پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ 90 دنوں میں انتحابات نہ ہوئے تو ملک کے لیے خطرناک ہو گا۔
عمران خان نے سنیچر کی رات سوشل میڈیا پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس وقت سب سے زیادہ حملے قانون کی حکمرانی پر ہو رہے ہیں۔
انھوں نے حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے اجلاس میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ پر اعتماد نہ کرنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب اکٹھے ہو کر الیکشن سے خوفزدہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی 90 دنوں کا کہہ کر آئین سے انحراف کیا گیا اور پاکستان 11 سال کا دور بھگت چکا ہے۔
لندن میں بیٹھ کر فیصلے کرنے والے نواز شریف کون ہوتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے آئین کی تشریح کرنی ہے۔ یہ حکومت اگر اس عدالت کا فیصلہ نہیں مانتی تو اس کا مطلب کیا ہے۔
یہ الیکشن اور سیاسی موت کے خوف میں ہیں۔ اگر فیصلہ ان کے حق میں ہو تو ٹھیک ورنہ یہ تسلیم نہ کرنے کا کہتے ہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے خطرہ ہے کہ یہ حکومت اکتوبر میں بھی الیکشن نہیں کروائیں گے۔ ہمیں یہ بتا دیں کہ اکتوبر میں الیکشن ہونے سے پاکستان کو کیا فائدہ ہو گا؟
عمران خان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی نگراں حکومت 90 دن میں ختم ہو جائے گی تو یہ کیس حیثیت سے ہم پر حکومت کرے گی۔ نگراں حکومتیں روزانہ کی بنیاد پر ہمارے کارکنوں کو اٹھا رہی ہے۔
ہماری ریلیوں اور گھروں پر حملے ہو رہے ہیں۔ میرے گھر پر حملہ کیا گیا۔ اور یہ ہمیں انتشار پھیلانے کا کہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جو حکومت الیکشن چاہتی ہیں وہ انتشار کیوں چاہیے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے کارکنوں کو پولیس اٹھا کر نامعلوم افراد کو دے دیتی ہے جو ہمارے لوگوں پر تشدد کرتی ہے۔
یہ حکومت مجھے الیکشن تک جیل میں رکھنا چاہتی تھی۔
’یہ مجھے اٹھا کر جیل میں رکھنا چاہتے تھے اور لوگ ڈرے ہوئے تھے کہ میری جان کو خطرہ ہے۔ یہ جرائم پیشہ افراد کی حکومت ہے اور یہ مجھے مارنا چاہتے تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جب ہم نے اپنی صوبائی اسمبلیاں تحلیل کی تو اس وقت ہم نے قانونی ماہرین سے یہ جائزہ کیا کہ کوئی ایسا طریقہ تو نہیں کہ حکومت انتخابات نہ کروائے جس پر تمام قانونی ماہرین نے کہا کہ آئین و قانون کے مطابق 90 دن میں الیکشن ہونا لازمی ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ جن ممالک میں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے وہ قومیں ترقی کر جاتی ہیں اور دیگر پیچھے رہ جاتی ہیں۔ انھوں نے دنیا کی قانون کی حکمرانی اور کرپشن انڈیکس کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان اور ڈنمارک کا موازنہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ قانون کی حکمرانی سے متعلق 140 ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 129واں ہے جبکہ ڈنمارک پہلے نمبر پر ہے۔
اسی طرح کرپشن انڈیکس میں 180 ممالک میں سے پاکستان کا نمبر 140 پر ہے جبکہ ڈنمارک پہلے نمبر پر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جہاں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے وہاں خوشحالی ہوتی ہے۔