آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ہم نے کبھی نہیں کہا اسٹیبلشمنٹ اپنا راستہ پکڑے مگر سول ملٹری تعلق میں توازن ہونا چاہیے: عمران خان

سابق وزیر اعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ کوئی انتظامی نظام اس وقت کام نہیں کر سکتا جب ذمہ داری منتخب حکوت کی ہو مگر اختیار کہیں اور ہو۔ ادھر لندن سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ’ون مین شو ہے، ان ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنا چاہیے۔‘

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, ’یکم مارچ کا عدالتی حکم اقلیتی نوٹ تھا‘: وکیل الیکشن کمیشن

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا (کے پی) میں الیکشنکے التوا سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ مقدمے کی سماعت کررہا ہے۔

    سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر کا کہنا تھا کہ یکم مارچ کا عدالتی حکم اقلیتی نوٹ تھا۔ عدالت اس تنازعہ کو حل کرنے کے لیے اقدامات کرے، وکیل الیکشن کمیشن

    عرفان قادر کا کہنا تھا کہ فیصلے کی تناسب کا تنازعہ ججز کا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔ درخواستیں خارج کرنے والے چاروں ججز کو بھی بینچ میں شامل کیا جائے۔

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سرکلر سے عدالتی فیصلے کا اثر ذائل نہیں کیا جاسکتا۔چیف جسٹس اپنے سرکلر پر خود جج نہیں بن سکتے۔ عرفان قادر کا کہنا تھا کہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد ہونا لازمی ہے، ایک گروپ کے بنیادی حقوق پر اکثریت کے حقوق کو ترجیح دینی چاہیے۔

    سماعت میں عرفان قادر کا کہنا تھا کہ قومی مفاد آئیں اور قانون پر عملدرآمد میں یے، آئین میں 90 دن میں انتخابات ہونا الگ چیز ہے۔ عرفان قادر کا کہنا تھا کہ ملک میں کئی سال سے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات اکٹھے ہوتے ہیں۔ملک بھر میں انتخابات ایک ساتھ ہونا چاہئیں کیونکہ اس سے مالی طور پر بھی بچت ہو گی۔ قومی اسمبلی کے انتخابات میں بھی نگران حکومت ضروری ہے۔

    عرفان قادر نے کہا کہ صوبائی اسمبلی چند ماہ پہلے تحلیل ہوئی ہے دو سال پہلے نہیں۔ہائیکورٹس میں مقدمات کی سماعت روکنا آئین کے مطابق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر نے الیکشن کی تاریخ دے دی ہے۔ پنجاب میں صدر کو تاریخ دینے کا حکم قانون کے مطابق نہیں۔ صدر آزادانہ طور پر کوئی فیصلہ کرنے کے مجاذ نہیں، صدر کی جانب سے انتخابات کی تاریخ دینے کا حکم دینا خلاف آئین ہے۔ انھوں نے کہا کہ صدر ہر کام میں کابینہ کی ایڈوائس کا پابند ہے۔ الیکشن ایکٹ میں صدر کو اختیار صرف عام انتخابات کے لیے ہے۔

  2. ’انتخابات کی تاریخ دینا سپریم کورٹ کا نہیں، الیکشن کمیشن کا کام ہے‘

    سپریم کورٹ میں دوران سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر نے عدالت میں کہا ہے کہ ’پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ فل کورٹ بنایا جائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’انتخابات کی تاریخ دینا سپریم کورٹ کا کام نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کا کام ہے۔عدالت پہلے یہ طے کرے کہ یہ فیصلہ تین چار کا ہے تین دو کا۔‘

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل میں مزید کہا کہ ان کی نظر میں یہ فیصلہ اقلیت میں ہے۔

    انھوں نے کہا ’ انصاف اصل میں ہوتا ہوا نظر انا چاہیے اور میری نظر میں اس معاملے میں انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا تاہم ممکن ہے کچھ غلط فہمی ہو۔‘

    عرفان قادر کا کہنا تھا کہ ’اس تین رکنی بینچ کے بارے میں تاثر یہی ہے کہ اس بینچ کا متعصبانہ رویہ ہے اور یہ تاثر خود سپریم کورٹ کے لیے بھی ٹھیک نہیں ہے۔ فل کورٹ پر عدالت اپنی رائے دے چکی ہے۔‘

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’عدالت کا ایک فیصلہ پہلے ہی تنازع کا شکار ہے۔ الیکشن کی تاریخ دینے کا فیصلہ الیکشن کمیشن پر چھوڑنا چاہئے اور فیصلہ تین دو کا تھا یا 4/3 کا اس پر بات ہونی چاہیئے۔

    عرفان قادر نے کہا کہ صدر کے پاس بھی انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے آئین میں صدر کا عہدہ علامتی ہے اور صدر اپنے طور پر کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا جب تک وزیر اعظم کی طرف سے کوئی ایڈوائس نہیں آ جاتی۔‘

  3. بریکنگ, انتخابات میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع

    سپریم کورٹ میں ایک وقفے کے بعد انتخابات میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

    وقفے کے بعد سماعت میں اب الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر دلائل دے رہے ہیں۔

  4. حکومت اپنے بائیکاٹ سے پیچھے ہٹ گئی ہے: فواد چوہدری

    تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے دعوی کیا ہے کہ حکومت اپنے بائیکاٹ سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔

    سپریم کورٹ میں سماعت میں وقفے کے دوران عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں فواد چوہدری نے کہا ’اٹارنی جنرل کے پاس عدالت کے سوالوں کے جواب نہیں تھے جس پر عدالت نے ان سے کہا کہ آپ ایک ذہن بنا کرآئیں۔‘

    فواد چوہدری کے مطابق اٹارنی جنرل پڑھے لکھے اور اچھے انسان ہیں تاہم اس حکومت نے ان کو پھنسا دیا ہے۔

    فواد چوہدری کے مطابق ’سیکرٹری دفاع نےجو عدالت میں رپورٹ دی ہے اس کے مطابق ملک ڈوب چکا ہے۔‘

  5. انتخابات میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت میں آدھے گھنٹے کا وقفہ

    انتخابات میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت میں سماعت میں آدھے گھنٹےکا وقفہ کر دیا گیا ہے۔

  6. انتخابات کے لیے 20 ارب روپے اکھٹے کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں : چیف جسٹس

    انتخابات میں تاخیر کے حوالے سے دوران سماعت چیف جسٹس نے ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ سے دریافت کیا ’وہ ایسی کوئی دستاویز بتائیں جس میں ترقیاتی منصوبہ 20 ارب روپے سے کم ہو۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ کرنٹ اکاوئنٹ کا خسارہ کم کرنے کے دو طریقے ہیں ایک یہ کہ اپنی امپورٹ کم کریں اور دوسرا اپنے اخراجات کم کریں۔‘

    انھوں نے کہا کہ درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ حکومت نے ارکان اسمبلی کو 170 ارب روپے دیے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ تنخواہوں میں پانچ فیصد کٹوتی کریں اور اس کا آغاز ججز سے کریں۔ انھوں نے کہا کہ 20 ارب روپے اکھٹے کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔

  7. فضائیہ اور نیوی کو بھی انتخابات میں سکیورٹی کی غرض سے استعمال کیا جا سکتا ہے: چیف جسٹس کے ریمارکس

    انتخابات ملتوی کرنے کے معاملے پر سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ ازخود نوٹس کی سماعت کر رہا ہے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ مسلح افواج صرف آرمی نہیں بلکہ فضائیہ اور نیوی بھی اس میں شامل ہے اور اگر وہ (نیوی، فضائیہ) شدت پسندی کے کسی معاملے میں مصروف نہیں ہے تو ان کو بھی انتخابات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    عدالت نے سیکریٹری دفاع سے کہا کہ پنجاب میں کیا صورتحال ہے، تو انھوں نے کہا کہ ’یہ بہت حساس معلومات ہیں اس لیے وہ اوپن کورٹ میں نہیں بتا سکتے۔‘

    اس پر پی ٹی ای کے وکیل کا کہنا تھا کہ پولنگ صرف ایک دن کے لیے ہونی ہے اور سکیورٹی خدمات کے لیے ریٹائرڈ فوجیوں کو بھی بلایا جا سکتا ہے۔

    عدالت نے سیکریٹری دفاع سے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پاس ایسی کوئی فورس ہے جو یہ ذمہ داری نبھا سکے جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ ریزرو فورس ہے جس کو خصوصی حالات میں طلب کیا جا سکتا ہے۔

    چیف جسٹس نے سیکریٹری دفاع سے کہا کہ وہ سیل بند لفافے میں اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کروا دیں، اور اگر اس بارے میں کوئی سوال ہوا تو اس کا جواب تحریری شکل میں دیں گے۔

    عدالت نے سیکریٹری دفاع سے کہا کہ وہ ہمیں بتائیں کہ کتنے اہلکار شدت پسندی کی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور کتنے اہلکار سرحدوں پر تعینات ہیں۔

  8. بریکنگ, سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری خزانہ ان کیمرہ بریفنگ دینا چاہتے ہیں: اٹارنی جنرل

    انتخابات میں تاخیر کے حوالے سے جاری سماعت میں چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری خزانہ کمرہ عدالت میں آگئے ہیں ۔

    جس پراٹارنی جنرل نے بتایا کہ وہ کمرہ عدالت میں ہیں اور وہ ان کیمرہ بریفنگ دینا چاہتے ہیں۔

  9. جسٹس فائز عیسیٰ کے فیصلے میں کوئی واضح حکم نہیں دیا گیا تھا،ازخودنوٹس لینے میں ہمیشہ بہت احتیاط کی ہے:چیف جسٹس کے ریمارکس, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    سپریم کورٹ میں انتخابات میں تاخیر کے حوالے سے چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی سماعت جاری ہے۔

    دوران سماعت اٹارنی جنرل نے عدالت کے رو برو بتایا ’رجسٹرار آفس نے ایک سرکلر جاری کیا ہے، سرکلر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے 29 مارچ کے فیصلے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ 184/3 کے تحت درخواستوں کے حوالے سے رولز موجود ہیں، عدالتی حکم یا فیصلے کو انتظامی سرکلر سے ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔‘

    اٹارنی جنرل کے مطابق ’ازخود نوٹس پر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ موجود ہے۔ازخود نوٹس پر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ موجود ہے۔ عدالتی حکم نظر ثانی یا کالعدم ہونے پر ہی ختم ہو سکتا ہے۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ’سرکلر سے کسی فیصلے کو واپس نہیں لیا گیا، فیصلے میں انتظامی ہدایات دی گئی تھیں۔ فیصلہ میں لکھا ہے کہ مناسب ہوگا کہ 184/3 کے مقدمات کی سماعت روکی جائے۔ 29 مارچ کے فیصلہ میں ہدایت نہیں بلکہ خواہش ظاہر کی گئی ہے۔‘

    چیف جسٹس کے مطابق ’یہ سرکلر 184/3 کے مقدمات کی سماعت روکنے کے معاملے پر آیا ہے جس میں لکھا ہے کہ پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔‘

    جسٹس منیب نے ریمارکس دیے کہ ’کیا یہ آئینی درخواست نہیں ہےجس کے رولز بنے ہوئے ہیں۔‘ اٹارنی جنرل نے کہا ’موجودہ مقدمہ میں بنیادی حقوق کا ذکر ہے، موجودہ کیس تیسری کیٹگری میں آ سکتا ہے، رولز بننے تک سماعت مؤخر کی جائے۔‘

    چیف جسٹس نے کہا ’عوام کے مفادات میں مقدمات پر فیصلے ہونا ہیں ناں کہ سماعت موخر کرنے سے، فیصلہ میں تیسری کیٹگری بنیادی حقوق کی ہے، بنیادی حقوق تو 184/3 کے ہر مقدمےمیں ہوتے ہیں۔‘

  10. ’قانون کسی کو الیکشن ملتوی کرنے کا اختیار نہیں دیتا،عدالت ہی الیکشن کی تاریخ آگے بڑھا سکتی ہے‘

    سپریم کورٹ میں انتخابات سے تاخیر سے متعلق سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان نے عدالت میں دلائل میں بتایا کہ ’ درخواست کی بنیاد یکم مارچ کا عدالتی فیصلہ ہے جس میں عدالت نے فیصلے میں پنجاب کے لیے صدر اور کے پی کے لیے گورنر کو تاریخ دینے کا کہا تھا۔‘

    اٹارنی جنرل کے مطابق ’گورنر خیبر پختون خوا نے درخواستیں دائر ہونے تک کوئی تاریخ نہیں دی تھی۔‘

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ انھوں نے اپنی درخواست میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے جبکہ صدر کو کے پی میں تاریخ دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔‘

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’سوال اٹھایا تھا کہ الیکشن کمیشن 8 اکتوبر کی تاریخ کیسے دے سکتا ہے؟ قانون کسی کو الیکشن ملتوی کرنے کا اختیار نہیں دیتا، عدالت ہی الیکشن کی تاریخ آگے بڑھا سکتی ہے۔`

    چیف جسٹس نے کہا ’1988 میں بھی عدالت کے حکم پر انتخابات آگے بڑھائے گیے تھے، عدالت زمینی حقائق کا جائزہ لے کر حکم جاری کرتی ہے۔‘

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ’آپ جس حکم نامے کا ذکر کرر ہے ہیں اس پر عمل ہو چکا ہے۔‘ اصل معاملہ الیکشن کمیشن کے حکم نامے کا ہے، عدالتی حکم الیکشن کمیشن پر لازم تھا۔‘

    اٹارنی جنرل نے عدالت کے روبرو کہا ’پہلے راؤنڈ میں نو رکنی بینچ نے مقدمہ سنا تھا ، 21 فروری کو سماعت کا حکم نامہ آیا، دو ججز کے اختلافات کی تفصیلات سامنے آ چکی ہیں۔‘

    جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا ’جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کے تفصیلی نوٹ کتنے رکنی بینچ کے تھے؟27 فروری کو 9 رکنی بینچ نے ازسرنو تشکیل کیلئے معاملہ چیف جسٹس کو بھیجا تھا۔‘

  11. اگر آپ بائیکاٹ نہیں کر رہے تو تحریری طور پر بتائیں: چیف جسٹس

    چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ انتخابات میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

    سماعت کے آغاز پر پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک روسٹرم پر آئے اور استدعا کی کہ وہ عدالت سے کچھ کہنا چاہتے ہیں۔

    جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے بائیکاٹ ختم کر دیا؟ اخبارات میں بائیکاٹ کا چھپا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کیا آپ کو عدالت پر اعتماد نہیں ہے۔‘جس پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔

    عدالت نے کہا کہ’آپ کی قیادت تو کچھ اور کہہ رہی ہے کہ ان کو اس بینچ پر اعتماد نہیں۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہم ابھی آپ کو سن نہیں رہے اس پر وضاحت کریں۔ اگرآپ بائیکاٹ نہیں کر رہے تو تحریری طور پر بتائیں۔‘

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ٹی وی پر چلا کہ ایک اہم میٹنگ ہوئی ہے، سب اعلامیے کی خبریں چلاتے رہے، کیا آپ نے وہ اعلامیہ واپس لیا ہے؟ آپ کیسے ایک طرف بائیکاٹ اور دوسری طرف سماعت کا حصہ بھی بن رہے ہیں۔‘

    فاروق ایچ نائیک نے کہا ’ہم نے تو بائیکاٹ کیا ہی نہیں تھا ،بینچ کے دائرہ اختیار پر تحفظات ہیں۔‘

    سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ’اٹارنی جنرل صاحب آپ کوکیا ہدایت ملی ہیں؟‘ جس پر انھوں نے جواب دیا کہ ’حکومت بائیکاٹ نہیں کر سکتی۔‘

    اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’سنجیدہ اٹارنی جنرل سے ایسی ہی توقع تھی۔‘

  12. بریکنگ, سپریم کورٹ میں انتخابات سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت شروع

    پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں شروع ہو گئی ہے۔

    سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

  13. ریڈ زون میں داخلہ کے تمام راستے آمد و رفت کے لیے کھلے ہیں: اسلام آباد پولیس

    اسلام آباد پولیس نے ریڈ زون کے راستے بند ہونے سے متعلق پی ٹی آئی کے الزامات کی تردید کر دی۔

    اس سے قبل اسلام آباد پولیس نے اپنی تفصیلی ٹویٹ میں واضح کیا کہ ’سپریم کورٹ آف پاکستان میں داخلے کے لئے چیکنگ کی جارہی ہے،وکلا اور صحافی سپریم کورٹ داخلے سے پہلے شناخت کروائیں۔‘

    پولیس کے مطابق’ وکلا حضرات سے گذارش ہے کہ راستے مسدود نہ کریں۔ اور سپریم کورٹ کے سامنے پارکنگ مت کریں اس سے گاڑیوں کی آمد و رفت متاثر ہوتی ہے۔‘

    پولیس کے اعلامیہ کے مطابق ’اسلام آباد میں دہشت گردی کے خطرات موجود ہیں،وکلاء کے لباس میں شرپسند عناصر کے داخلے کا خدشہ ہے۔‘

  14. ’اٹارنی جنرل کی درخواست ریکارڈ کا حصہ بن چکی ہے‘

    مسلم لیگ ن کے رہنما محسن رانجھا نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ اٹارنی جنرل اپنا واضح موقف دے چکے ہیں اور ان کی درخواست ریکارڈ کا حصہ بن چکی ہے ۔

    محسن رانجھا کے مطابق ’سپریم کورٹ کے بینچ میں ٹوٹ پھوٹ جونظر آ رہی ہے اتنی ماضی میں کبھی نظر نہیں آئی ۔اس پر گھر کے سب بڑوں کو بیٹھ کر ایسا فیصلہ کرنا چاہیے جس سے مستقبل میں قانون کی بالا دستی ہو نہ کہ عمران خان کی۔‘

  15. سپریم کورٹ کے باہر کے تازہ مناظر

    سپریم کورٹ کے باہر آج صبح سے ہی پی ٹی آئی کے حامی وکلا جمع ہونا شروع ہو گئے تھے اور اس وقت بھی شاہراہ دستور پر سپریم کورٹ کی عمات کے سامنے ان وکلا کی بڑی تعداد براجمان ہے۔

    کئی وکلا نے ہاتھوں میں پلے کارڈز بھی تھامے ہوئے ہیں اور وہ قانون کی حاکمیت سے متعلق نعرے بازی کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب شاہراہ دستور پر آج عدالت عظمی کے سامنے معمول سے ذیادہ تعداد میں پولیس اور ان کے ساتھ رینجرز کے دستے بھی تعینات ہیں۔

  16. عدالتی حکم پرعمل نہ ہوا تو سپریم کورٹ تیسرے وزیراعظم کو بھی گھر بھیج سکتی ہے: شیخ رشید کا دعوی

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے انتخابات میں تاخیر پر حکومت پر ایک بار پھر تنقید کرتے ہوئے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ آئین 90 دن میں انتخاب کا تقاضا کرتا ہےلیکن یہ بضد ہیں کہ آئین اورجمہوریت کو ڈبو دیں گے لیکن الیکشن نہیں کرائیں گے۔‘

    شیخ رشید نے دعوی کیا کہ ’عدالتی حکم پرعمل نہ ہوا توسپریم کورٹ تیسرے وزیراعظم کوبھی گھر بھیج سکتی ہے۔‘

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ حکومت کا ایک سال مکمل ہوگیا تاہم نواز شریف واپس نہیں آئے۔

    انھوں نے دعوی کیا ’عمران خان پر140 مقدمے بن تو سکتےہیں لیکن وہ نااہل نہیں ہوسکتے۔‘

  17. فواد چوہدری چیف جسٹس کے رو برو پیش: ’ریڈ زون میں وکلا کو آنے سے روکا جارہا ہے‘

    تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے ریڈ زون میں وکلا کو آنے سے روکنے کا معاملہ چیف جسٹس کے سامنے اٹھا دیا۔

    فواد چوہدری چیف جسٹس کے رو برو پیش ہوئے ہیں اور ان سے استدعا کی ہے کہ ’ریڈ زون میں وکلا کو آنے سے روکا جارہا ہے‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’انتظامیہ اپنے سیکورٹی انتظامات کے پیش نظر روک رہی ہوگی ،ہم ابھی کیس کی سماعت کر رہے ہیں فیصلہ نہیں آیا۔ ہم سپریم کورٹ کی حدود میں وکلا کے داخلہ کے مسئلہ کو دیکھ لیتے ہیں تاہم ریڈ زون میں وکلا کے داخلہ کا معاملہ ایگزیکٹو کا ہے اگر آپ کو مسئلہ ہے تو عدالت میں درخواست دیں۔‘

    دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ بارکےسابق صدرشعیب شاہین نےبھی راستوں کی بندش کی چیف جسٹس سے شکایت کردی۔

    شعیب شاہین نے استدعا کی کہ ’سپریم کورٹ میں مقدمات کے لیے بھی وکلا کو نہیں آنےدیا جا رہا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’انتظامیہ سب انتظامات عدالت اور پرامن فضا قائم رکھنےکے لیے کررہی ہے، اپنے ادارے کے لیے احکامات دیں گے باقیوں کے لیے نہیں۔

    واضح رہے کہ اب سے کچھ دیر بعد انتخابات میں تائیر سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت مقرر ہے جو تین رکنی بینچ کرے گا۔

    آج کی سماعت کی اہمیت کے پیش نظر سپریم کورٹ میں سیکورٹی سخت اقدامات کئے گئے ہیں۔ کسی غیر متعلقہ شخص کو سپریم کورٹ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

  18. تین رکنی بینچ الیکشن التوا کیس نہ سنے، وفاق کی سپریم کورٹ میں درخواست

    وفاقی حکومت نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں التوا کے معاملے میں سپریم کورٹ میں اپنے جواب میں جہاں پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا کی ہے وہیں یہ بھی کہا ہے کہ اگر عدالت یہ درخواست سننا بھی چاہتی ہے تو موجودہ تین رکنی بینچ اس کی سماعت نہ کرے۔

    اٹارنی جنرل آف پاکستان کی جانب سے سپریم کورٹ میں متفرق جواب میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کی درخواست موخر کی جائے۔

    اس جواب میں درخواست کی گئی ہے کہ اگر اس درخواست پر سماعت ہونی ہے تو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ الیکشن التوا کیس نہ سنے اور انھی جج صاحبان پر مشتمل بینچ تشکیل دیا جائے جو ابھی تک اس معاملے کی سماعت میں شامل نہیں رہے۔

    خیال رہے کہ اس دو مرتبہ تحلیل ہونے کے بعد اب تین رکنی بینچ اس معاملے کی سماعت کر رہا ہے اور اس بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں۔

  19. سپریم کورٹ کے باہر وکلا جمع ہونے لگے

  20. وکلا کو روکنے کے لیے رکاوٹیں انتہائی غیر ضروری ہیں: فواد چوہدری رہنما تحریک انصاف

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے اپنی ٹویٹ میں حکومت پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ’حکومت ہر اجتماع سے خوفزدہ ہے ، وکلا کو روکنے کیلئے رکاوٹیں انتہائی غیر ضروری ہیں۔‘

    انھوں نے مزید لکھا ’وکلاء اگر آئین اورسپریم کورٹ سے اظہار یکجہتی کر رہے ہیں اس پر ریاست کو وکلا کا شکر گزار ہونا چاہیئے۔ یہاں حکومت ہی آئین سے خوفزدہ ہے اور عدالت کو کام کرنے سے روک رہی ہے۔‘

    واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ آج سپریم کورٹ آف پاکستان میں وہی افراد داخل ہوسکیں گے جن کے مقدمات زیرسماعت ہوں گے یا جن کو سپریم کورٹ انتظامیہ کی طرف سے اجازت نامہ جاری ہوگا۔