نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے قبل از وقت اعلان کی مخالفت کرنی چاہیے: خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے قبل از وقت اعلان کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کسی ’نئی ریت کی مخالفت کرنی چاہیے۔‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ہمیں یہ تعیناتی سیاسی حالات کی غیر یقینی کے تابع نہیں کرنی چاہیے۔‘

لائیو کوریج

  1. جلسے میں سرکاری وسائل کا استعمال: الیکشن کمیشن کا عمران خان، وزیر اعلی خیبر پختونخوا کو نوٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    الیکشن کمیشن نے چارسدہ جلسے میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری وسائل اور ہیلی کاپٹر کے استعمال پر وضاحت دی جائے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ این اے 24 چارسدہ میں ضمنی الیکشن کے سلسلے میں پی ٹی آئی کے انتخابی جلسے میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا۔

    نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’بار بار تنبیہ کے باوجود وزیر اعلی خیبر پختونخواہ اور دیگر کابینہ ارکان نے نہ صرف جلسہ میں شرکت کی بلکہ سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا جس میں سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال بھی شامل ہے۔‘

    نوٹس کے مطابق ’مذکورہ ضمنی الیکشن میں انتخابی امیدوار عمران احمد خان نیازی کو بھی اپنے انتخابی جلسے میں عوامی عہدہ پر فائز شخصیات کو مدعو کرنے، نتائج پر اثر انداز ہونے اور سرکاری وسائل کو اپنے انتخابی جلسے میں استعمال کرنے پر نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔‘

    ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور چارسدہ جلسے میں شرکت پر الیکن کمیشن کے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر چارسدہ نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان، وزیرِ قانون فضل شکور خان اور مشیر برائے معدنیات محمد عارف کو بھی نوٹس جاری کیے۔

    نوٹس میں ان افراد کو 20 ستمبر کو 11 بجے ضلعی الیکشن کمشنر کے دفتر میں ضلعی مانیٹرنگ آفیسر کے سامنے پیش ہونے کو کہا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے نوٹس کے مطابق ’اس سے پہلے بھی عمران احمد خان نیازی اور وزیرِ اعلیٰ محمود خان نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی تھی جس پر ضلعی مانیٹرنگ آفیسر پشاور نے 50، 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔‘

    الیکن کمیشن کے بیان میں کہا گیا کہ ’عمران احمد خان نیازی اور وزیر ِاعلیٰ محمود خان بار بار ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ان حالات میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف الیکشن کا انعقاد مشکل نظر آتا ہے اور سارے امیدواروں کو ایک جیسا ماحول میسر ہوتا نظر نہیں آرہا ہے لہٰذا کیوں نہ الیکشن کمیشن کو رپورٹ بھیجی جائے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا پر ہیلی کاپٹر کے استعمال پر دورانِ ضمنی الیکشن پابندی عائد کی جائے اور ہیلی کاپٹر کے غیر قانونی استعمال پر ریکوری کی جائے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی جائے کہ وہ ہیلی کاپٹر فراہم نہ کریں۔‘

    نوٹس میں لکھا گیا ہے کہ ’اگر اسی طرح ضمنی الیکشن کے انعقاد میں رکاوٹیں ڈالی گئیں تو کیوں نہ الیکشن کمیشن کو متعلقہ امیدواروں کو نا اہل قرار دینے کیلئے سفارش کی جائے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. عمران خان: وفاقی حکومت قبائلی علاقوں، مالاکنڈ میں امن و امان بحال کرے

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہImran Khan

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں اور مالاکنڈ میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو ٹھیک کرنے کے لیے وفاقی حکومت کو اب آگے آنا ہو گا۔

    چارسدہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’آپ کی ساری کوشش ہے کہ ہمیں دبایا جائے، میڈیا کو دبایا جائے مگر ملک کے حالات آپ سے نہیں سنبھالے جا رہے۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ مالاکنڈ میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے، پختونخوا کی پولیس پوری کوشش کر رہی ہے مگر وفاقی حکومت کو اب سامنے آنا چاہیے اور اپنا فرض پورا کرنا چاہیے۔

    سابق وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ بجائے اس کے کہ عمران خان پر مقدمے بنائیں آپ کا کام ہے کہ امن و امان کی صورتحال جو قبائلی علاقوں اور مالاکنڈ میں خراب ہو رہی ہے، اسے ٹھیک کریں کیونکہ پختونخوا کے لوگوں نے بہت ’قربانیاں‘ دی ہیں۔

    سوات سمیت پاکستان کے دیگر علاقوں میں بڑھتے ہوئے دہشتگرد حملوں کے بارے میں ہماری یہ حالیہ رپورٹس ملاحظہ کیجیے

    • جنگ بندی کے باوجود حملے، پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات کی حقیقت کیا؟
    • سوات میں طالبان کی واپسی کے خدشات: ’طالبان کمانڈر نے کہا اب سے لگان ہمیں دینا ہے‘
    • حکومت اور ٹی ٹی پی مذاکرات: طالبان کو آئین پاکستان اور فاٹا انضمام سے آخر مسئلہ کیا ہے؟
  3. خواجہ آصف: روس نے تیل اور گیس کے ساتھ گندم کی بھی پیشکش کی ہے

    گندم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ازبکستان میں روسی صدر پوتن سے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ملاقات کے دوران روس نے نہ صرف تیل اور گیس بلکہ گندم تک فراہم کرنے کی بات کی ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ روس نے یہ پیشکش اس تناظر میں کی کہ سیلاب سے پاکستان کو ہونے والی تباہی کے بعد غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان اپنی ملکی ضروریات کے لیے گندم کا بڑا حصہ بیرونِ ملک سے درآمد کرتا ہے جبکہ یوکرین اور روس دنیا میں گندم کے سب سے بڑے برآمد کنندگان ہیں۔

    یوکرین میں جاری جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر جہاں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے وہیں اجناس کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ جن روسی لیڈروں کے بارے میں عمران خان کہتے تھے کہ اُنھوں نے خط لکھ کر پاکستان کو سستا تیل دینے کی بات کی ہے، ان سے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں ملاقات کے دوران کسی نے بھی ایسے کسی خط کا تذکرہ نہیں کیا۔

    اُنھوں نے کہا کہ روسی حکام نے کہا کہ ان کی گیس پائپ لائنز وسطی ایشیا تک آ رہی ہیں جہاں سے براستہ افغانستان پاکستان تک یہ گیس پہنچائی جا سکتی ہے۔

    خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ روسی صدر پوتن نے اقوامِ متحدہ میں یوکرین کے معاملے پر پاکستانی مؤقف کی تعریف کی ہے۔

    اس حوالے سے مزید مضامین:

    • روس، یوکرین کشیدگی پاکستان میں گندم کی درآمد کو کس حد تک متاثر کر سکتی ہے؟
    • تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عالمی منڈیوں میں گندم کی قیمتیں بڑھنے کا خطرہ
    • پاکستان میں درآمدی گندم کی مہنگی بولی آٹے کی قیمت پر کیسے اثر انداز ہو گی؟
  4. نئے آرمی چیف کی تعیناتی نومبر میں، عام انتخابات اگلے برس اگست میں ہوں گے: وزیردفاع

    Defence Minister

    پاکستان کے وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی نومبر میں وزیراعظم شہباز شریف کریں گے جبکہ نئے انتخابات اگلے سال اگست میں ہوں گے۔

    اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ یہ عمران خان کی ایک حسرت ہے کہ وہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کریں۔ ان کے مطابق عمران خان کے کہنے سے کیا فرق پڑتا ہے، وہ ایک دن ایک بات کرتے ہیں وہ دوسرے دن مکر جاتے ہیں۔۔

    وزیردفاع کے مطابق عمران خان اس تعیناتی کو زیادہ سے زیادہ متنازع بنانے کی بات کر رہے ہیں، تا کہ وہ یہ تعیناتی کر سکیں۔

    COAS

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    'آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کوئی پراسس شروع ہوا نہ ایسی کوئی تجویز ہے'

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ نہ تو ایسا کوئی پراسس سٹارٹ ہوا ہے، نہ تو ایسی کوئی تجویز ہے، اس وقت کوئی پراسس سٹارٹ ہی نہیں ہوا ہے، اس لیے اس پر میرا بولنا ٹھیک نہیں ہے، اس پر کمنٹ کرنا بھی نہیں بنتا۔ اس حوالے اس وقت جو کتابوں میں ہے وہ بات ہے، باقی پراسس کوئی سٹارٹ نہیں ہوا۔'

    وزیردفاع کا کہنا ہے کہ سیاستدان ایک دوسرے سے دست و گریبان ہوتے رہتے ہیں اور یہ پوری دنیا میں ہوتا ہے مگر اداروں کو اس تنازع کا حصہ نہیں بننا چائیے۔

    Nawaz Musharraf

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ان کے مطابق یہ موضوع اس طرح نہیں بننا چاہیے تھا اور نہ کبھی ماضی میں ایسا ہوا ہے۔ خواجہ محمد آصف کے مطابق ماضی میں چار مرتبہ نواز شریف نے اپنا یہ آئینی کردار ادا کیا ہے۔

    ان کے مطابق اب وقت آنے پر شہباز شریف یہ فریضہ انجام دیں گے۔

    خواجہ آصف نے کہا جو بھی نیا آرمی چیف ہو گا وہ آئین اور اپنے ادارے کا وفادار ہو گا۔ ان کے مطابق ماضی میں جب مارشل لا کا نفاذ ہوا تو وہ انھوں نے ان کے خلاف کیا جنھوں نے انھیں تعینات کیا تھا۔

    تاہم خواجہ آصف کے مطابق نواز شریف نے ماضی میں آرمی چیف کی تعیناتی کو موضوع بحث نہیں بنایا ہے۔

  5. گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم اپنے بیان حلفی سے منحرف ہو گئے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    Affidavit

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    گلگت بلتستان سپریم ایپلیٹ کورٹ کے سابق چیف جج رانا شمیم اپنے بیان حلفی سے منحرف ہو گئے اور انھوں نے اب اپنا نیا بیان حلفی جمع کروایا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت توہین عدالت کیس میں انھوں نے نیا غیر مشروط معافی نامہ جمع کرایا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے غلط اور غیر ضروری بیان حلفی پر غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتے ہیں۔

    رانا شمیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیا غیر مشروط معافی نامہ داخل کرا دیا ہے۔

    رانا شمیم نے نئے معافی نامے میں بیان حلفی میں درج الفاظ واپس لے لیے۔ ایک صفحے پر مشتمل معافی نامے میں کہا گیا ہے کہ بیان حلفی میں غلطی سے ہائی کورٹ کے جج کا نام شامل ہو گیا تھا۔

    اپنی اس سنگین غلطی پر معافی کا طلبگار ہوں جو غلطی دراصل نہیں ہونی چاہیے تھی۔ انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ دس نومبر 2021 کے بیان حلفی میں جج کا نام غلط فہمی کی وجہ سے شامل ہو۔

    انھوں نے اپنے بیان میں لکھا کہ میں اپنے بیان حلفی کے متن کو واپس لیتا ہوں۔ اپنے غلط بیان حلفی پر غیر مشروط معافی مانگتا ہوں اور خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں۔

    رانا شمیم نے کہا تھا کہ انھوں نے جولائی 2018 میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی فون پر گفتگو سنی جب وہ گلگت بلتستان کے دورے پر آئے ہوئے تھے۔ لان میں چائے کے دوران ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے جج کو نواز شریف کیس سے متعلق ہدایات دیں کہ نواز شریف اور مریم نواز کو الیکشن سے پہلے جیل سے باہر نہیں آنا چاہیے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے بیان حلفی اور پھر اس کی جنگ اور دی نیوز میں اشاعت پر توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کر رکھا ہے۔

  6. شنگھائی تعاون تنظیم: افغانستان میں امن پاکستان میں امن کی ضمانت ہے، وزیر اعظم شہباز شریف

    Shahbaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن، پاکستان میں امن کی ضمانت ہے۔

    ازبکستان کے شہر سمر قند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان میں امن ہو گا تو اس کے اثرات پاکستان پر مرتب ہوں گے انھوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں۔

    ’پاکستان دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ہر سطح اور ہر طرح کے تعاون کے لیے تیار ہے۔‘

  7. سپریم کورٹ میں شہباز گل پر تشدد کے خلاف درخواست کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    Shahbaz Gill

    ،تصویر کا ذریعہYoutube

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی رہنما شہباز گل پر تشدد اور جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی ہے۔

    جمعہ کو سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الااحسن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے وفاقی اور تفتیشی افسران کو نوٹسز جاری کر دیے اور عدالت نے اس مقدمے کے تفتیشی افسران کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔

    سماعت کے دوران بینچ کے رکن جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے درخواست گزار شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر سے استفسار کیا کہ ان کا کیس کیا ہے؟

    بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ شہباز گل نے کہا کیا تھا؟ بینچ کے ایک اور رکن جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ جو ملزم زیر حراست ہوتا ہے کیا اس کا ریمانڈ لینا ضروری نہیں ہوتا؟

    جسٹس مظاہر نقوی نے سوال کیا کہ اس مقدمے میں ملزم سے کیا چیز ریکور کرنا تھی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا کہنا تھا کہ کیا پولیس نے شہباز گل سے زبان ریکور کرنا تھی جس سے وہ بولا تھا؟

    انھوں نے کہا کہ شہباز گل سے جو ریکوری کی گئی اس کا کیس سے کوئی تعلق ہی نہیں۔

    سماعت کے دوران جسٹس مظاہر نقوی کا کہنا تھا کہ تشدد کے خلاف شہباز گل کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنا ہو گا۔ انھوں نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے تشدد کے خلاف متعلقہ فورم سے رجوع کیا؟

    انھوں نے کہا کہ شہباز گل کو متعلقہ فورم پر درخواست دائر کرنے سے کس نے روکا ہے؟

    بینچ کے رکن جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا سابق حکمراں جماعت پی ٹی آئی حکومت میں کسی پر پولیس نے تشدد نہیں کیا؟

    جس پر درخواست گزار کے وکیلسلمان صفدر کا کہنا تھا کہ پولیس تشدد کے واقعات کم ہی سامنے آتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملکی تاریخ کا سب سے متنازع ریمانڈ شہباز گل کا دیا گیا۔

    SC

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سماعت کے دوران جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ ان کے موکل کے خلاف مقدمہ کیوں درج کیا گیا جس ہر سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ شہباز گل ننے ایک بیان دیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیے کہ شہباز گل نے بیان نہیں دیا تھا بلکہ ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیا تھا۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ متعقلہ عدالت نے شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ کیوں دیا تھا۔

    وکیل سلمان صفدر نے اس سوال کے جواب میں جج سے سوال کیا کہ وہ ہی بتا دیں کہ متعقلہ جج نے شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ کیوں دیا تھا؟

    اس سوال پر جسٹس مظاہر نقوی نے وکیل سلمان صفدر کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کیا جج سے ایسے بات کی جاتی ہے۔

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا کہنا تھا کہ مجسٹریٹ قیدی کے حقوق کا ضامن ہوتا ہے آپ کو اتنا بھی علم نہیں۔

    انھوں نے سوال کیا کہ کیا ضابطہ فوجداری کا اطلاق سپریم کورٹ پر ہوتا ہے؟ جس پر شہباز گل کے وکیل نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ پر ضابطہ فوجداری کا اطلاق ہوتا ہے۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے شہباز گل کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا وکیل صاحب، سپریم کورٹ پر ضابطہ فوجداری کا اطلاق نہیں ہوتا۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ کو جسمانی ریمانڈ دینے کے طریقہ کار اور مقصد کا ہی نہیں پتہ۔ انھوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ درخواست گزار کے وکیل تیاری کر کے نہیں آئے۔

    عدالت نے اس درخواست کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

  8. وزیر اعظم شہباز شریف کو چینی و روسی صدور کی جانب سے دوروں کی دعوت

    Shahbaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو سمرقند میں جاری شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے دوران روسی و چینی صدور کی جانب سے اپنے ممالک کے دوروں کی دعوت دی گئی ہے جوانھوں نے قبول کر لی ہے۔

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس بات کا اعلان ایک ٹویٹ کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’سمرقند میں روسی صدر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ نہایت کامیاب مذاکرات ہوئے ہیں اور دونوں صدور نے شہباز شریف کو سرکاری طور اپنے ممالک کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے۔

    وزیر اعظم نے اس دعوت کو قبول کر لیا ہے، اور وہ نومبر میں چین کا دورہ کریں گے۔ ‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. بریکنگ, سپریم کورٹ میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دینے کے خلاف کیس سماعت کے لیے مقرر

    Ishaq Dar

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دینے کے خلاف کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔

    اس مقدمے کی سماعت سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ 21 ستمبر کو کرے گا۔

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی دو رکنی بینچ کا حصہ ہوں گے، اس سلسلے میں فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔

    اسحاق ڈار نے اشتہاری قرار دینے اور اثاثے منجمد کرنے کے خلاف درخواست دائر کر رکھی ہے۔

    اس کے علاوہ سپریم کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما خسرو بختیار اور ہاشم جواں بخت کی نااہلی کا مقدمے بھی سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ 21 ستمبر کو اس مقدمے کی سماعت کرے گا۔ جسٹس مظاہر اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک اس بینچ کا حصہ ہیں۔

  10. بریکنگ, اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل کی ضمانت منظور کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا

    Shahbaz Gill

    ،تصویر کا ذریعہFacebook

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کے اداروں کو بغاوت پر اکسانے کے الزام کے مقدمے میں ضمانت کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے جاری کیے گئے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ

    عدالت کے سامنے ایسا کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکا کہ شہباز گل کی درخواست ضمانت مسترد کی جائے۔ شہباز گل کی پانچ لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں پر ضمانت منظور کی جاتی ہے۔

    عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولیس کوئی شواہد نہیں دے سکی کہ شہباز گل نے بیان سے پہلے یا بعد میں کسی افسر یا سپاہی سے رابطہ کیا۔ شہباز گل سے تفتیش مکمل ہو چکی مزید جیل میں نہیں رکھا جا سکتا۔ شہباز گل کو مزید جیل میں رکھنا بےسود بلکہ ٹرائل سے پہلے سزا دینے کے مترادف ہو گا۔

    عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ہر سماعت پر عدالت حاضری یقینی بنانے کے لیے ٹرائل کورٹ شہباز گل کو پابند کر سکتی ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج نے 30 اگست کو شہباز گل کی درخواست ضمانت مسترد کی، ضمانت مسترد ہونے کے فیصلے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا، شہباز گل کو تھانہ کوہسار میں نو اگست کو درج کیے گئے مقدمہ میں اسی روز گرفتار کیا گیا۔

    فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ شہباز گل کے خلاف ایف آئی آر میں بغاوت سمیت دیگر دفعات شامل کی گئیں، نجی چینل اے آر وائی نیوز پر بیان دینے پر ان کے خلاف فوجداری مقدمے کا اندراج کیا گیا۔

    ISB HC

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے وکیل سلمان صفدر کے مطابق بغاوت پر اکسانے کا جرم نہیں بنتا، وکیل نے کہا کہ مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا جو بدنیتی پر مبنی ہے۔

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وکیل نے بتایا کہ ٹرائل کورٹ بھی مطمئن ہے کہ پاکستان پینل کوڈ دفعہ 131 کے علاوہ کوئی جرم نہیں بنتا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پراسیکیوٹر نے دلائل دیے کہ تقریر بغاوت کے مقدمے کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے، پراسیکیوٹر کے مطابق شہباز گل نے مسلح افواج کے ممبرز کو افسران کے آرڈرز نہ ماننے کا کہا۔ پراسیکیوٹر کے مطابق اس بیان سے شہباز گل بغاوت پر اکسانے کے سنگین جرم کے مرتکب ہوئے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پراسیکیوٹر نہیں بتا سکے کہ شہباز گل نے جرم کی معاونت کے لیے مسلح افواج کے کسی افسر سے رابطہ کیا۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کے ترجمان سے اس قسم کے لاپرواہ بیان کی توقع نہیں کیا جا سکتی، پراسیکیوشن ایسی کوئی چیز بھی ریکارڈ پر نہیں لائی کہ مسلح افواج کی جانب سے شکایت درج کرائی گئی ہو۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مسلح افواج کا ڈسپلن اتنا کمزور نہیں کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ بیان سے اسے نقصان پہنچے۔

  11. 'چیف جسٹس نے زیر سماعت مقدمات پر تبصرہ کیا جو کہ نہایت پریشان کن تھا': عدالت عظمیٰ کے دو ججز کا مراسلہ

    سپریم کورٹ کے دو ججزجسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود کی جانب سے چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی 12 ستمبر کی تقریر کو پریشان کن کہا گیا ہے۔

    سپریم کورٹ کے دونوں ججز کی جانب سے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ 'اس خطاب نے ہمیں ششدر اور نہایت مایوس کیا ہے۔'

    خیال رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے تین روز قبل نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ سے خطاب کیا تھا اور کہا تھا کہ بعض فیصلوں پر سیاسی جماعتوں کے سخت ردعمل کے باوجود ان کی عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔

    چیف جسٹس نے یہ بھی کہا تھا کہ سپریم کورٹ میں تعیناتی کے لیے پانچ اہل اور قابل ججوں کو نامزد کیا گیا تھا لیکن وفاقی حکومت نے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ سے متعلق عدالتی فیصلے کا ردعمل جوڈیشل کمیشن میں دیا۔ ’کیا یہ ردعمل عدلیہ کی آزادی کے زمرے میں آتا ہے؟‘

    بدھ کو بھجوایا گیا یہ مراسلہ چیف جسٹس اور جوڈیشل کمیشن کے اراکین کے نام ہے میں کہا گیا ہے کہ نئے عدالتی سال کی افتتاحی تقریب میں چیف جسٹس نے ترجیحات کا تعین اور انھیں اگلے سال کے لیے واضح کرنے کے علاوہ اور بھی بہت کچھ کہا ہے۔

    مدکورہ ججز کا کہنا ہے کہ `چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا دفاع کیا، اس کے فیصلوں پر کی جانے والی تنقید کا جواب دیا اور سپریم کو رٹ کی جانب سے یکطرفہ طور پر بات کی۔‘

    تاہم مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ تنہا چیف جسٹس پر مشتمل نہیں بلکہ سپریم کورٹ میں تمام جج شامل ہیں۔

    'چیف جسٹس نے زیر سماعت مقدمات پر تبصرہ کیا جو کہ نہایت پریشان کن تھا'۔

    مراسلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور اس کے موجودہ اور سابقہ عہدیداروں کے بارے میں غیر ضروری اور توہین آمیز باتیں کی ہیں۔

    یہ بھی کہا گیا ہی کہ سب سے زیادہ نامناسب اور غیر معقول امر جوڈیشل کمشن آف پاکستان کے کام اور فیصلوں کا ذکر تھا۔

    اس مراسلے میں جوڈیشل کمیشن کی 28 جولائی کے اجلاس کے بارے میں بھی بات کی گئی اور کہا گیا ہے کہ چیئرمین کے تجویز کردہ ناموں کو منظورنہیں کیا گیا۔

    چیف جسٹس نے جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ نہ مان کر اس کی تحقیر کی ہے۔

  12. بریکنگ, پیمرا نے آے آر وائی اور بول نیوز کی نشریات تین دن کے لیے معطل کر دیں

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان میں میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا نے آے آر وائی اور بول نیوز کی نشریات تین دن کے لیے معطل کر دی ہیں۔

    پیمرا کے مطابق اس اقدام کی وجہ چینلز کی جانب سے تاخیری نظام کے تحت نشریات نہ چلانا ہے۔

    پیمرا کے مطابق تمام چینلز کو عوامی تقریبات کی براہ راست نشریات سے منع کیا گیا تھا۔

    پیمرا کے نوٹیفیکیشن کے مطابق دونوں چینلز نے مسلسل پیمرا قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور اس لیے انھیں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری گیا تاہم ان چینلز کے چیف ایگزیکٹو ذاتی طور پر طلب کیے جانے کے باوجود اتھارٹی کے سامنے پیش ہونے سے قاصر رہے اور صرف تحریری جواب جمع کروایا۔

  13. بریکنگ, جلدی سے جلدی الیکشن کروایا جائے اور ملک کو دلدل سے نکالا جائے: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا کہ ’ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلمنٹ بینک سے آئی ایم ایف کی ڈیل کے بعد آٹھ ارب ڈالر قرض آئے گا اور 30 ارب ڈالر ہم نے پہلے سے سود دینا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے بڑی مشکل سے معیشت کو سنبھالا ہوا ہے۔ ‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’مارچ میں ہمارا رسک اسسٹمنٹ 4 فیصد تھا یعینی چار فیصد لوگ سمجھتے تھے کہ ہم قرضے واپس نہیں کر سکتے ، عدم اعتماد کے بعد چار دنوں میں یہ تعداد نو فیصد ہو گئی، اب یہ تعداد 22.5 ہو گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے بینک ہمیں پیسے دیتے ہوئے ڈریں گے۔ ‘

    عمرانخان نے زور دے کر کہا کہ ’جلدی سے جلدی شفاف الیکشن کرواؤ۔ میرا اس میں زیادہ فائدہ نہیں۔ مجھے تو فکر نہیں مہنگائی کی وجہ سے میرا تو گراف اوپر جا رہا ہے لیکن ملک کا گراف نیچے جا رہا ہے۔‘

    ’جلدی سے جلدی الیکشن کروایا جائے اور ملک کو جلدی سے جلدی اس دلدل سے نکالا جائے۔

    عمران خآن کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنے ملک کو انتشار سے بچانا ہے۔ جتنی یہ دیر کرتے جائیں گے بحران بڑھتا جائے گا۔ مجھے ڈر ہے یہ ہر ایک کے ہاتھ سے نہ نکل جائے۔ ‘

    انھوں نے کہا کہ ’میڈیا ہاؤسز کے پیچھے پڑنے سے ملک نہیں سدھرنے لگا۔ کوئی نہیں روک سکتا ملک میں انشتار کو اگر اسی طرح یہ چلتے رہے۔‘

    تقریر کے آخر میں انھوں نے حکومت کو عوامی احتجاج سے متعلق خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’جس طرح دیوار سے لگایا جا رہا ہے زیادہ دیر ہمارا صبر نہیں رہے گا۔ ہمیں ایک کال دینی پڑے گی عوام کو۔‘

  14. بریکنگ, صرف پانچ ماہ میں یہ سب ہوا، قیمتیں کہاں سے کہاں چلی گئیں: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہImran khan/Facebook

    عمران خان کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ ’یہ جو سب کچھ ہمارے پہ ڈال رہے ہیں لیکن میں آپ کو تفصیل بتاتا ہوں۔‘

    انھوں نے اپنے دور حکومت کے آغاز اور خاتمے کے بعد کا تقابل پیش کیا۔

    انھوں نے بتایا کہ ’ہماری حکومت آئی تو ہمیں بجٹ خسارہ 20 ارب ملا، انھیں 16 ارب ملا۔ ‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ریزرو 9.8 ارب ڈالر پہ چھوڑ کر گئے، جب عدم اعتماد کے بعد ہم نے چھوڑا تو 16.2 ارب ڈالر کے ریزرو تھے۔ آج بھی آئی ایم ایف ڈیل کے بعد 8.8 ارب ڈالر ہیں۔‘

    انھوں نے کہا ’ملکی معشیت کو دو چیزوں سے سہارا ملتا ہے ایک ایکسپورٹ اور دوسرا غیر ملکی ریمیٹنس۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا ’ہماری حکومت آنے کے بعد اوورسیز ریمیٹنس 19 سے 31 ارب ڈالر پر گئیں، ایکسپورٹ 24 سے بڑھ کر 32 ارب ڈالر پر لے کر گئے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم زیادہ ریزرو لے کر گئے اور خسارہ کم کیا۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے جانے بعد مہنگائی پہلے سے کئی گناہ بڑھ گئی۔

    انھوں نے کہا ’ ڈالر 178 سے 236 پہ چلا گیا۔ بجلی 16 روپے یونٹ تھی آج بجلی 36 روپے یونٹ ہے اور اس پر ٹیکس لگنے کے بعد یہ دگنے سے بھی زیادہ آ رہے ہیں جبکہ بجلی غائب ہو گئی ہے۔ 146 ڈیزل تھا اب 248 پر چلا گیا ہے۔ ‘

    انھوں نے کہا ’صرف پانچ میں یہ سب ہوا۔ قیمتیں کہاں سے کہاں چلی گئیں۔ چاول 100 سے 225‘ دالیں 225 سے 360، گھی 560 ہو گیا۔‘

  15. بریکنگ, پاکستان کی تاریخ میں اتنی مقبولیت کسی جماعت کو نہیں ملی جتنی آج تحریک انصاف کو ملی : عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا خطاب میں کہنا تھا کہ انتخابات میں تاخیر سے صرف نقصان ہوگا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ آج تک پاکستان کی تاریخ میں اتنی مقبولیت کسی جماعت کو نہیں ملی جتنی آج تحریک انصاف کو ملی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’سب کو سمجھ آ گئی ہے کہ یہ سب تحریک انصاف کی مقبولیت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ‘

    انھوں نے حکومتی جماعت پر الزام عائد کیا ’انھیں صرف نیب کے کیسز حتم کرنے کے سوا کوئی کوئی کام نہیں۔ نہ انھیں معیشت سنوارنے کا حل ہے ان کے پاس۔‘

  16. بریکنگ, نامناسب الفاظ تھے مگر دہشت گردی کی دفعہ تو نہیں بنتی: چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ

    عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے ان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات کے اخراج کے لیے دائر درخواست کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوئی۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے پولیس پراسکیوٹر سوال کیا کہ عمران خان کے خلاف تقریر کرنے پر دہشتگردی کا مقدمہ کیسے بنتا ہے؟

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان پر میبنہ طور پر اپنی تقریر میں ججوں کو دھمکانے کے الزام میں دائر مقدمے میں دہشت گردی کی دفاعت شامل کی گئی تھیں۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ ’دہشتگردی کے مقدمات کی تعریف سپریم کورٹ کرچکی ہے، دہشتگردی کی دفعات ایسے نہ لگائیں کہ اس کا اثر ہی ختم ہو جائے۔‘

    اس پر پولیس پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ’عمران خان نے کہا جج زیبا چودھری ہم آپ کو بھی دیکھ لیں گے، عمران خان کی تقریر اشتعال انگیز، دہشتگردی کی دفعہ 6 پر پورا اترتی ہے۔‘

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’عمران خان کی تقریر کے متن کے مطابق اس پر دہشتگردی تو نہیں لگتی، کیا آئی جی اتنے کمزور ہیں کہ تقریر سے دہشت پھیل گئی۔‘

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان نے تقریر کے بعد حملہ کیا؟

    اس پر پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ ’اگر دھمکانے والا سابق وزیر اعظم ہو تو فرق تو پڑتا ہے۔‘

    اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’انسدادِ دہشت گردی کا قانون ایک خاص قانون ہے جو اصل دہشتگرد پر لگتا ہے۔ ہماری جو جج صاحبہ ہیں، ہم یہاں ان کی حفاظت کے لیے موجود ہیں‘۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’دہشتگردی کی دفعہ کو اتنے چھوٹے لیول پر نہ لائیں، اور کوئی دفعات بنتی ہیں تو لگائیں۔ اپنی جج کے تحفظ کے لیے ہم یہاں موجود ہیں۔ اس معاملے پر باقاعدہ توہین عدالت کی کارروائی چل رہی ہے، دہشت گردی کے جرم کو اتنے چھوٹے لیول پر مت لائیں۔‘

    اس پر سپیشل پراسیکیوٹرنے کہا کہ ’جے آئی ٹی کی میٹنگ ہونی ہے، اس میں وہ طے کریں گے۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہم نے آرڈر کیا تھا کہ آج عدالت کو بتائیں۔‘

    سپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے جواب دیا کہ ’ملزم ہی تاخیر سے شامل تفتیش ہوا۔‘

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’کوئی آئی جی اتنا کمزور نہیں ہونا چاہیے کہ تقریر سے ڈر جائے یا گھبرا جائے، بہت غلط تقریر اور نامناسب الفاظ تھے مگر دہشت گردی کی دفعہ تو نہیں بنتی‘۔

    عمران خان کی جانب سے ان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات کے اخراج کے لیے دائر درخواست کی سماعت سماعت 19 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

  17. بریکنگ, ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کے خلاف درخواستوں پر سماعت 20 ستمبر تک ملتوی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کے خلاف مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی درخواستوں پر سماعت 20 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔

    جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں مقدمے کی سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن کیانی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔

    مقدمے کی سماعت کے دوران مریم نواز کے وکیل امجد پرویز کے دلائل پر بینچ میں موجود جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ہماس معاملے کو کیلبری فونٹ کے معاملے سے دیکھیں گے۔

    مریم نواز کے وکیلکا کہنا تھا کہ ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط کرنے والے کسی شخص نے دستخط نہ کرنے کا نہیں کہا۔

    جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے امجد پرویز ایڈووکیٹ سے استفسار کیا کہ آپ تو اس دستاویز کو تسلیم کرتے ہیں۔ مریم نواز کے وکیل کا کہنا تھا کہ پانچ جنوری سنہ 2017 کا خط ہے جس میں سولیسٹر نے حسین نواز کے دستخط کی گواہی دی۔

    اس پر جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ اس دستاویز اور اس کے متن کو تسلیم کرتے ہیں؟ جس پر مریم نواز کے وکیل کا کہنا تھا کہ جی بالکل، ہم اس دستاویز کو مکمل تسلیم کرتے ہیں۔

    جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ پراسیکیوشن کا اس متعلق کیا کہنا ہے؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ پراسیکیوشن کہتی ہے کہ اس ٹرسٹ ڈیڈ پر درج تاریخ غلط ہے اس کے علاوہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس تاریخ پر کیلبری فونٹ دستیاب ہی نہیں تھا۔

    امجد پرویز ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ رابرٹ ریڈلے نے خود کہا وہ اپریل 2005 میں خود یہ فونٹ استعمال کر چکے ہیں جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ پھر تو یہ کیس ختم ہی ہو گیا ہے۔

    مریم نواز کے وکیل کا کہنا تھا کہ ریڈلے جرح میں مانا کہ وہ کمپیوٹر ایکسپرٹ ہی نہیں ہے اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اگر وہ ایکسپرٹ نہیں تو پھر اس کے شواہد ہی ختم ہو جاتے ہیں۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے سوال کیا کہ ٹرسٹ ڈیڈ درست ہے تو اس کا اثر کیا پڑتا ہے ؟ جس پر امجد پرویز نے جواب دیا کہ کوئی اثر نہیں پڑتا اس کا کوئی بھی فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ پراپرٹی اسی فیملی کی تھی اسی میں رہنی تھی ابھی تک اسی کو بھگت رہے ہیں، امجد پرویز کا کہنا تھا کہ مریم نواز نہ کبھی وہاں رہیں نہ ہی کبھی انھیں کوئی کرایہ آیا لیکن پراسیکیوشن مریم نواز کو بینیفشل مالک کہہ رہی ہے

    وکیل نے کہا کہ کیپٹن صفدر، مریم نواز کو ایک سال سزا نیب کو جواب نہ دینے پر بھی ہوئی، تفتیشی نے اپنی رپورٹ میں نہیں کہا تھا عدم تعاون کاجرم ہوا۔

    ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کے خلاف اپیلوں میں مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے اپنے دلائل مکمل کر لیے ہیں۔

  18. ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کے خلاف مریم نواز کی درخواست کی سماعت, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    Maryam nawaz

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی طرف سے ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ کر ر ہا ہے۔

    اس بینچ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی شامل ہیں۔

    مقدمے کی سماعت میں مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے عدالتی معاونت کے لیے پیپر بکس تیار کی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں نیب کے شواہد میں واحد چیز رابرٹ ریڈلے کی رپورٹ تھی۔

    وکیل امجد پرویز کا کہنا تھا کہ انھوں نے رابرٹ ریڈلے سے متعلق ہی دو صفحات تیار کیے ہیں۔

    عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ ٹرسٹ آف پراسیکیوشن کے شواہد کیا ہے؟ جس پر وکیل امجد پرویز کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے ٹرسٹ ڈیڈ کے جعلی دستاویزاتکے بارے میں ایک لائن لکھی۔

    انھوں نے کہا کہ کہا گیا کہ جس دن یہ دستاویزات پر دستخط ہوئے اس دن کیلبری فونٹ نہیں تھا اور ایک ایکسپرٹ کی رائے کو اس کیس میں بنیادی شواہد کے طور پر لیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ ایکسپرٹ کی رائے کبھی بھی بنیادی شہادت نہیں ہوتیاور محض ایک ایکسپرٹ کی رائے پر سزا سنا دینا ان کی نظر میں قانون کے مطابق نہیں ہے۔

  19. بریکنگ, اسلام آباد ہائی کورٹ کا بغاوت کے مقدمہ میں شہباز گل کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

    Shahbaz Gill

    ،تصویر کا ذریعہFacebook

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے سابق چیف آف سٹاف شہباز گل کو اداروں کو بغاوت پر اکسانےکے مقدمے میں ضمانت پر رہا کرنے اور پانچ لاکھ کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا ہے۔

    جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے انھیں ضمانت پر رہا کرنے اور پانچ لاکھ کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

    چیف جسٹس نے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ہماری مسلح افواج اتنی کمزور نہیں کہ کسی کے غیر ذمہ دارانہ بیان سے ان پر اثر ہو، لیکن شہباز گل کے غیر ذمہ دارانہ بیان کو کسی طور بھی جسٹیفائی نہیں کیا جا سکتا۔

    اس سے قبل سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پراسیکوٹرسے استفسار کیا کہ شہباز گِل کی ضمانت کی درخواست مسترد کیوں کی جانی چاہیے؟

    انھوں نے کہا کہ اس عدالت کا ضمانت کے معاملے پر ایک بڑا متواتر موقف رہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ حتمی طور پر بری ہونے پر زیرحراست گزارے وقت کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔

    اس پر پراسیکوٹر کا کہنا تھا کہ شہباز گل کا ٹریک ریکارڈ دیکھیں وہ ایسی حرکت دوبارہ کر سکتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر وہ دوبارہ ایسی حرکت کریں تو ٹرائل کورٹ کو درخواست دی جا سکتی ہے۔

    سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ مسلح افواج کے کسی بندے سے شہباز گل نے رابطہ کیا؟ عدالت نے سوال کیا کہ تفتیش میں بتائیں یہ بات سامنے آئی یا نہیں آئی؟

    پراسیکوٹر نے اعتراف کیا کہ تفتیش میں شہباز گل کا کسی آرمڈ فورسز کے بندے سے رابطہ سامنے نہیں آیا۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر ایسا ہے تو پھر تو یہ مزید انکوائری کا کیس ہے۔ جب تک ٹھوس مواد نہ ہو کسی کو ضمانت سے محروم نہیں کرنا چاہیے، کل کو وہی شخص بے قصور نکلا تو اس کا کوئی ازالہ نہیں ہو سکتا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کارروائی ضرور کریں لیکن ٹھوس مواد تو سامنے لائیں۔ آپ بتائیں کیوں کس بنیاد پر یہ عدالت انہیں ضمانت نہ دیں۔اگر ہم سوشل میڈیا پر جاتے ہیں تو آدھا پاکستان جیل کے اندر ہو گا۔

  20. کیا سیاسی جماعتوں کو مسلح افواج کو سیاست میں دھکیلنا چاہیے؟ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    Shahbaz Gill

    ،تصویر کا ذریعہyoutube

    پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے سابق چیف آف سٹاف شہباز گل کے خلاف اداروں کو بغاوت پر اُکسانے کے مقدمے میں ضمانت کی درخواست کی سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہو رہی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ مقدمے کی سماعت کر رہے ہیں۔ عدالت نے اس ضمن میں پراسیکوٹر کو نوٹس جاری کر رکھا ہے اور انھیں دلائل دینے کی ہدایت کی ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے ایڈشنل سیشن جج نے شہباز گل کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی اور اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ ملزم کے خلاف اس مقدمے میں ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے دوران حراست شہباز گل پر جنسی تشدد کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں اداروں کو بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں شہباز گل کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران ملزم شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ بدنیتی کی بنیاد پر سیاسی بنیادوں پر یہ کیس بنایا گیا، انھوں نے کہاُکہ اس کیس میں تفتیش مکمل ہو چکی ہے پورا کیس ایک تقریر کے اردگرد گھومتا ہے۔

    چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‏کیا آئین کے مطابق فوج کو سیاست میں ملوث کیا جا سکتا ہے؟

    سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ شہباز گل کے خلاف مقدمہ کے اندراج میں بہت سارے سقم موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شہباز گل کی ایک درخواست ضمانت ٹرائل کورٹ سے خارج کردی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے بغیر اتھارٹی کے مقدمے کے اندراج غیر قانونی ہے۔

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ درخواست گزار سابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی رہے ہیں اور درخواست گزار یونیورسٹی پروفیسر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پی ٹی آئی ترجمان رہے ہیں۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے شہباز گل کے وکیل کو کہا کہ آپ قانونی نکات پر دلائل دیں۔

    چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیس پر آ جائیں اور پہلے ایف آئی آر پڑھ لیں، عدالت کے حکم پر شہباز گل کے وکیل نے ایف آئی آر پڑھی۔

    چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا کیا ایف آئی آر میں لکھی ہوئی باتیں شہباز گل نے کہیں تھیں ؟

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا آپ آرمڈ فورسز کو سیاست میں ملوث کرنے کے بیان کو جسٹیفائی کر سکتے ہیں؟ جس پر سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ شہباز گل کے بیان سے اتنا انتشار نہیں پھیلا جتنا درخواست گزار کے ریپریزنٹیشن سے انتشار پھیلا۔

    چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ بتائیں کیا یہ ساری باتیں شہباز گِل نے کہی تھیں؟

    ISB HC

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا ان تمام باتوں کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے؟

    انھوں نے کہا کہ کیا سیاسی جماعت کے ایک ترجمان کے ان الفاظ کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے؟

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا سیاسی جماعتوں کو آرمڈ فورسز کو سیاست میں دھکیلنا چاہیے؟ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ صرف تقریر نہیں ہے، درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ شہباز گل کی گفتگو کا کچھ حصہ نکال کر سیاق و سباق سے الگ کر دیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ شہباز گل نے کہیں بھی فوج کی تضحیک کرنے کی کوشش نہیں کی۔

    ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ شہباز گل نے اپنی گفتگو میں مسلم لیگ ن کی سینیئر قیادت کے نام لیے۔ انھوں نے کہا کہ مقدمہ میں بدنیتی سے اور منصوبے کے تحت یہ تمام باتیں نکال دی گئیں۔

    سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ شہباز گل نے اپنی گفتگو میں نو جگہوں پر ن لیگ کی لیڈرشپ کا نام لیا۔ انھوں نے کہا کہ کیوں گفتگو کے اس حصے کو نکال دیا گیا ؟ اصل میں یہ بدنیتی پر مبنی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ شہباز گل کی گفتگو میں آرمڈ فورسز کو کہیں پر بھی بے توقیری نہیں کی گئی ہے۔عدالت کے حکم پر درخواست گزار کے وکیل نے اپنے موکل شہباز گل کے انٹرویو کا سکرپٹ پڑھ کر سنایا۔

    سکرپٹ سننے کے بعد چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ تو صرف تقریر نہیں ہے، جس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ انتشار درخواست گزار کے تقریر سے نہیں پھیلا جتنا شکایت کنندہ کے بیان سے پھیلا۔

    انھوں نے کہا کہ پوری تقریر میں کہیں پر بھی مسلح افواج پر تنقید یا انتشار نہیں پھیلایا گیا۔ ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ پورے سکرپٹ میں مریم صفدر، خواجہ آصف، جاوید لطیف کیپٹن صفدر و دیگر کا نام لیا گیا۔

    شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ شہباز گل کی ساری گفتگو سٹریٹیجک میڈیا سیل سے متعلق تھی، جس پر چیف جسٹس کے ریمارکس دیے کہ سیاسی جماعتوں نے نفرت کو کس حد تک بڑھا دیا، اس تقریر کو دیکھ لیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ یہ گفتگو بتاتی ہے کہ نفرت کو کس حد تک بڑھا دیا گیا ہے۔

    ملزم کے وکیل کاکہنا تھا کہ مسلح افواج کی طرف سے مقدمہ درج کرانے کا اختیار کسی اور کے پاس نہیں ہے۔

    شہباز گل کے وکیل کا کہنا تھا کہ مدعی اس کیس میں متاثرہ فریق نہیں ہے،انھوں نے ایمان مزاری کے مقدمے کا حوالہ دیا اور کہا کہ عدالت نے اس مقدمے کو بھی ختم کر دیا تھا اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وہ اپنے مقدمے کی بات کریں۔