آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

جنرل قمر باجوہ نے پاکستانی فوج کی کمان جنرل عاصم منیر کے حوالے کر دی

جنرل عاصم منیر پاکستان کے 17 ویں فوجی سربراہ بن گئے ہیں۔ اپنے آخری خطاب میں اُنھوں نے نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ دوسری طرف اسلام آباد کی عدالت نے متنازع ٹویٹس کے مقدمے میں سینیٹر اعظم سواتی کا مزید چار روز کا ریمانڈ منظور کر لیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری میں ساٹھ فیصد سے زائد کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں اکتوبر کے مہینے میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 62 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    مرکزی بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر کے مہینے میں ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے نو کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی جو گذشتہ سال اکتوبر میں تقریبآ پچیس کروڑ ڈالر تھی۔

    موجودہ مالی سال کے پہلے چار مہینوں میں بھی غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی 52 فیصد کمی ہوئی جو تقریباً 35 کروڑ ڈالر رہی جب کہ گذشتہ مالی سال کے ان مہینوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم 73 کروڑ ڈالر تھا۔

  2. پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 68 فیصد کی بڑی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ موجودہ مالی سال کے اکتوبر کے مہینے میں 68 فیصد تک گر گیا ہے۔

    مرکزی بینک کے مطابق موجودہ سال کے اکتوبر میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 56 کروڑ ستر لاکھ ڈالر رہا جو گذشتہ مالی سال میں اکتوبر کے مہینے میں 1.7 ارب ڈالر تھا۔

    اکتوبر کے مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی وجہ درآمدات میں ہونے والی 23 فیصد کمی تھی جس کی وجہ سے ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا۔

    موجودہ مالی سال کے پہلے چار مہینوں میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 47 فیصد کمی واقع ہوئی جو 5.3 ارب ڈالر سے 2.8 ارب ڈالر تک گر گیا۔

  3. فوج کے اعلیٰ عہدوں پر تقرری کا عمل آج شروع ہو چکا ہے: خواجہ آصف

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان فوج کے اعلیٰ ترین عہدوں پر تقرری کا عمل آج شروع ہو چکا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اس حوالے سے تمام تر آئینی تقاضوں کے مطابق تکمیل ہو جائے گی۔‘

  4. پی ٹی آئی نے 26 نومبر کو عمران خان کے ہیلی کاپٹر لینڈنگ کے لیے درخواست ضلعی انتظامیہ کو جمع کروا دی

    تحریک انصاف کی جانب سے 26 نومبر کو پریڈ گراؤنڈ میں عمران خان کے ہیلی کاپٹر لینڈنگ سے متعلق باضابطہ طور پر اسلام آباد انتظامیہ کو درخواست دے دی گئی ہے۔

    تحریک انصاف 26 نومبر کو فیض آباد کے مقام پر عوامی اجتماع کا انعقاد کرے گی۔

    درخواست میں بتایا گیا ہے کہ چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کا ہیلی کاپٹر پریڈ گراؤنڈ اسلام آباد میں لینڈ کرے گا جہاں سے وہ حقیقی آزادی مارچ کی قیادت کرنے کے لیے راولپنڈی روانہ ہوں گے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل، اسلام آباد میں دھرنے اور احتجاج سے متعلق پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے جو درخواست دائر کی گئی تھی وہ ضلعی انتظامیہ کے مطابق اب غیر مؤثر ہو چکی ہے۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی پی ٹی آئی کو ضلعی انتظامیہ کو درخواست دینے کا کہا اور اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ کسی سیاسی جماعت کو جلسے کی اجازت دینے کا اختیار ضلعی انتظامیہ کے پاس ہے۔

    اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے ایڈووکیٹ جنرل کے توسط سے عدالت کو بتایا کہ ضلعی انتظامیہ روات کے قریب پی ٹی آئی کو جلسہ کرنے کی اجازت دے سکتی ہے۔

    سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کے دوران بھی سپریم کورٹ نے یہ واضح کیا ہے۔

    سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کوئی غیر قانونی کام کرتی ہے تو عدالت کا 25 مئی کا فیصلہ موجود ہے جو کہ عدالت نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق دیا تھا۔

    سپریم کورٹ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو روکنے سے متعلق جمیعت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کی درخواست کو یہ کہہ کر مسترد کر چکی ہے کہ عدالت کسی بھی اقدام کو ہونے سے قبل اس بارے میں کوئی حکم جاری نہیں کرسکتی۔

    سپریم کورٹ نے یہ آبزرویشن بھی دی کہ حکومت کے پاس لانگ مارچ کو روکنے کے لیے بہت سے قانونی اختیارات موجود ہیں۔

    دوسری جانب سنہ 2018 میں فیض آباد پر ایک مذہبی جماعت کے دھرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے کے بارے میں ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے اور اس درخواست میں وزارتِ دفاع اور وزارت داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے۔

  5. پرویز مشرف حملہ کیس: سپریم کورٹ کا ملزم رانا تنویر کو رہا کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف حملہ کے ملزم رانا تنویر کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    عدالت نے وفاق اور پنجاب کی رہائی کے خلاف اپیلیں مسترد کر دی ہیں۔

    جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کرتے ہوئے مجرم رانا تنویر کے وکیل حشمت حبیب نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکل کی عمر قید کی سزا پوری ہو چکی ہے۔

    وکیل حشمت حبیب کا کہنا تھا کہ سزا پوری ہونے کے باوجود رانا تنویر کو رہا نہیں کیا جا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’عمر قید کی مدت 14 سال ہے میرے موکل کو جیل میں قید تقریبا 20 سال ہو چکے ہیں۔‘

    خیال رہے کہ رانا تنویر کو سنہ 2005 میں سپریم کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

    رانا تنویر حسین کو 31 دسمبر 2003 کو پنڈی میں سابق صدر پر حملہ کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    مجرم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’جیل حکام کی جانب سے سزا پوری ہونے پر رانا تنویر کو رہا نہیں کیا جا رہا تھا۔

    ’سپریم کورٹ نے رہائی کا ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے وفاق اور پنجاب کی اپیلیں خارج کر دیں۔‘

  6. سماجی کارکن پروین رحمان کے قتل میں ملوث سزایافتہ دو ملزمان کی رہائی کا حکم

    سندھ ہائی کورٹ نے سوشل ایکٹوسٹ اور اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کی ڈائریکٹر پروین رحمان کے قتل میں سزا یافتہ دو ملزمان کی عمر قید کو کالعدم قرار دے دیا ہے اور ان کی رہائی کا حکم جاری کیا ہے۔

    انسداد دہشت گردی عدالت نے رحیم سواتی، امجد حسین، احمد حسین، ایاز سواتی اور احمد حسین کو دو بار عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

    ملزمان کے وکیل محمود اے قریشی نے فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پروین رحمان کے ڈرائیور کے بیان کا جائزہ نہیں لیا گیا تھا۔

    اس واقعے کا کوئی چشم دید گواہ نہیں تھا اور استغاثہ نے رحیم سواتی کے بیان پر انحصار کیا جو ایس پی انویسٹی گیشن نے لیا تھا لیکن یہ اعترافی بیان اور گواہوں کے بیانات سے متصادم تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ پولیس نے جو دعویٰ کیا تھا کہ جائے وقوعہ سے گولیوں کے خول ملے ہیں وہ قاری بلال سے جو پستول برآمد ہوا تھا اس کے ہیں۔

    یاد رہے کہ قاری بلال کالعدم تحریک طالبان کے مقامی کمانڈر تھے جو سنہ 2013 میں منگھو پیر کے علاقے میں ایک پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

    یاد رہے کہ 13 مارچ 2013 کو سماجی کارکن پروین رحمان کو اپنے دفتر جاتے ہوئے ایک موٹر سائیکل پر سوار دو اسلحہ برادر افراد نے فائرنگ کر کے قتل کیا تھا، یہ واقعہ کراچی کی مین منگھو پیر روڈ پر پیش آیا تھا۔

    ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جبکہ 55 برس کی سماجی کارکن کو ان کے ڈرائیور نے شدید زخمی حالت میں عباسی شہید ہسپتال پہنچایا تھا، جہاں وہ علاج کے دوران وفات پا گئی تھیں۔

  7. اداروں کو بغاوت پر اکسانے کا الزام: شہباز گل کے مقدمے کے اخراج کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کے خلاف اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے الزام کے مقدمے کے اخراج سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

    پیر کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا ٹرائل شروع ہوا اور چالان جمع ہو گیا ہے؟

    چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا فرد جرم عائد ہو گئی ہے؟

    جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ چالان کی نقول تقسیم ہو چکی ہیں، کل فرد جرم عائد ہونی ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چالان جمع ہو چکا آپ ٹرائل کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

  8. کار سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں عمران خان کی 28 نومبر تک عبوری ضمانت میں توسیع

    انسداد دہشتگری عدالت نے تھانہ سنگجانی میں احتجاجی مظاہرے اور کارِ سرکار میں مداخلت کے درج مقدمے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی عبوری ضمانت میں 28 نومبر تک توسیع کر دی ہے۔

    پیر کو سماعت کے دوران انسداد دہشتگردی کی عدالت نے آئندہ سماعت پر چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی مکمل میڈیکل رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی جانب سے طبی بنیادوں پر آج کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستدائر کی تھی جو منظور کر لی گئی۔

    عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل گولیاں لگنے کے باعث علیل ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان کو گولی لگی ابھی تک بیمار ہیں اس لیے پیش نہیں ہو سکے۔ عدالت نے مقدمے کی سماعت 28 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

  9. عمران خان کی اسلام آباد آمد کی تاریخ سے پہلے آرمی چیف کی تقرری کا فیصلہ ہو چکا ہو گا: رانا ثنا اللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے جیونیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی اعلان کردہ تاریخ سے پہلے آرمی چیف کی تقرری کا فیصلہ ہو چکا ہو گا۔

    پیر کو بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’آرمی چیف کی جب بھی تقرری ہوئی اس طرح کے حالات پہلے نہیں ہوئے جبکہ آرمی چیف کی تقرری پر عمران نیازی نے تماشہ لگانے کی کوشش کی جس میں وہ ناکام ہوا۔‘

    ’عمران خان کی اعلان کردہ تاریخ سے پہلےآرمی چیف کی تقرری کا فیصلہ ہو چکا ہو گا۔‘

  10. بریکنگ, پی ٹی آئی لیڈرشپ میٹنگ آج: ’حقیقی آزادی مارچ کے راولپنڈی مرحلے پر گفتگو ہو گی‘

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی لیڈرشپ میٹنگ آج طلب کی جا رہی ہے۔

    انھوں نے ٹویٹ میں کہا کہ ’عمران خان کی صدارت میں ہونے والی اس ملاقات میں سیاسی صورتحال، حقیقی آزادی مارچ کے راولپنڈی مرحلے اور دیگر معاملات پر گفتگو ہو گی۔

    ’ملک کا معاشی بحران اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال بھی زیر گفتگو ہو گی۔‘

  11. تحریک انصاف نے فیض آباد کے مقام پر دھرنے کی اجازت مانگ لی

    تحریک انصاف نے 26 نومبر کو فیض آباد کے مقام پر پُرامن جلسے اور دھرنے کے لیے راولپنڈی انتظامیہ سے اجازت مانگ لی ہے۔

    اس درخواست کے مطابق پی ٹی آئی 26 نومبر کو فیض آباد کے قریب پُرامن دھرنا دے گی جس کی قیادت سابق وزیر اعظم عمران خان کریں گے۔

    ’اسلام آباد کے داخلی راستوں کو بند کیا جا سکتا ہے‘

    عمران خان کی راولپنڈی کال کے تناظر میں اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ 26 نومبر کو راولپنڈی سے اسلام آباد کے داخلی راستوں کو بند کیا جا سکتا ہے جس سے لوگوں کو مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

    ایک بیان میں وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے کہا کہ ’اسلام آباد میں کوئی بھی سیاسی سرگرمی قانون کے مطابق اور اسلام آباد انتظامیہ کی اجازت سے ہو گی۔‘

    ’ڈیوٹی پر تعینات تمام اہلکاروں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا ہے اور اہلکاروں کو ڈرونز اور باڈی کیمرے مہیا کر دیے گئے ہیں۔‘

    اسلام آباد پولیس کے مطابق ’متوقع سیاسی جماعت کے جلسہ کے بارے میں خطرات کا تخمینہ اور تمام تر سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا‘ ہے۔

  12. آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے میں سمری روکنے کی تجویز زیرِ غور نہیں: شاہ محمود قریشی

    تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے میں صدر عارف علوی اور پارٹی کی جانب سے سمری روکنے سے متعلق کوئی تجویز زیرِ غور نہیں اور نہ ہی ایسی کوئی گفتگو ہوئی ہے۔

    انھوں نے ہم نیوز کو دیے انٹرویو میں کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے ’ہمیں کسی شخصیت پر اعتراض نہیں، سبھی اس عہدے کے اہل ہیں۔ ہماری کوئی ترجیح یا چوائس نہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’صدر مملکت نے اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔ بلاول کا بیان غیر مناسب تھا۔۔۔ ابھی نہ سمری آئی نہ بھیجی گئی۔ (صدر) اس معاملے میں محتاط ہیں اور آئین و قانون کا احترام کرتے ہیں۔‘

    شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ ’ہمارا ادارے سے اختلاف ہے نہ تھا۔۔۔ (لیکن) ہم اپنے مؤقف پر قائم ہیں کہ ہماری حکومت کو ایک منصوبہ بندی کے تحت باہر کیا گیا۔‘

  13. کرم سرحد پر فائرنگ سے ایک پاکستانی فوجی ہلاک، نو افراد زخمی

    خیبر پختونخوا کے علاقے پاراچنار کے قریب کرم میں پاکستان-افغانستان سرحد پر ایک جھڑپ میں ایک پاکستانی فوجی ہلاک جبکہ نو افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں ایک خاتون اور بچہ شامل ہیں۔

    پاراچنار ہسپتال کے ایم ایس کے مطابق زخمیوں میں سات فوجی ہیں اور یہ جھڑپ دونوں ممالک کے درمیاں زمین کے تنازع پر شروع ہوئی ہے جس نے شدت اختیار کر لی تھی۔

    وفاقی وزیر ساجد طوری نے ایک بیان میں واقعے کی مذمت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’افغانستان کی جانب سے خرلاچی اور بوڑکی میں پاکستان کی کرم بارڈر کی خلاف ورزی اور شہری آبادی کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے۔‘

  14. ’تسنیم حیدر کا مسلم لیگ ن سے کوئی تعلق نہیں‘

    وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ تسنیم حیدر نامی شخص پاکستان مسلم لیگ (ن) لندن کا ترجمان نہیں اور وہ ان کا مسلم لیگ ن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    مریم اورنگزیب نے مزید اپنے بیان میں کہا کہ ’تسنیم حیدر کے پاس ثبوت ہیں تو جے آئی ٹی کے قانونی فورم پر پیش کریں۔ کوئی شخص زبردستی پارٹی ترجمان بننے کی کوشش نہ کرے۔‘

    ’تصویر میں نظر آنے والا شخص پی ٹی آئی لندن کا آرگنائزر ہے۔ اے آر وائے کو چیلنج ہے کہ یہ خبر برطانیہ میں آن ایئر کرے۔ برطانیہ میں جھوٹی خبر اس ڈر سے نشر نہیں کرتے کیونکہ پہلے بھی جھوٹ پر جرمانے بھر چکے ہیں۔ جعلسازی، جھوٹ اور فیک نیوز سے ارشد شریف کے اصل قاتلوں سے توجہ ہٹائی نہیں جاسکتی۔‘

    خیال رہے کہ تسنیم حیدر نامی ایک شخص نے لندن میں پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف صحافی ارشد شریف کے قتل اور عمران خان پر حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث ہیں۔ تاہم مسلم لیگ ن نے ان دعوؤں کو رد کیا ہے۔

  15. مطالبات پر عملدرآمد نہ ہونے پر گوادر میں حق دو تحریک کا دھرنا جاری، خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شریک, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں احتجاج کے 25 ویں روز حق دو تحریک کے زیر اہتمام ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

    ریلی کے شرکا نے گوادر پورٹ کی جانب مارچ کیا اور پورٹ جانے والے راستے کو مکمل بند کیا۔ حق دو تحریک کی جانب سے گذشتہ سال ہونے والے دھرنے کے مطالبات پر عملدرآمد نہ ہونے پر 27 اکتوبر سے ایک مرتبہ پھر دھرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

    بلوچستان کی سمندری حدود میں ٹرالروں کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری کو روکنا، لاپتہ افراد کی بازیابی ،ایران سے سرحدی تجارت میں زیادہ سے زیادہ رعایتیں دینا، منشیات کاخاتمہ اور گوادر کے مسائل سے متعلق حق دو تحریک کے مطالبات شامل ہیں۔

    دھرنے کے شرکا کی جانب سے 20 نومبر تک مطالبات پر عملدرآمد کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی، جس کے پورے ہونے پر شہر میں بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

    گوادر کے سینیئر صحافی بہرام بلوچ نے فون پر بتایا کہ ریلی شرکا نے پورٹ کی جانب مارچ کیا اوراس کی جانب جانے والی شاہراہ کو مکمل طور پر بند کیا۔

    دھرنے کے شرکا کی ریلی میں شرکت کے باعث خواتین کی بڑی تعداد دھرنا گاہ آگئی اور خواتین مردوں کی جگہ دھرنے پر بیٹھ گئیں۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم گوادر پورٹ کو اس لیے بند کررہے ہیں کہ یہاں کے لوگوں کی کوئی اہمیت نہیں ۔

    ان کے نزدیک یہاں کی زمینوں ،پورٹ اور ترقیاتی منصوبوں کی اہمیت ہے لیکن گوادر کے لوگوں کی اہمیت نہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے لوگوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے تو پھر ہم پورٹ اور دیگر منصوبوں کو بند کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج کی ریلی اور پورٹ کو جا نے والی شاہراہ کی بندش ایک پیغام ہے اور اگر عوام کے مطالبات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا تو پھر عوام کے ساتھ مل کرآئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے ۔

    واضح رہے کہ حق دو تحریک کے زیر اہتمام گذشتہ سال بھی ایک طویل دھرنا دیا گیا تھا۔

    وفاقی اور بلوچستان کے حکام سے مذاکرات اور مطالبات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کے بعد دھرنا ختم کیا گیا تھا۔ مولانا ہدایت الرحمان کے مطابق مطالبات پر عملدرآمد نہیں ہوا جس کے باعث لوگ دوبارہ احتجاج پر مجبور ہوئے۔

  16. حکومت عمران خان پر جھوٹے کیسز کروانے کی بجائے معیشت پر توجہ دے: تیمور سلیم جھگڑا

    صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا ہے کہ بحیثیت پاکستانی کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ ہمارا ملک ڈیفالٹ ہو۔

    انھوں نے وفاقی وزیِرِ خزانہ اسحاق ڈار کی پریس کانفرنس کے جواب میں ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ’موڈیز اور فیچ کی ریٹنگز بحیثیت آزاد ادارہ قابل اعتماد ہے ہمارے انٹرنیشنل بانڈز کی مالیت آئے روز گر رہی ہے۔

    ’اس لیے انٹرنیشنل مارکیٹ فی الوقت ہماری معیشت پر بھروسہ نہیں کررہی اس سے قبل یہ خود ہی کہہ رہے تھے کہ ڈیفالٹ کا رسک ہے ہم بچا رہے ہیں آئی ایم ایف معاہدہ بھی اسی تناظر میں کیا گیا کہ ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا سکے اسی تناظر میں عوام پر مہنگائی کا طوفان برپا کر دیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سنہ 1971 کے بعد ملک تاریخی مہنگائی کے دور سے گزر رہا ہے آئی ایم ایف کو پاکستانی معیشت پر بھروسہ نہ رہا اس لیے دوسری قسط میں ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’سمندر پار پاکستانی بینک کی بجائے اوپن مارکیٹ سے پیسے بھیج رہے ہیں حکومت عمران خان پر جھوٹے کیسز کروانے کی بجائے معیشت پر توجہ دے بین الاقوامی مارکیٹ کو بھروسہ دلائیں۔‘

  17. چمن بارڈر: بابِ دوستی تمام نقل و حرکت کے لیے سات روز بعد کل کھول دیا جائے گا

    ڈپٹی کمشنر چمن عبدالحمید زہری نے ہر قسم کی نقل و حرکت کے لیے افغانستان کے ساتھ چمن بارڈر کل کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

    گذشتہ اتوار کو چمن بارڈر سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں ایک ایف سی اہلکار کی ہلاکت اور دو کے زخمی ہونے کے باعث بند کیا گیا تھا۔

    پاکستان اور افغان حکومت کے درمیان اس ضمن میں مذاکرات جاری تھے اور گذشتہ چھ روز سے اس حوالے سے کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہو رہی تھی تاہم اب یہ سرحد کل سے کھول دی جائے گی۔

    ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری ویڈیو بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان حکام کی جانب سے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ملزم کو سزا دی جائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ نہ صرف تجارت کے لیے بلکہ عام شہریوں کی نقل و حرکت کے لیے سرحد کھولی جائے گی۔

  18. صدر عارف علوی کے پاس آخری موقع ہے، اگر گڑبڑ کی تو نتیجہ بھگتنا پڑے گا: بلاول بھٹو

    وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صدر عارف علوی کے پاس آخری موقع ہے، اگر انھوں نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی میں کوئی گڑبڑ کرنے کی کوشش کی تو پھر انھیں اس کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔

    انھوں نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’آرمی چیف جنرل باجوہ نے توسیع لینے سے انکار کرکے آئینی کردار ادا کیا ہے اور خان صاحب کو یہ آئینی کردار قبول نہیں ہے جس کے لیے وہ یہ حقیقی آزادی کے نام پر لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ قانون کے تحت آرمی چیف کی تعیناتی وزیر اعظم کا اختیار ہے اور عمران خان اس عمل کو سبوتاژ کر کے ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں جس کی انھیں اجازت نہیں دی جائے گی۔

  19. عمران خان نے اپنے خطاب میں اور کیا کہا؟

    • چئیرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ انھیں پتا ہے کہ ان کی جان خطرے میں ہے لیکن اس کے باوجود وہ 26 نومبر کو پنڈی آئیں گے۔
    • انھوں نے اسٹیبلشمنٹ سے سوال کیا کہ ان دو ماضی کے حکمران خاندانوں کو ’ہمارے اوپر پھر کیوں مسلط کر دیا ہے، جنھیں بدعنوانی کی وجہ سے نکالا گیا تھا۔‘ ان کے مطابق ان کے اس سوال کا انھیں ابھی تک جواب نہیں ملا ہے۔
    • وہ کہتے ہیں کہ ’ہماری تحریک سات مہینے پہلے شروع ہوئی اور پورے پاکستان میں جلسے کیے، لوگوں نے جانیں دیں، 25 مئی کو جو ہوا وہ میں کبھی نہیں بھولوں گا۔‘
  20. 26 نومبر بھی امپائر کی انگلی اُٹھے بغیر گزر جائے گی: مریم اورنگزیب

    عمران خان کے 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ ’خان صاحب 26 نومبر بھی امپائر کی انگلی اُٹھنے اور آپ کی نیپیاں بدلے بغیر گزر جائے گی۔۔۔ 26 نومبر کو پنڈی اور اسلام آباد نہیں بلکہ یو اے ای اور لندن کی عدالت کی ٹکٹ کٹوائیں۔‘

    انھوں نے کہا ہے کہ ’عمران خان آپ کی سیاست، سازش اور تماشہ ختم ہوگیا۔۔۔ جھوٹی آزادی کے جھوٹ نے بے گناہوں کی جان لی، بچوں کو یتیم کردیا، صحافی شہید ہوئے۔‘