفتیش
جوائن کرنا آنا کا مسئلہ نہیں ہے، عام حالات میں تھانے جا کر تفتیش میں شامل ہوتے
ہیں، ہم نے کہا ہے کہ سوالنامہ دے دیں، ہم جواب دے دے دیتے ہیں، یہ بھی آپشن دی کہ
الزامات کے جواب میں تحریری بیان جمع کرا دیتے ہیں۔‘
اس پر ایڈووکیٹ
جنرل اسلام آباد نے کہا کہ ’اگر آئندہ سماعت پر بھی نہیں آتے تو کیا ہو گا؟‘
چیف
جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ضمانت کے لیے پٹیشنر کا خود پیش ہونا ضروری ہے، اگر نہیں آتے
تو قانون کے مطابق کارروائی ہو گی، ہم پہلے سے آرڈر میں کچھ لکھ کر ہاتھ نہیں
باندھا چاہتے‘
چیف
جسٹس نے استفسار کیا کہ ’کیا اسیسمنٹ کمیٹی تھریٹ کا جائزہ لے کر سیکورٹی بڑھاتی
ہے؟ ‘
’آئی جی
اسلام آباد نے مجھے بلٹ پروف گاڑی آفر کی تھی مگر میں نے منع کر دیا،اگر چار پولیس
اہلکاروں کی تعیناتی کی اجازت ہو تو کیا
تھریٹ ملنے پر سیکورٹی بڑھا دی جاتی ہے؟ آپ نے عمران خان کے لیے فُول پروف سکیورٹی
کا نوٹیفکیشن دکھایا ہے، آپ نے عمران خان کو بطور سابق وزیراعظم سکیورٹی نہیں دی اس
کو سکیورٹی واپس لینا ہی تصور کیا جائے گا۔‘
ایڈیشنل
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’آئی جی کے پاس اختیار ہے کہ وہ سکیورٹی میں اضافہ کر
سکتے ہیں، عمران خان کو چاہیے کہ آنے سے قبل آگاہ کریں کہ کب یہاں آ رہے ہیں۔‘
وکیل نے کہا کہ آخری گزارش ہے کہ اٹھارہ اپریل کو ساڑھے گیارہ بجے کا وقت مقرر کر
دیں، چیف جسٹس نے کہاکہ ہم اٹھارہ کو یہ درخواست نمٹا کر آپ کو پروٹیکشن دے دیں گے۔
جسٹس میاں
گل حسن اورنگزیب نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سےکہا کہ ’ایک سابق وزیر اعظم ہیں جنہیں
گولی بھی لگ چکی ہے، یہ معاملہ حکومت کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہونا چاہیے تھی،
اب ان کی اگر سکیورٹی بھی واپس لی گئی تو انگلیاں آپ کی طرف جائیں گی، ان کو سکیورٹی
دیں تو ہی آپ کے سر سے یہ بات ٹلے گی۔ عمران خان پر ابھی صرف الزامات ہیں الزام تک
تو بندہ معصوم تصور ہوتا ہے۔‘
عدالت
نے لیگی رہنماء محسن شاہ نواز رانجھا پر حملہ سمیت8 مقدمات میں عمران خان کی عبوری
ضمانت میں توسیع کردی اور سماعت18 اپریل تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔