پاکستان
تحریک انصاف کی جیل بھرو تحریک میں لاہور سے گرفتار ہونے والے پی ٹی آئی رہنماؤں کی
رہائی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست کی سماعت کے دوران عدالت کا کہنا
ہے کہ ’آپ تو خود کہہ رہے تھے گرفتار کرو اب جلدی کیا ہے۔‘
پاکستان
تحریک انصاف کی جیل بھرو تحریک میں لاہور سے گرفتار ہونے والے پی ٹی آئی رہنماؤں کی
رہائی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس شہرام
سرور نے درخواست گزار زین قریشی کے وکیل سے استفسار کیا کہ ’آپ کے لوگ کیوں پکڑے ہیں۔
جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ ہم نے جیل بھرو تحریک شروع کی تھی۔
جسٹس
شہرام سرور نے استفسار کیا کہ آپ عدالتوں کے ساتھ کیوں کھیل رہے ہیں۔ وکیل درخواست
گزار نے کہا کہ یہ علامتی گرفتاریاں تھیں۔ ہم ضمانت نہیں مانگ رہے۔ ان کے حقوق کے
تحفظ کے لیے عدالت آئے ہیں۔ جس پر عدالت نے کہا کہ آپ تو خود کہہ رہے تھے کہ
گرفتار کرو۔ اب گرفتار کر لیا تو کیا جلدی ہے۔
یاد
رہے کہ پی ٹی آئی کے
رہنما زین قریشی کی جانب سے والد شاہ محمود
قریشی کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ
شاہ محمود قریشی کو حبس بے جا میں رکھا گیا ہے، شاہ محمود کو کل حراست میں لیا گیا
لیکن نہیں بتایا جا رہا کہ وہ کہاں ہیں۔
سماعت
کے دوران شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
ان
کا کہنا تھا کہ ’مجھے گرفتار نہیں کیا لیکن میرے والد کو گرفتار کر لیا گیا۔ اور مجھے
ملاقات نہیں کرنے دے رہے۔‘
عدالت
نے اس پر انھیں جواب دیا کہ ’جہاں دفعہ 144 نافذ ہے وہاں چلے جائیں۔ آپ کو پکڑ کر
لے جائیں گے اور ملاقات بھی ہو جائے گی۔‘
اس
پر زین قریشی نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو پھر ہم پٹیشن دائر کریں گے۔ جس پر لاہور
ہائیکورٹ کے جج شہرام سرور نے کہا کہ اب پٹیشن دائر نہ کریں۔ آپ کہہ رہے کہ گرفتار
ہونے جا رہے ہیں۔ عدالتیں ہمیں بلا لیں۔ ایسے تو عدالتوں کے کام میں اضافہ کریں
گے۔ کیونکہ آپ تو خود گرفتار ہونے گئے ہیں۔
اس
پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ گرفتار کیے گئے افراد کو حکومت سامنے لائے۔ اس
حوالے سے کچھ تو پیش کرے۔
جس
پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ حکومت کیا نوٹس پیش کرے۔ آپ ہوم ڈیپارٹمنٹ کو درخواست
کر دیں کہ گھروں میں نظر بند کر دے۔ جس پر
وکیل نے کہا کہ سر آج کے لیے ہی رپورٹ مانگ لیں۔
عدالت
کا کہنا تھا کہ آج کے لیے نہیں کریں گے۔ کل بھی تین بار کیس لگایا لیکن کوئی نہیں
تھا۔ جس کے بعد عدالت نے سرکاری وکیل کو پیر کو ہدایت لے کر پیش ہونے کی ہدایت کر
دی