شہباز گل کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے کیس کی سماعت جاری

،تصویر کا ذریعہtwitter
رہنما تحریک انصاف شہباز گل کے خلاف بغاوت پراکسانے کے کیس کی سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ اسلام آباد میں جاری ہے۔
وقفے کے بعد سماعت میں پی ٹی آئی رہنما شہباز گل اور عماد یوسف عدالت میں پیش ہوئے۔ شہباز گل کی مقدمہ سے بریت کی درخواست پران کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ یہ درخواست آئین کے آرٹیکل 265 ڈی کے تحت دائر کی گئی ہے، ایف آئی آر میں دفعہ 124 اے لگائی گئی جس کے لئے وفاقی حکومت کی اجازت لازمی ہے۔
شہباز گل کے وکیل نے کہا کہ ایف آئی آر 9 تاریخ کو درج ہوئی، 124 اے کی دفعہ لگانے کے لئے وفاقی حکومت کی اجازت 10 تاریخ کو ملی، ایف آئی آر پہلے درج کی گئی، 124 اے کی دفعہ لگانے کی اجازت بعد میں لی گئی، اگر 10 تاریخ کو اجازت ملی تو 9 تاریخ کو درج کی گئی ایف آئی آر غیر قانونی ہوگئی۔
جج نے استفسار کیا کہ اس کے لیے اجازت نامہ جاری ہونا ضروری ہے یا تھانے کو موصول ہونا ضروری ہے، جس پر وکیل نے کہا کہ مقدمے میں جتنی ریکوری ہو رہی ہے وہ 9 تاریخ کی ہے، تمام عمل 9 تاریخ کو ہوچکا، حکومت سے اجازت 10 تاریخ کو ملی، یہ واحد کیس ہے جس میں شکایت کنندہ اپنی مرضی کی دفعات لکھ کر پولیس کو دیتا ہے۔
دوران سماعت جج نے ریمارکس میں کہا کہ شکایت کنندہ مجسٹریٹ ہیں، ان کے پاس قانون کا علم تو ہے، شہباز گل کے وکیل نے کہا کہ وہ بے شک مجسٹریٹ ہیں لیکن شکایت کنندہ بھی ہیں، پولیس کو اپنا مائنڈ اپلائی کرنا چاہیے تھا، شہباز گل کے وکیل نے کہا کہ کورٹ میں پیش کی گئی یو ایس بی سربمہر نہیں تھی، معلوم نہیں کہ کورٹ میں پیش کی گئی یو ایس بی کا کیا سیریل نمبر ہے؟
جج نے استفسار کیا کہ آپ کا یہ کہنا ہے ہم فرد جرم کے موقع پر شواہد کا جائزہ لیں؟ اگر ہم نے یہی کرنا ہے توگواہوں کے بیانات اورشہادتیں ریکارڈ کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ یہ ابھی صرف میٹریل ہے جوعدالت کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔













