شہباز شریف کے دورۂ چین کا مشترکہ اعلامیہ: ’پاکستان میں مالی استحکام کے لیے چین ہر ممکن مدد کرے گا‘

وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ چین کے بعد دونوں ملکوں کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ سی پیک کے خلاف ہر طرح کے خطرات اور عزائم کو ناکام بنایا جائے گا اور پاکستان میں چینی عملے، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت کے لیے سکیورٹی مزید سخت کی جائے گی۔ جبکہ چین پاکستان میں مالی استحکام کے لیے ہر ممکن مدد کرتا رہے گا۔

لائیو کوریج

  1. جسٹس عامر فاروق کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنے کی سفارش, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن اجلاس میں جسٹس عامر فاروق کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ تعینات کرنے کی متفقہ سفارش کر دی گئی ہے۔

    اس سے پہلے والے اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کو سپریم کورٹ میں جج تعینات کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔

  2. ارشد شریف کی والدہ تحقیقات کے معاملے پر حکومت کی رہنمائی کریں، رانا ثنااللہ

    ارشد شریف کے معاملے پر بنائے گئے انکوائری کمیشن کو ارشد شریف کی والدہ کی جانب سے رد کیے جانے پر اُنھوں نے کہا کہ کمیشن بنانا اور اس معاملے کے تہہ تک پہنچنا اس حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر اس میں کوئی صحافی یا کوئی تنظیم اس میں شامل ہونا چاہے تو حکومت ان کا خیر مقدم کرے گی۔

    اگر والدہ چاہتی ہیں کہ کمیشن کی جگہ کوئی اور راستہ اپنایا جائے تو وہ حکومت کی رہنمائی کریں کیونکہ وہ بھی ہمارے لیے قابلِ احترام ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ انکوائری کمیشن کسی کے خلاف تحقیقات کے لیے نہیں بلکہ حقائق جاننے کے لیے ہے جس کی رپورٹ کابینہ اور میڈیا کے سامنے پیش کی جائے گی۔

    پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کا نام ای سی ایل میں ڈالنے سے متعلق سوال پر اُنھوں نے کہا کہ اس کا حکم نامہ اُنھوں نے نہیں دیکھا مگر یہ بات زیرِ غور تھی۔

    ’اگر ڈالا گیا ہے تو ان پر فوج کو اندر سے غداری پر اکسانے کا الزام ہے۔ یہ ایسا کیس ہے جس میں پولیس وزارتِ داخلہ سے کہہ سکتی ہے، باقی وہ کورٹ میں جا کر اسے چیلنج کر سکتے ہیں۔‘

  3. ’یہ لوگ مسلح ہو کر آتے ہیں تو فورس کے پاس بھی اسلحہ ہونا چاہیے‘

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم کی یہ ہدایات ہیں کہ وہ ہراول دستہ جو اسے روکنے کے لیے تعینات ہو گا اُنھیں صرف آنسو گیس اور ربر کی گولیاں دی جائیں گی، یہ اتحادی حکومت کی پالیسی تھی اور ہے مگر فیصل واوڈا نے کہا کہ خون ہی خون، لاشیں ہی لاشیں، اور جنازے ہی جنازے، پھر اُنھیں بغیر نوٹس دیے پارٹی سے نکال دیا گیا۔

    اُنھوں نے کہا کہ یہ پریس کانفرنس پارٹی پالیسی کے مطابق اور عمران خان کی ہدایت پر ہوئی، تاکہ حکومت کو خوف زدہ کیا جائے اور ہم ان کے مطالبات مان لیں۔

    رانا ثنااللہ نے کہا کہ وہ بطور وزیرِ داخلہ یہ کہتے ہیں کہ اگر یہ لوگ مسلح ہو کر آئیں گے تو وہی فورس جو صرف آنسو گیس اور ربر کی گولیوں سے لیس ہو گی، اُنھیں اپنی، ریاست اور شہر کی حفاظت کے لیے پھر اسلحہ جاری ہونا چاہیے کیونکہ ایسی صورتحال میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا نقصان ہو سکتا ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ چھ نومبر تک تو مارچ بظاہر گوجرانوالہ میں ہی رہے گا۔

  4. بریکنگ, رانا ثنااللہ: مارشل لا لگانے والوں نے آئین کے تابع رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے

    رانا ثنااللہ

    وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ مارشل لگانے والوں نے بطور ادارہ یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ آئین کے تابع رہیں گے اور اس ملک کو آئین اور جمہوریت کے راستے پر چلائیں گے۔

    اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ اب تک کوئی گفتگو نہیں ہو رہی اور عمران خان کے طرزِ گفتگو سے بھی یہ بات واضح ہے۔

    رانا ثنااللہ سے جب عمران خان کے مارشل لا کے متعلق پیر کے بیان کے بارے میں سوال کیا تو اُنھوں نے کہا کہ عمران خان ملک کو آئینی اور جمہوری راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ عمران خان خان چاہتے ہیں کہ ملک تباہی کے راستے پر جائے، اور اگر ایسا ہوا تو کوئی سیاسی جماعت بشمول اتحادی حکومت اسے قبول نہیں کرے گی۔

    وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ اگر مارشل لگا تو نہ صرف یہ پاکستان تحریک انصاف کی غلطی ہو گی بلکہ یہ اسی کی سازش ہو گی۔

  5. پی ٹی آئی کارکنان کیا اسلحہ لے کر اسلام آباد کی جانب جائیں گے؟, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو

    غلیلیں

    خیبر پختونخوا میں لانگ مارچ میں شرکت کے لیے تیاریاں جاری ہیں لیکن اس دوران ایسے بیانات، تصاویر اور آڈیوز سامنے آئی ہیں جس میں اسلحے اور غلیلوں کا ذکر ہو رہا ہے۔

    آج سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق ناظم ارباب عاصم کی ایک تصویر سامنے آئی ہے جس میں وہ غلیل کی دوکان کے سامنے کھڑے ہیں۔ ایسی خبر بھی سامنے آئی ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکن لانگ مارچ میں جانے کے لیے اپنے ساتھ غلیلیں لے جا رہے ہیں۔

    اس بارے میں ارباب عاصم سے رابطہ کیا تو انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسا کچھ نہیں ہے، وہ غلیل ساتھ نہیں لے جا رہے کسی نے ’ایسے ہی‘ تصویر بنائی ہے اور سوشل میڈیا پر ڈال دی ہے۔

    ایسی اطلاعات بھی ہے کہ ارباب عاصم نے اس دوکان سے کوئی ایک درجن کے قریب غلیلیں خریدی ہیں، تاہم یہ معلوم نہیں ہے کہ انھوں نے یہ غلیلیں کس لیے خریدی ہیں۔

    ارباب عاصم نے کہا ہے کہ وہ ریاست کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتے تاہم اپنے دفاع کے لیے سامان لے جا رہے ہیں جیسے عینکیں اور ماسک تاکہ اگر حکومت کی جانب سے آنسو گیس کی جائے تو وہ اپنا دفاع کر سکیں، اس کے علاوہ وہ کوئی غیر قانونی کام کرنے کا ’سوچ بھی نہیں سکتے۔‘

    اسی طرح اس سے پہلے پی ٹی آئی کے رہنما اور صوبائی وزیر کامران بنگش کی جانب سے ایسا بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قانون شہریوں کو اپنے تحفظ کے لیے لائسنس یافتہ اسلحہ رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔

    انھوں نے صحافیوں کو وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کارکنوں کو اسلحہ لے کر آنے کا نہیں کہا ہے۔

    کامران بنگش نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ صحافیوں سے علی امین کے بیان پر بات کر رہے تھے اور انھوں نے علی امین کے بیان کی وضاحت میں کہا تھا کہ قانون لائسنس یافتہ اسلحے رکھنے کی اجازت دیتا ہے لیکن ’ہم پرامن لوگ ہیں اور ہمارا احتجاج بھی پر امن ہو گا، ہم کوئی اسلحہ ساتھ لے کر نہیں جا رہے نا ہی لائسنس یافتہ اور نا غیر لائسنس یافتہ اسلحہ ہو گا۔‘

    اس سے پہلے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے ایک اخباری کانفرنس میں علی امین گنڈاپور کی مبینہ آڈیو ٹیپ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے لوگ بندوقیں ساتھ لا رہے ہیں لیکن علی امین گنڈا پور نے بھی اس کی تردید کر دی تھی۔

    غلیل

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

  6. تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کی لڑائی کروانے کی سازش کی جا رہی ہے، عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان لڑائی کروانے کی سازش کر رہے ہیں۔

    گوجرانوالہ میں لانگ مارچ کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’ایک سیاست دان نے اقتدار کے لیے پاکستان کی فوج کو مشرقی پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کے خلاف کھڑا کر دیا، اس کی وجہ سے ملک ٹوٹ گیا۔‘

    ’نواز شریف اور آصف زرداری کوشش کر رہے ہیں کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھڑا کر دیں، یہ سازش ہے۔‘

    ’ان کی کوشش ہے کہ فوج اور پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کا ٹاکرا کرایا جائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ نواز شریف واپس آئے تو ان کے خلاف انھی کے حلقے سے الیکشن لڑوں گا۔ عمران خان نے کہا کہ سندھ میں آصف زرداری کا سامنا کرنے کے لیے بھی جاؤں گا۔

  7. عمران خان گوجرانوالہ پہنچ گئے، لانگ مارچ کا آغاز, احتشام شامی، صحافی، گوجرانوالہ

    تحریک انصاف چیئرمین عمران خان کی منگل کے دن گوجرانوالہ آمد کے بعد لانگ مارچ کے پانچویں دن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    تاہم منگل کے دن تحریک انصاف کا لانگ مارچ گوجرانوالہ میں ہی رہے گا۔

    اس دوران جی ٹی روڈ پر شیرانوالہ باغ کے باہر سہ پہر تین بجے وکلا مارچ کا استقبال کریں گے اور یہاں عمران خان کا خطاب متوقع ہے۔

    بعدازاں شیرانوالہ باغ سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر گوندلانوالہ چوک میں شام پانچ بجے جلسہ عام ہوگا جس سے سابق وزیر اعظم عمران خان خطاب کریں گے۔

  8. پاکستان میں اکتوبر میں مہنگائی کی شرح 26 فیصد کی سطح عبور کر گئی، ٹرانسپورٹ اور غذائی اشیا کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں اس سال اکتوبر کے مہینے میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں مہنگائی کی شرح میں 26.5 فیصد اضافہ ہوا جبکہ موجودہ مالی سال کے پہلے چار مہینوں میں پچھلے مالی سال کے ان مہینوں کے مقابلے میں مہنگائی کی شرح میں 25.5 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اکتوبر کے مہینے میں گزشتہ سال اکتوبر کے مقابلے میں غذائی اشیا کی قیمتوں میں 36.2 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    ملک کے ہاؤسنگ شعبے میں مکانوں کی تعمیر پر اٹھنے والے اخراجات اور کرایوں میں تقریباً 12 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔

    کپڑوں اور جوتوں کی قیمتوں میں 18.3 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ہوٹل اور ریستوران میں کھانے پینے اور قیام کے اخراجات میں 30.4 فیصد اضافہ ہوا۔

    ملک میں ٹرانسپورٹ کے اخراجات، جن میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمتیں اور کرایے شامل ہیں، میں سب سے بڑا اضافہ دیکھا گیا اور اکتوبر کے مہینے میں گزشتہ سال اکتوبر کے مہینے کے مقابلے میں 50.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    تعلیمی اخراجات میں 11 فیصد اور صحت پر اٹھنے والے اخراجات میں 16.2 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

  9. شہباز گل کا نام ای سی ایل میں شامل، بیرون ملک نہیں جا سکیں گے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    وفاقی حکومت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے سابق پرنسپل سٹاف افسر شہباز گل کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر لیا ہے۔

    اس ضمن میں وفاقی کابینہ سے منطوری لی گئی ہے۔

    وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ شہباز گل کا نام ای سی ایل میں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے دی جانے والی سفارشات کی روشنی میں شامل کیا گیا۔

    وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق شہباز گل کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے فیصلے پر عمل درآمد 20 ستمبر سے تصور کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ شہباز گل کے خلاف اداروں کو مبینہ طور پر بغاوت پر اکسانے کا مقدمہ درج ہوا تھا جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے انھیں ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے الزام عائد کیا تھا کہ دوران حراست شہباز گل کو جنسی تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔

  10. جو ادارے عوام کے ساتھ ایک پیج پر نہیں ہوں گے ان کا نقصان ہو گا، فواد چوہدری

    تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری نے گوجرانوالہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم فوجی قیادت کا احترام کرتے ہیں‘ لیکن ’جو ادارے عوام کے ساتھ ایک پیج پر نہیں ہوں گے، ان کا نقصان ہو گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’عدالت ہو، فوج ہو، یا کوئی اور ادارہ ہو، ان کو عوام کے فیصلے تسلیم کرنے ہوں گے کیوں کہ سیاست میں حتمی فیصلہ عوام کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ عمران خان کو ہٹانے کا فیصلہ غلط تھا جسے عوام مسترد کر چکے ہیں اور ضمنی الیکشن میں یہ ثابت ہو چکا ہے۔

    ’ہم نہیں کہتے کہ تحریک انصاف کو حکومت دے دیں، عوام کو فیصلہ کرنے دیں۔ ہمارا مطالبہ صرف الیکشن کا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’حکومت کے مطابق اگر صرف دو ہزار لوگ لانگ مارچ میں ہیں تو ہمیں اسلام آباد آنے دیں۔‘

    تحریک انصاف وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’لانگ مارچ کا منفی تاثر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن اب تک کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا۔‘

    ’چار دن کا لانگ مارچ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا مارچ پرامن ہے۔‘

    ’ہم پرامن رہنا چاہتے ہیں لیکن اگر کہیں کوئی ناخواشگوار واقعہ ہوا تو حکومت کے پلانٹڈ لوگ کر سکتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’کہا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف فوج کے خلاف ہے، ایسا نہیں ہے۔‘

    ’پاکستان کی فوج ہے، اور ہم نے ہمیشہ ان کے لیے آواز اٹھائی، اصولی موقف اپنایا۔ ہم ان کی خدمات کو تسلیم کرتے ہیں، دہشت گردی کی جنگ میں قربانیوں کو، کورونا میں ان کی حکمت عملی، سیلاب میں تعمیری کام ہو، ہم اعتراف کرتے ہیں۔‘

    ’ہم صرف کہتے ہیں کہ آئین نے ان کو کردار دیا ہے اور اس میں رہ کر کام کریں تو ملک اس سے مضبوط ہو گا۔‘

  11. خیبر پختونخوا میں لانگ مارچ کی تیاریاں جاری، چار نومبر کو ٹیکسلا پہنچے کا پروگرام ملتوی, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو پشاور

    پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے خیبر پختونخوا میں تیاریاں جاری ہیں۔

    کارکنوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی تیاری مکمل رکھیں اور جب بھی لاہور سے روانہ ہونے والی لانگ مارچ راولپنڈی پہنچے گا اس روز خیبر پختونخوا سے بھی قافلے راولپنڈی پہنچیں گے۔

    پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکرٹری اسد عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے کل پشاور میں جماعت کی صوبائی قیادت سے ملاقات کی ہے جس میں لانگ مارچ کی تیاریوں کے بارے میں بات چیت کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے چار نومبر تک ٹیکسلا پہنچنا تھا لیکن اب پلان تبدیل ہوآ ہے لیکن اب تک حتمی تارئح کا اعلان نہیں کیا گیا اس کے لیے دو تین تجاویز عمران خان کو دی گئی ہے اور ان کی منظوری کے بعد اس کا اعلان کیا جائے گا۔

    اسد عمر کے مطابق لانگ مارچ میں چونکہ بڑی تعداد میں لوگ شامل ہو رہے ہیں اس لیے اسلام آباد پہنچنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے اس لیے تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔ ان سے جب پوچھا کہ صوبائی قیادت سے کیا بات چیت ہوئی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کی تیاریوں کے بارے میں بات چیت ہوئی ہے جس میں کیسے اور کب روانہ ہوں گے کہاں پہنچیں گے وہاں کیا انتظامات کیے جا سکتے ہیں اس بارے میں بات چیت ہوئی ہے۔

    گذشتہ روز پشاور میں سابق وزیر دفاع پرویز خٹک اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے مشترکہ اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ خیبر پختونخوا سے قافلے چار نومبر کو ٹیکسلا پہنچیں گے جہاں سے پھر لاہور سے آنے والے قافلے سے ملیں گے۔

    سابق ناظم پشاور اور پی ٹی آئی کے رہنما ارباب عاصم نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے اپنی تیاریاں چار نومبر کے لیے مکمل کی ہیں لیکن اگر لاہور سے لانگ مارچ کے راولپنڈی پہنچنے میں تاخیر ہوتی ہے تو پھر ان کی تیاری بھی اسی کے مطابق ہو گی۔

    اب تک کہا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے لاہور سے روانہ ہونے والا لانگ مارچ 10 نومبر تک راولپنڈی پہنچے گا تو پشاور اور خیبر پختونخوا کے قافلے بھی اسی مناسبت سے روانہ ہوں گے لیکن یہ اب تک کوئی حتمی تاریخ نہیں ہے اس کا اعلان مشاورت سے مرکزی قیادت کرے گی۔

    ارباب عاصم نے بتایا کے اب یہ معلوم نہیں ہے کہ خیبر پختونخوا سے روانہ ہونے والے قافلے ٹیکسلا پہنچیں گے یا اسلام آباد جائیں گے اس بارے میں بھی حتمی اعلان بعد میں ہو گا۔

    لانگ مارچ میں شرکت کرنے والے کارکنوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ساتھ بنیادی سامان ضرور لائیں جس میں کپڑے، کمبل ، چٹائی ، خشک خوراک اور دیگر اشیا تاکہ اگر زیادہ وقت کے لیے رکنا پڑے تو ان کے لیے مشکلات نہ ہوں۔ ارباب عاصم نے بتایا کہ زیادہ تر کارکن تو اپنے خرچے پر جاتے ہیں اور جن کے پاس وسائل نہیں ہوتے تو ان کے لیے انتظامات کیے جا سکتے ہیں۔

    پی ٹی آئی کے ذرائع نے بتایا کہ بڑے شہروں سے 10 سے 15 ہزار تک افراد کو لانگ مارچ میں لانے کے لیے کہا گیا ہے جبکہ چھوٹے شہروں سے پانچ سے آٹھ ہزار تک لوگ لائے جائیں گے۔

  12. ’خیبر پختونخوا میں پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹی تک محدود رہیں‘

    خیبر پختونخوا پولیس کے اے آئی جی آپریشنز کی جانب سے صوبے میں تعینات پولیس افسران کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی سرکاری ملازم احتجاج کا حصہ نہیں ہو گا۔

    مراسلے کے مطابق وفاقی حکومت کی ہدایات کے مطابق احتجاج کا طریقہ کار وضع ہے اور کوئی بھی پولیس اہلکار اپنے علاقے سے تجاوز نہیں کرے گا بلکہ صرف اپنی ڈیوٹی تک محدود رہے گا۔

    مراسلے کا عکس

    ،تصویر کا ذریعہKP Police

  13. لانگ مارچ کا نیا شیڈول جاری

    تحریکِ انصاف کی جانب سے لانگ مارچ کا نیا شیڈول جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق اب یہ مارچ جمعے کو اسلام آباد پہنچنے کی بجائے اتوار تک جہلم تک ہی پہنچے گا۔

    جہلم سے آگے کا شیڈول جاری نہیں کیا گیا تاہم تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے پیر کی شب کہا تھا کہ یہ مارچ 10 یا 11 نومبر تک ہی اسلام آباد پہنچ پائے گا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. گوجرانوالہ میں لانگ مارچ کے شرکا عمران خان کے منتظر

    تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ کا منگل کو پانچواں دن ہے اور اس قافلے کے شرکا دن کے سفر کے آغاز کے لیے جماعت کے سربراہ عمران خان کی آمد کے منتظر ہیں۔

    منگل کو لانگ مارچ کے شرکا سارا دن گوجرانوالہ شہر میں جی ٹی روڈ پر ہی سفر کریں گے اور دن کا اختتام شیرانوالہ باغ کے باہر عمران خان کے خطاب کے بعد متوقع ہے۔

  15. گوجرانوالہ میں عمران خان کے خلاف بینرز کی تحقیقات, احتشام شامی، صحافی، گوجرانوالہ

    گوجرانوالہ

    گوجرانوالہ شہر میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے پانچویں دن کے آغاز سے قبل منگل کے دن سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف نامعلوم افراد کی طرف سے بینرز لگنے کے واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ نامعلوم افراد کی جانب سے گوجرانوالہ میں جی ٹی روڈ پر شاہین آباد کے قریب لگائے گئے بینرز پر ’گھڑی چور‘، ’توشہ خانہ چور‘ کے نعرے درج تھے جن پر ’اہلیان گوجرانوالہ‘ لکھا گیا تھا۔

    گوجرانوالہ پولیس کی ٹیم نے اطلاع ملنے پر بینرز اتار کر قبضے میں لے لیے اور بینرز لگانے والے افراد کی تلاش شروع کردی۔

    پولیس ترجمان کے مطابق اس سلسلے میں گردونواح کے سی سی ٹی وی کیمروں سے بھی مدد لی جائے گی۔

  16. پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی 50 روپے فی لیٹر، قیمت کم نہ ہو سکی, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں اگلے 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل نہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    پاکستان میں اگلے 15 روز کے لیے تیل انڈسٹری کی جانب سے دے جانے والے تخمینے میں کمی دکھائی گئی تاہم حکومت کی جانب سے پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی کو بڑھا کر 50 روپے کر دینے کی وجہ سے صارفین کے لیے پیٹرول کی قیمت میں کمی نہیں کی گئی۔

    حکومت کی جانب سے گزشتہ دو نظر ثانی جائزوں میں پیٹرول پر لیوی کی شرح کو 32 روپے فی لیٹر سے 50 روپے فی لیٹر کر دیا گیا۔ پیٹرول کی موجودہ قیمت 224.80 روپے ہے۔

    حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی آئی ایم ایف کی شرط لگائی گئی ہے جس کے تحت پیٹرولیم مصنوعات پر حکومت کو اس سال 50 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی وصول کرنی ہے۔

    حکومت کی جانب سے پیٹرول پر اس وقت 50 روپے فی لیٹر لیوی عائد ہو چکی ہے اور ڈیزل پر اس لیوی کی شرح 12.59 روپے فی لیٹر ہے جسے حکومت بتدریج 50 روپے تک بڑھائے گی۔

  17. تحریک انصاف کا لانگ مارچ آج گوجرانوالہ میں دن گزارے گا, احتشام شامی، صحافی، گوجرانوالہ

    تحریک انصاف پانچویں روز لانگ مارچ کا آغاز گوجرانوالہ میں چند دا قلعہ کے قریب ایک بڑے صنعتی ادارے کے باہر سے کرے گی۔

    پارٹی کی مقامی قیادت کی طرف سے میڈیا کو آگاہ کیا گیا ہے کہ پارٹی قائدین ساڑھے 11 بجے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے جس کے بعد 12 بجے صنعتی ادارے کے باہر سے پانچویں روز لانگ مارچ کا آغاز کر دیا جائے گا۔

    لانگ مارچ کے شرکا سارا دن گوجرانوالہ کے اندرون شہر میں جی ٹی روڈ سے گزریں گے۔

    پارٹی کے مقامی ٹکٹ ہولڈر، عہدیداران اور یوتھ ونگ سمیت مختلف ذیلی تنظیموں کے ارکان کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں پہنچنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    لانگ مارچ کا جی ٹی روڈ پر شیرانوالہ باغ کے باہر سہ پہر تین بجے وکلا استقبال کریں گے اور یہاں عمران خان کا خطاب متوقع ہے۔

    شیرانوالہ باغ سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر گوندلانوالہ چوک میں بڑا اسٹیج بنایا گیا ہے جہاں شام پانچ بجے جلسہ عام ہو گا اور سابق وزیراعظم عمران خان خطاب کریں گے۔

  18. وزیراعظم شہباز شریف آج پہلے دو روزہ سرکاری دورے پر چین روانہ

    shahbaz sharif

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف دو روزہ سرکاری دورہ پر چین روانہ ہو گئے ہیں۔

    رواں برس 11 اپریل 2022 کو وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کا چین کا یہ پہلا دورہ ہے.

    انھیں چین کی ریاستی کونسل کے وزیراعظم لی کی چیانگ نے اس دورے کی دعوت دی تھی اور شہباز شریف اس دورے کے دوران لی کی چیانگ کے علاوہ صدر شی جن پنگ سے بھی ملاقات کریں گے۔

    کمیونسٹ پارٹی چین کی بیسویں نیشنل کانگریس کے تاریخی انعقاد اور صدر شی جن پنگ کے تیسری بار جنرل سیکرٹری منتخب ہونے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف چین کا دورہ کرنے والے اولین راہنماؤں میں شامل ہیں۔

    وزیراعظم ہاؤس کے مطابق اعلٰی سطح کا ایک وفد بھی وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان قیادت کی سطح پر مسلسل رابطوں کی کڑی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف دورے کے دوران چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوں گے۔

    Shehbaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہ@CMShehbaz

    دونوں ممالک کے قائدین سٹرٹیجک کوآپریشن پارٹنرشپ کا جائزہ لیں گے ملاقاتوں اور اجلاسوں میں علاقائی اور عالمی سطح پر صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہو گا۔

    دورے سے دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر دوطرفہ تعاون کے ایجنڈے پر پیش رفت متوقع ہے۔ دورے کے دوران مفاہمت کی متعدد یاداشتوں اور معاہدات پر دستخط ہونے کا بھی امکان ہے۔ دورے سے چین پاکستان اقتصادی راہداری کی رفتار مزید بڑھنے کی توقع ہے۔

    سی پیک کے حوالے سے مشترکہ تعاون کمیٹی (جے سی سی) کا گیارھواں اجلاس 27 اکتوبر 2022 کو منعقد ہوا تھا۔

  19. عمران خان کے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں: امریکہ

    نیڈ پرائس، ترجمان امریکی محکمہ خارجہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم پاکستان کے ’رجیم چینج‘ (حکومت کی تبدیلی) کے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں اور امریکہ اس پراپیگنڈا کو دو طرفہ تعلقات کی راہ میں نہیں آنے دے گا۔

    ایک حالیہ پریس کانفرنس کے دوران ترجمان امریکی محکمہ خارجہ سے پوچھا گیا کہ عمران خان اسلام آباد کی طرف مارچ کر رہے ہیں اور نئے عام انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں مگر امریکہ کو پاکستان میں رجیم چینج کا قصوروار ٹھہراتے ہیں۔

    اس پر ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ ان الزامات میں کوئی حقیقت نہیں۔ ’ہم پراپیگنڈا، مس انفارمیشن یا ڈس انفارمیشن کو پاکستان سے اہم دو طرفہ تعلقات کی راہ میں نہیں آنے دیں گے۔‘

    عام انتخابات سے متعلق سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آئینی اور جمہوری اصولوں پر پُرامن عملدرآمد کی حمایت کرتا ہے۔

  20. لانگ مارچ جمعے کے بجائے 10 یا 11 نومبر کو اسلام آباد پہنچے گا: فواد چوہدری

    فواد چوہدری

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا ہے کہ بظاہر یہ لگ نہیں رہا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کا لانگ مارچ جمعے (چار نومبر) کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچے گا بلکہ یہ لگ رہا ہے کہ ’ہم اگلے جمعرات یا جمعے (10 یا 11 نومبر) کو پہنچیں گے۔‘

    انھوں نے اے آر وائے نیوز کی اینکر ماریہ میمن سے گفتگو کے دوران کہا کہ ’ہزاروں لوگ کنٹینر کے ساتھ چلتے ہیں اور ہم زیادہ رفتار کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتے کیوںکہ حادثوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔۔۔

    ’ہم روز 10 سے 12 کلومیٹر سے زیادہ نہیں کر پا رہے۔ سکیورٹی کے خطرات کے بعد فیصلہ ہوا تھا کہ مغرب کے بعد سفر نہیں کریں گے۔۔۔ یوں لگ نہیں رہا کہ ہم جمعے کو پہنچیں گے بلکہ یوں لگ رہا ہے کہ ہم اگلے جمعرات یا جمعے کو اسلام آباد پہنچیں گے۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بیک ڈور رابطوں کا سلسلہ جاری ہے اور عمران خان کا یہی مطالبہ ہے کہ قبل از وقت انتخابات کرائے جائیں۔

    ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ جلسے کے ساتھ ساتھ دھرنے کی بھی تیاری کی گئی ہے۔