آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ہم نے کبھی نہیں کہا اسٹیبلشمنٹ اپنا راستہ پکڑے مگر سول ملٹری تعلق میں توازن ہونا چاہیے: عمران خان

سابق وزیر اعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ کوئی انتظامی نظام اس وقت کام نہیں کر سکتا جب ذمہ داری منتخب حکوت کی ہو مگر اختیار کہیں اور ہو۔ ادھر لندن سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ’ون مین شو ہے، ان ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنا چاہیے۔‘

لائیو کوریج

  1. عمران خان کے خلاف درج 121 مقدمات کے اخراج کے لیے درخواست پر سماعت آج لاہور ہائی کورٹ میں ہو گی

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف درج 121 مقدمات کے اخراج کے لیے دائر درخواست پر آج لاہور ہائی کورٹ میں سماعت ہو گی۔

    جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کا 2 رکنی بینچ 3 اپریل کو عمران خان کی درخواست پر سماعت کرے گا۔

    عمران خان نے آئینی درخواست بیرسٹر سلمان صفدر کی وساطت سے دائر کی تھی جس میں وفاق، حکومت پنجاب، ایف آئی اے اور نیب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ’حکومت کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے، سیاسی بنیادوں پر ایک ہی نوعیت کے مقدمات درج کر کے ہراساں کیا جارہا ہے۔‘

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ ان تمام مقدمات کو خارج کرنے کا حکم دے۔

    درخواست کے مطابق ’عدالت عمران خان کے خلاف درج تمام مقدمات کا تفصیلی ریکارڈ طلب کرے اور کیس کے حتمی فیصلے تک درج مقدمات میں کارروائی سے روکا جائے۔‘

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت گرفتار تمام سیاسی کارکنوں کو رہا کرنے کا حکم بھی دے۔

  2. آج سپریم کورٹ میں وہی افراد داخل ہو سکیں گے جن کے پاس اجازت نامہ ہو گا: اسلام آباد پولیس

    ترجمان اسلام آباد پولیس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آج سپریم کورٹ آف پاکستان میں وہی افراد داخل ہوسکیں گے جن کے مقدمات زیرسماعت ہوں گے یا جن کو سپریم کورٹ انتظامیہ کی طرف سے اجازت نامہ جاری ہوگا۔

    پولیس کے بیان کے مطابق قانون کا احترام سب پر لازم ہے اور اس کا نفاذ برابری کی سطح پر کیا جائے گا۔

    پولیس نے واضح کیا ہے کہ ریڈ زون میں تعینات پولیس اور دیگر معاون قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور شہری کسی بھی مشکوک سرگرمی کے متعلق اطلاع پکار 15 پر دیں۔

    واضح رہے کہ دو روز کے وقفے کے بعد آج سپریم کورٹ میں انتحابات کے التوا سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت بھی مقرر ہے۔

  3. پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن التوا ازخود نوٹس کی سماعت آج ساڑھے گیارہ بجے ،31 مارچ کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری

    سپریم کورٹ نے الیکشن التوا سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی 31 مارچ کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

    حکم نامے کےمطابق ’اٹارنی جنرل پاکستان سے عدالت نے گزشتہ سماعت پر ان چند سوالات کے جوابات طلب کیے جو الیکشن کمیشن نے سکیورٹی اور مالی مسائل کے حوالے سے عدالت کے سامنے پیش کئےتھے۔‘

    حکم نامے کے مطابق ’اٹارنی جنرل نے جوابات کے لیے وقت مانگا اور عدالت نے ان کی استدعا قبول کی۔‘

    حکم نامے کے مطابق ’سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری خزانہ بھی آئندہ سماعت کو پیش ہوں جو پیر تین اپریل کو صبح 11:30 بجے ہو گی۔‘

    تحریری حکم نامہ چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

  4. حکومت سے مزاکرات کا حصہ نہیں بنوں گا، عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت سے مزاکرات صرف الیکشن پر ہی ہو سکتے ہیں اور ان مزاکرات کا بھی وہ خود حصہ نہیں بنیں گے۔

    اردو نیوز کو دیے جانے والے انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں نے ان کے ساتھ نہیں بیٹھنا۔ ہماری ٹیم بیٹھے گی۔ لیکن بات صرف الیکشن کی ہے۔‘

    ’گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی بڑی بڑی باتیں چھوڑیں، پہلے تو آئیں الیکشن کے اوپر۔ اگر آپ الیکشن ہی نہیں کروا سکتے تو کون سا ڈائیلاگ کرنا ہے کسی سے۔‘

    ’اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ 90 دن میں الیکشن کا ہونا ہے۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’اگر نوے دن میں نہیں ہوتے تو پھر اکتوبر میں کیوں ہوں؟ پھر کہیں گے اگلے سال بھی کیوں ہوں؟ پھر تو جو طاقت ور فیصلہ کرے گا وہی ہو گا۔‘

    پی ڈی ایم کی جانب سے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ پر عدم اطمینان کے اظہار پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ ماننے کا مطلب ہو گا کہ ملک میں آئین اور قانون ختم ہو گیا۔

    ’اس کا مطلب ہے کہ آپ فیصلہ کریں گے کہ کون سی سپریم کورٹ کا فیصلہ ماننا ہے؟‘

    انھوں نے کہا کہ ’اسی سپریم کورٹ نے ہمارے خلاف فیصلہ دیا جب ہم نے الیکشن کا اعلان کیا اور شہباز شریف وزیر اعظم بنا، ہم نے تو فیصلہ قبول کیا۔‘

    ’تب وہ سپریم کورٹ ان کے لیے ٹھیک تھا۔ آج ان کو لگ رہا ہے کہ ان کے خلاف جائے گا، تو یہ سپریم کورٹ کو متنازع بنا رہے ہیں۔‘

  5. تحریک انصاف کا مسلم لیگ ن کی پارٹی رجسٹریشن منسوخ کرنے کے لئے ریفرنس پر غور: فواد چوہدری

    تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی مسلم لیگ ن کی پارٹی رجسٹریشن منسوخ کرنے کے لئے ریفرنس دائر کرنے پرغور کررہی ہے۔

    فواد چوہدری نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’الیکشن ایکٹ کی صریحاْ خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک مفرور ملزم اس پارٹی کے فیصلے کر رہا ہے اور پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کو تسلیم نہیں کرتے یہ اعلان بذات خود آئین کے آرٹیکل 6 کی زد میں ہے۔‘

    واضح رہے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی سنیچر کی رات سوشل میڈیا پر خطاب میں حکومتی اتحاد کے اجلاس میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ پر اعتماد نہ کرنے پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ یہ سب اکٹھے ہو کر الیکشن سے خوفزدہ ہیں۔

  6. بلوچستان کوخیبرپختونخوا اوراسلام آباد سے ملانے والی ژوب دھانہ سر شاہراہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند، امدادی کارروائیاں جاری, محمد کاظم، کوئٹہ

    بلوچستان کوخیبرپختونخوا اوراسلام آباد سے ملانے والی ژوب دھانہ سر شاہراہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہوگئی ہے۔

    بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ بارشوں کی وجہ سے ہوئی۔

    نیشنل ہائی ویز اتھارٹی نارتھ کے جنرل مینیجرآغاعنایت اللہ کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ ژوب سے 87کلومیٹردھانہ سر کے علاقے میں ہوئی جس کے نتیجے میں بڑے بڑے پتھر شاہراہ پرآ گئے۔

    ان کا کہنا ہے کہ شاہراہ سے پتھروں کو ہٹانے کے لیے اس علاقے میں ہیوی مشنری پہنچا دی گئی تاہم شاہراہ کو کلیئر کرنے کے لیے 24 سے ذیادہ گھنٹے لگ سکتے ہیں۔

    کوئٹہ میں پی ڈی ایم اے کے کنٹرول کے ایک اہلکار نے بتایا کہ لینڈسلائیڈنگ کے باعث چارافراد معمولی زخمی ہوئے تھے جن کومرک 1122نے ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔

    دوسری جانب این ایچ اے کے حکام نے ژوب اور قلعہ سیف اللہ کی انتظامیہ سے درخواست کی ہے وہ شاہراہ کو کلیئر کرانے تک ٹریفک کو ڈیرہ اسماعیل کی جانب نہیں دیں۔

  7. چیف جسٹس اور دیگر دو ججوں کے خلاف ریفرنس لانے کی تجویز زیر غور ہے : وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور دیگر دو ججوں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

    انڈیپینڈینٹ اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رانا ثنا اللہ نے کہا ’ پہلے سپریم کورٹ کا نو رکنی بینچ بنا جو اب تین رکنی رہ گیا ہے، تینوں ججز نے فل کورٹ کی استدعا مسترد کردی اور اپنے ساتھی اکثریتی ججز کی بات بھی تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔‘

    رانا ثنا اللہ کے مطابق ’ہمارے پاس کوئی صورت نہیں کہ ہم اپنا احتجاج نوٹ کرائیں۔ چیف جسٹس سمیت تین ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ ابھی ہوا نہیں اور زیر غور ہے لیکن یہ فیصلہ ہو بھی سکتا ہے۔‘

    رانا ثنا اللہ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تینوں ججز کا مسلم لیگ ن لیگ کے خلاف فیصلے دینے کا لمبا ریکارڈ ہے۔

    ’ایک فیصلہ ایسا بھی ہے جسے صرف مسلم لیگ ن ہی غلط نہیں کہتی، بلکہ اس فیصلے کو ہر وہ شخص جو قانون کو تھوڑا بہت جانتا ہے آئین ری رائٹ کرنے کے مترادف قراردیتا ہے اور وہ فیصلہ 63 اے کے متعلق ہے جس کے تحت پنجاب میں ن لیگ کی حکومت ختم کی گئی۔‘

    وزیرداخلہ کا کہنا تھاکہ اب بھی ایسا محسوس ہورہا ہے تینوں جج صاحبان ہر قیمت پر اس فیصلے کو خودکرنے پر بضد ہیں۔

  8. 90 دنوں میں انتحابات نہ ہوئے تو ملک کے لیے خطرناک ہو گا: عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ 90 دنوں میں انتحابات نہ ہوئے تو ملک کے لیے خطرناک ہو گا۔

    عمران خان نے سنیچر کی رات سوشل میڈیا پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس وقت سب سے زیادہ حملے قانون کی حکمرانی پر ہو رہے ہیں۔

    انھوں نے حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے اجلاس میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ پر اعتماد نہ کرنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب اکٹھے ہو کر الیکشن سے خوفزدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی 90 دنوں کا کہہ کر آئین سے انحراف کیا گیا اور پاکستان 11 سال کا دور بھگت چکا ہے۔

    لندن میں بیٹھ کر فیصلے کرنے والے نواز شریف کون ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے آئین کی تشریح کرنی ہے۔ یہ حکومت اگر اس عدالت کا فیصلہ نہیں مانتی تو اس کا مطلب کیا ہے۔

    یہ الیکشن اور سیاسی موت کے خوف میں ہیں۔ اگر فیصلہ ان کے حق میں ہو تو ٹھیک ورنہ یہ تسلیم نہ کرنے کا کہتے ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے خطرہ ہے کہ یہ حکومت اکتوبر میں بھی الیکشن نہیں کروائیں گے۔ ہمیں یہ بتا دیں کہ اکتوبر میں الیکشن ہونے سے پاکستان کو کیا فائدہ ہو گا؟

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی نگراں حکومت 90 دن میں ختم ہو جائے گی تو یہ کیس حیثیت سے ہم پر حکومت کرے گی۔ نگراں حکومتیں روزانہ کی بنیاد پر ہمارے کارکنوں کو اٹھا رہی ہے۔

    ہماری ریلیوں اور گھروں پر حملے ہو رہے ہیں۔ میرے گھر پر حملہ کیا گیا۔ اور یہ ہمیں انتشار پھیلانے کا کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو حکومت الیکشن چاہتی ہیں وہ انتشار کیوں چاہیے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے کارکنوں کو پولیس اٹھا کر نامعلوم افراد کو دے دیتی ہے جو ہمارے لوگوں پر تشدد کرتی ہے۔ یہ حکومت مجھے الیکشن تک جیل میں رکھنا چاہتی تھی۔

    ’یہ مجھے اٹھا کر جیل میں رکھنا چاہتے تھے اور لوگ ڈرے ہوئے تھے کہ میری جان کو خطرہ ہے۔ یہ جرائم پیشہ افراد کی حکومت ہے اور یہ مجھے مارنا چاہتے تھے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ جب ہم نے اپنی صوبائی اسمبلیاں تحلیل کی تو اس وقت ہم نے قانونی ماہرین سے یہ جائزہ کیا کہ کوئی ایسا طریقہ تو نہیں کہ حکومت انتخابات نہ کروائے جس پر تمام قانونی ماہرین نے کہا کہ آئین و قانون کے مطابق 90 دن میں الیکشن ہونا لازمی ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ جن ممالک میں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے وہ قومیں ترقی کر جاتی ہیں اور دیگر پیچھے رہ جاتی ہیں۔ انھوں نے دنیا کی قانون کی حکمرانی اور کرپشن انڈیکس کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان اور ڈنمارک کا موازنہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی حکمرانی سے متعلق 140 ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 129واں ہے جبکہ ڈنمارک پہلے نمبر پر ہے۔

    اسی طرح کرپشن انڈیکس میں 180 ممالک میں سے پاکستان کا نمبر 140 پر ہے جبکہ ڈنمارک پہلے نمبر پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے وہاں خوشحالی ہوتی ہے۔

  9. سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ پر اعتماد نہیں ہے: حکومت میں شامل جماعتوں کا فیصلہ

    پاکستان میں حکمران جماعتوں کے اتحاد نے اعلان کیا ہے انھیں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ پر اعتماد نہیں ہے۔

    حکومت میں شامل جماعتوں کے اہم مشاورتی اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں جن کے مطابق حکمران جماعتوں نے چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔

    اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق ’سپریم کورٹ کا لارجر بینچ پہلے ہی تین کے مقابلے چار ججوں کی اکثریت سے انتخابی درخواستیں خارج کرچکا ہے چیف جسٹس اکثریتی پر اقلیتی فیصلہ مسلط کرنا چاہتے ہیں پاکستان بار کونسل اور دیگر بار ایسوسی ایشنز کی آرٹیکل 209 کے تحت دائر ریفرنسز پر کارروائی کی جائے۔‘

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’جسٹس فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے 184 (3 ) کے تحت زیر سماعت مقدمات پر کارروائی سے روکنے کا کہا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بینچ کے فیصلے کا احترام کرنا بھی سب پر لازم ہے جسٹس اعجازالاحسن کا دوبارہ تین رکنی بینچ میں شامل ہونا غیر منصفانہ ہے۔‘

    ’یہ عمل سپریم کورٹ کے طریقہ کار کی بھی خلاف ورزی ہے سیاستدانوں سے کہاجارہا ہے کہ وہ مل کر بیٹھیں لیکن سپریم کورٹ خود تقسیم ہے ان حالات کا تقاضا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان اور تین رکنی بینچ کے دیگر جج صاحبان مقدمے سے دستبردار ہوجائیں۔‘

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’اجلاس کا پارلیمنٹ کی حالیہ قانون سازی کی بھرپور تائید اور حمایت کا اعلان قانون سازی سے عوام الناس کے ساتھ یک طرفہ انصاف کی روش کا خاتمہ ہوگا پارلیمنٹ نے قانون سازی کے ذریعے آرٹیکل 184 (3) سے متعلق اپنی رائے واضح کردی ہے۔‘

    اجلاس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’پارلیمنٹ بالا دست ہے جس کی رائے کا سب کو احترام کرنا چاہیے ا مید ہے کہ صدر قانون سازی کی راہ میں جماعتی وابستگی کی بنیاد پر رکاوٹ نہیں بنیں گے پاکستان تحریک انصاف کے معاملے میں خصوصی امتیازی رویے کے تاثر کو چیف جسٹس ختم کریں۔‘

  10. پاکستانی سرحد فورسزر پر ’ایرانی دہشگردوں کا حملہ‘ چار اہکار ہلاک

    سنیچر کو پاکستانی فوج کے مطابق ’ایران کی طرف سے سرگرم دہشت گردوں کے ایک گروپ نے ضلع کیچ کے جلگئی سیکٹر میں پاک ایران سرحد پر کام کرنے والی پاکستانی سکیورٹی فورسز کے معمول کےسرحدی گشت پر حملہ کیا ہے۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق’ حملے میں چار اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ایران سے مستقبل میں ایسے حملوں کی روک تھام اور ان کے ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لینے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔

    وزیرداخلہ رانا ثنااللہ خان کی پاک ایران سرحد پر سکیورٹی فورسز پر حملے کی مذمت کی ہے۔

  11. سپریم کورٹ: صدر عارف علوی کی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس واپس لینےکی درخواست

    سنیچر کو پاکستان کے صدر مملکت عارف علوی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس واپس لینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست کی تھی۔

    صدر مملکت کی جانب سے متفرق درخواستیں واپس لینے کی استدعا لی گئی ہے۔

    درخواست کے مطابق وہ وفاقی کابینہ کے فیصلے کے مطابق متفرق سول اپیلیں واپس لیتے ہیں۔

    درخواست کے متن میں کہا گیا ہے کہ ’انصاف کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ریفرنس کی مزید پیروی نہیں چاہتے۔‘

  12. سیاسی جماعتوں سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے: رہنما پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی

    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ آئین پر عمل درآمد ہو۔ پی ٹی آئی نے سیاسی جماعتوں سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور سندھ کی دیگر جماعتوں کے ساتھ بھی رابطے کیے ہیں۔‘

    شاھ محمود قریشی کے مطابق ’تحریک انصاف نے ہمیشہ آئین کا تحفظ کیا ہے اور اب بھی آئین کے دفاع کے لیے وکلا اور ججز کے ساتھ کھڑی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ عمران خان ایک بار پھر اصولی لڑائی لڑنے نکلے ہیں اورہم وکلا برادری سے درخواست کرتے ہیں کہ فی الفور اپنا حصہ اس تحریک میں شامل کریں۔‘

  13. پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید

    پاکستان میں روز بروز بدلتی سیاسی صورتحال پر بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔

    اس سے قبل ہونے والی سیاسی پیش رفت کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔