اسٹیبلشمنٹ بیٹھے، حکومت بیٹھے اور ہم بیٹھیں اور ایک دوسرے کو سپیس دے کر آگے بڑھیں: فواد چوہدری

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سپریم کورٹ کے تمام ججز ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔ اصل واقعات سے توجہ ہٹانے کے لیے چیف جسٹس کے استعفی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔‘
فواد چوہدری نے کہا کہ ’ بات چیت ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس سے ہم آگے بڑھ سکتے ہیں ہم نے پہلے بھی کہا تھا میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ بیٹھے، حکومت بیٹھے اور ہم بیٹھیں اور ایک دوسرے کو سپیس دے کر آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔‘
انھوں نے واضح کیا کہ ’اس کی ایک بنیاد ہے کہ آپ کو الیکشن کا حق تسلیم کرنا پڑے گا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم الیکشن چھوڑ دیں اور باقی باتوں پر بات کریں۔ آپ ہمارے ساتھ بیٹھ کر الیکشن کے اوپر ہمارے اختلافات پر بات کریں اور رول آف دا گیم بنائیں۔‘
فواد چوہدری نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں محسن نقوی کی تعیناتی کے خلاف درخواست الیکشن کمیشن میں دائر کر دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے 372 اراکین میں سے صرف 42 اراکین نے قرارداد منظور کی۔ جس میں رانا ثنا اللہ، وزیر اعظم خواجہ آصف سمیت ان کے اہم اراکین شامل ہی نہیں بلکہ غیر مستقل ممبران نے دستخط کیے۔
فواد چوہدری نے دعوی کیا کہ ’جس جس نے قرارداد پر دستخط کیے وہ اس سے لاتعلقی کا اظہار کرے ورنہ اگلے 48 گھنٹوں میں ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے گا اور وہ سب نااہل ہوں گے۔‘
فواد چوہدری کے مطابق ’ملک کو سیاسی بحران کی جانب دھکیلا جا ہا ہے۔ پاکستان کے مسائل کا حل صرف انتخابات ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’نیشنل سیکیورٹی کونسل کا کل جو اعلامیہ آیا اس میں کہا گیا کہ ہم دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہیں اس لیے الیکشن نہیں کرواسکتے۔ اور کہا گیا کہ 10 ملین ڈالرز بھی نہیں کہ انتخابات ہو سکیں۔ یہ (حکومت) بے شرمی کے ساتھ یہ ڈھونڈورا پیٹ رہے ہیں کہ ہماری یہ حالت ہے۔


