پیٹرول کی قیمت میں 22.2 روپے کا اضافہ، نئی قیمت 272 روپے فی لیٹر
وزارت خزانہ کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 22.2 روپے تک کا اضافہ کیا گیا ہے جس کا اطلاق 16 فروری سے ہوگا۔ پیٹرول کی نئی قیمت 272 روپے فی لیٹر ہے۔
لائیو کوریج
بریکنگ, رکن قومی اسمبلی علی وزیر سینٹرل جیل کراچی سے دو برس بعد رہا
،تصویر کا ذریعہIDREES PASHTEEN
پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو سینٹرل جیل کراچی سے رہا کر دیا گیا ہے۔
علی وزیر کو 31 دسمبر 2020 کو سینٹرل جیل کراچی منتقل کیا گیا تھا۔ ان پربغاوت اور اشتعال انگیز تقاریر کرنے پر خیبرپختونخوا میں بھی مقدمات درج ہیں۔
پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنان کی بڑی تعداد نے سینٹرل جیل کے مرکزی دروازے پر علی وزیر کا پرتپاک استقبال کیا۔
علی وزیر قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 50 جنوبی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔
ایڈووکیٹ
عبداالقادر نے بی بی سی کو بتایا کہ علی وزیر پر سندھ میں چار اور خیبر پختونخواہ میں تین مقدمات بنائے گئے تھے۔
’سندھ میں ایک مقدمے سے وہ بری ہو گئے ہیں جبکہ باقی تین
مقدمات میں ضمانت حاصل کی گئی ہے۔ علی وزیر تقریباً دو سال دو مہینہ قید رہے۔‘
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعظم سواتی کے خلاف ٹرائل کی تفصیلات طلب کر لیں
،تصویر کا ذریعہYouTube
اسلام آباد ہائی کورٹ نے متنازع ٹویٹ کیس میں پی ٹی آئی کے رہنما اعظم سواتی کی ضمانت منسوخ کیے جانے کے لیے دائر کردہ ایف آئی اے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے مقامی عدالت میں جاری ٹرائل کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔
کیس کی سماعت چیف جسٹس عامر فاروق نے کی۔
سپیشل پراسیکیوٹر راجہ محمد رضوان عباسی نے عدالت کو بتایا کہ اعظم سواتی نے اداروں کے بارے میں دوبارہ متنازع گفتگو کی ہے اور وہ اہم سیکورٹی اور قومی اداروں کے متعلق ’مسلسل زہر افشانی‘ کر رہے ہیں۔
اُنھوں نے اعظم سواتی کی ضمانت منسوخ کرنے کی استدعا کی۔
واضح رہے کہ ایف آئی اے نے قومی اداروں کے خلاف متنازع بیان بازی پر پاکستان تحریک انصاف کے راہنماء اعظم سواتی کی ضمانت منسوخی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ایف آئی اے کی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ عدالت نے اعظم سواتی کی ضمانت منظور کرتے ہوئے کہا تھا کہ جرم دہرانے پر اعظم سواتی کے خلاف ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔
درخواست کے ساتھ راولپنڈی میں اعظم سواتی کے ایک حالیہ خطاب کی سی ڈی بھی بطور ثبوت پیش کی گئی ہے جس میں اُنھوں نے سیکورٹی اداروں کے متعلق متنازع گفتگو کی تھی۔
عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ اعظم سواتی پر ٹرائل کورٹ میں ابھی چارج فریم ہونا باقی ہے۔ عدالت نے اعظم سواتی کے ٹرائل کے حوالے سے تفصیلات طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں 13 فیصد کمی, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہEPA
بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں جنوری 2023 میں 13 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ جنوری کے مہینے میں ترسیلات زر 1.9 ارب ڈالر رہیں جو 32 مہینے کی کم ترین سطح ہے۔
موجودہ مالی سال کے پہلے سات مہینوں میں ترسیلات زر میں مجموعی طور پر 11 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
جنوری کے مہینے میں ترسیلات زر دو ارب ڈالر سے کم ہو گئیں جبکہ مسلسل 31 مہینوں تک ان کا حجم دو ارب ڈالر سے اوپر رہا ۔ مئی 2020 میں ترسیلات زر 1.8 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں جس کے بعد یہ دسمبر 2022 تک دو ارب ڈالر سے اوپر کی سطح پر موجود رہیں۔
مالیاتی امور کے تجزیہ کار فہد رؤف کے مطابق فارن کرنسی کی بلیک مارکیٹ نے قانونی ذرائع سے ترسیلات زر کی پاکستان آمد کو متاثر کیا۔
واضح رہے کہ گذشتہ ماہ کے آخر میں ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طور پر کنٹرول کرنے سے ملک میں بلیک مارکیٹ میں ڈالر کی آمد بڑھی جہاں سرکاری ریٹ سے بہت زیادہ ڈالر کی خرید و فروخت ہو رہی تھی۔
پنجاب میں انتخابات کا معاملہ، گورنر پنجاب اور الیکشن کمیشن کی ملاقات آج
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے مشاورت کے لیے گورنر پنجاب بلیغ الرحمان سے منگل کے روز الیکشن کمیشن کا وفد ملاقات کر رہا ہے۔
اس ملاقات کے دوران پنجاب کی صوبائی انتظامیہ کے افسران، چیف سیکریٹری پنجاب اور پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل بھی شرکت کر رہے ہیں۔
گورنر ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق الیکشن کمیشن کا وفد اور صوبائی انتظامیہ کے افسران اس اجلاس کے لیے گورنر ہاؤس پہنچ چکے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے وفد میں سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حامد خان، سپیشل سیکریٹری محمد ناصر خان، ڈائریکٹر جنرل لاء اور دیگر حکام شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے وفد کی گورنر پنجاب سے ملاقات کے دوران لاہور ہائی کورٹ کے اس حکم کی روشنی میں الیکشن کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے گا جس میں عدالت نے الیکشن کمیشن کو آئین کے مطابق صوبے میں انتخابات کروانے کے لیے تاریخ کا اعلان کرنے اور اس کے بعد شیڈول جاری کرنے کا کہا تھا تاہم چار روز گزرنے کے بعد الیکشن کمیشن تاحال انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہیں کر پایا۔
آئینی ماہرین کے مطابق الیکشن کمیشن خود سے تاریخ کے اعلان کا اختیار نہیں رکھتا۔
یاد رہے کہ گورنر پنجاب اس سے قبل یہ کہہ چکے ہیں کہ آئینی طور پر وہ بھی الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے کے پابند نہیں۔
صوبے میں سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کو ہدایات جاری کی ہیں تاہم وفاقی حکومت کے کئی نمائندے اور ادارے گذشتہ چند روز کے دوران یہ تاثر دیتے ہوئے نظر آئے ہیں کہ پاکستان میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات بھی قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے پر ایک ساتھ ہونے چاہییں۔
تاہم وفاق میں حکومتی اتحاد کے چند رہنما آئین کے مطابق 90 روز میں پنجاب میں انتخابات کروانے کے حمایت میں بیان دے چکے ہیں جن میں پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی شامل ہیں۔
سپریم کورٹ میں پنجاب، خیبر پختونخوا میں الیکشن کی تاریخ کے مقدمے کو نمبر الاٹ
سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن کی تاریخ کے حصول کے لیے دائر کردہ مقدمے کو نمبر الاٹ کر دیا گیا ہے۔
یہ مقدمہ
اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر کیا گیا تھا اور اس درخواست پر کوئی اعتراض عائد نہ ہوا۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ گورنر اور الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا حکم دے اور 90 دن کے اندر انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے۔
یہ درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر شعیب شاہین نے دائر کی ہے اور درخواست میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے گورنروں اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں وفاق اور دونوں صوبائی چیف سیکریٹریز بھی فریق ہیں۔
سپریم کورٹ میں 23 کروڑ کی کرپشن کے ملزم کی ضمانت منسوخی کی درخواست خارج
سپریم کورٹ میں 23 کروڑ روپے کی کرپشن کے ملزم نواب خان کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ نیب کے ترمیم شدہ قانون میں کچھ کوتاہیاں ہیں جس کو سپریم کورٹ دیکھ رہی ہے۔
نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ نئے نیب قانون کے بعد 23 کروڑ روپے کی کرپشن کا کیس نیب کے دائرہ اختیار سے نکل گیا اور مقدمہ نیب دائرہ اختیار سے نکلنے پر ملزم کی ضمانت منسوخی کی درخواست غیر مؤثر ہو گئی ہے۔
چیف جسٹس نے نیب سے استفسار
کیا کہ نیب کے دائرہ اختیار سے نکلنے والے مقدمات ختم ہو گئے، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ نیب مقدمات واپس نہیں لے رہا بلکہ عدالتیں کیسز واپس کر رہی ہیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نئے نیب قانون میں کچھ کوتاہیاں ہیں جسے ہم دیکھ رہے ہیں۔
بعد میں سپریم کورٹ نے ملزم نواب خان کی ضمانت منسوخی کی درخواست غیر مؤثر ہونے پر خارج کر دی۔
متنازع ٹویٹ کیس: اعظم سواتی کی ضمانت منسوخی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر
،تصویر کا ذریعہYoutube
پاکستان
تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی کے خلاف متنازع ٹویٹ کیس میں ضمانت منسوخی کی
درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہے۔
اعظم
سواتی کے خلاف راولپنڈی میں ایک تقریب میں اداروں سے متعلق متنازع گفتگو کرنے کے
بعد ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کی گئی
چیف
جسٹس عامر فاروق منگل کو ایف آئی اے کی درخواست پر سماعت کریں گے۔
اعظم
سواتی کی راولپنڈی کی تقریر کا ٹرانسکرپٹ، یوایس بھی درخواست کے ساتھ منسلک کیا
گیا ہے۔
یاد
رہے کہ عدالت نے ضمانت منظوری میں کہا تھا اعظم سواتی کے جرم دہرانے پر ضمانت
منسوخی دائر ہو سکتی ہے۔
ایف
آئی اے سائبر کرائم ونگ اسلام آباد نے اعظم سواتی کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا اور اعظم
سواتی کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضمانت پر رہائی کا حکم دیا تھا۔
اگر کوئی غیر جمہوری قدم اٹھایا گیا تو خاموش نہیں رہیں گے، جہاں آئین کو خطرہ لگا مقابلہ کریں گے: بلاول بھٹو زرداری
،تصویر کا ذریعہbbc
پاکستان کے وزیر خارجہ اور چیئرمین
پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے اگر کوئی غیر جمہوری قدم اٹھایا گیا تو ہم خاموش نہیں رہیں گے، جہاں سے بھی لگا کہ آئین کو خطرہ ہے تو اس کا مقابلہ کریں گے۔
پیر
کو پاکستان کے آئین کی گولڈن جوبلی کی تقریب سے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو
زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جماعت ہمیشہ غیر آئینی اقدامات کے خلاف رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی، جس وقت سے آج گزر رہے ہیں یہ بھی امتحان ہے، اگر
اس امتحان میں پاس ہوتے ہیں تو ہماری کامیابی ہے اگر ہم ناکام ہوتے ہیں تو ملک کا
نقصان ہو گا۔
بلاول
بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک کمیٹی تشکیل دے رہی ہے جو تمام سیاسی پارٹیوں سے رابطے کرے گی۔ کس کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت ہم الیکشن اور پارلیمان میں ایک دوسرے کے ساتھ چلیں گے۔
ہم
جس معاشی اور سیاسی بحران سے گزر رہے ہیں تاریخ میں ایسے بحران سے نہیں گزرے، کوشش کر رہے ہیں کہ یہ نظام بہتر طریقے سے چلے۔
اگر ہر سیاسی جماعت کا ایک ہی ایجنڈا ہوا کہ نہ کھیلوں گا تو کھیلنے دوں گا تو
نقصان عوام کا ہے۔
انھوں
نے مزید کہا کہ ملکی اداروں کو بھی اسی آئین نے کھڑا کیا ہے۔ ہمارے صوبوں میں بھی
حکومتیں ہیں اور وہ آئین کی وجہ سے ہیں۔ آئین کی پاسداری کے لیے مزید مشکل وقت سے
گزرنا ہو گا۔
سابق
حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ سلیکٹڈ دور بھی آئین کے لیے امتحان
تھا۔ عمران خان کے دور میں جو آئین کا نقصان ہوا وہ کسی اور دور میں نہیں ہوا۔ عمران
خان نے اداروں کو دھمکایا اور آئین کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔
انھوں
نے کہا کہ عمران خان کے دور میں جو نقصان ہو رہا تھا وہ اب نہیں ہو رہا، اس وقت
ہمارا نظام اور آئین خطرے میں تھا، سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالا گیا۔
بریکنگ, پنجاب کے انتخابات: الیکشن کمیشن نے تاریخ پر مشاورت کے لیے گورنر سے وقت مانگ لیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
الیکشن
کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ پر مشاورت کے لیے
گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن سے وقت مانگ لیا ہے۔
لاہور
ہائی کورٹ کی جانب سے صوبائی اسمبلی کی تحلیل کے 90 روز کے اندر انتخابات کرانے کے
حکم پر عملدرآمد کے سلسلے میں الیکشن کمیشن کا اجلاس پیر کو ہوا۔
الیکشن
کمیشن کے اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر
سلطان راجا کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں لاہور ہائی کورٹ کے 10 فروری کے فیصلے
کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پر عملدآمد پر غور کیا گیا۔
اس حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے
عدالت کے حکم کے مطابق گورنر پنجاب سے درخواست کی ہے کہ صوبے میں عام انتخابات کی
تاریخ سے متعلق مشاورت کے لیے کل یعنی 14 فروری 2023 کو میٹنگ کے لیے وقت دیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں ضروری مراسلہ بھی جاری
کردیا گیا ہے، اور الیکشن کمیشن نے سیکریٹری الیکشن کمیشن کی سربراہی میں سپیشل سیکرٹری
ا ور ڈائریکٹر جنرل لا کو مقرر کیا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کی جانب سے گورنر سے
مشاورت کریں۔
اجلاس
میں اراکین الیکشن کمیشن کے علاوہ سیکریٹری ای سی پی اور دیگر سینئر افسران نے
شرکت کی۔
یاد رہے کہ خیال رہے کہ 10 فروری کو لاہور ہائی کورٹ نے پی
ٹی آئی کی درخواست منظور کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ کا فوری
اعلان کرنے کا حکم دیا تھا۔
ارشد شریف قتل کیس ’کینیا کے حکام تفتیش کے لیے مکمل رسائی نہیں دے رہے‘, شہزاد ملک نامہ نگار بی بی سی
،تصویر کا ذریعہFace Book
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اس قتل سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔
دوران سماعت بینچ میں شامل جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے جے آئی ٹی کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’عدالت کو صاف بتائیں کہ کینیا میں تفتیش سے ٹھوس شواہد ملے یا نہیں؟‘
عدالت کے استفسار پرمشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ’ہمیں ارشد شریف کے قتل سے متعلق ابھی تک کوئی مواد نہیں ملا۔‘
ڈی آئی جی اویس احمد نے عدالت کو بتایا کہ’ ٹیم کے ارکان نے کینین اور یو اے ای اتھارٹیز سے رابطے میں ہے۔ کینیا کے حکام ہمیں تفتیش کے لیے مکمل رسائی نہیں دے رہے۔‘
دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ ’کینیا کے حکام نے ابھی تک ہمیں جائے وقوعہ تک رسائی ہی نہیں دی۔‘
انھوں نے کہا کہ’کینیا نے ابھی صرف باہمی قانونی معاونت کی حد تک پاکستان کے ساتھ رضامندی ظاہر کی ہے۔ جے آئی ٹی نے کینیا میں ڈاکٹروں اور پولیس حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ارشد شریف کی گاڑی پر گولیاں چلانے والے دو پولیس حکام کے خلاف خلاف کینیا کے حکام نے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔
انھوں نے کہا کہ یو اے ای حکام نے اب تک جے آئی ٹی کو پوچھ گچھ کرنے کی اجازت نہیں دی۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہا کہ ارشد شریف قتل کی تحقیقات سے متعلق دو رپورٹس عدالت میں جمع کروائی ہیں۔ ن میں سے ایک دفتر خارجہ اور دوسری سپیشل جے آئی ٹی کی رپورٹ شامل ہے۔
سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کے خلاف مقدمہ درج
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائم ونگ نے سابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔
شوکت ترین کے خلاف مقدمہ پیکا ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے، ان کے خلاف مقدمے میں مدعی ارشد محمود ولد غلام سرور ہیں۔
سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کے خلاف مقدمہ بغاوت اور اشتعال انگیزی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہFIA
شوکت ترین پر مقدمہ ان کی سوشل میڈیا پر وائرل مبینہ آڈیو کی بنیاد پر درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے سائبرکرائم ونگ میں درج ایف آئی آر کے مطابق آڈیو میں مبینہ بدنیتی پر مبنی گفتگو کی گئی۔
آڈیو میں مبینہ طور پر شوکت ترین نے محسن لغاری کو کہا کہ وفاقی حکومت کو سرپلس بجٹ واپس نہ کیا جائے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے پریس کانفرنس میں آگاہ کیا تھا کہ شوکت ترین کے خلاف تحقیقات مکمل ہو گئی ہیں اور حکومت نے انہیں گرفتار کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
خاتون جج کو دھمکی دینے کے مقدمے میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا مسترد
،تصویر کا ذریعہPTI
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے خاتون جج کو دھمکی دینے کےمقدمے میں سابق وزیراعظم عمران خان کی طبی بنیاد پر حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کرتے ہوئے پراسیکیوشن کی جانب سے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا مسترد کردی۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں عمران خان کی جانب سے خاتون جج کو دھمکی دینے کے کیس کی سماعت ہوئی۔
سماعت کے دوران سپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی عدالت پیش ہوئے اور عمران خان کی عدم پیشی پر ضمانتی مچلکے منسوخ کرنے کی استدعا کی۔
دوران سماعت عمران خان کے وکیل نے ان کی جانب سے طبی بنیادوں پر حاضری سے استثنی کی درخواست بھی دائر کی اور کہا کہ آٹھ فروری کی حالیہ میڈیکل رپورٹ درخواست کے ساتھ منسلک کی گئی ہے۔
عمران خان کے وکیل کے مطابق’عمران خان کی صحت اجازت نہیں دے رہی کہ وہ اسلام آباد آئیں، وہ سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتے،عمران خان کو ڈاکٹرز نے آرام کا مشورہ دیا ہے۔‘
اس موقع پرپراسیکیوٹررضوان عباسی نے عمران خان کی حاضری سے استثنا کی درخواست پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ’اپنے ہی ہسپتال کی میڈیکل رپورٹ لگا کر عمران خان پیش نہیں ہو رہے، شوکت خانم ہسپتال تو کینسر ہسپتال ہے، عمران خان کا مسئلہ الگ ہے۔‘
پراسیکیوٹرنے استدعا کی ’عمران خان پر فریکچر کے باعث سوزش ہے، کیا عمران خان کو عدالت پیدل چل کرآنے کا کہا گیا؟ عمران خان کچہری کے باہر آئیں، ان کی حاضری لگائی جاسکتی ہے،استدعا ہے کہ عمران خان کے ضمانتی مچلکے منسوخ کیے جائیں اور وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں۔‘
وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے عمران خان کی حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کرنے کا حکم سنایا جبکہ سپیشل پراسیکیوٹر کی جانب سے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا مسترد کردی۔
مقدمہ کی آئندہ سماعت 9 مارچ کو ہو گی ۔
شہباز گِل اپنے بیان سے کبھی انکاری نہیں ہوئے: شہبازگِل کی بریت کی درخواست مسترد ہونے کا تفصیلی فیصلہ
،تصویر کا ذریعہYoutube
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے شہبازگِل کی بریت کی درخواست مسترد ہونے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج طاہرعباس سِپرا نے تین صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وکیلِ ملزم کے مطابق شہبازگِل کے خلاف کیس یو ایس بی کی بنیاد پر بنایا گیا جبکہ وکیلِ ملزم کے مطابق یو ایس بی کی کبھی فرانسک نہیں کروائی گئی اور یو ایس بی سیل شدہ نہیں تھی جس پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وکیلِ ملزم کے مطابق شہبازگِل کے خلاف ثبوت فردِجرم عائد کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔
تفصیلی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابھی تک شہبازگِل پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی اور شہباز گِل کے خلاف ابھی ثبوت اور گواہان کا بیان بھی قلمبند نہیں ہوا۔
تفصیلی فیصلے کے مطابق جرح کے دوران شہبازگِل کے پاس ثبوتوں اور گواہان کے بیانات پر سوال اٹھانے کا مکمل اختیار ہو گا۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ شہبازگِل کے مقدمے سے تعلق جوڑنے کے لیے ریکارڈ پر اطمینان بخش ثبوت موجود ہیں جبکہ شہباز گِل دوران سماعت اپنے دیے گئے بیان سے کبھی انکاری نہیں ہوئے۔
اسامہ ستی قتل کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ کا فریقین سے 13 مارچ تک جواب طلب
،تصویر کا ذریعہFacebook
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسامہ ستی قتل کیس میں سزائے موت پانے والے دو پولیس اہلکاروں کی ٹرائل کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل پر نوٹسز جاری کر دیے اور فریقین سے 13 مارچ تک جواب طلب کرلیا
سزائے موت پانے والے پولیس اہلکاروں افتخار احمد اور محمد مصطفیٰ کی اپیل پر دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس طارق محمود جہانگیری بنچ کا حصہ تھے۔
درخواست گزار افتخار احمد اور محمد مصطفی کی جانب سے وکیل زاہد اللہ عدالت پیش ہوئے اورعدالت سے استدعا کی کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ قانون سے متصادم ہے۔ لہذا اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔
درخواست گزار کے وکیل نے ٹرائل کورٹ کی طرف سے سنائی گئی سزا کو ختم کر کے مقدمے سے بری کرنے کی درخواست بھی کی۔
عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرکے سماعت 13 مارچ تک ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ اسامہ ستی قتل کیس میں سزا یافتہ دو پولیس اہلکاروں نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
اپیل میں کہا گیا تھا کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ قانون سے متصادم ہہونے پر کالعدم قرار دیا جائے۔
بریکنگ, آڈیو لیک: ایف آئی اے کو شوکت ترین کو گرفتار کرنے کی اجازت دے دی ہے، رانا ثنا اللہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان
کے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت نے ایف آئی اے کو سابق وزیر
خزانہ شوکت ترین کی گرفتاری کی اجازت دے دی ہے۔
کراچی
میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھاکہ شوکت ترین کے خلاف
انکوائری مکمل ہو گئی ہے اور حکومت نے انھیں گرفتار کرنے کی اجازت دے دی ہے، ایف
آئی اے نے شوکت ترین کی گرفتاری کی اجازت مانگی تھی۔
یاد
رہے کہ گذشتہ روز وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی
ایم ایف) ڈیل سے متعلق آڈیو لیک کی تحقیقات کے بعد سابق وزیر خزانہ شوکت ترین
کےخلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور وزارت داخلہ سے ان کی
گرفتاری کی اجازت مانگی تھی۔
رانا
ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ’ہم دن رات پاکستان کی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں اور
کچھ سیاست دان اپنے گھٹیا ایجنڈے کو آگے بڑھارہے ہیں، عمران خان ساڑھے تین سال
اپنے گھٹیا ایجنڈے کو چلاتے رہے۔‘
انھوں
نے کہا کہ عمران خان نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا جس پر عمل کرتے ہوئے ہم یہاں
تک پہنچے۔ عمران خان چاہتے ہیں کہ پاکستان عدم استحکام کا شکار رہے۔
عمران خان: جنرل باجوہ کے دور میں شہباز شریف کا احتساب نہیں کیا جا سکتا تھا
،تصویر کا ذریعہPTI
عمران خان نے کہا ہے کہ جنرل باجوہ نے کورونا اور پولیو کے خلاف حکومت کا بہت ساتھ دیا لیکن ساتھ ہی الزام عائد کیا کہ ان کے دور میں شہباز شریف کا احتساب نہیں کیا جا سکتا تھا۔
عوام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے الزام عائد کیا کہ جنرل باجوہ نے ان لوگوں کو این آر او دیا اور اب کوشش ہے کہ اس این آر او کو بچایا جائے، اس کے لیے عمران خان اور اس کی جماعت کو اقتدار میں نہ آنے دیا جائے۔
عمران خان نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ اُنھوں نے ہی حکومت گرانے کا فیصلہ کیا تھا۔
عمران خان نے کہا کہ اس بارے میں سب کو معلوم تھا مگر یہ اُنھوں نے نہیں سوچا تھا کہ وہ تسلیم ہی کر لیں گے۔
سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ تنقید ان پر ہوتی رہی جبکہ اختیار اُنھوں نے اپنے پاس رکھا ہوا تھا۔
عمران خان نے کہا کہ اس وقت آئین کے تحفظ کے لیے ساری قوم اب اپنی عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے اور دوسری طرف سارا ’سٹیٹس کو کا ٹولہ‘ جمع ہے جن کا ایک مقصد ہے کہ ان کا ’چوری کا پیسہ‘ بچ جائے۔
عمران خان نے کہا کہ آئین کے مطابق الیکشن 90 دن کے اندر کروانے ہوں گے اور 90 سے ایک روز اوپر گزرنے کے بعد یہ حکومتیں غیر آئینی ہو جائیں گی۔
اُنھوں نے کہا کہ ہمیں اس وقت عدالتوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے، اُنھیں ہماری ضرورت پڑے گی کیونکہ ابھی سے ہی ان کے خلاف بیانات آنے شروع ہو گئے ہیں اور پریشر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
’جنرل باجوہ کرپشن کو بڑا مسئلہ نہیں سمجھتے تھے اور چاہتے تھے ہم ان چوروں کے ساتھ مل کر کام کریں‘: عمران خان
پاکستان تحریک انصاف
کے چیئرمین و سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ فوج کی کسی بھی سویلین حکومت
کے ساتھ تمام پالیسیوں کا دارومدار صرف ایک فرد یعنی آرمی چیف کی شخصیت پر ہوتا
ہے۔
امریکی
نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا
تھا کہ پاکستان میں فوج کے ساتھ تعلقات کا مطلب صرف ایک شخص آرمی چیف سے تعلق کا ہوتا
ہے۔‘
عمران
خان نے کہا کہ ہماری حکومت اور جنرل باجوہ کے درمیان مثبت تعلقات کے نتیجے میں
ہمیں ملکی فوج کی حمایت حاصل رہی اور ہم نے چیلینجز کا مل کر مقابلہ بھی کیا۔‘
عمران
خان کے مطابق حکومت اور عسکری ادارے کی مشترکہ کوششوں سے کووڈ کی عالمی وبا کا
بہترین انداز میں مقابلہ کیا گیا۔
ان
کی حکومت اور فوج کے ساتھ تعلقات میں خرابی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا
کہنا تھا کہ ’جنرل باجوہ اور ہمارے درمیان مسائل تب پیدا ہوئے جب انھوں نے ملک کے
چند بڑے مجرموں کی حمایت کی۔ جنرل باجوہ کرپشن کو بڑا مسئلہ نہیں سمجھتے تھے اور
وہ چاہتے تھے کہ ہم ان چوروں کی کرپشن معاف کر کے ان کے ساتھ مل کر کام کریں۔‘
سابق
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’جنرل باجوہ کے شہباز شریف کے ساتھ قریبی
تعلقات تھے جو اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم ہیں۔ اور اس سوچ کے نتیجے میں رجیم
چینج آپریشن کے لیے راہ ہموار ہوئی۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ
عوام کی منتخب کردہ حکومت کے پاس ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اختیار بھی ہونا چاہیے ان
دونوں کو علیحدہ نہیں رکھا جا سکتا۔
’جب
اختیار آرمی چیف کے پاس اور ذمہ داری وزیر اعظم کے پاس ہو تو نظام نہیں چل سکتا۔‘
ایک
سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ملک کی نئی عسکری قیادت میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ رجیم چینج آپریشن
ناکام ہو چکا ہے، پاکستان کی معیشت بری طرح تباہ ہو چکی ہے۔ اس وقت پاکستان تاریخ
کے بدترین معاشی اور سیاسی بحران سے گزر رہا ہے ۔‘
ملک
میں انتخابات اور سیاسی عدم استحکام پر بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ
’الیکشن کمیشن کی ساکھ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے اس صورت میں شفاف انتخابات کا انعقاد ناممکن ہے لیکن
انتخابات کا بروقت ہونا ضروری ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں
نے کہا کہ سندھ کے بلدیاتی انتخابات کو تمام سیاسی جماعتوں نے مسترد کیا تاہم عام
انتخابات میں ہارنے کی صورت میں رد عمل پر کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔‘
پاکستان کی خارجہ پالیسی
کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں کوئی بھی
حکومت ہو مگر اس کے ساتھ پاکستان کے اچھے تعلقات کا ہونا ضروری ہے۔
’میں
نے اشرف غنی حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی تاکہ وہ
دہشتگردی کی صورت میں ہماری معاونت کر
سکیں۔‘
عمران
خان کے مطابق ’اس وقت ہمارے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنا سارا وقت بیرونی
دوروں پر صَرف کیا لیکن افغانستان کا ایک بھی دورہ نہیں کیا۔ ہم اس وقت دہشت گردی
کے خلاف ایک اور جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس لیے کابل کو اعتماد میں لیا جانا ضروری
ہے تاکہ ان مسائل کو مل کر حل کر سکیں۔‘
عمران
خان کے مطابق ’جب طالبان نے افغانستان کی حکومت سنبھالی تو 30 سے 40 ہزار مہاجرین
کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ ہمارے لیے ان کی دوبارہ آباد کاری ایک بہت
بڑاچیلنج تھا لیکن ہماری حکومت ختم ہونے
کی وجہ سےمکمل نہ ہو سکا۔ اس دوران نئی
حکومت آئی جس کی غفلت کی وجہ سے دہشت گردی نے ایک بار پھر سر اٹھانا شروع کر دیا۔‘
عمران خان کے مطابق بین
الاقوامی تعلقات کی بنیاد کسی کی ذاتی انا
پر نہیں بلکہ ملکی مفادات پر ہونی چاہیے۔ اور پاکستان کا مفاد اس میں ہے کہ اس کے
امریکہ سے بہترین تعلقات ہوں۔
ان
کے مطابق سائفر ایک حقیقت تھی تاہم اب ہمیں بھول کر آگے بڑھنا ہو گا۔
عمران
خان نے کہا کہ کسی ایک فریق کی حمایت سے
آپ اپنے لوگوں کے مفادات کو متاثر کرتے ہیں اسی لیے ہم نے روس اور یوکرین کے
تنازعے میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا۔‘
’بحیثیت
وزیر اعظم میری ترجیح میرے ملک کی 22 کروڑ عوام تھی ، پاکستان جیسا ملک جس کی بڑی
آبادی خط غربت سے نیچے ہو وہ اخلاقی بیانات دینے کی استطاعت نہیں رکھتا۔‘
شوکت خانم کو ملنے والی امداد سے تین ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی: عمران خان کا اعتراف, شہزاد ملک، بی بی سی نامہ نگار
،تصویر کا ذریعہ@PTIOfficial
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران
خان نے خواجہ آصف کے خلاف ہتک عزت کے کیس میں اعتراف کیا ہے کہ شوکت خانم کو ملنے
والی امداد سے تین ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی تھی جوسنہ 2015 میں شوکت خانم کو واپس دے دی گئی۔
اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں عمران خان کی جانب سے
خواجہ آصف کے خلاف ہتک عزت کے کیس کی سنیچر کے روز سماعت ہوئی جس میں چیئرمین پی ٹی
آئی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔
دورانِ سماعت وکیل علی شاہ گیلانی نے عمران خان پر جرح پر چیئرمین
پی ٹی آئی نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات تھیک ہے کہ تین ملین ڈالرز کی سرمایہ
کاری 2008 میں کی گئی تھی اور سرمایہ کاری کرنے والی رقم 2015 میں شوکت خانم کو
واپس دے دی گئی تھی۔
عمران خان نے کہا کہ تین ملین ڈالرز کی رقم سات سال ایچ بی
جی گروپ کے پاس رہی جس کے چیف ایگزیکٹو امتیاز حیدری ہیں اور امتیازحیدری اس کمیٹی
میں شامل تھے جنھوں نے تین ملین ڈالرز کی رقم سرمایہ کاری کرنے کے لیے منظور کی، یہ
سرمایہ کاری امتیاز حیدری نے ذاتی فائدہ حاصل کرنے کے لیے منظور نہیں کی، بورڈ میٹنگز
میں اس سرمایہ کاری سے متعلق بات ہوئی تھی۔
خواجہ آصف کے وکیل نے عمران خان سے سوال کیا کہ کیا آف شور
کمپنیوں میں سرمایہ کاری کا آپ کو معلوم ہے؟ اس پر سابق وزیراعظم نے کہا کہ شوکت
خانم اسپتال کے فیصلوں کا مجھے علم نہیں، شوکت خانم ہسپتال کے مالی فیصلوں کی آڈٹ
رپورٹ ہوتی ہے، ہسپتال کا بورڈ جو فیصلے کرتا ہے مجھ سے پوچھ کر نہیں کرتا، مجھے
اب معلوم ہوا ہےکہ دو آف شور کمپنیوں میں شوکت خانم ہسپتال کا پیسہ لگایا گیا تھا۔
خواجہ آصف کے وکیل کی جانب سے عمران خان پر جرح مکمل ہونے پر عدالت نے ہتک عزت
کے کیس کی سماعت چار مارچ تک ملتوی کر دی۔
شہباز گل کی مقدمے سے بریت کی درخواست مسترد
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ اسلام آباد میں آج پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شہباز گل کے خلاف ’بغاوت پر اکسانے‘ کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔
ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا نے شہباز گل کی مقدمے سے بریت کی درخواست مسترد کر دی اور فیصلہ سنایا کہ ان پر 27 فروری کو فردِ جرم عائد کی جائے گی۔
الیکشن کمیشن نے انتخابات کے لائحہ عمل کو طے کرنے کے لیے 13 فروری کو اجلاس طلب کر لیا
الیکشن کمیشن نے ملک میں عام انتخابات اور صوبائی اسمبلی پنجاب کے انعقاد کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں خصوصی اجلاس پیر 13 فروری کو صبح 11 بجے طلب کر لیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے اعلامیہ کے مطابق ’الیکشن کمیشن لاہور ہائی کورٹ عدالت کے فیصلے کو مد نظر رکھتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل اور عملدرآمد پر غور کرے گا۔‘
واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے گزشتہ روزتحریک انصاف کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہ تھا کہ وہ فوری طورپر پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے۔
جسٹس جواد حسن نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ الیکشن کمیشن آئین میں دی گئی مدت کے اندر الیکشن کا اعلان کرے کیونکہ الیکشن کمیشن 90 روز میں الیکشن کرانے کا پابند ہے۔