بریکنگ, ’یکم مارچ کا عدالتی حکم اقلیتی نوٹ تھا‘: وکیل الیکشن کمیشن
سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا (کے پی) میں الیکشنکے التوا سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ مقدمے کی سماعت کررہا ہے۔
سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر کا کہنا تھا کہ یکم مارچ کا عدالتی حکم اقلیتی نوٹ تھا۔ عدالت اس تنازعہ کو حل کرنے کے لیے اقدامات کرے، وکیل الیکشن کمیشن
عرفان قادر کا کہنا تھا کہ فیصلے کی تناسب کا تنازعہ ججز کا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔ درخواستیں خارج کرنے والے چاروں ججز کو بھی بینچ میں شامل کیا جائے۔
وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سرکلر سے عدالتی فیصلے کا اثر ذائل نہیں کیا جاسکتا۔چیف جسٹس اپنے سرکلر پر خود جج نہیں بن سکتے۔ عرفان قادر کا کہنا تھا کہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد ہونا لازمی ہے، ایک گروپ کے بنیادی حقوق پر اکثریت کے حقوق کو ترجیح دینی چاہیے۔
سماعت میں عرفان قادر کا کہنا تھا کہ قومی مفاد آئیں اور قانون پر عملدرآمد میں یے، آئین میں 90 دن میں انتخابات ہونا الگ چیز ہے۔ عرفان قادر کا کہنا تھا کہ ملک میں کئی سال سے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات اکٹھے ہوتے ہیں۔ملک بھر میں انتخابات ایک ساتھ ہونا چاہئیں کیونکہ اس سے مالی طور پر بھی بچت ہو گی۔ قومی اسمبلی کے انتخابات میں بھی نگران حکومت ضروری ہے۔
عرفان قادر نے کہا کہ صوبائی اسمبلی چند ماہ پہلے تحلیل ہوئی ہے دو سال پہلے نہیں۔ہائیکورٹس میں مقدمات کی سماعت روکنا آئین کے مطابق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر نے الیکشن کی تاریخ دے دی ہے۔ پنجاب میں صدر کو تاریخ دینے کا حکم قانون کے مطابق نہیں۔ صدر آزادانہ طور پر کوئی فیصلہ کرنے کے مجاذ نہیں، صدر کی جانب سے انتخابات کی تاریخ دینے کا حکم دینا خلاف آئین ہے۔ انھوں نے کہا کہ صدر ہر کام میں کابینہ کی ایڈوائس کا پابند ہے۔ الیکشن ایکٹ میں صدر کو اختیار صرف عام انتخابات کے لیے ہے۔