آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ہم نے کبھی نہیں کہا اسٹیبلشمنٹ اپنا راستہ پکڑے مگر سول ملٹری تعلق میں توازن ہونا چاہیے: عمران خان

سابق وزیر اعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ کوئی انتظامی نظام اس وقت کام نہیں کر سکتا جب ذمہ داری منتخب حکوت کی ہو مگر اختیار کہیں اور ہو۔ ادھر لندن سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ’ون مین شو ہے، ان ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنا چاہیے۔‘

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, انسداد دہشت گردی عدالت: عمران خان کی تینوں مقدمات میں عبوری ضمانت میں توسیع منظور

    انسداد دہشت گردی کی عدالت میں عمران خان کی تینوں مقدمات میں عبوری ضمانت میں توسیع منظور کر لی گئی ہے۔

    عمران خان جج عبہرگل کی عدالت میں پیش ہوئے جنھوں نے بند کمرے میں عمران خان کی درخواست پر سماعت کی اور 13 اپریل تک ان کی عبوری ضمانت میں توسیع منظور کی ہے۔

    عمران خان کے وکیل کے مطابق بند کمرے میں جے آئی ٹی سربراہ، عمران خان اور وکلا موجود تھے۔

    یاد رہے انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے عمران خان کی تین مقدمات میں حاضری معافی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انھیں پیش ہونے کے لیے گیارہ بجے تک کی مہلت دی تھی۔

  2. چار اپریل کی گونج: عاصمہ شیرازی کا کالم

  3. وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی فہد حسین نے استعفیٰ دے دیا

    وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی فہد حسین اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

    ٹویٹر پر اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے فہد حسین نے لکھا کہ میں نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    انھوں نے سرکاری عہدے پر کام کرنے کا موقع دینے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور مشکل حالات میں کام کرنے پر ان کی تعریف کی۔

  4. بریکنگ, عمران خان انسداد دہشت گردی عدالت پہنچ گئے

    پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان انسداد دہشت گردی پہنچ چکے ہیں۔

  5. عمران خان زمان پارک سے اے ٹی سی عدالت روانہ: گاڑی احاطہ عدالت میں لانے کے لیے درخواست دائر

    پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان زمان پارک سے انسداد دہشت گردی عدالت روانہ ہو چکے ہیں۔

    ادھر انسداد دہشت گردی عدالت میں عمران خان کی تین مقدمات میں عبوری درخواست ضمانت کے حوالے سے ان کی گاڑی احاطہ عدالت میں لانے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان کی سیکورٹی کو لے کر حکومت کی جانب سے تھرٹ الرٹ بھی جاری ہو چکے ہیں لہذا عدالت عمران خان کی گاڑی کو احاطہ عدالت میں آنے کی اجازت دے۔

  6. انسداد دہشت گردی عدالت لاہور: عمران خان کی تین مقدمات میں حاضری معافی کی درخواست مسترد، پیشی کے لیے گیارہ بجے تک کی مہلت

    انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے عمران خان کی تین مقدمات میں حاضری معافی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عمران خان کو پیش ہونے کے لیے گیارہ بجے تک کی مہلت دی ہے۔

    جج انسدادِ دہشت گردی کا کہنا ہے کہ ریلیف اسے ہی ملے گا جو عدالت آئے گا۔

    عمران خان کے وکیل کا کہنا ہے کہ انھیں شدید ترین سکیورٹی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

    جس پر جج دہشت گردی عدالت عبہر گل نے استفسار کیا کہ ‏آپ صرف یہ بتائیں کہ عمران خان عدالت پیش ہوں گے یا نہیں۔

    عمران خان کے وکیل نے دلائل دیے کہ ‏دو سابق وزرائے اعظم کا قتل ہو چکا ہے، ‏ہمیں ڈیڑھ بجے کا وقت دیں عمران خان پیش ہو جائیں گے۔

  7. ’ضرورت سے زیادہ حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں عمران خان کی آرہی ہیں‘ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج کے ریمارکس

    انسدادِ دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے پرعمران خان کے خلاف کیس کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔

    یاد رہے عمران خان کے خلاف تھانہ سنگجانی میں دہشتگردی ایکٹ کےتحت مقدمہ درج ہے۔

    انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جوادعباس کیس کی سماعت کر رہے ہیں اور عمران خان کی جانب سے ان کے وکیل نعیم پنجوتھہ اور پراسیکوٹر عدنان علی عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔

    وکیل نعیم پنجوتھہ نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی ہے۔

    جس پر ریمارکس دیتے ہوئے جج کا کہنا ہے کہ بہت زیادہ حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں آگئی ہیں، ایک کے بعد ایک آ رہی ہیں۔

    جج نے مزید ریمارکس دیے کہ ضرورت سے زیادہ حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں عمران خان کی آرہی ہیں۔

    اس پر عمران خان کے وکیل علی بخاری کا کہنا ہے کہ 6 اپریل کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت ہے۔

    جس پر جج نے سوال کیا کہ تو پھر 6 اپریل کو انسدادِ دہشت گردی عدالت میں بھی عمران خان کی درخواستِ ضمانت پر سماعت رکھ لیں؟

    جج نے ریمارکس دیے کہ اپنے کیریئر میں آج تک میں نے ایسی عدالت نہیں چلائی جیسے آپ کی وجہ سے چلانی پڑھی۔

    جج نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج عدالت واقعی عدالت لگ رہی ہے کیونکہ غیرمتعلقہ لوگ عدالت میں موجود نہیں ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ میری عدالت میں 700 ملزمان کے کیس کی سماعت بھی ہو چکی، جج نے مزید ریمارکس دیے کہ آئندہ عدالت میں صرف متعلقہ افراد کو آنے کی اجازت دی جائے گی

  8. ’ایک آدمی نے اسٹیبلشمنٹ کو کبھی ایسے نہیں ڈرایا جتنا وہ آج ڈرے ہوئے ہیں‘ عمران خان

    پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ ’ایک آدمی نے کبھی اسٹیبلشمنٹ کو ایسے نہیں ڈرایا جتنا وہ آج ڈرے ہوئے ہیں۔ وہ پریشان ہیں کہ مجھے کیسے باہر رکھا جائے کیونکہ لوگ مجھے واپس لانا چاہتے ہیں۔‘

    امریکہ کے ٹائمز میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان نے اپنی حکومت کے خاتمے سے لے کر موجود معاشی صورتحال اور انتخابات کے بعد دوبار حکومت میں آنے کے منصوبوں کے متعلق بات چیت کی۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ہماری معیشت زبوں حالی کا شکار ہو چکی ہے اور ہم تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں سیاسی استحکام انتخابات کے ذریعے آئے گا اور یہیں سے معاشی بحالی کا سفر شروع ہوتا ہے۔‘

    اگر وہ دوبارہ حکومت میں آتے ہیں تو پاکستان کو دوبارہ پٹری پر لانے کے منصوبے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’فوج کے بجائے طاقت کا منبہ سیاسی ادارے ہوں، یہ یقینی بنانے کے لیے ’نئے سماجی معاہدے‘ کی ضرورت ہے۔

    انھوں نے شکوہ کیا کہ اگر (سابق) آرمی چیف کرپشن کو بڑا مسئلہ سمجھتے تو آج حالات مختلف ہوتے، میں بے بس تھا۔

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’جن لوگوں نے مجھے مارنے کی کوشش کی وہ اب بھی اقتدار میں بیٹھے ہیں اور وہ گھبرائے ہوئے ہیں کہ اگر میں واپس آیا تو ان کا احتساب کیا جائے گا۔ اسی لیے وہ زیادہ خطرناک ہیں۔‘

  9. کوہاٹ میں تراویح ڈیوٹی پر تعینات دو پولیس اہلکار ٹی ٹی پی کے حملے میں ہلاک

    صوبہ خیبرپختونخوا کے شہر کوہاٹ کی پولیس کا کہنا ہے کہ پیر کی شب نماز تراویح کی ڈیوٹی پر مامور کانسٹیبل قاسم اور کانسٹیبل ایاز دہشتگردوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہیں۔

    پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’کوہاٹ تپی میں فائرنگ سے دو پولیس اہلکار شہید۔ پولیس کانسٹیبل قاسم اور کانسٹیبل ایاز موٹر سائیکل پر تراویح ڈیوٹی کے لیے جا رہے تھے۔ دونوں شہدا کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ’واقعے کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے۔ واقعے میں ملوث دہشت گردوں کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری۔‘

    کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے ایک بیان میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

  10. جسٹس مظاہر علی کے خلاف ایک اور ریفرنس دائر

    بلوچستان بار کونسل نے سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا ہے۔

    جسٹس مظاہر علی نقوی کے خلاف ریفرنس وائس چئیرمین بلوچستان بار کونسل ایگزیکٹو کمیٹی قاسمعلی گاجیزئیاور ممبر بلوچستان بار کونسل راحب بلیدی کی جانب سے دائر کیا گیا ہے۔

    ریفرنس میں پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی کی آڈیو لیکس، غیر قانونی اثاثہ جات اور وکیل بیٹوں کی غیر قانونی پریکٹس میں مدد دینے اور فیصلوں پر اثر انداز ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔

    ریفرنس کے متن کے مطابق آڈیو لیکس کے معاملے نے سپریم کورٹ کے جج کے غیر جانبدار اور آزاد ہونے کے تاثر کو ختم کر دیا اور عدلیہ کی آزادی کے تقدس اور وقار کو نقصان پہنچا ہے۔

    ریفرنس کے متن میں کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر علی نقوی کے اثاثے بھیان کے آمدن سے زائد ہیں۔ مذکورہ شواہد اور واقعات نے جج کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے اس لیے ان کے خلافآئین اور قواعد و ضوابط کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں مقدمہ اور مواخذہ کیا جائے۔

    ریفرنس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مذکورہ جج کے خلافآئین کے آرٹیکل 209 اور سپریم جوڈیشل کونسل پروسیجر آف انکوائری 2005 کے سیکشن پانچ کے تحت انکوائری کی جائے اور انھیں عہدے سے ہٹایا جائے تاکہ قانونی حلقوں اور عوام میں ادارے کا اعتماد بحال ہو۔

    یاد رہے کہ گزشہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  11. بریکنگ, جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف ریفرنس: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلانے کے لیے خط

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود نے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرنس پر غور کرنے کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلانے کے لیے خط لکھ دیا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے خط سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ چیف جسٹس پاکستان، جسٹس احمد علی شیخ، جسٹس امیر محمد بھٹی کو لکھا گیا ہے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ اجلاس بلا کر تعین کیا جائے جسٹس مظاہر نقوی پر الزامات درست ہیں یا غلط، خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر الزمات غلط ہیں تو جج کی عزت بحال کی جائے۔

    جسٹس فائز عیسیٰ نے خط میں لکھا ہے کہ اگر الزامات درست ہیں تو آئین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ جج کو الزمات کے سائے میں رکھنے سے جج اور عدلیہ کی عزت پر حرف آ رہا ہے۔ عدلیہ کی آزادی اور اس پر عوام کے اعتماد کے لیے ضروری ہے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس فوری بلایا جائے۔

    یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس سردار طارق مسعود بھی سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان ہیں۔

  12. بریکنگ, وفاقی کابینہ کا رجسٹرار سپریم کورٹ کی خدمات واپس لینے کا فیصلہ، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں رجسٹرار سپریم کورٹ کی خدمات واپس لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے انھیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    پیر کے روز وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وزیر اعظم ہاوس میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں ملک کی سیاسی صورتحال، آئینی، قانونی اور پارلیمانی امور پر مشاورت کی گئی۔

    وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق اجلاس نے دونکاتی ایجنڈے پر تفصیلی غور کیا۔ وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل نے کابینہ کو مختلف امور پر بریفنگ دی۔

    وفاقی کابینہ نے عدالت عظمیٰ کے حکم کے خلاف رجسٹرار سپریم کورٹ کی طرف سے سرکلر جاری کرنے کے معاملے پر غور کیا۔

    وفاقی کابینہ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کی خدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا اور انھیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی۔

    وفاقی کابینہ نے صدر ڈاکٹر عارف علوی سے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 پر فی الفور دستخط کریں تاکہ ملک کو آئینی وسیاسی بحران سے نجات مل سکے۔

  13. بریکنگ, ’لارجر بینچ نہ بنا تو آئینی بحران کے باعث مارشل لا لگنے کا خطرہ ہے‘: بلاول بھٹو

    پاکستان کے وزیر خارجہ اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ لارجر بینچ نہ بنا تو آئینی بحران کے باعث مارشل لا لگنے کا خطرہ ہے۔

    لاڑکانہ میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملکی سیاست یرغمال ہو چکی ہے اور الیکشن کے التو پر بنایا گیا 9 رکنی بینچ اب تین رکنی رہ گیا ہے۔

    انھوں نے کہا بہتر ہے اس معاملے میں چیف جسٹس آئین کے مطابق ایک لارجر بینج تشکیل دیں۔ انھوں نے پاکستان کی عدلیہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کا ماضی ہمارے سامنے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستاب پیپلز پارٹی کو عمران خان کی مقبولیت کا کوئی خطرہ نہیں۔ پیپلز پارٹی ہر وقت الیکشن کے لیے تیار ہے۔

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہمارے اتحادیوں کے الیکشن پر اعتراضات ہیں اور ان اعتراضات میں وزن ہے۔ عدلیہ میں جو ہو رہا ہے یہ الیکشن کا سوال نہیں بلکہ عدلیہ کا ٹرائل چل رہا ہے، یہ سپریم کورٹ کا ٹرائل ہے کہ وہ آئین کا تحفظ کرنے والا ادارہ ہے یا ٹائیگر فورس بننا چاہتے ہیں؟ یہ عدم اعتماد اپوزیشن کا نہیں ان ججوں کا ہے جو بینچ میں شامل تھے۔

    انھوں نے کہا کہ ’عدلیہ میں جو کچھ ہورہا ہے وہ قوم کے سامنے ہے، تین جج صاحبان کو سوچنا چاہیے کہ کیا ہورہا ہے، سینیئر ججز کی طرف سے عدلیہ پر تنقید ہورہی ہے، دوسرے جج نے جوڈیشل نوٹ کےذریعہ کہلوایا کہ پنجاب الیکشن پر سوموٹو بنتا ہے، آپ کے اپنے ججز آپ کے کردار کے خلاف ہیں، مناسب بات ہے کہ لارجر بینچ بنا دیا جائے۔‘

  14. ’سیاسی جماعتیں ڈائیلاگ پر متفق نہیں تو سپریم کورٹ کے سامنے آئین ہے‘ بینچ پر اعتماد، فوج کی تعیناتی پر عدالت کے سوال

  15. بریکنگ, آئینی و قانونی مشاورت کے لیے وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پیر کی شام وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    وفاقی کابینہ کا اجلاس آٹھ بجے شہباز شریف کی صدارت میں وزیر اعظم ہاؤس میں ہو گا۔ اجلاس میں ملک کی سیاسی صورتحال، آئینی، قانونی اور پارلیمانی امور پر مشاورت ہو گی۔

    اجلاس میں سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمہ سے متعلق امور بھی زیر غور آئیں گے۔

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کابینہ کو قانونی معاملات پر بریفنگ دیں گے۔ وزیر اعظم شہباز شریف وفاقی کابینہ کی مشاورت سے حکومتی حکمت عملی طے کریں گے۔

  16. ’پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم اور زمان پارک کے حوالے سے کئی گھنٹے تک سوالات کیے گئے:‘ اظہر مشوانی کا عدالت میں بیان

  17. بریکنگ, بطور رجسٹرار سپریم کورٹ آئین و قانون کے خلاف جاری سرکلر فوری واپس لیا جائے: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا خط

    عدالتی حکم نامہ کی تنسیخ کا سرکلر جاری کرنے پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھ کر آئینی خلاف ورزی پر رجسٹرار سپریم کورٹ کو عہدہ چھوڑنے کی سفارش کی ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا کہ بطور رجسٹرار سپریم کورٹ کورٹ آپ کے پاس عدالتی حکم کے خلاف سرکلر جاری کرنے کا اختیار نہیں تھا۔ جسٹس فائز عیسی نے خط میں کہا ہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ انتظامی نوعیت کے احکامات جاری کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ بطور رجسٹرار سپریم کورٹ آئین و قانون کے خلاف جاری سرکلر فوری واپس لیا جائے۔ اور کہا ہے کہ آئین وقانون کی خلاف ورزی پر آپ فوری طور پر رجسٹرار سپریم کورٹ کا عہدہ چھوڑ دیں۔

  18. بریکنگ, ’تین رکنی بینچ کا فیصلہ کرنا انصاف کے تقاضوں سے 100 فیصد منافی ہے‘: وزیر اعظم شہباز شریف

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے انتخابات کے التوا کے معاملے پر سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ پر عدم اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تین رکنی بینچ کا فیصلے کرنا انصاف کے تقاضوں سے 100 فیصد منافی ہے۔

    پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ موجود حکومت نے اس بینچ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ کاش چیف جسٹس اس معاملے پر فل کورٹ تشکیل دے دیتے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ دوہرا معیار نہیں چلے گا۔ انھوں نے کہا فل کورٹ کا فیصلہ پوری قوم تسلیم کرے گی۔

    شہباز شریف نے کہا کہ میں نے چند روز قبل اسمبلی میں تقریر کی، اس کے اگلے دن چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کئی لوگ جیلیں کاٹ کر اسمبلی میں تقریریں کرتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ایک مؤقف اور سوچ کے لیے جیل کاٹنے کے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے، کرمنل کیسز میں انصاف پسند جج کے ہاتھوں کے جیل کاٹنا بہت تحقیر کی بات ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی کے توسط سے چیف جسٹس سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ میرے بارے میں یا دوسروں کے بارے میں تو آپ نے فرما دیا کہ آج اسمبلیوں میں تقریریں کرتے ہیں جنھوں نے جیلیں کاٹیں ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ کیا ہمارے خلاف جو بے بنیاد کیسز تھے، کیا ہم ضمانت کی حد تک سرخرو ہو کر آئے ہیں یا پھر خدانخواستہ ہم بے عزت ہو کر آئے ہیں، میں چیف جسٹس سے یہ ضرور پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایک ایسا جج جس کے خلاف بہت حد تک سخت الزامات لگے ہیں، آپ کو ساتھ بٹھا کر قوم کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے خلاف تو عمران نیازی اور اس کے حواریوں نے بے بنیاد الزامات لگائے، پھر میرٹ پر ضمانتیں لے کر یہ لوگ اس ایوان میں آئے ہیں، بطور عوام کے نمائندے ہمارا حق ہے کہ ہم ان کی ترجمانی کریں، چیف جسٹس نے ایسے شخص کو ساتھ بٹھایا جس کے خلاف کرپشن کے سخت ترین الزامات لگے ہیں، یہ عدل کا ملک میں سب سے بڑا ادارہ ہے ، آپ دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں۔

  19. بریکنگ, انتخابات التوا کیس: سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا، کل سنایا جائے گا

    پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات ملتوی ہونے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست پر سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا، جو کل سنایا جائے گا۔

    جسٹس امین الدین اور جسٹس جمال خان مندوخیل کے پانچ رکنی بینچ سے علیحدہ ہونے کے بعد چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کر رہا ہے۔

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وکیل الیکشن کمیشن عرفان قادر اور سجیل سواتی عدالت میں پیش ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل علی ظفر، پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک، سیکٹری دفاع، سیکریٹری الیکشن کمیشن اور ڈپٹی سیکریٹری داخلہ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پاکستان پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک، پاکستان مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کے وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے اپنے کلائینٹ سے پوچھا ہے کہ انھیں اس بینچ پر اعتماد ہے کیونکہ میڈیا پر یہ خبریں آئی ہیں کہ انھیں اس تین رکنی بینچ پر اعتماد نہیں ہے۔

    ان تین جماعتوں کی طرف سے تحریری یقین دہانی نہ کروانے پر ان جماعتوں کے وکلا کو دلائل دینے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    جس پر مسلم لیگ ن کے وکیل اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ بات نہ سن کر میری عدالت میں تذلیل ہو رہی ہے۔ مزید اپنی تزلیل نہیں کراؤں گا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اپنے دلائل تحریری طور پر دے دیں۔

    اس پر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ عدالت کی معاونت کیلئے پیش ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کوئی پارٹی مجھے غیر قانونی کام کرنے کا کہے تو کیا میرا اپنا دماغ نہیں کہ فیصلہ کر سکوں۔ عدالت کا بےحد احترام کرتے ہیں۔

    اس پر چیف جسٹس نے حکومتی اتحاد کے وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’شیخ صاحب آپ کے ساتھ کامران مرتضیٰ اور فاروق نائیک کا احترام کرتے ہیں۔ حکومت میں شامل جماعتوں نے تین رکنی بینچ پر عدم اعتماد کیا ہے۔‘

    انھوں نے ریمارکس دیے کہ آپ ذاتی حیثیت میں نہیں آئے سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اس موقع پر جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ آپ کا وکالت نامہ ذاتی حیثیت میں نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ن لیگ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اعلامیہ عدالتی عملے نے نکال کر دیا ہے۔

    اس پر اکرم شیخ نے کہا کہ میں دلائل نہیں دے سکتا تو کیا آرٹیکل لکھوں؟ ن لیگ سے کوئی فیس نہیں لی۔عدالت نے کبھی مجھے مایوس واپس نہیں بھیجا۔

    جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ تحریری معروضات دے دیں جائزہ لے لیں گیے۔ جس پر اکرم شیخ نے کہا کہ خود کو مزید شرمندہ نہیں کر سکتا۔ اس موقع پر کامران مرتضی نے کہا کہ ’میں گورنر کا بھی وکیل تھا سیاسی جماعت کا بھی وکیل ہوں۔ مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے گورنر کی وکالت چھوڑ رہا ہوں۔‘

    پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے عدالت میں جوابالجواب دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن آئین سے بالاتر کوئی کام نہیں کر سکتا۔

    اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آئین اور قانون واضح ہے کہ انتخابات کی تاریخ کون دے گا۔ عرفان قادر نے کہا صدر حکومت کی سفارش کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا۔ کیا صدر الیکشن کی تاریخ ایڈوائس کے بغیر دے سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت آئین اور قانون کے مطابق انصاف کے لیے بیٹھی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی مقدمات میں سیاسی ایجنڈا سامنے آتا ہے، اٹارنی جنرل نے اس نقطے پر گفتگو نہیں کی۔ اٹارنی جنرل سے گلہ ہے کہ وہ 3/4 پر ہی زور دیتے رہے۔

    اس پر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنے طور پر انتخابات کی تاریخ تبدیل نہیں کر سکتا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم یہاں پر لوگوں کے لیے مشکلات نہیں پیدا کرنا چاہتے اور عدالت بھی اس معاملے میں محتاط ہے۔

    انھوں نے سیاسی جماعتوں سے کہا کہ وہ عوام کی بھلائی کے کیے کام کریں انھوں نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ اپنے من پسند ججز کو شامل کیا جائے۔ عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا جو کل سنایا جائے گا۔

  20. ’اس وقت چیف جسٹس سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ ہیں‘: عرفان قادر

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا (کے پی) میں الیکشنکے التوا سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔

    سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے نے 184/3 کے مقدمات پر سماعت سے روکا ہے۔

    سماعت کے دوران عرفان قادر نے چیف جسٹس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جناب چیف جسٹس سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ ہیں۔ چیف جسٹس کے حق میں درخواستوں پر دستخط ہو رہے ہیں۔

    جس پر چیف جسٹس نے عرفان قادر کو جواب دیا کہ ’ہم مولا سے خیر مانگتے ہیں۔‘

    عرفان قادر کا کہنا تھا کہ جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل جسٹس یحیی آفریدی جسٹس منصور علی شاہ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا ہے کہ اس مرحلے پر ججز کو یہ معاملہ نہیں دیکھنا چاہیے۔