بریکنگ, وزیرِ اعظم شہباز شریف کا سالانہ 200 ارب روپے کے بچت پلان کا اعلان، توشہ خانہ کا ریکارڈ پبلک کرنے کا فیصلہ
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے سرکاری سطح پر بچت کے حوالے سے اقدامات کی تفصیل بتائی ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے نتیجے میں مزید مہنگائی ہو گی اور ان سے کیے گئے معاہدے میں تمام شرائط مکمل کر دی گئی ہیں، اس حوالے سے بات چیت آخری مراحل میں ہے۔
انھوں نے بتایا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 25 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مطابق اس حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کے تحت سالانہ 200 ارب روپے کی بچت ہو گی۔ ان اقدامات میں:
- اس حکومت کے تمام وفاقی وزرا، مشیر اور معاونین خصوصی نے رضاکارانہ طور پر تنخواہیں اور مراعات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
- تمام وزرا گیس، بجلی، پانی کے بل جیب سے ادا کر رہے ہیں
- کابینہ ارکان کے زیرِ اتنظام تمام گاڑیاں واپس لی جائیں گی اور نیلام کی جائیں گی۔
- وزرا کو سکیورٹی کی صرف ایک گاڑی دی جائے گی
- وفاقی وزرا اندرون و بیرونِ ملک اکانومی کلاس میں سفر کریں گے، ان کے ساتھ معاون اہلکاروں کو جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔
- بیرونِ ملک دوروں کے دوران کابینہ کے ارکان فائیو سٹار ہوٹلوں میں قیام نہیں کریں گے۔
- تمام وزارتوں، ڈویژنز اور محکموں اور دفاتر کے اخراجات میں 15 فیصد کمی کی جائے گی۔
- جون 2024 تک تمام پرتعیش اشیا اور نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی ہو گی۔
- سرکاری افسران کو صرف ناگزیر نوعیت کے بیرونِ ملک دوروں کی اجازت ہو گی۔
- کار مونیٹائزیشن کی سہولت حاصل کرنے والے اہلکاروں سے گاڑی واپس لے لی جائے گی۔
- سرکاری اہلکاروں کے پاس موجود سکیورٹی گاڑیاں واپس لی جائیں گی اور وزیرِ داخلہ سکیورٹی تھریٹ کے حساب سے فیصلہ کرے گی۔
- ٹیلی کانفرنسنگ کو ترجیح دی جائے گی تاکہ سفری اور قیام کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔
- وفاقی حکومت میں کوئی نیا ذیلی محمکہ نہیں بنایا جائے گا، کوئی نیا ڈویژن، تحصیل وغیرہ نہیں بنایا جائے گا۔
- بجلی اور گیس کی بجت کے لیے گرمیوں میں صبح سرکاری دفاتر ساڑھے سات بجے کھلیں گے۔
- سرکاری ملازمین کو ایک سے زیادہ پلاٹ الاٹ نہیں کیے جائیں گے۔
- انگریز دور کے سرکاری گھروں کے حوالے سے تجویز یہ ہے کہ ان کے لیے ٹاؤن ہاؤسز بنائیں اور ان گھروں کی فروخت کی جائے۔
- کھانے کے موقع پر تمام حکومتی تقاریب میں ون ڈش کی پابندی اختیار کی جا رہی ہے، چائے کے ساتھ صرف بسکٹ دیے جائیں گے۔ غیر ملکی مہمانوں کے لیے یہ پابندی نہیں ہو گی۔
- کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ آج کے بعد صرف تین سو ڈالر کا تحفہ رکھ سکتے ہیں یعنی 80 ہزار کا تحفہ رکھ سکتے ہیں۔ اس سے اوپر کا تحفہ جمع ہو جائے گا۔ توشہ خانہ کا ریکارڈ پبلک کر رہے ہیں۔