آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

جنرل قمر باجوہ نے پاکستانی فوج کی کمان جنرل عاصم منیر کے حوالے کر دی

جنرل عاصم منیر پاکستان کے 17 ویں فوجی سربراہ بن گئے ہیں۔ اپنے آخری خطاب میں اُنھوں نے نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ دوسری طرف اسلام آباد کی عدالت نے متنازع ٹویٹس کے مقدمے میں سینیٹر اعظم سواتی کا مزید چار روز کا ریمانڈ منظور کر لیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے پیش نظر فیض آباد پر کنٹینرز لگا کر راستہ بند کر دیا گیا, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    پی ٹی آئی کے لانگ مارچ اور جلسے کے پیش نظر اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والے اہم مرکزی مقام فیض آباد کو کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔

    راوالپنڈی و اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ مراسلے کے مطابق اسلام آباد سے راولپنڈی جانے کے لیے ایکسپریس وے پر فیض آباد کے مقام کینٹنر لگا کر راستہ بند کر دیا گیا ہے۔ جبکہ راولپنڈی پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مری روڈ کو بھی فیض آباد کے مقام سے رکاوٹیں لگا کر بند کیا گیا ہے۔

    شہری کری روڈ، سٹیڈیم روڈ اور کمرشل مارکیٹ روڈ کو متبادل کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔

  2. بریکنگ, پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے پیش نظر فیض آباد کے مقام پر راستہ بند

    پی ٹی آئی کے لانگ مارچ اور جلسے کے پیش نظر اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والے اہم مرکزی مقام فیض آباد کو کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔

    راوالپنڈی و اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ مراسلے کے مطابق اسلام آباد سے راولپنڈی جانے کے لیے ایکسپریس وے پر فیض آباد کے مقام کینٹنر لگا کر راستہ بند کر دیا گیا ہے۔ جبکہ راولپنڈی پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مری روڈ کو بھی فیض آباد کے مقام سے رکاوٹیں لگا کر بند کیا گیا ہے۔

    شہری کری روڈ، سٹیڈیم روڈ اور کمرشل مارکیٹ روڈ کو متبادل کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔

  3. بریکنگ, وزیر اعظم شہباز شریف ترکی کے دو روزہ دورے پر روانہ

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف ترک صدر رجب طیب اردوغان کی دعوت پر اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ دو روزہ سرکاری دورے پر ترکی روانہ ہو گئے ہیں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر اردوغان استنبول شپ یارڈ میں پاکستان بحریہ کے لیے چار ملجم کارویٹ بحری جہازوں میں سے تیسرے جہاز پی این ایس خیبر کا افتتاح کریں گے۔

    بعد ازاں دونوں رہنما دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور مشترکہ دلچسپی کے امور پرتبادلہ خیال کریں گے، اور مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔

    شہباز شریف اپنے دورے کے دوران ترکی کی تاجر برادری کے وفد اور ای سی او ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ بینک کے صدر سے بھی ملاقات کریں گے۔

  4. پاکستان تحریکِ انصاف: فوج کی نئی قیادت ملک میں استحکام لانے میں کردار ادا کرے

    پاکستان تحریک انصاف نے ایک اعلامیے میں امید ظاہر کی ہے کہ فوج کی نئی قیادت ملک میں استحکام لانے میں کردار ادا کرے گی۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ ’فوج کی نئ قیادت سے ہماری توقع ہے کہ وہ ملک میں آئینی حقوق کی بحالی اور جمہوریت کے استحکام کیلئے اپنا کردار ادا کرے گی اور عوام کو نئے انتخابات کے ذریعے ملک کی نئی قیادت چننے کے حق کو تسلیم کیا جائیگا۔‘

    اس میں مزید کہا گیا کہ عوام فوج سے توقع رکھتی ہے کہ ملک کے بیرونی خطرات کے ساتھ ساتھ اندرونی معاملات پر عوام کی توقعات کے مطابق غیر جانبدارانہ مؤقف اپناتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے سیاسی حقوق سلب نہ کیے جائیں۔

  5. تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اسد عمر کی نامزد آرمی چیف کو مبارکباد

    تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اسد عمر نے نامزد فوجی سربراہ جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف کے عہدے پر تعیناتی اور جنرل ساحر شمشاد کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف بننے پر مبارکباد دی ہے۔

    انھوں نے کہا اپنے ایک ٹویٹ میں نامزد آرمی چیف سے کہا کہ ’امید ہے ان کے فیصلے قوم کی امنگوں کے مطابق ہوں گے۔‘

  6. بریکنگ, صدر پاکستان نے فوج میں اعلی ترین تعیناتیوں کی منظوری دے دی

    ایوان صدر نے نامزد آرمی چیف عاصم منیر اور نامزد چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی لینفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کی سمری پر دستخط کر دیے ہیں۔ بطور چیف آف آرمی سٹاف تعیناتی کا اطلاق 29 نومبر 2022 سے ہوگا۔

    ایوان صدر کے مطابق صدر مملکت نے لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر کی فی الفور جنرل کے عہدے پر ترقی اور بطور چیف آف آرمی سٹاف تعیناتی کر دی ہے۔ صدر عارف علوی نے لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کی فی الفور جنرل کے عہدے پر ترقی اور بطور چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تعیناتی کر دی۔

    بطور چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تعیناتی کا اطلاق 27 نومبر 2022 سے ہوگا۔

    سرکاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے ترقیاں اور تعیناتیاں آئین کے آرٹیکل 243 چار اے اور بی ، آرٹیکل 48 اور پاکستان آرمی ایکٹ 1952 ء کے سیکشن 8 اے اور 8 ڈی کے تحت کیں صدر مملکت نے اس حوالے سے آج موصول ہونے والی سمری پر آج دستخط کیے۔

  7. بریکنگ, نامزد آرمی چیف عاصم منیر کی وزیراعظم سے ملاقات: ’امید ہے آپ کی سربراہی میں مسلح افواج درپیش چیلینجز سے احسن انداز میں نمٹیں گی‘

    وزیراعظم شہباز شریف سے نامزد آرمی چیف عاصم منیر اور چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی ہے۔

    سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے نامزد آرمی چیف کو مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ امید ہے آپ کی سربراہی میں مسلح افواج قومی سلامتی کو درپیش چیلینجز سے احسن انداز میں نمٹیں گی اور اور ملک سے دہشت گردی کی عفریت کو مکمل ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی رہیں گی۔

    وزیراعظم نے نامزد آرمی چیف سے کہا کہ آپ کی پیشہ وارانہ لیاقت، ساکھ اور حب الوطنی باعث فخر ہے۔ وزیراعظم نے جنرل عاصم منیر سے گفتگو میں کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان ذمہ داریوں میں رہنمائی اور مدد فرمائے۔ نامزد آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔

    وزیراعظم نے چئیرمن جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے پر تعیناتی پر جنرل ساحر شمشاد مرزا کو مبارک دی اور کہا کہ آپ کی پیشہ وارانہ قابلیت سے مسلح افواج اور پاکستان کو فائدہ پہنچے گا۔ وزیراعظم نے جنرل ساحر شمشاد کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔

  8. وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کے مارچ کی اجازت کے لیے کیا شرائط رکھی ہیں؟

    وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کو مارچ کرنے کی اجازت کے لیے تین درجن شرائط عائد کی ہیں۔ ان شرائط کو تسلیم کرنے پر ہی اجازت دی جائے گی۔ ان 36 شرائط پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے دستخط ضروری قرار دیے گئے ہیں۔

    شرائط کے مطابق اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے مگر صرف 26 تاریخ کے لیے یہ دفعہ معطل رہے گی اور ایک دن کے بعد احتجاج کی اجازت نہیں ہوگی۔ کسی بھی طرح کے بدقسمت واقعے کی صورت میں اجازت منسوخ سمجھی جائے گی۔

    26 نومبر کو انگلینڈ کی ٹیم بھی پاکستان آ رہی ہے اور سفارتی کمیونٹی بھی کرکٹ میں دلچسپی رکھتی ہے لہٰذا ریلی کے شرکا سڑکوں کو بلاک نہیں کریں گے اور بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کی آمد میں کسی بھی قسم کا کوئی رخنہ نہیں ڈالیں گے۔ عوام کے کاروبار زندگی کو متاثر نہیں کیا جائے گا۔

    نظریہ پاکستان کے خلاف کوئی تقریر یا سرگرمی نہیں ہوگی

    سپیکر یا شرکا میں سے کوئی بھی نظریہ پاکستان اور ملکی مفاد کے خلاف کوئی بات نہیں کرے گا اور نہ ایسے کسی پروپیگنڈے کا حصہ بنے گا۔

    ریڈ زون میں دفعہ 144 کا نفاز کر دیا گیا ہے اور ریلی میں سے کسی کو بھی ریڈ زون کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہو گی۔

    کسی قسم کا اسلحہ، مضر مواد، ہتھیار یا ڈنڈا تک بھی ریلی میں ساتھ لانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ریلی کے شرکا کسی بھی عوامی یا نجی پراپرٹی کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔

    اس ریلی کے آرگنائزرز ٹریفک پولیس کے ساتھ بیٹھ کر ٹریفک کا پلان طے کریں گے تاکہ عام لوگ اس احتجاج سے متاثر نہ ہوں۔ اس ریلی کے شرکا اور آرگنائزرز عوام کے بنیادی حقوق کا خیال رکھیں گے۔

    اس ریلی میں کسی بھی جانی نقصان یا صحت کے مسائل کے ذمہ دار ریلی والے خود ہوں گے۔

    مارچ ثقافتی اقدار کے مطابق ہوگا

    ان شرائط میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ یہ مارچ ثقافتی اقدار (کلچرل ویلیوز) کے مطابق ہوگا۔

    اس مارچ میں ممنوعہ ادویات یا مشروبات لے کر آنے کی ممانعت ہوگی۔ ریلی کے آغاز سے 12 گھنٹے قبل اسلام آباد پولیس کو پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ کی تفصیلات بتانا ہوں گی۔

    اسلام آباد سے باہر سے آنے والے شرکا شرائط پر مکمل عملدرآمد کے پابند ہوں گے۔ مکمل سکیورٹی چیک کے بعد شرکا کو ریلی میں آنے کی اجازت دی جائے گی۔

    سپیکر کا استعمال مغربی پاکستان کے ایمپلی فائر آرڈینننس 1965 کے تحت ہی کیا جا سکے گا۔ کسی شخص یا ادارے سے متعلق کہے گئے الفاظ کی ذمہ داری سپیکرز پر عائد ہو گی۔

  9. وفاقی حکومت نے عمران خان کی ہیلی کاپٹر پر اسلام آباد آمد کی درخواست مسترد کر دی

    وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اسلام آباد میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے آمد سے متعلق درخواست مسترد کر دی ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ ایک تو اسلام آباد میں کوئی ہیلی پیڈ دستیاب نہیں ہے اور دوسرا جس علاقے کی اجازت مانگی گئی ہے وہ دارالکومت کا حساس علاقہ ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل جی ایچ کیو نے عمران خان کو ہیلی پیڈ کے استعمال کی اجازت دی تھی، جس کے بعد تحریک انصاف نے کہا تھا کہ اب وفاقی حکومت کو بھی عمران خان کی جان کو لاحق سکیورٹی خطرات کے پیش نظر اجازت دے دینی چاہیے۔

    وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کو 36 شرائط پر ریلی نکالنےکی اجازت دی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اگر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ان شرائط پر دستخط کریں گے بصورت دیگر یہ ریلی کی اجازت بھی منسوخ تصور کی جائے گی۔

    ان شرائط میں حکومت نے ریلی کے روٹس بتائے ہیں اور اگر تحریک انصاف ان روٹس پر رہنے کی یقین دہانی کراتی ہے تو پھر حکومت کی طرف سے احتجاج کی ضرورت ہوگی۔

    حکومت نے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ احتجاج سے متعلق معاملات حساس علاقوں سے باہر ہی طے کیے جا سکتے ہیں۔

  10. ’جی ایچ کیو کی اجازت کے بعد وفاقی حکومت عمران خان کو ہیلی کاپٹر پر اسلام آباد آنے کی اجازت دے‘

    حقیقی آزادی مارچ کی قیادت کے لیے چیئرمین تحریک انصاف کی بذریعہ ہیلی کاپٹر اسلام آباد آمد سے متعلق جی ایچ کیو نے پریڈ گراؤنڈ میں ہیلی کاپٹر کی آمد و روانگی کی اجازت دے دی ہے۔

    تحریک انصاف کو بھی باضابطہ طور پر جی ایچ کیو کے فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

    تحریک انصاف کے رہنما علی نواز کے مطابق وفاقی حکومت کے اپنی الرٹس کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں اور پُرامن حقیقی آزادی مارچ میں بحفاظت شرکت کے لیے ہیلی کاپٹر کا استعمال اہم ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’جی ایچ کیو کے این او سی کے بعد وفاقی حکومت کے پاس ہیلی کاپٹر کی آمد و روانگی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا کوئی جواز نہیں۔‘

    تحریک انصاف کے رہنما کے مطابق جی ایچ کیو کے مراسلے کے بعد وفاقی حکومت بہانہ سازی ترک کرے اور پریڈ گراؤنڈ میں ہیلی کاپٹر کی آمد و رفت کی اجازت دے۔

  11. ایوان صدر آج شام آفیشل ہینڈ آؤٹ کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کرے گا: فواد چوہدری

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور صدر عارف علوی کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران نئے آرمی چیف کی تقرری کے معاملے پر سیاسی، آئینی اور قانونی امور زیر بحث آئے ہیں۔

    زمان پارک کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تقریباً 45 منٹ جاری رہنے والی اس ملاقات کے دوران ’صدر عارف علوی اور عمران خان نے تمام پہلوؤں سے اس تقرری کا احاطہ کیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’صدر مملکت واپس اسلام آباد روانہ ہو گئے ہیں اور ساڑھے چھ اور سات بجے کے درمیان ایوان صدر اس ضمن میں ایک آفیشل ہینڈ آؤٹ جاری کرے گا جس میں اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو کے نتیجے میں اپنا موقف پیش کیا جائے گا۔ تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق ہوں گے۔‘

    فواد چوہدری نے اس موقع پر صحافیوں کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔

  12. اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ، عوامی اجتماعات پر پابندی عائد

    اسلام آباد کی انتظامیہ نے دارالحکومت میں ایک بار پھر دفعہ 144 نافذ کر دیا ہے۔ اب اسلام آباد میں عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    گذشتہ کل دفعہ 144 کے نفاذ کا نوٹیفکیشن غیرمؤثر ہونے کے بعد انتظامیہ نے ایک بار پھر دفعہ 144 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

  13. فیصل واوڈا خود غلطی تسلیم کریں یا پھر تا حیات نااہلی کی سماعت کا حصہ بن جائیں: چیف جسٹس

    ‏سپریم کورٹ میں فیصل واوڈا نااہلی کیس کی سماعت ‏سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا کو دو آپشن دے دیے۔ ‏چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ فیصل واوڈا اپنی غلطی تسلیم کریں اور 63 ون سی کے تحت نااہل ہو جائیں بصورت دیگر عدالت 62 ون ایف کے تحت کیس میں پیش رفت کرے گی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ‏عدالت کے سامنے فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کے لیے کافی مواد موجود ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ فیصل واوڈا نے ہر فورم پر غلط بیان حلفی کے معاملے کو تسلیم کرنے بجائے لڑنے کو فوقیت دی۔

    چیف جسٹس ‏‏نے کہا کہ ‏فیصل واوڈا کو اپنی غلطی تحریری طور پر تسلیم کرنی ہوگی۔ عدالت کا فیصل واوڈا کو امریکا کی شہریت ترک کرنے کا سرٹیفکیٹ ساتھ لانے کا حکم بھی دے دیا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ فیصل واوڈا نے بیان حلفی نوکری کے لیے نہیں انتخابات کے لیے جمع کرایا تھا۔ انتخابات لڑنے کے لیے صادق و امین ہونا شرط ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سیاست میں غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی، مستقبل کے قانون سازوں کو جھوٹے حلف نامے جمع کرانے کی اجازت نہیں ہو سکتی۔

    عدالت نے فیصل واوڈا کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

  14. بریکنگ, صدر عارف علوی عمران خان سے ملاقات کرنے کے لیے لاہور پہنچ گئے

    پاکستان کے صدرعارف علوی لاہور پہنچ گئے ہیں جہاں وہ پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیرِاعظم عمران سے زمان پارک میں ملاقات کریں گے۔

    صدر عارف علوی کی اس موقع پر عمران خان سے ملاقات اس لیے اہمیت اختیار کر گئی ہے کیونکہ آج وزیرِاعظم شہباز شریف کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف نامزد کیا ہے اور یہ سمر ایوانِ صدر بھجوا دی ہے۔

    گذشتہ روز عمران خان نے اے آر وائے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ کہا تھا کہ وہ آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر صدر کے ساتھ آئین و قانون میں رہتے ہوئے مل کر کھیلیں گے اور صدر ان سے اس بارے میں مشاورت کریں گے۔

    صدر عارف علوی کے پاس اس وقت کیا آپشنز ہیں اور حکومت اس کے ردِ عمل میں کیا کر سکتی ہے، جانیے اس تحریر میں۔

  15. عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست: وزارتِ داخلہ نے متعلقہ ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کروا دیے, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو

    وزارت داخلہ نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے سلسلے میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی ٹویٹس اور وڈیو پیغام اور کالز کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے۔

    اس ریکارڈ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم نے توہین عدالت کے مقدمے میں جو جواب جمع کروایا ہے کہ انھیں عدالتی احکامات کا علم نہیں تھا اس میں انھوں نے غلط بیانی کی ہے۔

    وزارت داخلہ کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کا لانگ مارچ شروع کرنے سے پہلے ہی ڈی چوک جانے کا منصوبہ تھا۔

    وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ 24 مئی کو عمران خان نے قوم کے نام خصوصی پیغام جاری کیا اور پچیس مئی کی صبح پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ سے ڈی چوک میں حقیقی آزادی مارچ میں شرکت کی دعوت دی گئی۔

    وزارت داخلہ نے اپنے جواب میں کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما فیصل جاوید، شیریں مزاری اور منزہ حسن نے بھی ڈی چوک جانے کے لیے ٹویٹس کیں، اس تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کا یہ دوعی کہ اسد عمر نے ایچ نائن گراؤنڈ جانے کی ہدایات دیں حقائق کے برعکس ہے۔

    وزارت داخلہ نے اپنے جواب میں کہا کہ 25 مئی کو سہ پہر عمران خان نے کنٹینر سے کی گئی اپنی دو تقاریر میں ڈی چوک جانے کے عزم کا اظہار کیا۔

    بیان میں کہا گیا کہ عمران خان کی دونوں تقاریر پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ پر لائیو چلائی گئیں۔

    وزارت داخلہ نے اپنے جواب میں یہ بھی کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا موبائل فون جیمرز لگائے جانے کا دعویٰ بھی حقائق کے منافی ہے کیونکہ شواہد موجود ہیں کہ پی ٹی آئی مارچ کے دوران کنٹینر سے مسلسل سوشل میڈیا استعمال کیا گیا اور کنٹینر پر موجود رہنماؤں نے مسلسل اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ٹویٹس کیں اور وڈیو پیغام شیئر کیے۔

    وزارت داخلہ نے اپنے جواب میں کہا کہ کنٹینر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے مختلف ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیئے جو جیمرز کی صورت میں ناممکن تھا۔

    اس جواب میں کہا گیا ہے کہ 25 مئی کی شام 6:22 بجے پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے حکمنامہ بارے ٹویٹ کی اور سپریم کورٹ کے حکمنامہ کے بعد فواد چوہدری نے بھی ٹویٹ کے ذریعے کارکنان کو ڈی چوک پہنچنے کی ترغیب دی۔

    وزارت داخلہ نے اپنے جواب میں کہا کہ عدالتی حکم کے بعد پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ سے مختلف رہنماؤں کے ڈی چوک پہنچنے سے متعلق متواتر ٹویٹس کی گئیں۔ وزارتِ داخلہ کے جواب میں عدالتی حکمنامے سے متعلق مختلف نیوز چینلز کی ویب سائٹس اور صحافیوں کی ٹویٹس کا بھی حوالہ شامل کیا گیا ہے۔

    اس جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکمنامہ بارے پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کو علم تھا اور پی ٹی آئی قیادت نے عدالتی حکم بارے سپریم کورٹ سے غلط بیانی کی اورپی ٹی آئی قیادت نے کارکنان کو ڈی چوک پہنچنے کے لیے اکسایا جس سے املاک کو نقصان پہنچا۔

    وزارت داخلہ نے اپنے جواب میں کہا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کا عمل ان کے قول سے واضح تضاد رکھتا ہے۔

    وزارت داخلہ نے استدعا کی ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی نے جان بوجھ کر عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی اس لیے ان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے۔

  16. بریکنگ, شہباز شریف کا لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر کو آرمی چیف مقرر کرنے کا فیصلہ، صدر کو سمری ارسال

    پاکستان کی وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب کی جانب سے ایک ٹویٹ میں یہ اعلان کیا ہے کہ وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف اور لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر کو چیف آف دی آرمی سٹاف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انھوں نے لکھا کہ ’اس بابت سمری صدر پاکستان کو ارسال کر دی گئی ہے۔‘

    اس بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’ایڈوائس صدر علوی کے پاس چلی گئی ہے۔ اب عمران خان کا امتحان ہے وہ دفاع وطن کے ادارے کو مضبوط بنانا چاہتا ہے یا متنازعہ۔

    ’صدر علوی کی بھی آزمائش ہے کہ وہ سیاسی ایڈوائس پہ عمل کریں گے یا آئینی و قانونی ایڈوائس پر۔ بحیثیت افواج کے سپریم کمانڈر ادارے کو سیاسی تنازعات سے محفوظ رکھنا ان کا فرص ہے۔‘

  17. وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری ہے جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ، مشیر قانون ملک شہادت اور وزیر صحت عبدالقادر پٹیل بھی شریک ہیں۔

    اس وقت پاکستانی سیاست میں آرمی چیف کی تقرری کے معاملے پر سب سے زیادہ بات کی جا رہی ہے اور خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آج کابینہ کے اجلاس میں اس حوالے سے مشاورت کی جائے گی۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز بھی وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس ہوا تھا جس میں تمام جماعتوں نے آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر وزیراعظم کے فیصلے کا ساتھ دینے کا اعلان کیا تھا۔

  18. آپ وزیر اعظم ہیں اور آئین نے اہم تقرری کا اختیار اور استحقاق آپ کو سونپا ہے: آصف زرداری

    گذشتہ روز حکومت کی اتحادی جماعتوں کے قائدین کا اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں وزیراعظم شہباز شریف پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا تھا۔

    یہ اجلاس وزیر اعظم ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں آئینی تقرریوں کے حوالے سے ایک نکاتی ایجنڈے پر بات کی گئی۔

    تمام اتحادی جماعتوں نے آئینی تعیناتیوں کے حوالے سے فیصلے کا اختیار وزیراعظم شہباز شریف کو سونپ دیا۔

    اعلامیے کے مطابق اس موقع پر سابق صدر اور شریک چیئرمین پی پی پی آصف علی زرداری نے کہا کہ آپ وزیر اعظم ہیں اور آئین نے یہ اختیار اور استحقاق آپ کو سونپا ہے۔

  19. آج فیض آباد کو چاروں اطراف سے کنٹینر لگا کر سیل کر دیا جائے گا: اسلام آباد پولیس

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی دھرنے کے پیشِ نظر اسلام آباد کے اہم داخلی راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    یہ فیصلہ آئی جی اکبر ناصر خان کی سربراہی میں ایک اعلی سطحی اجلاس میں کیا گیا۔

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق جمعرات کی شام سے فیض آباد کو چاروں اطراف سے کنٹینر لگا کر بند کر دیا جائے گا۔

    مزید برآں فیض آباد سمیت اہم داخلی راستوں پر بیس ہزار نفری لگائی جائے گی اور ان کے ساتھ ایف سی اور رینجرز کے اہلکار بھی تعینات ہوں گے۔

    تاہم بارہ کہو، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے آنے والوں کے لیے راول ڈیم چوک سے ترامڑی کے لیے راستہ کھلا ہو گا۔

  20. بریکنگ, اعتماد کا ووٹ کھونے کے بعد ایک پارٹی نے دوسری پارٹی کو امپورٹڈ کا لقب دیا، یہ رویہ ترک کرنا ہو گا: قمر باجوہ

    آرمی چیف نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ ’میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان سنگین معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ کوئی ایک پارٹی پاکستان کو اس معاشی بحران سے نہیں نکال سکتی، اس کے لیے سیاسی استحکام لازم ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سٹیک ہولڈر اپنی ذاتی انا کو ایک سائیڈ پر رکھ کر ماضی سے غلطیوں سے سیکھیں اور پاکستان کو اس بحران سے نکالیں۔

    آرمی چیف نے کہا کہ ’اس کے ساتھ ساتھ جمہوریت کی رو کو سمجھتے ہوئے اور عدم برداشت کو ختم کرتے ہوئے ایک سچا جمہوری کلچر پیدا کریں۔ 2018 کے الیکشن میں بعض پارٹیوں نے آر ٹی ایس کو بہانہ بنا کر جیتی ہوئی پارٹی کو سلیکٹڈ کا لقب دیا اور 2022 میں اعتماد کا ووٹ کھونے کے بعد ایک پارٹی نے دوسری پارٹی کو امپورٹڈ کا لقب دیا۔‘

    ’ہمیں اس رویے کو رد کرنا ہو گا۔ ہار جیت سیاست کا حصہ ہے اور ہر پارٹی کو اپنی فتح اور شکست کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہو گا۔ رائے عامہ احترام کا نام ہے۔‘