پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے خیبر پختونخوا میں تیاریاں جاری ہیں۔
کارکنوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی تیاری مکمل رکھیں اور جب بھی لاہور سے روانہ ہونے والی لانگ مارچ راولپنڈی پہنچے گا اس روز خیبر پختونخوا سے بھی قافلے راولپنڈی پہنچیں گے۔
پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکرٹری اسد عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے کل پشاور میں جماعت کی صوبائی قیادت سے ملاقات کی ہے جس میں لانگ مارچ کی تیاریوں کے بارے میں بات چیت کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے چار نومبر تک ٹیکسلا پہنچنا تھا لیکن اب پلان تبدیل ہوآ ہے لیکن اب تک حتمی تارئح کا اعلان نہیں کیا گیا اس کے لیے دو تین تجاویز عمران خان کو دی گئی ہے اور ان کی منظوری کے بعد اس کا اعلان کیا جائے گا۔
اسد عمر کے مطابق لانگ مارچ میں چونکہ بڑی تعداد میں لوگ شامل ہو رہے ہیں اس لیے اسلام آباد پہنچنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے اس لیے تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
ان سے جب پوچھا کہ صوبائی قیادت سے کیا بات چیت ہوئی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کی تیاریوں کے بارے میں بات چیت ہوئی ہے جس میں کیسے اور کب روانہ ہوں گے کہاں پہنچیں گے وہاں کیا انتظامات کیے جا سکتے ہیں اس بارے میں بات چیت ہوئی ہے۔
گذشتہ روز پشاور میں سابق وزیر دفاع پرویز خٹک اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے مشترکہ اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ خیبر پختونخوا سے قافلے چار نومبر کو ٹیکسلا پہنچیں گے جہاں سے پھر لاہور سے آنے والے قافلے سے ملیں گے۔
سابق ناظم پشاور اور پی ٹی آئی کے رہنما ارباب عاصم نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے اپنی تیاریاں چار نومبر کے لیے مکمل کی ہیں لیکن اگر لاہور سے لانگ مارچ کے راولپنڈی پہنچنے میں تاخیر ہوتی ہے تو پھر ان کی تیاری بھی اسی کے مطابق ہو گی۔
اب تک کہا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے لاہور سے روانہ ہونے والا لانگ مارچ 10 نومبر تک راولپنڈی پہنچے گا تو پشاور اور خیبر پختونخوا کے قافلے بھی اسی مناسبت سے روانہ ہوں گے لیکن یہ اب تک کوئی حتمی تاریخ نہیں ہے اس کا اعلان مشاورت سے مرکزی قیادت کرے گی۔
ارباب عاصم نے بتایا کے اب یہ معلوم نہیں ہے کہ خیبر پختونخوا سے روانہ ہونے والے قافلے ٹیکسلا پہنچیں گے یا اسلام آباد جائیں گے اس بارے میں بھی حتمی اعلان بعد میں ہو گا۔
لانگ مارچ میں شرکت کرنے والے کارکنوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ساتھ بنیادی سامان ضرور لائیں جس میں کپڑے، کمبل ، چٹائی ، خشک خوراک اور دیگر اشیا تاکہ اگر زیادہ وقت کے لیے رکنا پڑے تو ان کے لیے مشکلات نہ ہوں۔
ارباب عاصم نے بتایا کہ زیادہ تر کارکن تو اپنے خرچے پر جاتے ہیں اور جن کے پاس وسائل نہیں ہوتے تو ان کے لیے انتظامات کیے جا سکتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے ذرائع نے بتایا کہ بڑے شہروں سے 10 سے 15 ہزار تک افراد کو لانگ مارچ میں لانے کے لیے کہا گیا ہے جبکہ چھوٹے شہروں سے پانچ سے آٹھ ہزار تک لوگ لائے جائیں گے۔