لاہور: گورنر ہاؤس کے باہر پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنوں کا احتجاج




چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ان کے حقیقی آزادی مارچ کا دوبارہ آغاز آج وزیر آباد سے ہو گا۔ وزیرآباد پنجاب کا وہ شہر ہے جہاں تحریک انصاف کے لانگ مارچ پر فائرنگ کی گئی تھی۔ سابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ وہ اس دوسرے افسر کا نام بھی لیں گے جو (حملے والے دن) مبینہ طور پر میجر جنرل فیصل کے ساتھ کنٹرول روم میں بیٹھ کر اس منصوبے پر عملدرآمد کی نگرانی کر رہے تھے۔




پنجاب حکومت کی ترجمان اور پی ٹی آئی رہنما مسرت چیمہ نے بتایا ہے کہ لانگ مارچ اب 10 نومبر کو شروع ہو گا۔
اس سے قبل فواد چوہدری کی جانب سے لانگ مارچ کو منگل کے بجائے بدھ سے شروع کرنے کا کہا گیا تھا تاہم اب یہ تاریخ مزید ایک دن آگے بڑھا دی گئی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہSocial Media
سابق وفاقی وزیر غلام سرور خان کی قیادت میں موٹروے پر احتجاج کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے موٹر وے ٹھیلیاں کے مقام پر دونوں اطراف سے ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔
راولپنڈی کے علاقے گلزار قائد میں پرانے ایئرپورٹ روڈ پر پی ٹی آئی کے احتجاج کے باعث ایئرپورٹ روڈ دونوں اطراف سے بند کر دی گئی۔ جی ٹی روڈ ٹیکسلا میں پی ٹی آئی کا احتجاج کے باعث مارگلہ چوک پر دونوں اطراف سے ٹریفک جام ہے۔ اس کے علاوہ جی ٹی روڈ پر روات کے مقام پر پی ٹی آئی کے احتجاج اور دھرنے کے باعث جی ٹی روڈ دونوں اطراف سے بند کر دی گئی۔
راولپنڈی میں آئی جے پی روڈ پر صوبائی وزیر محمد بشارت راجہ کی قیادت میں عمران خان پر قاتلانہ حملے کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔
عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ کی تاریخ میں تبدیلی سے تحریکِ انصاف کے نائب صدر شاہ محمود قریشی لاعلم نظر آئے۔
پیر کو ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ عمران خان نے فیصلہ کیا ہے کہ کل یعنی منگل کو لانگ مارچ وہیں سے شروع ہو گا جہاں حملہ ہوا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ کل ایک بجے فائرنگ کے مقام پر جمع ہوں گے جہاں سے مارچ کا آغاز ہو گا۔
تاہم عمران خان نے جہاں لانگ مارچ کے دوبارہ آغاز کے موقع پر قافلے کی قیادت کے لیے شاہ محمود قریشی کے نام کا اعلان کیا وہیں یہ بھی کہا کہ اب یہ مارچ منگل کی بجائے بدھ کی دوپہر شروع ہو گا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس موقع پر عمران خان پر حملے کے دوران ہلاک ہونے والے پی ٹی آئی کارکن کے خاندان سے اظہارِ یکجہتی کی جائے گی۔
اُنھوں نے کہا کہ اُنھیں پی ڈی ایم کی قیادت کا بیان سن کر افسوس ہوا کہ یہ پورا معاملہ ڈرامہ ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پی ٹی آئی کی طرف سے اسلام آباد سے لاہور اور پشاور کی جانب جانے والی موٹرویز کے داخلی راستوں سمیت مری روڈ پر ٹائر جلا کر احتجاج کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہے اور لوگ ٹول پلازہ سے واپس جا رہے ہیں۔
مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اسلام آباد پولیس اور پاکستان رینجرز کے دستے روانہ کر دیے گئے ہیں۔
اسلام آباد پولیس نے بتایا ہے کہ وفاقی حکومت کو درخواست بھیجی گئی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 3 اور 4 کے تحت صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کی جائیں کہ موٹروے اور ایئر پورٹ کے راستے کھلے رکھے جائیں۔
پولیس کے مطابق ’شرپسند عناصر‘ کے خلاف تھانہ نون میں مقدمات درج کیے جائیں گے۔



،تصویر کا ذریعہbbc
سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے وفاق کی جانب سے اپنی معطلی کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔
اُنھیں وفاقی حکومت نے گورنر ہاؤس پنجاب کو احتجاجی مظاہروں کے دوران سکیورٹی فراہم نہ کر پانے کا الزام عائد کر کے عہدے سے ہٹایا تھا۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے صدر عارف علوی کو خط میں مطالبہ کیا ہے کہ وہ بطور سربراہِ ریاست اور فوج کے سپریم کمانڈر سنگین غلط اقدامات کا نوٹس لیں۔
شیریں مزاری نے اس خط کی ایک کاپی ٹوئٹر پر شیئر کی ہے۔
اس خط میں عمران خان نے لکھا کہ پاکستان کی سب سے بڑی اور اہم انٹیلیجنس ایجنسی کا سربراہ کیسے ایک عوامی پریس کانفرنس کر سکتا ہے اور کیسے دو فوجی بیوروکریٹس ایک انتہائی سیاسی پریس کانفرنس کر سکتے ہیں جس میں سب سے بڑی اور ممکنہ طور پر واحد وفاقی جماعت کے سربراہ کو نشانہ بنایا جائے۔
عمران خان نے صدر عارف علوی سے درخواست کی کہ وہ آئی ایس پی آر جیسے فوجی اطلاعاتی اداروں کے دائرہ کار کا تعین کریں اور انھیں صرف دفاع اور فوجی معاملات سے متعلق معلومات تک محدود رکھیں۔
عمران خان نے مطالبہ کیا کہ فوج کے سپریم کمانڈر کے طور پر وہ آئی ایس پی آر کے لیے آپریشنل حدود کا واضح تعین کریں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

وفاقی حکومت نے وزیر آباد میں لانگ مارچ کے دوران سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان پر فائرنگ کا مقدمہ درج کرنے کے لیے حکومتِ پنجاب کو خط لکھ دیا ہے۔
فائرنگ کے واقعے کا مقدمہ درج کرنے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے یہ خط چیف سیکریٹری پنجاب، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ اور آئی جی پنجاب کو لکھا گیا ہے۔
خط میں وفاقی حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ عمران خان پر حملے کے مقدمے کے میرٹ پر اندراج کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں، تین روز گزرنے کے باوجود مقدمہ درج نہ ہونے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔
خط میں کہا گیا کہ وزیر آباد فائرنگ کا مقدمہ گرفتار ملزم کے خلاف شواہد کی بنیاد پر درج کیا جائے، فائرنگ کے بعد سابق وزیر اعظم اور دیگر متاثرین کا میڈیکو لیگل نہ ہونا بھی باعث تشویش ہے۔
خط میں پی ٹی آئی کے احتجاج اور گورنر ہاؤس لاہور کو سکیورٹی نہ دینے پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ خط کے متن میں وزیر آباد فائرنگ کے بعد صوبہ بھر میں جلاؤ گھیراؤ پر بھی وفاق نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے بھی آئی جی پنجاب پولیس کو 24 گھنٹوں کے اندر عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ تین نومبر کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران عمران خان پر حملہ ہوا تھا، تاہم اس واقعے کی ایف آئی آر تاحال درج نہیں کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لاہور کے علاقے زمان پارک میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی کی ملاقات ہوئی ہیں۔
اس ملاقات میں عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر کے معاملے سمیت لانگ مارچ کے اگلے مرحلے، سکیورٹی معاملات پر بات جیت کی گئی۔
زمان پارک میں ہونے والی اس ملاقات میں مونس الہی اور حسین الٰہی بھی شریک ہوئے۔ جبکہ ملاقات میں پی ٹی آئی کے فواد چوہدری ، عمر سرفراز چیمہ اور دیگر رہنما بھی شریک ہوئے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان پر حملے سے متعلق ایف آئی آر کے اندراج پر مشاورتی اجلاس لاہور زمان پارک میں شروع ہو گیا ہے۔
اس اجلاس کی سربراہی عمران خان کر رہے ہیں جبکہ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس اجلاس میں شریک ہیں جہاں وہ عمران خان پر ہونے والے حملے کے لیے دی جانے والی درخواست پر تفصیلی مشاورت کریں گے۔
اجلاس میں شرکت کے لیے مشیر داخلہ پنجاب عمر سرفراز چیمہ اور مشیر برائے احتساب برگیڈئیر مصدق عباسی اور وکیل رہنما حسان نیازی بھی عمران خان کی رہائشگاہ پر پہنچ گئے ہیں۔
گوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے عمران خان کو سنگین دھمکیاں دینے کے مقدمہ میں گرفتار مسلم لیگ ن حافظ آباد کے ضلعی نائب صدر رائے قمر زمان کھرل کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا۔
ملزم رائے قمر زمان کھرل کو 14 نومبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ رائے قمر زمان کھرل کو گذشتہ روز پولیس نے گرفتار کیا تھا۔
صحافی احتشام شامی کے مطابق اس مقدمے کے دوسرے شریک ملزمان عطا اللہ تارڑ، سائرہ افضل تارڑ اور محمد بخش تارڑ نے عدالت میں پیش ہو کر 14 نومبر تک عبوری ضمانتیں حاصل کر لی ہیں۔ ان ملزمان پر سازش میں شریک ہونے کا الزام ہے
یاد رہے کہ ملزم رائے قمر زمان کھرل نے پانچ نومبر کو حافظ آباد میں منعقدہ سیاسی اجتماع میں عمران خان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھی۔
اس مقدمے میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطا اللہ تارڈ، سابق وفاقی وزیر سائرہ افضل تارڈ اور نون لیگی راہنما محمد بخش تارڈ سمیت 20 نامعلوم افراد شامل ہیں۔
پولیس نے اس مقدمہ میں ابھی تک صرف رائے قمر زمان کھرل کو گرفتار کیا ہے
آج ملزم کی پیشی سے قبل انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت گوجرانوالہ کے باہر مسلم لیگ ن کے وکلا کی بڑی تعداد موجود تھی، پولیس کی بھاری نفری بھی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے باہر تعینات کی گئی تھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف کے خیبرپختونخوا کے رہنما ظاہر شاہ طورو کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے داخلی راستے بند کرنے کی اب تک کوئی واضح اطلاع ان کے پاس نہیں آئی۔
بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان سے بات کرتے ہیں ان کا کہنا تھا کے اسلام آباد کے داخلی راستے بند کرنے سے متعلق کوئی واضح اطلاع نہیں ہے اور محض اتنی بات ہوئی ہے کہ ہر ضلع سے 50 سے 60 افراد اسلام آباد کی جانب پہنچیں گے لیکن یہ اب تک حتمی نہیں ہے۔
اسی طرح سابق ناظم پشاور اور پی ٹی آئی کے رہنما ارباب عاصم نے بتایا کہ اب تک ان کے پاس اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے اور جو بھی احکامات آئیں گے اس کے مطابق وہ عمل کریں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما پرویز خٹک نے اعلان کیا تھا کہ کارکن آج سے اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستے بند کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی سپریم کورٹ میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے انسانی حقوق کے سیل کی سفارش پر سینیٹر اعظم سواتی کی ویڈیو بنانے کے معاملے اور صحافی ارشد شریف کے قتل پر نوٹس لے لیا ہے۔
واضح رہے کہ عدالت نے اعظم سواتی کے معاملے پر کوئی احکامات نہیں دیے اور ڈی جی ایچ آر سپریم کورٹ اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔
سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے علیحدہ سے اعظم سواتی کے معاملے کی سماعت نہیں کی بلکہ عمران خان کے خلاف توہین عدالت سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران وہ روسٹم پر آ گئے۔
سماعت کے دوران اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ جو ویڈیو منظر عام پر آئی ہے اس کا ایک حصہ بالکل درست ہے۔ انھوں نے کہا کہ میاں بیوی کی ذاتی زندگی کو متاثر کیا گیا ہے۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے اعظم سواتی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مہربانی فرمائیں، نجی معاملات کو عدالت میں زیر بحث نہ لائیں۔
چیف جسٹس نے اعظم سواتی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو پتہ نہیں کہ آپ کے کون کون سے دشمن ہو سکتے ہیں جس پر انھوں نے کہا کہ معلوم نہیں یہ کس نے کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی ویڈیو صرف سپریم کورٹ ججز کو دکھا سکتا ہوں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’آج کل سچ کو تلاش کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے‘۔ انھوں نے کہا کہ ’سچ جھوٹ کی کئی تہوں میں چھپا ہوتا ہے‘۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ’سواتی صاحب آپ کی درخواست کا جائزہ لے رہے ہیں، معاملے کو قانون کے مطابق ہی دیکھا جائے گا‘ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ خود سے تحقیقات نہیں کر سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایچ ار سیل سارا معاملہ دیکھ رہا ہے، کہتے ہیں تو آج ہی آپ کو دوبارہ بلا لیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا اس معاملے میں اگر ضرورت ہوئی تو ضرور مداخلت کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پی ٹی آئی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے عمران خان پر قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر 24 گھنٹے میں درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے آئی جی پنجاب کو 24 گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایف آئی آردرج نہ ہوئی تو از خود نوٹس لیں گے۔
اس سے پہلے مقدمے کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل پر حملہ ہوا ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ واقعہ ہوا ہے اس کی ایف ائی ار درج ہوئی ہو گی۔
سماعت کے دوران پنجاب پولیس کے سربراہ لاہور رجسٹری سے آئی جی پولیس ویڈیو لنک پر موجود تھے اور عدالت نے آئی جی سے استفسار کیا کہ آپ بتائیں ایف ائی ار کیوں درج نہیں ہوئی۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہمیں وقت بتائیں کب تک ایف آئی ار درج کریں گے۔
اس پر آئی جی پنجاب نے ہم نے واقعے کی ایف آئی آر درج کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب سے بات کی، وزیر اعلیٰ پنجاب نے کچھ تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ اس واقعے میں ایک شخص کی ہلاکت ہوئی ہے۔ اس واقعے کی بھی لواحقین کی شکایت پر ایف آئی آر درج ہونی چاہیے۔
اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یہ نہ بتائیں کہ پولیس کے پاس کون کون سے آپشنز موجود ہیں، ہم اس وقت از خود نوٹس نہیں لے رہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فوجداری نظام انصاف کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے جو خط لکھا وہ انٹرنیٹ پر پڑا ہوا ہے، ہم پولیس کے قانون کے تحت اقدامات کو سپورٹ کریں گے۔
سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مقدمہ درج نہ ہونے کی ٹھوس وجہ ہونی چاہیے۔ انھوں نے پنجاب پولیس کے سربراہ کو حکم دیا کہ قانون کے مطابق کام کریں اورعدالت آپ کے ساتھ ہے۔
چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے کہا کہ آپ افسران سے تفتیش کروائیں اور جب تک آپ عہدے پرہیں کوئی آپ کے کام میں مداخلت نہیں کرے گا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئی جی صاحب آپ کے کام میں کسی نے مداخلت کی تو عدالت اس کے کام میں مداخلت کرے گی۔
واضح رہے کہ پنجاب پولیس کے سربراہ نے صوبائی حکومت کی طرف سے ان کے امور پر مداخلت کرنے کی بنا پر وفاقی حکومت کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کی خدمات وفاق کے سپرد کر دی جائیں۔

پی ٹی آئی کے رہنما سینیٹر اعظم سواتی نے دیگر سینیٹرز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے کیوں انصاف نہیں مل رہا ہے، کیوں پاکستان کی ماں کو انصاف نہیں مل رہا ہے؟
انھوں نے کہا کہ ہمارے فوجی جوان ملک کی حفاظت بھی کر رہے ہیں، یہ ہماری عزت اور ناموس کے ذمہ دار ہیں۔ ان سے بڑھ کر ججز اور عدالت کونسی ہے؟
انھوں نے کہا کہ کسی کی ازواجی زندگی میں تو گھر کے بچے بھی نہیں آ سکتے ہیں۔ اگر کوئی دوسرے کے گھر میں جھانکے گا تو سخت سے سخت سزا کا مرتکب ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاستی ادارے کی مائیں اور بیٹیاں بھی شرمندہ ہے، یہ مقدمہ صرف اپنی بیوی کا نہیں بلکہ ہر ماں اور بیٹی کا لڑ رہا ہوں۔ آج میری ہچکیاں اور آنسو بھی بند ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں سوال کرتا ہو کہ مجھے انصاف کب ملے گا؟ کیا فوج میں موجود ہماری بیٹیاں اپنی ماں اور باپ کو انصاف دینے کھڑی نہیں ہوں گیں۔
جنرل باجوہ نے اپنے دست راست کے ذریعے پیغام بھیجا کہ مجھے انصاف ملے گا، انھوں نے کہا کہ میں جنرل باجوہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
انھوں نے کہا کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایاز کو جی ایچ کیو بلائیں اور اس سے تحقیقات کرے کس کے کہنے پر میرے گھر پر ریڈ ہوا، مقدمہ درج کیا گیا اور مجھے حراست کے دوران زبردستی بے لباس کیا گیا؟
آج یہ افواہ پھیلا رہے کہ یہ ویڈیو میری بیوی اور بیٹے کو بھیجی گئی، اس ویڈیو میں کچھ اضافی چیزیں بھی ان درندوں نے ڈالی ہے۔ انھوں نے آرمی چیف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’باجوہ صاحب یہ کوئٹہ میں میرے دو دن قیام کے دوران بنائی گئی ہے۔ میں جب کوئٹہ گیا تو چئیرمین سینیٹ کا مہمان تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ ججز اور بیوروکریسی کے مہمان ٹھہرتے ہیں۔ یہ جگہ فیڈرل لاج کوئٹہ کی ہے۔ جہاں مجھے ٹھہرایا گیا وہاں کون پہنچ سکتا ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ یہ ظالم اتنے طاقتور ہے کہ یہ سارے ثبوت ختم کر سکتے ہیں۔ اب تک اس کمرے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ہو گی۔ یہ قومی ادارے کے نام پر چند طاقتور غنڈے ہیں جنھوں نے ملک کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
ان کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا کہ انھیں زہر دیا جائے گا یا گولی مار دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت طاقتور لوگ ہیں۔ ایسے عناصر بڑے بڑے گھپلوں میں شامل ہیں، یہ دولت بناتے ہیں لیکن مجھے اپنی موت کی کوئی فکر نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اصلی ویڈیو اپنے ممبران اور سپریم کورٹ کیساتھ شئیر کروں گا۔ میں عدالت کو بتاؤں گا کہ ویڈیو کا کون سا حصہ درست ہے اور کونسا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انصاف کے آنے میں دیر نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ میری زبان جواب دے چکی ہے لیکن مجھ پر ایک قرض ہے۔ میری نفرت اور غصہ کی آواز کو پاکستان کی تاریخ کا مورخ لکھے گا۔
انھوں نے چیئرمین صادق سنجرانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’صادق سنجرانی ایوان بالا کے کسٹوڈین ہے، کرسی آنی جانے والی چیز ہے لیکن بلوچ اور دین کی روایات کو نہ چھوڑو۔ کس نام نہاد کام کے لیے چئیرمین سینیٹ نے کمیٹی تشکیل دی۔
کیا موساد اور را اعظم سواتی کے خلاف یہ کام کر سکتا تھا؟
انھوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس صاحب انصاف ملتے ملتے دیر ہو گئی، میرے بچوں کو جان کا خطرہ تھا اسی لیے انھیں ملک چھوڑنے کہا۔ میری بیوی اور اہل خانہ بحفاظت امریکہ پہنچ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھ میں سکت نہیں کہ اپنی بیوی کا سامنا کر سکوں۔

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق نے سینئر صحافی و اینکر ارشد شریف قتل کیس میں پوسٹ مارٹم رپورٹ فراہم نہ کرنے پر مقتول کی والدہ کی درخواست میں فریقین کو جواب کے لیے نوٹسز جاری کر دیے۔
پیر کے روز سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے کہاکہ تین نومبر کو ارشد شریف کی فیملی کے فوکل پرسن نے اسلام آباد انتظامیہ سے رپورٹ مانگی کیونکہ پمز ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق ارشد شریف کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس کے پاس ہے۔
انھوں نے کہا کہ فیملی نے پولیس سے رابطہ کیا تو پولیس نے بھی ارشد شریف کی پوسٹ مارٹم رپورٹ دینے سے انکار کر دیا۔ درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ پمز ہسپتال انتظامیہ سے بارہا رابطہ کیا جس پر وہ نہ انکار کرتے ہیں نہ رپورٹ فراہم کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پمز اور اسلام آباد انتظامیہ نے ارشد شریف فیملی کو پوسٹ مارٹم رپورٹ سے متعلق اندھیرے میں رکھا ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ارشد شریف کی فیملی کی مشکل وقت میں رپورٹ کے لیے تذلیل کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں شک ہے کہ حقائق مسخ کرنے کے لیے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں رد وبدل کیا جا سکتا ہے۔
انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ پورے عمل کو شفاف بنانے کے لیے ارشد شریف کی فیملی کو ہر لمحہ آگاہ رکھا جائے اور بغیر کسی تھرڈ پارٹی کی مداخلت کے پورے عمل کو آگے بڑھانے کی ہدایت کی جائے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ارشد شریف فیملی کے فوکل پرسن کو پورے عمل میں شامل کیا جائے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ ارشد شریف کی فیملی کو فراہم کی جائے اور بغیر فیملی اجازت پبلک نہ کی جائے۔
عدالت نے صدر پاکستان، سیکرٹری داخلہ اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کو جواب کیلئے نوٹسز جاری کرتے ہوئے اس درخواست کی سماعت 15 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامرفاروق کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کی دھرنا اور مارچ کے لیے اجازت سے متعلق کیس میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے درخواست مسترد کرنے کی متفرق درخواست پر نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
پیر کے روز درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت کے دوران سٹیٹ کونسل زوہین گوندل نے کہا کہ ’ہم نے متفرق درخواست دائر کی ہے جس میں پی ٹی آئی کو این او سی جاری کرنے سے متعلق درخواست خارج کرنے کی استدعا کی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی درخواست غیر مؤثر ہو گئی ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے جو چھ اور سات نومبر کا کہا وہ تاریخ تو گزر گئی۔
اس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ مارچ کے دوران افسوسناک واقع رونما ہوا، عدالت نے فریقین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ دونوں بیٹھ کر اگر بات کر لیں تو بہت اچھی بات ہے، نہیں تو عدالت اس معاملے کو دیکھے گی۔
عدالت نے دونوں فریقین کو ملک کر معاملہ حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مذکورہ بالا اقدامات کے ساتھ سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی۔

،تصویر کا ذریعہwww.lhc.gov.pk/
لاہور ہائی کورٹ کے جج نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ایف آئی اے میں طلبی کے نوٹس کے خلاف درخواست پر سماعت سے معذرت کر لی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی ضیا باجوہ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی ایف آئی اے میں طلبی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت سے معذرت کی۔
جسٹس علی ضیا کی معذرت کے بعد عدالت نے فائل چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو بھجوادی اور عدالت نے آج ہی درخواست دوسرے بینچ کے پاس سماعت کے لیے مقرر کرنے کی سفارش کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے منگل سے دوبارہ شروع ہونے والے لانگ مارچ کے حوالے سے مشاورت کے لیے لاہور، زمان پارک میں پارٹی رہنماؤں کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔
اس اجلاس میں یہ طے پایا جائے گا کہ عمران خان کی خراب صحت کی وجہ سے غیر حاضری میں لانگ مارچ کی راولپنڈی تک قیادت کون کون کرے گا۔
واضح رہے گذشتہ روز عمران خان نے لانگ مارچ کے دوبارہ آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ کنٹینر پر پی ٹی آئی کے نائب صدر شاہ محمود قریشی لانگ مارچ کی قیادت کریں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کی قانونی ٹیم بھی عمران خان سے ملاقات کرے گی۔
جبکہ شوکت خانم ہسپتال کی میڈیکل ٹیم بھی دوبارہ معائنہ کرے گی۔ یاد رہے کہ عمران خان کو میڈیکل ٹیم نے دس دن مزید آرام کی ہدایت کی ہے ۔