’شہریوں کا بہترین مفاد اس میں ہے کہ تقسیم کے بیج نہ بوئے جائیں‘: جسٹس فائز عیسی کا وضاحتی بیان
آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی کے موقع پر پارلیمان میں منعقدہ کنونشن میں شرکت کرنے کے حوالے سے اپنا وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین کا بنایا جانا ہماری تاریخ کے اہم ترین لمحات میں سے ہے جسے منانا ضروری ہے، آج سے پچاس سال قبل اسی آئین ہی کہ کمی کے سبب ہم اپنا آدھا ملک گنوا بیٹھے تھے۔
لائیو کوریج
توشہ خانہ کی تفصیلات پبلک کرنے کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج
،تصویر کا ذریعہWWW.LHC.GOV.PK
وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کی تفصیلات پبلک کرنے کے سنگل بینچ کے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔
حکومت نے یہ اپیل ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے ذریعے لاہور ہائئ کورٹ میں دائر کی ہے۔ حکومتی اپیل پر جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس رضا قریشی پر مشتمل 2 رکنی بینچ درخواست کی سماعت کرے گا۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے سنگل بینچ نے 1990 سے 2001 تک توشہ خانہ کی تفصیل پبلک کرنےکاحکم دیا تھا۔
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج شام چاربجے،عدالتی اصلاحات بل ایجنڈے میں شامل
،تصویر کا ذریعہNational Assembly
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج شام چار بجے طلب کیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر جاری مشترکہ اجلاس کے ایجنڈے کے مطابق اجلاس آج شام چار بجے منعقد ہو گا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر قانون سینیٹراعظم نذیر تارڑ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل مشترکہ ایوان کے سامنے پیش کریں گے جو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہو چکا ہے۔
واضح رہے چیف جسٹس آف پاکستان کے اختیارات سے متعلق عدالتی اصلاحات بل کو دستخط کے لیے جب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے پاس بھیجا گیا تو انھوں نے اسے اختیارات سے باہر قراردیتے ہوئے نظرثانی کے لیے دو روز قبل واپس پارلیمنٹ بھیج دیا تھا۔
’سیاسی مفادات‘ پر مبنی فیصلے یا ناقص حکمت عملی: پاکستانی معیشت اس نہج تک کیسے پہنچی؟
سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس پر نظر ثانی کی اپیل پر آج سماعت ہو گی
،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN
سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف دائر ریفرنس پر نظر ثانی کی اپیل (کووارنٹو) پر آج سماعت ہو گی۔
چیف جسٹس پاکستان اس اپیل پر ان چیمبر سماعت کریں گے۔ اس حوالے سے اٹارنی جنرل کو نوٹس بھی بھجوا دیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حال ہی میں متعلقہ حکام کو ریفرینس پر نظرثانی درخواست کی پیروی نہ کرنے اور درخواست واپس لینے کی ہدایت کی تھی۔
واضح رہے سابق وزیر قانون فروغ نسیم نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا تھا۔
پنجاب میں انتخابات کے معاملے پر وفاقی کابینہ کا اجلاس آج دوبارہ طلب
،تصویر کا ذریعہAPP
وفاقی کابینہ نے الیکشن کمیشن کو فنڈز فراہمی کے معاملہ پر وزارت خزانہ کو پارلیمان سے رہنمائی حاصل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے لئے طریقہ کار اور ضابطہ کے مطابق سمری تیار کر کے پیرکو کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے۔
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف کی صدارت میں اتوار کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں الیکشن
کے انعقاد پر سپریم کورٹ کے تفصیلی
فیصلے پر غور کیا گیا جبکہ 6 اپریل 2023
کو قومی اسمبلی کی منظور کردہ قرار داد پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
اے پی پی کے مطابق دو
گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس کے بعد کابینہ نے وزارت خزانہ کو اس معاملے پرپارلیمان
سے بھی رہنمائی حاصل کرنے کے لئے طریقہ کار اور ضابطہ کے مطابق سمری تیار کرنے کی
ہدایت کی ہے۔
اجلاس میں طے کیا گیا کہ وفاقی کابینہ کا اجلاس 10 اپریل کو دوبارہ طلب کیا جائے تاکہ مستقبل کی حکمت عملی سے متعلق فیصلہ کیا جاسکے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق وفاقی کابینہ نے اتوار کو اپنے اجلاس میں وزارت خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ سپریم کورٹ کے ججوں کے حالیہ فیصلوں اور عدالتی احکامات سے متعلق معاملات پر پارلیمنٹ سے رہنمائی لینے کے لیے بھی سمری تیار کی جائے۔
اجلاس میں تین چار کے تناسب سے آنے والے عدالتی حکم پر غور کیا گیا جبکہ 6 اپریل 2023 کو قومی اسمبلی کی منظور کردہ قرار داد پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
کچلاک، بلوچستان: پولیس کے ایگل سکواڈ پر حملہ، دو پولیس اہلکار ہلاک اور دو زخمی, محمد کاظم، بی بی اردو کوئٹہ
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے کچلاک میں ایک حملے میں دو پولیس اہلکار ہلاک اوردو زخمی ہو گئے جبکہ جوابی کارروائِی میں ایک حملہ آور بھی مارا گیا ہے۔
کچلاک پولیس کے ایک اہلکارنے فون پر بتایا کہ یہ حملہ کچلاک کے علاقے کلی اسپین میں گشت پر مامور پولیس کے ایگل سکواڈ پرکیا گیا۔
حملے میں دو اہلکارہلاک ہو گئے جن کی شناخت جلات خان اورعبدالجبار کے ناموں سے ہوئی ہے۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ حملے میں دو اہلکارزخمی بھی ہوئے جن کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
پولیس اہلکار نے بتایا کہ پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور بھی مارا گیا۔
دریں اثنا وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو اور وزیر داخلہ میرضیا اللہ لانگو نے کچلاک تھانہ کی حدود میں گشت پر مامور ایگل سکواڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعہ کی مزمت کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس طرح کی بزدلانہ کاروائیوں سے سکیورٹی فورسز کے حوصلے پست نہیں کیے جاسکتے۔
گزشتہ منگل کو بھی ایک حملے میں کچلاک کے نواحی علاقے میں سیکورٹی فورسز کے دواہلکار مارے گئے تھے۔
بریکنگ, اگر ہمارے ہاتھ باندھ دیے گئے تو چپ نہیں بیٹھیں گے: عمران خان
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے اگر
ہمارے ہاتھ باندھ دیےگئے تو ہم چپ نہیں بیٹھیں گے۔
سوشل میڈیا پر خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا ’مجھ پر 144
کیسز بنائے گئے ہیں، مجھ پر غداری کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے، ہم انتشار کیوں پھیلائیں
گے ہم تو الیکشن چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ لوگ مجھے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں، یہ
لوگ مجھے مرتضیٰ بھٹو کی طرح قتل کرنا چاہتے تھے، ان کو ڈر تھا کہ مجھے جیل میں
ڈال دیا تو میری مقبولیت میں مزید اضافہ ہو گا اس لیے یہ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے۔
عمران خان کا کہنا تھا جبر اور ظلم سے سیاسی پارٹیاں ختم نہیں
ہوتیں لیکن ملک کو نقصان ہوتا ہے، الیکشن کے بغیر کوئی راستہ نہیں ہے۔
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ ازخود نوٹس کی وجہ
سے تو ہماری حکومت گئی تھی اور اس وقت بھی یہ ہی ججز تھے، جسٹس سسٹم میں کسی کو
اعتماد نہیں ہو گا تو کون سرمایہ کاری کرے گا؟
عمران خان کا کہنا تھا اگر الیکشن نہ کرائے گئے تو ہم سڑکوں
پر نکلیں گے۔
عمران خان کی حکومت کے خاتمے کا ایک سال: سیاسی میدان میں کس نے کیا کھویا اور کیا پایا؟
حکومت کے پاس نہ معیشت کا کوئی پلان ہے اور نہ ہی فکر، یہ صرف مقدمات ختم کروانے میں لگے ہیں: عمران خان
،تصویر کا ذریعہPTI Official
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ موجودہ
حکومت نے ایک سال میں ملکی معیشت کے حوالے سے نہ کوئی پلان دیا اور نہ ہی انھیں
عام آدمی اور ملکی معیشت کی کوئی فکر ہے۔ یہ صرف اپنے خلاف مقدمات ختم کروانے میں
لگے ہیں۔
سوشل میڈیا کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک
میں دہشت گردی کے دوبارہ آغاز کی بڑی وجہ اس حکومت کی نااہلی ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ جب افغانستان میں طالبان حکومت نے
ٹی ٹی پی کے لوگ واپس لینے کا کہا تو ان کے پاس کوئی لائحہ عمل ہی نہیں تھا کہ
انھیں واپس کیسے بسایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حکومت نے 16 سو ارب کے مقدمات ختم
کروائے ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت میں سب سے زیادہ نیب نے ریکوری
کی۔ انھوں نے حکومت میں آتے ہی ایف آئی اے اور نیب کو ختم کیا اور ہمیں سیاسی
مقدمات کا نشانہ بنایا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے پارلیمنٹ اور
الیکشن کمیشن کو ختم کر دیا۔ اس حکومت نے پی ٹی آئی کا بلیک آؤٹ شروع کر دیا اور
انھوں نے میڈیا کو کنٹرول کیا۔ ایک نامعلوم افسر کی میڈیا مالکان کو کالیں جاتی
تھی کہ عمران خان کو نہیں دکھانا۔
عمران خان نے اپنے دور حکومت میں میڈیا کی بھرپور آزادی کا
دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ میں چیلینج کرتا ہوں کہ ملک میں میڈیا سب سے زیادہ آزاد
تھا۔
انھوں نے کہا کہ مشرف دور کے مارشل لا میں بھی میڈیا اور سیاسی
مخالفین پر اتنا ظلم نہیں کیا گیا جتنا اس سال کے دوران ہوا۔ یہ سوشل میڈیا ورکروں اور کارکنوں کو اغوا کر رہے ہیں۔ بدترین
تشدد کیا جا رہا ہے۔
بریکنگ, مجھے ہٹا کر شہباز شریف کو میری جگہ ایک سازش کے تحت لایا گیا: عمران خان
،تصویر کا ذریعہPTIOFFICIAL
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران
خان کا کہنا ہے کہ ایک سال پہلے ہماری حکومت ایک سازش کے تحت گرائی گئی تھی۔
انھوں نے سوشل میڈیا پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’مشرق وسطیٰ
میں ایک اجلاس کے تحت ایک غیر ملکی سربراہ نے مجھے بتایا کہ میری حکومت گرانے کی
سازش ہو رہی ہیں لیکن مجھے ان کی بات پر یقین نہیں آیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت گرانے کی سازش امریکہ
سے نہیں بلکہ ملک سے ہی شروع ہوئی تھی جب حسین حقانی کو ’ہائر‘ کیا گیا کہ وہ یہ پروپیگنڈہ
کر سکے کہ میں امریکہ کے مخالف جبکہ جنرل قمر جاوید باجوہ امریکہ حامی ہیں۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں مشکل حالات میں حکومت ملی
تھی اور حکومت کے ایک سال بعد ہی ملک میں کورونا آ گیا اور دو سال لگے کورونا میں۔
ہم نے کورونا میں بہتر حکمت عملی اپنائی کیونکہ دنیا کی معیشت منفی ہو گئی تھی۔
دنیا بھر کے اداروں نے کورونا پر ہماری حکمت عملی کی تعریف
کی۔ حکومت کے آخری برس ملکی معیشت اوپر گئی۔
عمران خان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کورونا
میں یہ حکومت ہوتی تو لوگ بھوکے مر جاتے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے سمارٹ لاک ڈاؤن پر ان کی تنقید
برداشت کی لیکن عوام کو بھوکا نہیں مرنے دیا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا کے بعد دنیا بھر کی معیشتوں
کو مہنگائی کا سامنا تھا، ہمیں مہنگا پیٹرول مل رہا تھا، ہم نے بہت سی مشکلات کا
سامنا کیا اور انھیں کسی بحران کا سامنا نہیں رہا۔
وسعت اللہ خان کا کالم: کیا پاکستان کو واقعی چڑیا گھر کی ضرورت ہے؟
علی امین گنڈاپور ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈاپور کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے پراسیکیوٹر کی درخواست پر ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے علی امین گنڈا پور کو پیر کے روز انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کرنے کا حکم بھی دے دیا۔
پراسیکیوٹر عدنان کی جانب سے پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔ علی امین گنڈاپور کو کل ڈی آئی خان سے ایک روزہ راہداری ریمانڈ پر اسلام آباد پولیس نے تحویل میں لیا تھا۔
بغاوت پر اکسانے اور دہشتگردی کی دفعات کے تحت علی امین گنڈاپور پر تھانہ گولڑہ میں مقدمہ درج ہے۔
علی امین گنڈاپور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں ڈیوٹی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش
تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈاپور کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں ڈیوٹی جوڈیشل مجسٹریٹ نوید خان کی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔
علی امین گنڈاپور کے وکیل بابر اعوان اور راجہ ظہور الحسن عدالت میں پیش ہوئے۔ پراسیکیوٹر عدنان کی جانب سے پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کر دی گئی۔
پراسیکوٹرعدنان نے عدالت میں ایف آئی آر پڑھ کر سناتے ہوئے کہا ’تمام دفعات ناقابل ضمانت ہیں۔علی امین گنڈاپور نے پولیس کو دھمکایا ہے کہ وہ اپنا کام نہ کریں،جوڈیشل کمپلکس کے سامنے جو واقعہ ہوا وہ بھی اسی کا ایک شاخسانہ ہے۔‘
علی امین گنڈاپور کے وکیل بابر اعوان نے دلائل میں کہا کہ ’ایف آئی آر میں درج تاریخ وقوع 2022 درج ہے۔ ایک مجسٹریٹ ہیں جس نے مقدمہ درج کروایا ہے۔مجسٹریٹ خود ریمانڈ دیتے ہیں اور جوڈیشل کام سر انجام دیتے ہیں۔‘
بابر اعوان کے مطابق ’پولیس والا جو دھمکی سے ڈارا اس نے بھی مقدمہ نہیں دیا۔ اس سے قبل عدالتوں کے ججوں کی گفتگو لیک ہوئی اور ہزاروں آڈیو لیکس ہوئی کتنے مقدمے ہوئے۔ایک حاضر سروس جج کی آڈیو لیک ہوئی کیا مقدمہ درج ہوا۔وزیراعظم کی بھتیجی کی آڈیو آئی جس میں کہ رہی ہیں کس اینکر کو لگانا ہے اور کس کو نہیں۔‘
بابر اعوان نے دلائل میں مزید کہا کہ ایک ایپ ہے جس میں کوئی بھی کچھ ریکارڈ کر کے کسی کی بھی آواز بنا سکتا ہے۔ اس مقدمے میں دہشتگردی کی دفع ہے جس پر اس کی عدالت میں پیش کرنا چاہئیے۔
وکیل بابر اعوان نے علی امین گنڈاپور کو کیس سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کر دیاور کہا کہ ’جرنیل(ریٹائرڈ) امجد شعیب،صحافی صدیق جان اور عمران ریاض کیس بھی اسی طرح کے تھے جن سے ڈسچارج ہوئے،میرٹ پر بات نہیں کرنا چاہتا آپ نے دیکھنا ہے کہ کیس سے ڈسچارج کرنا ہے یا ریمانڈ دینا ہے۔
واضح رہے کہ رہنما تحریک انصاف علی امین گنڈاپور کو کل ڈی آئی خان سے ایک روزہ راہداری ریمانڈ پر اسلام آباد پولیس نے تحویل میں لیا گیا تھا۔
قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق سمیت اہم امور پر غور کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس آج طلب
،تصویر کا ذریعہPID
وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس آج طلب کر لیا گیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے حوالے سے قانونی مشاورت اور حکمت عملی طے کی جائے گی۔
آج کے اس ہنگامی اجلاس میں دو روز قبل ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق بھی کی جائے گی۔
اجلاس میں عدالتی اصلاحات بل کی واپسی اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کروانے پر بھی بات چیت ہو گی۔
’کیا پیپلز پارٹی اور اے این پی فیڈریشن ختم کر کے ون یونٹ بحال کرنا چاہتے ہیں؟‘ فواد چوہدری
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے الزام عائد کیا ہے کہ پیپلزپارٹی اور اے این پی کا مؤقف کہ ملک میں انتخابات صرف ایک ساتھ ہو سکتے ہیں دراصل فیڈریشن ختم کر کے ون یونٹ دوبارہ قائم کرنے کے مترادف ہے۔
انھوں نے ٹویٹ کیا کہ ’علیحدہ انتخابات کا اصول فیڈریشن کے بنیادی اصولوں میں ہے، کیا پیپلز پارٹی اور اے این پی فیڈریشن ختم کر کے ون یونٹ بحال کرنا چاہتے ہیں؟‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
صدر کی جانب سے پارلیمان کا منظور کردہ بل واپس بھجوائے جانا بدقسمتی ہے: شہباز شریف
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ صدر عارف
علوی کی جانب سے پارلیمان سے منظور ہونے والا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل
واپس بھیجے جانا بدقستمی ہے۔
یاد رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیف
جسٹس آف پاکستان کے اختیارات سے متعلق قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہونے والا
سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 اختیارات سے باہر قرار دیتے ہوئے نظرثانی
کے لیے واپس پارلیمنٹ کو بھیج دیا ہے۔
وزیر اعظم پاکستان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ
’صدر علوی کی جانب سے پارلیمان سے منظور کردہ سپریم کورٹ بل واپس بھجوائے جانا
بدقسمتی ہے۔ انھوں نے پی ٹی آئی کے ایک کارکن کے طور پر کام کر کے عہدہ صدارت کی
توہین کی ہے، وہ اپنے عہدے کے فرائض اور آئین سے زیادہ عمران خان کو اہمیت دیتے
ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈاپور اسلام آباد پولیس کے حوالے
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈا پور کو اسلام
آباد پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
گذشتہ روز جوڈیشل مجسٹریٹ نے بھکر اور اسلام آباد پولیس کی
استدعا مسترد کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کو چھ روز کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا
تھا۔
تاہم سنیچر کو اسلام آباد پولیس تھانہ گولڑہ میں درج ایک
اور مقدمے میں علی امین گنڈا پور کو لینے کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان کی عدالت پہنچی۔
جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے علی امین گنڈاپور کو اسلام آباد
پولیس کے حوالے کرنے کا حکم جاری کیا، عدالتی فیصلے پر علی امین گنڈا پور کے وکیل
نے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے دوبارہ رجوع کیا اور علی امین گنڈا پور کی گرفتاری
اور اسلام آباد منتقلی پر پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا۔
پولیس علی امین گنڈاپور کو سینٹرل جیل ڈی آئی خان سے لے کر
اسلام آباد روانہ ہو گئی، علی امین گنڈا پور کو اسلام آباد پہنچتے ہی عدالت میں پیش
کیا جائے گا۔
متکبرانہ آمریت کی دھند میں لپٹے کسی کمرہ عدالت سے نکلے فیصلے آئین کو برطرف نہیں کر سکتے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ, شہزاد ملک، بی بی سی نامہ نگار
،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN
سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کی جانب سے حافظ قرآن کو میڈیکل داخلہ میں اضافی نمبر دینے کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس میں ان کے فیصلے پر کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین سپریم کورٹ کے بنچ یا ججوں کو اختیار نہیں دیتا کہ سپریم کورٹ کے کسی حکم کے خلاف اپیل کا فیصلہ کریں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے تحریر کردہ چھ صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا ہے جس میں انھوں نے لکھا کہ مقدمات کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں ہوگا تو عوام کا اعتماد عدلیہ پر نہیں ہو گا۔
اپنے فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے لکھا ہے کہ رجسٹرار سپریم کورٹ عشرت علی نے وفاقی حکومت کی جانب سے عہدے سے ہٹائے جانے کے باوجود 6 رکنی بنچ کی تشکیل کے روسٹر پر دستخط کرکے مس کنڈکٹ کیا۔
واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس مقدمے کی سماعت کے دوران حکم دیا تھا کہ سو موٹو اختیارات پر کہا تھا کہ شہریوں کے مفاد کے لیے ضروری ہو گا کہ ایسے تمام مقدمات کی سماعت ملتوی کی جائے جن کا نوٹس آئین کی دفعہ 184 تین کے تحت لیا گیا ہو جب تک آئین کی دفعہ 191 کے تحت ضروری قوائد نہ بنائے جائیں۔
تاہم بعد میں رجسٹرار سپریم کورٹ نے وضاحت کی تھی کہ اس فیصلے میں شامل نوٹ سپریم کورٹ کی قانونی حیثیت نہیں رکھتے۔
تاہم جسٹس قاضی فائز عیسی نے ہفتے کے دن جاری کردہ فیصلے میں کہا کہ رجسٹرار سپریم کور ٹ نے ازخود نوٹس کیسز کی سماعت روکنے کے فیصلے کو غیر قانونی طور پر سرکلر سے ختم کیا اور جب یہ اندازہ ہوا کہ رجسٹرار کا سرکلر غیر قانونی غیر آئینی ہے تو 6 رکنی لارجربینچ تشکیل دیا گیا۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے لکھا کہ غیر قانونی سرکلر پر چیف جسٹس کو بھی خط لکھا لیکن کوئی جواب نہ ملا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلے میں لکھا کہ چیف جسٹس کیلئے استعمال کیا گیا لفظ ماسٹر آف روسٹرز آئین میں کہیں نہیں ملتا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مطابق دائرہ اختیار کے بغیر جاری کردہ فیصلے کا کوئی قانونی اثر نہیں ہوتا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا کہ متکبرانہ آمریت کی دھند میں لپٹے کسی کمرہ عدالت سے نکلے فیصلے آئین کو برطرف نہیں کر سکتے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا کہ عدلیہ کی ساکھ کو مجروح کیا گیا تو عدلیہ اور پاکستان کی عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کل وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا، اہم فیصلے متوقع
پاکستان
کے وزیر اعظم نے اتوار کو وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔
وزیر
اعظم ہاؤس سے جاری مراسلے کے مطابق اتوار کی دوپہر دو بجے اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس
میں قانونی مشاورت اور سپریم کورٹ فیصلے کے حوالے سے حکمت عملی پر بات ہو گی۔
اجلاس
قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کرے گے اور اجلاس میں عدالتی اصلاحات بل کی
واپسی اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کروانے پر بھی بات ہو گی۔
اس
کے علاوہ وزیر اعظم کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔
بریکنگ, آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر کی وجہ حکومت نہیں، دوست ملک سے امداد کا انتظار ہے، اسحاق ڈار
پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ
حکومت آئی ایم ایف سے معاہدے کے لیے تمام شرائط پوری کر چکا ہے تاہم ایک دوست ملک
کی جانب سے امداد کی تصدیق کا انتظار ہے۔
سنیچر کو ایک ویڈیو کانفرنس میں وزیر خزانہ نے کہا
کہ یہ ابہام پھیلایا جا رہا ہے کہ مجھے آئی ایم ایف سے ملاقات کے لیے جانا تھا۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت ملک کے سیاسی حالات میں ایک
بحران ہے اور سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت الیکشن
کمیشن کو 21 ارب روپے پنجاب الیکشن کے لیے جاری کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جو تاریخ دی گئی، وہ دس اپریل
تک کی ہے جب یہ پیسے وفاقی حکومت کو الیکشن کمیشن کو دینا ہیں۔ گیارہ کو الیکشن کمیشن
کو ہدایت ہے کہ وہ عدالت کو بتائے کہ پورے پیسے ملے ہیں یا نہیں۔ ان حالات میں
وزارت خزانہ کی اہم ذمہ داری ہے۔‘
اسحاق ڈار نے کہا کہ انھوں نے وزیر اعظم کی ہدایت
پر اپنے دورے کے شیڈول کو تبدیل کیا اور اب ان کی تمام طے شدہ ملاقاتیں ورچوئل ہوں
گی تاہم گورنر سٹیٹ بینک اور پاکستان کا وفد وہاں موجود ہوں گے۔ ’حیرانگی کی بات
ہے کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ آئی ایم ایف نے منع کر دیا جانے سے۔ آئی ایم ایف مجھے
منع نہیں کر سکتا کیوں کہ پاکستان ایک رکن ملک ہے۔‘
اسحاق ڈار نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود پاکستان
کی جانب سے کسی ادائیگی میں تاخیر نہیں کی۔ 11 ارب ڈالر کے قریب ادائیگیاں ہمپچھلے کچھ عرصے میں کر چکے ہیں۔
آئی ایم ایف سے معاہدے پر تاخیر کی وضاحت کرتے ہوئے
اسحاق ڈار نے کہا کہ آئی ایم ایف سے کافی مشکل مذاکرات ہوئے لیکن مکمل ہوئے۔ اور
اس کے نتیجے میں ہم نے کئی اقدامات لیے جو ان کا مطالبہ تھا جس میں ایک سو ستر ارب
روپے کے ٹیکس لگانا شامل تھے۔ وہ اقدامات مکمل ہو چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اس سے پچھلے جائزے میں، جب حکومت
نئی نئی آئی تھی، تب دو دوست ممالک نے بیرونی ادائیگیوں میں امداد کا لکھ کر آئی ایم
ایف کو دیا تھا۔
ایک دوست ملک نے آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق دو
ارب ڈالر کی تصدیق کر دی۔ ایک دوست ملک کی جانب سے ایک ارب ڈالر کی تصدیق کا
انتظار ہے۔‘
اس کے بعد سٹاف لیول معاہدے کے لیے تمام شرائط پوری
ہو جائیں گی۔