آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک نیا جامع آپریشن شروع کرنے کی منظوری

پاکستان کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ملک میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک نیا جامع آپریشن شروع کرنے کی منظوری دی ہے۔ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, سپریم کورٹ کا حکم نہیں مانا تو ہم ایک بڑی تحریک کے لیے تیار ہیں: فواد چوہدری

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ’موجودہ حکومت عوام سے ووٹ کا حق چھیننا چاہتی ہے۔‘ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ آئین پر عمل ہونا لازمی ہے۔ مجھے امید ہے کہ کل نیشنل سکیورٹی کونسل کے میٹنگ میں ان بات پر بات کی جائےگی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت عدالت سے یہ نہیں کہہ سکتی کہ اتنے جج ہوں اور اس میں یہ ہوں وہ نہ ہوں۔ یہ چیف جسٹس کا اختیار ہے۔ ‘

    انھوں نے زور دے کر کہا کہ یہ تحریک انصاف کا جھگڑا نہیں ہے، عوام کا مسئہ ہے۔ نوے دن میں الیکشن نہیں ہو سکتا لیکن چلو ایک ہفتے آگے جائیںگ اگرچہ یہ بھی نہیں ہونا چاہیے۔

    پی ٹی آیی کے رہنما کا کہنا ہے کہ ’ادارے وزیر اعظم کو باور کروائیں آئین کا تحفظ لازم ہے۔ اگرحکومت اس ضد میں رہی کہ الیکشن نہیں کروانے سپریم کورٹ کا حکم نہیں ماننا تو ہم ایک بڑی تحریک کے لیے تیار ہیں۔ اگر آئین ہی ختم ہو جائے گا تو ہر شخص کا اپنا طریقہ ہو گا کہ وہ احتجاج کا کیا طریقہ اپناتا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم قطعی اپنی فوج اور اس کے سربراہان اور اداروں کے ساتھ کسی ٹکراؤ کے حق میں نہیں۔ ہمیں ان سے امید ہے کہ پاکستان کے آئی اور آئین کے دیے حلف کو نبھائیں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ کا فیصلہ ختم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ وہ دو تہائی اکثریت سے دونوں ایوانوں میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو ختم کر سکتے ہیں۔ باقی ہر صورت اس پر عمل در آمد کرنا ہوتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ عدالتی اصلاحات کا بل بد نیّتی پر مبنی ہے۔

    فواد چودری کا کہنا تھا کہ ’یہ حکومت اور حزب اختلاف مل کر جنرل الیکشن کی بھی تاریخ دے سکتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ لوگ الیکشن لڑنا ہی نہیں چاہتے۔‘

  2. اسلام آباد ہائی کورٹ: عمران خان کے خلاف آٹھ مقدمات میں عبوری ضمانت کی توسیع

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے استثنی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے آٹھ مقدمات میں عبوری ضمانت کی توسیع کردی ہے۔

    چیف جسٹس عامرفاروق اورجسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ڈویژن بنچ میں سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل نےعمران خان کے استثنی کی درخواست دائر کی اور کہا کہ وکلاء نے تقریب میں وزیر اعظم شہباز شریف کو مدعو کر رکھا ہے، وزیراعظم شہباز شریف آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں آ رہے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’موجودہ وزیراعظم آ رہے ہیں تو سابقہ نہیں آ سکتے۔‘

    سلمان صفدر ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’عمران خان انسداد دہشت گردی عدالت کے سامنے پیش ہونا چاہتے ہیں، ہماری استدعا ہے کہ عید کے بعد تک کا وقت دیدیا جائے، عمران خان عید کے بعد انسداد دہشت گردی عدالت کے سامنے سرینڈر کر دیں گے۔‘

    چیف جسٹس نےریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’کوئی ایسا ریلیف نہیں دے سکتے جو کسی اور کو نہ دیا جا سکے۔‘

    سلمان صفدر ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’عمران خان کے خلاف بہت سے کرمنل مقدمات درج ہو چکے ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’امریکا کے سابق صدر تو عدالت پیش ہوئے اور فرد جرم کا سامنا کیا۔‘

    عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ’اس بحث میں نہیں جانا چاہتا فلڈ گیٹ کھل جائے گا، ایک سو چالیس کیس کس پر ہوتے ہیں؟‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’تو آپ ریکارڈ بنا رہے ہیں نا۔‘

    اس پر عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ ’ ایک اور وزیر اعظم کے ساتھ وہ نہیں ہونا چاہیے جو ماضی میں ہوا، ہمیں ایک سابق وزیر اعظم کو لاحق خطرات کو ختم کرنا چاہیے، عید کے بعد کی ایک تاریخ دیں عمران خان آئیں گے، عمران خان عید کے بعد اس عدالت میں آئیں گے اسی دن ٹرائل کورٹ سرنڈر کر دیں گے۔ عید کے بعد دوسرے یا تیسرے ورکنگ ڈے تک ریلیف دے دیں، اتنے کیسز ہیں اور تفتیش بھی جوائن کرنی ہے، ابھی تک جے آئی ٹی نے تفتیش کے لیے نہیں بلایا۔‘

    اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’ماتحت عدالتوں میں بھی ڈیکورم برقرار رکھنا چاہیے، ابھی تو پندرہ رمضان ہے اور عید میں آدھا مہینہ ہے، ضمانت قبل از گرفتاری میں دو ہفتے کی ڈیٹ کیسے دیں؟‘

    دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ ’سکیورٹی تھریٹ تو ان کو زندگی بھر رہیں گی، کروڑوں روپے سکیورٹی پر خرچ آتا ہے، یہ ایک ڈیٹ بتا دیں کہ کس تاریخ کو پیش ہوں گے۔‘

    عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ’معاشی بحران چل رہا ہے، سکیورٹی پر بے پناہ خرچ آتا ہے، تفتیش جوائن کرنا آنا کا مسئلہ نہیں ہے، عام حالات میں تھانے جا کر تفتیش میں شامل ہوتے ہیں، ہم نے کہا ہے کہ سوالنامہ دے دیں، ہم جواب دے دے دیتے ہیں، یہ بھی آپشن دی کہ الزامات کے جواب میں تحریری بیان جمع کرا دیتے ہیں۔‘

    اس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ ’اگر آئندہ سماعت پر بھی نہیں آتے تو کیا ہو گا؟‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ضمانت کے لیے پٹیشنر کا خود پیش ہونا ضروری ہے، اگر نہیں آتے تو قانون کے مطابق کارروائی ہو گی، ہم پہلے سے آرڈر میں کچھ لکھ کر ہاتھ نہیں باندھا چاہتے‘

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’کیا اسیسمنٹ کمیٹی تھریٹ کا جائزہ لے کر سیکورٹی بڑھاتی ہے؟ ‘

    ’آئی جی اسلام آباد نے مجھے بلٹ پروف گاڑی آفر کی تھی مگر میں نے منع کر دیا،اگر چار پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کی اجازت ہو تو کیا تھریٹ ملنے پر سیکورٹی بڑھا دی جاتی ہے؟ آپ نے عمران خان کے لیے فُول پروف سکیورٹی کا نوٹیفکیشن دکھایا ہے، آپ نے عمران خان کو بطور سابق وزیراعظم سکیورٹی نہیں دی اس کو سکیورٹی واپس لینا ہی تصور کیا جائے گا۔‘

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’آئی جی کے پاس اختیار ہے کہ وہ سکیورٹی میں اضافہ کر سکتے ہیں، عمران خان کو چاہیے کہ آنے سے قبل آگاہ کریں کہ کب یہاں آ رہے ہیں۔‘ وکیل نے کہا کہ آخری گزارش ہے کہ اٹھارہ اپریل کو ساڑھے گیارہ بجے کا وقت مقرر کر دیں، چیف جسٹس نے کہاکہ ہم اٹھارہ کو یہ درخواست نمٹا کر آپ کو پروٹیکشن دے دیں گے۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سےکہا کہ ’ایک سابق وزیر اعظم ہیں جنہیں گولی بھی لگ چکی ہے، یہ معاملہ حکومت کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہونا چاہیے تھی، اب ان کی اگر سکیورٹی بھی واپس لی گئی تو انگلیاں آپ کی طرف جائیں گی، ان کو سکیورٹی دیں تو ہی آپ کے سر سے یہ بات ٹلے گی۔ عمران خان پر ابھی صرف الزامات ہیں الزام تک تو بندہ معصوم تصور ہوتا ہے۔‘

    عدالت نے لیگی رہنماء محسن شاہ نواز رانجھا پر حملہ سمیت8 مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی اور سماعت18 اپریل تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔

  3. پنجاب میں انتخابات: کیا حکومت پارلیمان کی مدد سے سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد سے بچ سکتی ہے؟

  4. بریکنگ, سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف قومی اسمبلی میں قرارداد منظور, ’ایوان کو سیاسی معاملات میں بےجا عدالتی مداخلت پر تشویش ہے‘

    پاکستان کی قومی اسمبلی نے پنجاب میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف قرارداد منظور کر لی ہے۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن کو 14 مئی کو پنجاب میں صوبائی اسمبلی کے الیکشن کروانے کا حکم دیا ہے اور الیکشن کمیشن نے اس سلسلے میں شیڈول بھی جاری کر دیا ہے۔

    یہ فیصلہ سنائے جانے کے بعد سے حکومت کی جانب سے اسے تسلیم نہ کرنے کے اعلانات سامنے آ رہے ہیں اور حکومت کا موقف ہے کہ یہ ایک اقلیتی فیصلہ ہے جس کی پاسداری لازم نہیں۔

    اس فیصلے کو مسترد کرنے کی خلاف قرارداد جمعرات کی شام قومی اسمبلی کے اجلاس میں خالد حسین مگسی نے پیش کی جسے منظور کر لیا گیا۔

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’28 مارچ کو ایوان کی منظور کردہ قرارداد میں ازخود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ کے چار ججوں کے اکثریتی فیصلے کی تائید کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد اور اعلیٰ عدلیہ سے سیاسی و انتظامی امور میں مداخلت سے گریز کا مطالبہ کیا گیا تھا۔‘

    قرارداد کے مطابق ’پارلیمنٹ کی اس واضح قرارداد اور سپریم کورٹ کے چار ججوں کے اکثریتی فیصلے کو مکمل نظرانداز کرتے ہوئے تین رکنی بینچ نے اقلیتی رائے مسلط کی جو سپریم کورٹ کی روایات، نظائر اور طریقہ کار کی بھی خلاف ورزی ہے۔

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان تین رکنی اقلیتی بینچ کے فیصلے کو مسترد کرتا ہے اور آئین وقانون کے مطابق اکثریتی بینچ کے فیصلے کو نافذ العمل قرار دیتا ہے۔۔

    ’یہ ایوان آئین کے آرٹیکل 63 اے کی غلط تشریح اور اسے عدالت عظمی کے فیصلے کے ذریعے ازسرنو تحریر کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ عدالت عظمی کا فل کورٹ اس پر نظر ثانی کرے۔‘

    اس قرارداد میں ’سیاسی معاملات میں بےجا عدالتی مداخلت‘ پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ’اقلیتی فیصلہ ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کر رہا ہے اور وفاقی اکائیوں میں تقسیم کی راہ ہموار کردی گئی ہے لہٰذا، یہ ایوان ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے آئین اور قانون میں درج مروجہ طریقہ کار کے عین مطابق ملک بھر میں ایک ہی وقت پرعام انتخابات کرانے کے انعقاد کو ہی تمام مسائل کا حل سمجھتا ہے۔‘

    قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایوان سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے وزیراعظم اور کابینہ کوپابند کرتا ہے کہ اِس خلاف آئین و قانون فیصلے پر عمل نہ کیا جائے۔

  5. سٹاک مارکیٹ میں 600 پوائنٹس سے زائد اضافہ، ڈالر کی قیمت میں تین روپے سے زائد کی کمی, تنویر ملک ، صحافی

    پاکستان سٹاک مارکیٹ میں بدھ کے روز زبردست تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا جب سٹاک مارکیٹ انڈیکس میں چھ سو پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    دوسری جانب روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں بھی کمی واقع ہوئی جب ایک ڈالر کی قیمت 3.60 روپے کمی کے بعد 284.25 روپے کی سطح تک گر گئی۔

    پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی اور ڈالر کی قدر میں کمی سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے لیے دو ارب ڈالر کی مالی امداد کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد ریکارڈ کی گئی۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق آئی ایم ایف شرائط کے تحت پاکستان کو دوست ممالک سے بیرونی فنانسنگ کے شعبے میں مالی اعانت کی یقین دہانی حاصل ہو گئی ہے اور سعودی عرب کی جانب سے اس یقین دہانی کی خبروں کے بعد آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

  6. خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کے لیے تحریک انصاف کا سپریم کورٹ سے رجوع

    تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

    درخواست میں الیکشن کمیشن اور گورنر خیبرپختونخوا کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ گورنر خیبرپختونخوا یکم مارچ کے عدالتی حکم پر عمل نہیں کر رہے۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ گورنر کے پی نے میڈیا پر 28 مئی کی تاریخ کا اعلان کیا بعد میں مکر گئے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کے مطابق 90 دن میں انتخابات ضروری ہیں اور گورنر خیبرپختونخوا عدالتی حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ گورنر خیبرپختونخوا کو انتخابات کی تاریخ دینے کا حکم دے اور 90 دن کی مدت کے قریب ترین تاریخ دینے کی ہدایت کی جائے۔

    مزید یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کو تاریخ ملتے ہی فوری انتخابی شیڈول جاری کرنے کی ہدایت کی جائے اور تمام وفاقی و صوبائی اداروں کو انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کا حکم دیا جائے۔

  7. سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کرنے میں کون کون شامل تھا، پی ٹی آئی نے سیکرٹری سے نام مانگ لیے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    وفاقی کابینہ کی جانب سے پنجاب کے انتخابات پر سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعظم سمیت وفاقی کابینہ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    تحریک انصاف نے وزیراعظم کی زیرِصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کی مصدقہ تفصیلات طلب کرلی ہیں اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات فرخ حبیب نے وفاقی سیکرٹری کابینہ ڈویژن کو خصوصی خط لکھا ہے۔

    خط میں انھوں نے وفاقی کابینہ کے 4 اپریل کے اجلاس کے شرکا، ایجنڈے، کارروائی اور فیصلوں کی تفصیلات طلب کی ہیں۔

    فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ قومی ذرائع ابلاغ نے وفاقی کابینہ کے 4 اپریل 2023 کے اجلاس کے حوالے سے خبر دی تھی کہ کابینہ نے سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کردیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بنچ نے 4 اپریل کو آئینی درخواست نمبر 5/2023 پر اپنا فیصلہ سنایا ہے اور دستور کا آرٹیکل A-19 شہریوں کو مصدقہ معلومات تک رسائی کا بنیادی حق فراہم کرتا ہے۔

    فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ سیکرٹری کابینہ دستورِ پاکستان اور اطلاعات تک رسائی کے قانون کے تحت وفاقی کابینہ کے 4 اپریل کے اجلاس کے شرکا، ایجنڈے، کارروائی اور فیصلوں کی مصدقہ تفصیلات بلاتاخیر مہیا کریں۔

  8. پورے ملک میں الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہییں، فل کورٹ نہ بنا تو سیاسی اور آئینی بحران پیدا ہو گا: وزیر قانون

    اسلام آباد میں بین الاقوامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ عدالت کو اقلیتی فیصلہ نافذ نہیں کرنا چاہیے اور اگر سپریم کورٹ نے فل کورٹ نہ بنایا تو ملک میں سیاسی اور آئینی بحران پیدا ہو جائے گا۔

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وہ اس حق میں ہیں کہ پورے ملک میں الیکشن ایک ساتھ ہوں۔

    وزیرِ قانون نے کہا کہ گورنر پنجاب نے سمری پر دستخط ہی نہیں کیے اور آئین کے مطابق مقررہ وقت میں پنجاب اسمبلی تحلیل ہو گئی تو پنجاب اسمبلی کی تحلیل ہی متنازع انداز میں ہوئی۔

    اعظم نذیر تارڑنے مزید کہا کہ عدالت نے کسی سیاسی جماعت کو فریق نہیں بنایا اور کسی سیاسی جماعت کا مؤقف نہیں سنا، انتخابات کے معاملے پر 184/3 پر جسٹس فائزعیسیٰ کا واضح فیصلہ موجود ہے، اگرفل کورٹ نہ بنایا گیا تو ملک میں سیاسی اور آئینی بحران پیدا ہو جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر قانونی ماہرین سے مشورہ لیا اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اقلیتی فیصلہ نافذ نہیں کرنا چاہیے۔

  9. عمران خان مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسد قیصر کے بیان پر ردعمل میں کہا ہے کہ ’سپیکر شپ کے دوران اسد قیصر صاحب مختلف معاملات پر حکومت کی طرف سے ایوان کی کارروائی کے متعلق عمران خان کی جانب سے کمٹمنٹ کرتے تھے لیکن وقت آنے پر عمران خان کی ضد کا بہانہ بنا کر معذرت کر لیتے تھے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’عمران خان کے سیاسی موقف کی تبدیلی کا ریکارڈ مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ اور رسک ہے۔‘

    خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ اس آفر کے پیچھے ستمبر کی تبدیلیاں تو نہیں؟

    واضح رہے کہ اس سے قبل تحریک انصاف چیئرمین عمران خان ایک انٹرویو میں اعلان کر چکے ہیں کہ حکومت سے مزاکرات صرف اور صرف الیکشن پر ہی ہو سکتے ہیں۔

  10. ڈیڈ لاک ختم کرنے کے لیے حکومت سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، اسد قیصر

    سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نےکہا ہے کہ انتخابات کے معاملے پر تحریک انصاف مشاورت سے تاخیر کے لیے تیار ہے۔

    ڈان نیوز کے پروگرام میں میزبان عادل شاہ زیب کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ڈیڈ لاک کے خاتمے کے لیے حکومت سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’انتخابات آگے پیچھے ہو سکتے ہیں اور اگر انتخابات میں ایک بار90 روز سے زائد تاخیر کرنی ہے تو اسمبلی آ کر آئینی ترمیم کے لیے بھی ہم تیار ہیں۔‘

    اسد قیصر نے کہا کہ ’وزیر اعظم اعلان کریں کہ حکومت بات کرنا چاہتی ہے، پی ٹی آئی بھی بات کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

  11. قومی اسمبلی میں آج سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکومتی قراردار متوقع

    حکمراں جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم نے مئی میں الیکشن کرانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف جمعرات کو قومی اسمبلی میں قرارداد لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    بدھ کو حکومتی اتحادی جماعتوں کے سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’جس طرح کا کھلواڑ کیا جا رہا ہے ایسا بھیانک منظر پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ سپریم کورٹ میں جس طرح کیس کی کارروائی چلی سب کے سامنے ہے۔

    ’تمام حالات و واقعات سامنے آ چکے ہیں، حکومت میں شامل اتحادی جماعتیں مشاورت کے ساتھ اجتماعی سوچ کی عکاسی کرتے ہوئے ٹھوس فیصلے کریں گی اور آئین و قانون کے ساتھ سنگین مذاق پر اپنا مؤقف قوم کے سامنے رکھیں گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ’عدلیہ کی بے جا مداخلت‘ کے خلاف ’ایک قرارداد پہلے ہی منظور ہو چکی ہے اور امید ہے کہ کل ایک اور قرارداد بھی ہائوس میں پیش کی جائے گی۔ اس بارے میں وزیر قانون ابھی اجلاس میں گفتگو بھی کریں گے۔‘

    ’تین ججز کا بینچ پوری پارلیمان کو گھر بھیجنا چاہتا ہے تو بھیج دے‘

    اس سوال پر کہ کیا وفاقی حکومت سپریم کورٹ کے حکم کے تحت الیکشن کمیشن کو فنڈز جاری کرے گی، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے گذشتہ شب جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’الیکشن کمیشن (شیڈول کے معاملے میں) فیصلہ کرنے میں آزاد ہے لیکن یہ فیصلہ حکومت پر بائنڈنگ نہیں۔

    ’الیکشن کو پیسے دینے سے متعلق جب تک پارلیمنٹ فیصلہ نہیں کرتی یہ بات ابھی قبل از وقت ہوگی۔ پارلیمنٹ کوئی فیصلہ کرتی ہے تو وہ حکومت پر بائنڈنگ ہوگا۔ قرارداد پوری پارلیمنٹ کا حکم ہوگا۔‘

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’اگر تین ججز کا بینچ پوری پارلیمان کو (توہین عدالت کے تحت) گھر بھیجنا چاہتا ہے تو یہ عمل بھی ایک بار ہو ہی جانا چاہیے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ توہین عدالت کے تحت صرف وفاقی کابینہ نہیں بلکہ پوری پارلیمان جائے گی کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف پوری پارلیمان قرارداد منظور کرے گی۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ ’ہم تین ججز کا اقلیتی فاصلہ نہیں مانتے۔۔۔ ہماری رائے یہ ہے کہ تمام اسمبلیوں کے الیکشن ایک ہی وقت میں ہونے چاہییں۔ ورنہ پنجاب ہی فیصلہ کرے گا کہ مرکز اور صوبے میں کس کی حکومت ہوگی۔‘

  12. حکومت نے مئی میں الیکشن نہ کروائے تو ہم سب باہر نکلیں گے: عمران خان

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے متنبہ کیا ہے کہ اگر حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مئی میں الیکشن نہ کروائے تو ’ہم سب باہر نکلیں گے۔‘

    تحریک انصاف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے بدھ کو ’یوم تشکر‘ منایا جس دوران عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’جو پاکستان میں مارشل لا لگوانا چاہتے ہیں انھیں ملک کی کوئی فکر نہیں۔‘

    ’ادارے مضبوط ہونا پاکستان کے مفاد میں ہے مگر ان کا مفاد خود کو بچانے میں ہے۔ یہ سپریم کورٹ کے اوپر واردات ہے۔ یہ سپریم کورٹ کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں تاکہ دراڑ پڑنے سے انھیں فائدہ ہو۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ ملک کے بھلے کے لیے متحد رہے گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ پاکستان کی سب سے بڑی جماعت اور اسٹیبلشمنٹ کے بیچ غلط فہمیاں پیدا کر کے فاصلے بڑھانا چاہتے ہیں۔ ستر کی دہائی میں یہ ہوچکا ہے اور پاکستان ٹوٹ گیا تھا۔ یہ (اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف) کے بیچ ٹکراؤ چاہتے ہیں تاکہ یہ تاثر دیا جائے کہ تحریک انصاف کے خلاف کارروائیوں کے پیچھے فوج ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے بیچ نفرتوں سے ملک کو فائدہ نہیں ہوگا۔ ’اسٹیبلشمنٹ سے پوچھتا ہوں الیکشن اکتوبر میں کرانے سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا۔ اکتوبر تک کیا روڈ میپ ہے کہ ملک کے حالات بہتر ہوجائیں گے۔ اکتوبر میں کہاں سے پیسہ، سکیورٹی آئیں گے۔‘

    عمران خان نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے ’الیکشن نہ کروانے کی کوئی کوشش کی، سپریم کورٹ کے فیصلے، آئین کے خلاف گئے تو ہم سب نکلیں گے۔ ابھی سے اپنی تیاری کر لیں۔‘

    ’ہم نے الیکشن کی تیاری شروع کر دی ہے۔ کل سے امیدواروں کی نامزدگی کے لیے انٹرویو شروع کروں گا۔۔۔ قوم انھیں الیکشن سے بھاگنے نہیں دے گی۔‘

    چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ’پاکستان کا آئین کہتا ہے اسمبلی تحلیل ہوتے ہی نوے روز میں انتخابات ہوں گے۔ یہ ضمنی الیکشن میں الیکشن کمیشن اور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے باوجود ہار گئے تھے۔

    ’انھیں معلوم ہے کہ الیکشن میں ان کی تباہی ہے، یہ خود کو بچانے کے لیے آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ جب انھوں نے ہماری حکومت گرائی ہم نے کہا عوام کو فیصلہ کرنے دو، تب بھی یہی جج تھے جنھوں نے کہا ہم نے حکومت غلط طریقے سے گرائی۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’یہ حکومت سپریم کورٹ کے از خود نوٹس سے بنی، آج اسی سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لے کر نوے روز میں الیکشن کا حکم دیا، اب کابینہ کہہ رہی ہے کہ ہم سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مانتے۔ فیصلہ اپنے خلاف آنے پر انھوں نے سپریم کورٹ کے ججز اور ان کے بچوں کو بُرا بھلا کہا، انھیں بلیک میل کیا۔ یہ مافیا ہیں۔

    ’جب سپریم کورٹ کے جج ان سے بلیک میل نہیں ہوئے تو ان پر ہر قسم کا حملہ کیا گیا۔ الیکشن میں شکست سے بچنے کے لیے یہ آئین کے خلاف جانے کو تیار ہی۔‘ انھوں نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو کا بیان لیے بغیر کہا کہ وہ ’نانا کے نام پر سیاست کر رہا ہے جسے مارشل لا کی وجہ سے پھانسی ہوئی۔‘

  13. عمران خان عیدالفطر کے بعد انتخابی جلسے شروع کریں گے: اسد عمر

    تحریک انصاف کے چئیر مین عمران خان کی زیر صدارت پارٹی کے سینیئر رہنماؤں کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں ملکی مجموعی سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی۔

    اجلاس میں پی ٹی آئی کے انتخابی جلسوں کے شیڈول پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔

    پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر کا کہنا تھا کہ عمران خان عیدالفطر کے بعد انتخابی جلسوں کا آغاز کریں گے۔ اجلاس میں انتخابی حکمت عملی پر تفصیلی مشاورت کی گئی ہے۔

    اسد عمر کا کہنا تھا کہ اجلاس میں عدلیہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے آئینی طریقہ کار پر بھی غور کیا گیا۔

    انھوں نے کہا ہ ’پی ڈی ایم آئین سے بغاوت کی بات کر رہی ہے۔ عمران خان کے خوف سے یہ اس مقام پر پہنچ گئے کہ آئین بھی توڑ ڈالیں گے۔ آج رات ملک کے 75 شہروں میں حقیقی آزادی کا جشن ہوگا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’پی ڈی ایم کے پاس کوئی بیانیہ نہیں ہے، عدلیہ مخالف بیانیہ برے طریقے سے پٹ چکا ہے۔‘

  14. الیکشن کمیشن نے پنجاب میں الیکشن کا شیڈول جاری کر دیا، پولنگ 14 مئی کو ہوگی

    پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کے انعقاد کا شیڈیول جار ی کر دیا ہے۔

    شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی کے خلاف اپیل 10 اپریل تک کی جاسکتی ہے۔ جبکہ امیدوار 19 اپریل تک کاغذات نامزدگی واپس لے سکتے ہیں۔

    20 اپریل کو امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ کر دیے جائیں گے اور 14 مئی کو پولنگ ہوگی۔

  15. سپریم کورٹ کا فیصلہ ماننے سے انکار کرنے والے وزرا کے خلاف 63 اے کے تحت ریفرنس بھیجیں گے: فواد چوہدری

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ جن وزرا نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو ماننے سے انکار کیا ہے وہ اگر آج رات تک اپنے بیان واپس نہیں لیتے تو ان کے خلاف ریفرنس بھجوایا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ نہ ماننا آئین سے بغاوت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’کل کابینہ میٹنگ ہوئی جس کا اعلامیہ جاری کیا گیا کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں وزیراعظم شہباز شریف وفاقی وزرا اس اعلامیہ کا حصہ ہیں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے خلاف آرٹیکل 63A کے تحت الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیجیں گے‘۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’آج رات تک اگر وزرا نے کابینہ کے اعلامیے سے لا تعلقی کا اظہار نہ کیا تو ان تمام کے خلاف آرٹیکل 63 اے کے تحت ریفرنس بھجوا رہے ہیں کہ انھیں ڈی سیٹ کیا جائے۔ ‘

  16. فروری میں وفاقی حکومت کا قرضہ 54000 ارب روپے سے تجاوز کر گیا, تنویر ملک ، صحافی

    موجودہ سال فروری کے مہینے کے اختتام تک وفاقی حکومت کا قرضہ 54000 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ سال فروری کے مہینے کے اختتام پر وفاقی حکومت کا قرضہ 42000 ارب روپے تھا جس میں ایک سال میں 27 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    تاہم فروری کے مہینے میں موجودہ سال کے پہلے مہینے جنوری کے مقابلے میں معمولی سی کمی ریکارڈ کی گئی جو ایک فیصد تک رہی۔

  17. جس فیصلے کو سپریم کورٹ کے ججز کی اکثریت نہیں مان رہی، قوم کو کہا جا رہا ہے وہ فیصلہ مانا جائے: مریم نواز

    راولپنڈی میں وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ اقلیتی فیصلے کو اکثریتی فیصلے پر مسلط کیا گیا ہے۔

    سپریم کورٹ کے پنجاب میں 14 مئی کو الیکشن کروانے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’جس فیصلے کو سپریم کورٹ کے ججز کی اکثریت نہیں مان رہی، قوم کو کہا جا رہا ہے وہ فیصلہ مانا جائے۔‘

    مریم نواز نے سپریم کورٹ کے ججز میں مبینہ تقسیم کا حوالے دیتے ہوئے چیف جسٹس کی سوموٹو کی پاور کو ’ون مین شو‘ قرار دیا۔

    انھوں نے سوال کیا کہ ’جس آئین کا اطلاق پنجاب کے الیکشن پر ہو رہا ہے وہ خیبرپختونخوا کے الیکشن پر کیوں نہیں ہو رہا، اس سے قوم کو یہ تاثر مل رہا ہے کہ سارا جھگڑا ہی پنجاب کا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ فل کورٹ کا مطالبہ کرنا کوئی ناجائز بات نہیں تھی۔

  18. عدالتوں نے ہمیشہ آمریت کی بجائے جمہوریت کا راستہ روکا: مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ نواز کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا ہے کہ چالیس سال پاکستان میں آمریت رہی ہے جبکہ ملک کا کوئی منتخب وزیراعظم اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکا۔

    ’چار فوجی آمر آئے اور دس، دس سال حکومت کی، کبھی کسی عدالت نے جرات نہیں کی کہ کسی ڈکٹیٹر کے آگے کھڑی ہو۔‘

    راولپنڈی میں وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اُن کا کہنا ہے کہ ’کبھی کسی عدالت نے کسی ڈکٹیٹر کو کٹہرے میں لانے کی ہمت نہیں کی، کبھی کسی عدالت نے کسی ڈکٹیٹر کو نااہل نہیں کیا، جب کیا تو عوام کے منتخب وزرائے اعظم کو کیا۔‘

    مریم نواز نے سوال کیا کہ کیا آپ کا زور صرف عوام کے منتخب نمائندوں پر چلتا ہے؟

    انھوں نے کہا کہ کیا کبھی کسی عدالت کی جانب سے کسی ڈکٹیٹر کو سسیلین مافیا یا گاڈ فادر کا لقب ملا؟

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ عدالتوں نے آمریت کی بجائے جمہوریت کا راستہ ہی روکا۔

  19. جس متنازع انداز سے الیکشن کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ ملک کو افراتفری اور انارکی کی طرف جائے گا: وزیر داخلہ

    وفاقی وزیر داخلہ اور مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ جس متنازع انداز میں الیکشن کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے اس سے ملک افراتفری اور انارکی کی طرف جائے گا۔

    انھوں نے کہا الیکشن کروانے پر سیاسی جماعتوں، الیکشن کمیشن، سپریم کورٹ کے سینیئر ججوں، دفاعی اداروں اور سکیورٹی اداروں تک کسی کو اتفاق نہیں ہے۔

    راولپنڈی میں وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ یہ کہا جا رہا کہ شاید ہم الیکشن سے گھبرا رہے ہیں، ہم نے ہمیشہ الیکشن لڑے ہیں اور ووٹ کی طاقت سے برسرِ اقتدار آئے ہیں، ہم کبھی سیلیکٹ نہیں ہوئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ الیکشن اگر اسی طرح متنازع انداز میں منعقد ہو گیا تو اس ملک کی تباہی کا باعث بنے گا اور ہم اس تباہی کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔

  20. خاتون جج کو دھمکی دینے کا مقدمہ: عمران خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ، قابلِ ضمانت وارنٹ میں تبدیل کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں خاتون جج کو دھمکی دینے کے مقدمے میں عمران خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ کو قابلِ ضمانت وارنٹ میں تبدیل کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا ہے۔

    دو صفحات پر مشتمل یہ تفصیلی فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج سکندرخان نے فیصلہ جاری کیا ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل بھی 24 مارچ کو عمران خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ کو قابلِ ضمانت وارنٹ میں تبدیل کیا گیا۔

    مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے 24مارچ کا سیشن عدالت کا فیصلہ دستیاب تھا اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے فیصلے کے ساتھ ناقابلِ ضمانت وارنٹ کی کوئی کاپی منسلک نہیں۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تفتیشی افسر کے مطابق عمران خان کی رہائش گاہ پر قابلِ ضمانت وارنٹ کی تعمیل بھی نہیں کی گئی۔

    اس میں مزید درج ہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کو ناقابلِ ضمانت کی جگہ پہلے قابلِ ضمانت وارنٹ جاری کرنا چاہیے تھے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اعتراضات پر مبنی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو قابلِ ضمانت وارنٹ میں تبدیل کیا جاتا ہے۔