آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے قبل از وقت اعلان کی مخالفت کرنی چاہیے: خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے قبل از وقت اعلان کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کسی ’نئی ریت کی مخالفت کرنی چاہیے۔‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ہمیں یہ تعیناتی سیاسی حالات کی غیر یقینی کے تابع نہیں کرنی چاہیے۔‘

لائیو کوریج

  1. ’اپنی قوم سے خوف کے اس بُت کو پاش پاش کرنے کا کہا‘

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’میرے حقیقی آزادی جلسے میں شرکت کے لیے ریکارڈ تعداد میں نکلنے پر اہلِ چکوال آپ کا شکریہ!‘

    ’میں نے اپنی قوم سے خوف کے اس بُت کو پاش پاش کرنے کا کہا ہے جس کے ذریعے مجرموں (60 فیصد کابینہ اراکین ضمانت پر ہیں) کی یہ امپورٹڈ سرکار ہمیں غلام بنانے کے خواب دیکھتی ہے۔ ہماری قوم تیار ہے۔‘

  2. عمران خان: دھمکیاں دینے والوں کو واپس دھمکیاں دیں

    عمران خان نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ ’خوف کے بت‘ کو توڑ دیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ گمنام نمبرز سے دھمکیوں والے فون آئیں تو اُنھیں واپس دھمکیاں دیں۔

    ’جو ڈراتا ہے اسے واپس ڈراؤ۔ جو مسٹر ایکس اور مسٹر وائے لوگوں کو دھمکیاں دیتے ہیں، واپس دھمکیاں دو ان کو۔ یہ ہوتے کون ہیں آپ کو ڈرانے والے، آپ ہیں اس ملک کی قوم اور عوام۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ملک کی قیادت عوام کا فیصلہ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ خفیہ نمبروں سے ڈرانا دھمکانا کہ جی ہم یہ کر دیں گے، وہ کر دیں گے، جو کرنا ہے کرو ہم بھی کریں گے۔‘

  3. عمران خان: جنھیں میرٹ کا مطلب نہیں پتا وہ آرمی چیف کیسے میرٹ پر مقرر کریں گے؟

    چکوال میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے ایک پرانے بیان کا حوالہ دیا جس میں اُنھوں نے آرمی چیف کی تقرری پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ڈی ایم کے رہنما میرٹ پر آرمی چیف مقرر نہیں کریں گے۔

    اُنھوں نے کہا کہ ’میں نے کہا تھا کہ نواز شریف اور زرداری میرٹ پر تقرر نہیں کر سکتے کیونکہ انھیں میرٹ کا مطلب ہی نہیں پتا۔‘

    انھوں آصف علی زرداری اور نواز شریف پر کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کیا یہ پاکستان کا آرمی چیف سلیکٹ کریں گے؟

    اس موقع پر اُنھوں نے فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے بیان کا مطلب سمجھ تو لیتے۔

    واضح رہے کہ جب عمران خان نے آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے بیان دیا تھا تو اس پر فوج کی جانب سے سخت ردِ عمل آیا تھا۔

    عمران خان نے کہا کہ فوج کو ان کے بیان پر ردِ عمل دینے سے قبل سمجھ لینا چاہیے تھا کہ وہ درحقیقت کہنا کیا چاہتے ہیں۔

  4. سابق چیف جج گلگت بلتستان کا معافی نامہ: عدالت یہ یقین دہانی کرے گی کہ نیا بیان حلفی رضاکارانہ طور پر دیا گیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جج گلگت بلتستان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا ہے کہ عدالت یہ یقین دہانی کرے گی کہ نیا بیان حلفی رضاکارانہ طور پر دیا گیا ہے۔ عدالت نے رانا شمیم کے نئے بیان حلفی پر اٹارنی جنرل کو 29 ستمبر کو معاونت کے لیے طلب کر لیا ہے۔

    پیر کو رانا شمیم اپنے وکیل لطیف آفریدی کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے تو عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ اب نئے معافی نامے کے بعد کارروائی کیسے آگے بڑھائی جائے؟

    لطیف آفریدی نے کہا کہ نیا بیان حلفی تو آج سب اخبارات میں بھی چھپ چکا ہے۔ عدالت نے ان سے کہا کہ ایک بات واضح کر دیں رانا شمیم یہ نیا بیان حلفی رضاکارانہ طور پر دے رہے ہیں، اس عدالت کا کبھی بھی کوئی دباؤ نہیں تھا کہ آپ منحرف ہوں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اُن کے لندن والے بیان حلفی پر گواہان کو سننے کے لیے تیار تھے۔

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ رانا شمیم نے جو نیا بیان حلفی دیا اس کے بھی سنگین نتائج ہو سکتے ہیں، ہم لیکن اس معاملے میں نہیں جا رہے۔

    توہین عدالت کی حد تک انھوں نے بیان حلفی واپس لے لیا ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب کہاں ہیں، ہم ان کو سن کر فیصلہ کریں گے، ان سے یہ بھی پوچھیں گے کہ کیا اخبارات کی بھی کوئی ذمہ داری ہے؟

    اٹارنی جنرل کو سننے کے لیے ایک سماعت اور رکھ لیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئندہ سماعت پر رانا شمیم کو آنے کی ضرورت نہیں، ہم صرف اٹارنی جنرل کی کچھ نکات پر معاونت لیں گے۔

  5. بریکنگ, عمران خان کے خلاف مقدمے سے دہشتگردی کی دفعہ نکالنے کا حکم

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران کے خلاف انسداد دہشتگردی کے مقدمے سے دہشتگردی کی دفعہ نکالنے کا حکم دیا ہے۔

    ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری اور پولیس افسران کو دھمکی دینے کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی اخراج کی درخواست پر سماعت کے دوران مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں کہا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف دھمکی آمیز تقریر پر دہشت گردی کا مقدمہ بنتا ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے خلاف دہشت گردی کی دفعہ ختم کرنے کا حکم دے دیا جبکہ دیگر دفعات کے تحت مقدمہ چلے گا۔

    عمران خاں کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 20 ستمبر تک عبوری ضمانت منظور کر رکھی ہے۔

    تاہم عدالت نے اپنے تحریری حکم میں عمران خان کے خلاف دیگر دفعات پر درج مقدمے کو کسی متعلقہ عدالت منتقل کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

  6. ممنوعہ فنڈنگ کیس: تحریک انصاف کا عبوری جواب، جامع جواب کے لیے مزید مہلت کی استدعا

    ممنوعہ فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی کے وکیل نے عبوری جواب جمع کروا دیا ہے۔ تحریک انصاف کے وکیل کی جامع جواب جمع کروانے کے لیے اٹھ ہفتوں کا وقت دینے کی استدعا کی ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے تحریک انصاف کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت چھ نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

  7. بریکنگ, عمران خان کی دہشت گردی کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی انسداد دہشتگردی کے مقدمے کے اخراج سے متعلق درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں خاتون جج اور پولیس حکام کو دھمکیاں دینے پر دہشت گردی کی دفعہ نہیں لگتی۔

    عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اخراج مقدمہ کی درخواست دائر ہونے تک مقدمہ میں دہشتگردی کے علاوہ مزید دفعات شامل نہیں تھیں۔ مران خان کی دہشت گردی کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر دیا ہے۔

    پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ عمران خان کے خلاف مقدمہ سے سیکشن 186 نکال دی گئی ہے جبکہ پولیس ملازم کو زخمی کرنے کی دھمکی کی دفعہ 189 شامل کر دی گئی ہے۔ عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ان دفعات میں سے کوئی ایک بھی اس مقدمہ میں نہیں بنتی۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان نے جو کہا انہیں نہیں کہنا چاہیے تھا، وہ افسوس کا اظہار کر چکے۔

    عمران خان کی دہشت گردی کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر دیا ہے۔

  8. بریکنگ, توشہ خانہ ریفرنس: الیکشن کمیشن نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا

    الیکشن کمیشن نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف سپیکر قومی اسمبلی کے توشہ خانہ ریفرنس پر فریقین کے وکلا کے دلائل سن کر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

  9. توشہ خانہ ریفرنس: 'اگر چار ماہ بعد ٹھوس معلومات ملیں تو کیا کوئی کارروائی نہیں ہوسکتی'؟

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس پر سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے عمران خان کے وکیل علی ظفر سے پوچھا کہ اگر چار ماہ بعد ٹھوس معلومات ملیں تو کیا کوئی کارروائی نہیں ہوسکتی؟ اس استفسار پر علی ظفر نے کہا کہ کارروائی ہوسکتی ہے لیکن الیکشن کمیشن نہیں کر سکتا۔

    عمران خان کے وکیل نے کہا کہ کمیشن کو کسی ممبر کی چھپائی گئی جائیداد کا علم ہو تو سیشن جج کو کیس بھیج سکتا ہے۔

    ممبر کے پی اکرام اللہ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کی سیکشن 173 کے تحت ریکارڈ ہو تو ٹرائل کی ضرورت نہیں۔

    علی ظفر نے کہا کہ مالی سال کے اختتام پر جو اثاثے ہوں وہ ظاہر کرنا ضروری ہیں۔

    ممبر کے پی اکرام اللہ نے کہا کہ کیا فروخت شدہ اثاثوں کی رقم ظاہر کرنا لازمی نہیں ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ فروخت شدہ تحائف کی رقم عمران خان کے اثاثوں میں ظاہر شدہ ہے۔

  10. عمران خان کے خلاف دھمکی آمیز تقریر پر دہشتگردی کا مقدمہ بنتا ہے: مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رائے

    ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری اور پولیس افسران کو دھمکی دینے کے معاملے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی اخراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت کے دوران مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف دھمکی آمیز تقریر پر دہشت گردی کا مقدمہ بنتا ہے۔

    اس مقدمے کی سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کر رہا ہے۔ جسٹس ثمن رفعت امتیاز بینچ میں شامل دوسری جج ہیں۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کہ جے آئی ٹی نے اس کیس میں کیا رائے دی ہے؟ سپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ دہشتگردی کا مقدمہ برقرار ہے کیونکہ جے آئی ٹی کی یہی رائے ہے کہ اس کیس میں دہشتگردی کی دفعہ بنتی ہے۔

    عدالت نے پراسیکیوٹر سے کہا کہ کیا سپریم کورٹ کے سات رکنی ممبر بینچ کا فیصلہ آپ نے دیکھا ہے؟ پراسیکیوٹر کی طرف سے جے آئی ٹی کی رائے سامنے آنے کے بعد اس وقت عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کردیا۔

    انھوں نے اپنے دلائل میں کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں عمران خان کے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ نہیں بنتا۔ ان کے مطابق یہ مقدمہ عالمی دنیا میں پاکستان کی کیا تصویر پیش کرے گا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ اس کو چھوڑ دیں، دلائل میں متعلقہ رہیں۔

    وکیل کے مطابق دہشتگردی کا مقدمہ خوف اور دہشت کی فضا پیدا کرنے پر ہی بن سکتا ہے، محض ایسی فضا پیدا ہونے کے امکان پر مقدمہ نہیں بن سکتا۔

    عدالت کا اسپیشل پراسیکیوٹر کو عمران خان کی تقریر کا ٹرانسکرپٹ پڑھنے کی ہدایت کی جس پر اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے ٹرانسکرپٹ پڑھ کر سنایا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پراسیکیوٹر سے کہا کہ دھمکی آمیز جملے کون سے ہیں وہ پڑھیں۔

    وکیل عمران خان سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان نے ایک ریلی میں بات کی جس پر مقدمہ بنا، ان الفاظ پر دہشتگردی کا مقدمہ انسداد دہشتگردی قانون کو مذاق بنانے جیسا ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان کی گفتگو زیرالتواء تفتیش پر اثرانداز انداز ہونے کی کوشش نہیں؟

    عمران خان کے وکیل نے کہا کہ یہ کمپیوٹر ٹائپ درخواست تحمل سے لکھی گئی، جس کے پیچھے کوئی ماسٹر مائنڈ ہے۔

  11. ثابت کروں گا جو تحائف ظاہر کرنا ضروری تھے وہ کیے گئے: عمران خان کے وکیل کے دلائل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    الیکشن کمیشن میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کے دوران اس وقت عمران خان کے وکیل علی ظفر کے دلائل جاری ہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی طرف سے توشہ خانہ سے متعلق بھیجے گئے اس ریفرنس پر چیف الیکشن کمشنر سلطان سکندر راجا کی سربراہی میں الیکشن کمیشن سماعت کر رہا ہے۔

    اپنے دلائل میں عمران خان کے وکیل نے کہا کہ 62 ون ایف کے تحت نا اہلی کا فیصلہ کرنا عدالتوں کا اختیار ہے۔ انھوں نے پوچھا کہ کیا کسی عدالت نے ثابت کیا کہ عمران خان صادق اور امین نہیں۔

    ان کے مطابق الیکشن کمیشن عدالت نہیں بلکہ کمیشن ہے، جب تک ہائی کورٹ کی نگرانی نہ ہو تو کوئی ادارہ عدالت نہیں بن جاتا۔

    انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن خود کو عدالت قرار نہیں دے سکتا۔ علی ظفر نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی آرٹیکل 62 ون ایف کا ریفرنس بھجوا ہی نہیں سکتے۔

    عمران خان کے وکیل نے کہا کہ سپیکر نے قرار دیا ان کے پاس عمران خان کی نااہلی کے لیے ٹھوس مواد موجود ہیں، سپیکر نے ریفرنس میں عمران خان کے 2017 اور 2018 کے گوشواروں کا حوالہ دیا۔

    علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے لیے عدالت کا ڈیکلریشن لازمی ہے جبکہ سپیکر کے پاس فیصلہ کرتے ہوئے کوئی عدالتی ڈیکلریشن موجود نہیں تھا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ سپیکر آرٹیکل 62 ون ایف کا ریفرنس بھیجنے کا اہل ہی نہیں ہے۔

    عمران خان کے وکیل نے کہا کہ یہ ایک سیاسی کیس ہے جس میں مخالف جماعتیں پریس کانفرنسز کر رہی ہیں، ثابت کروں گا جو تحائف ظاہر کرنا ضروری تھے وہ کیے گئے ہیں۔

  12. فیصل واوڈا کیس میں الیکشن کمیشن نے 62 ون ایف کا اطلاق کیا: توشہ خانہ ریفرنس میں ن لیگ کے وکیل کے دلائل مکمل

    سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف سماعت ہو رہی ہے، جہاں پاکستان مسلم لیگ ن کے وکیل خالد اسحاق نے اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے کمیشن سے کہا کہ ذاتی استعمال کی اشیا ظاہر کرنا ارکان اسمبلی کے لیے ضروری ہے۔

    وکیل کے مطابق کیا پچاس لاکھ کی گھڑی ذاتی استعمال کی چیز نہیں ہے؟

    ن لیگ کے وکیل نے کہا کہ اعتراض کیا گیا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کے چار ماہ بعد کسی کو نااہل نہیں کر سکتا۔ سندھ سے ممبر کمیشن نثار درانی نے ریمارکس دیے کہ ممکن ہے اثاثے ظاہر کرنے میں غلطی ہوگئی ہو یا غلطی سے اثاثے ظاہر نہ ہوں تو نااہلی نہیں ہوتی۔

    ن لیگ کے وکیل نے کہا کہ اگر غلطی ہوئی ہے تو تسلیم کریں۔ وکیل کے مطابق ایک اعتراض عمران خان نے 62 ون ایف لگانے کے اختیار پر کیا ہے۔

    انھوں نے اپنے دلائل میں کہا کہ فیصل واووڈا کیس میں کمیشن نے آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق کیا۔ پانامہ نظرثانی کیس میں اعتراض کیا تھا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق ٹرائل کے بغیر نہیں ہوسکتا۔

    عدالت نے کہا نوازشریف نے تنخواہ مقرر ہونے سے انکار نہیں کیا تھا، عدالت نے کہا اگر حقائق متنازع نہ ہوں تو ٹرائل کی ضرورت نہیں۔ عمران خان حلفیہ بیان پر غلط بیانی کے مرتکب ہوئے ہیں۔

  13. پنجاب میں ن لیگی رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج، فواد چوہدری کا فوری گرفتاری پر زور

    پاکستان کے صوبے پنجاب میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نےلاہور میں وفاقی وزرا جاوید لطیف اور وزیراطلاعات مریم اورنگزیب کے خلاف مقدمہ درج کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق مقدمہ مذہبی معاملات پر غلط بیانی کرکے عوام کو اشتعال دلانے کے الزام میں درج کیا گیا۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مقدمہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف مذہبی معاملات پر غلط بیانی کرکے عوام کو اشتعال دلانے کے الزام میں درج کیا گیا۔

    یہ مقدمہ گرین ٹاون لاہور کے تھانہ میں درج کیا گیا وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور پی ٹی وی کے حکام کے خلاف بھی مقدمہ مئں شامل مقدمہ جامعہ مسجد عائشہ صدیقہ باگڑیا ں کے امام و خطیب ارشاد الرحمن کی مدعیت مئں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں انسداد دہشتگردی کی دفعات بھی شامل ہیں۔

    فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ پنجاب حکومت سے کہیں گے وہ ان ملزمان کو گرفتار کرے اور یہ معمول کی ایک ایف آئی آر نہیں ہونی چاہیے۔

  14. عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس پر الیکشن کمیشن میں سماعت شروع, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    الیکشن کمیشن چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کے توشہ خانہ ریفرنس پر سماعت شروع چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن سماعت کررہا ہے۔

    ن لیگی وکیل خالد اسحاق نے پہلے دلائل کا آغاز کیا۔

    انھوں نے کمیشن کو بتایا کہ الیکشن کمیشن میں توشہ خانہ تحائف ظاہر نہ کرنے پر عمران خان نااہلی ریفرنس میں سوال عمران خان کی جانب سے تحائف ظاہر نہ کرنے کا تھا۔

    ان کے مطابق عمران خان نے جواب میں تحائف کا حصول تسلیم کیا ہے۔ عمران خان نے یہ بھی تسلیم کیا کہ تحائف گوشواروں میں ظاہر نہیں کیے۔

    جواب میں کہا گیا کسی نے بھی روزمرہ ضرورت کی چیزیں ظاہر نہیں کیں۔

    عمران خان کے وکیل علی ظفرنے کہا کہ تسبیح اور ٹائی تو میں نے بھی ظاہر نہیں کی ہوئی۔ ن لیگ کے وکیل نے کہا کہ کمیشن میں کیس عمران خان کا ہے کسی اور رکن اسمبلی کا نہیں اور یہ کہ ظاہر نہ کردہ ایک کف لنک کی قیمت 57 لاکھ روپے ہے۔

    وکیل کے مطابق جواب میں دوسری دلیل یہ دی گئی کہ کچھ تحائف مالی سال کے دوران ہی فروخت کر دیے جبکہ عمران خان کے بقول فروخت کیے گئے اثاثے ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں۔

    کمیشن کے خیبر پختونخوا سے ممبر اکرام اللہ نے سوال اٹھایا کہ تحائف خرید کر فروخت کرنے اور ظاہر نہ کرنے کا نتیجہ کیا ہوگا؟

    خالد اسحاق نے کہا کہ عمران خان کے بقول ایف بی آر گوشواروں میں فروخت شدہ تحائف کی آمدن ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن اور ایف بی آر کے گوشوارے الگ الگ ہیں۔ عمران خان کے بقول الیکشن کمیشن مقدمہ سننے کا مجاز ہی نہیں ہے۔

    ن لیگ کے وکیل نے کہا کہ ننکانہ صاحب کی نشست پر ضمنی انتخابات کے دوران بھی توشہ خانہ تحائف کا اعتراض اٹھا تو ریٹرننگ افسر کو جواب میں عمران خان نے کہا الیکشن کمیشن مجاز فورم ہے۔

  15. ’ایک سزا یافتہ مجرم کا فوج کا سربراہ مقرر کرنے کا فیصلہ فوج کے وقار اور احترام کے منافی ہے‘ فواد چوہدری

    پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ نون لیگ کے وزرا یہ کہ رہے ہیں کہ لندن میں نئے آرمی چیف کی تقرری کے ضمن میں شہباز شریف اور نواز شریف کی ملاقات ہوئی ہے اور نواز شریف نئے آرمی چیف کا فیصلہ کریں گے، ایسی فیصلہ سازی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی شدید خلاف ورزی ہے اور شہباز شریف اپنے حلف سے روگردانی کے مرتکب ہیں۔

    انھوں نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ پاکستان کے عوام پاک فوج کو اپنے دل کے قریب رکھتے ہیں ’ایک سزا یافتہ مجرم کا اس ادارے کا سربراہ مقرر کرنے کا فیصلہ فوج کے وقار اور احترام کے منافی ہے‘ اور تحریک انصاف اس سنگین قانونی خلاف ورزی پر شدید احتجاج کرتی ہے۔

  16. اسلام آباد ہائی کورٹ: ممبر الیکشن کمیشن سندھ نثار درانی کی تعیناتی کے خلاف فواد چوہدری کی درخواست مسترد

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ممبر الیکشن کمیشن سندھ نثار درانی کی تعیناتی کے خلاف فواد چوہدری کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ ممبر نے نثار درانی کی تعیناتی کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔

    یاد رہے پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے ممبر الیکشن کمیشن سندھ کی تعیناتی چیلنج کر رکھا تھا۔

    دورانِ سماعت کیا ہوا؟

    فواد چوہدری کے وکیل نے دلائل دیے کہ نثار درانی کی تعیناتی آرٹیکل 216 کی خلاف ورزی ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ آئینی تقرری ہے، ممبر کو کیسے ہٹایا جاسکتا بے؟

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اس عدالت نے آئین کو دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ وہ کسی معاملے میں غیر ضروری مداخلت نہیں کریں گے جس سے آئینی عہدے کے لحاظ سے تنازعہ کھڑا ہو۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ آئین کی شق دوبارہ پڑھ لیں یہ بہت کلئیر ہے۔

    انھوں نے مزید ریمارکس دیے کہ آئین فورم بھی مہیا کر رہا ہے اور طریقہ کار بھی بتا رہا ہے۔

    فواد چوہدری کے وکیل کا کہنا ہے کہ اس تعیناتی میں کچھ فرق ہے یہ وہاں اپلائی ہو گا جہاں مس کنڈکٹ آئے۔

    عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ یہ کب ممبر تعینات ہوئے ؟

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ یہ تقریری آئینی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہوئی اسی طرح ہی ہٹایا جا سکتا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فواد چوہدری کی پارٹی بھی اس وقت تعیناتی میں شامل تھی۔

    انھوں نے مزید ریمارکس دیے کہ اس عدالت پر آئین پر عمل درآمد لازم ہے، اس وقت پارلیمانی کمیٹی نے یہ تعیناتی کی تھی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کردی ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سندھ سے ممبر الیکشن کمشن نثاردرانی کی تعیناتی کے خلاف اپنی درخواست مسترد کیے جانے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’الیکشن کمیشن کے ممبر کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست کئی ماہ سے زیر التوا ہے، جوڈیشل کونسل کے اجلاس نہیں ہو رہے اور عدالت فرماتی ہے کہ ہم الیکشن کمیشن کے ممبر کے خلاف کیس نہیں سن سکتے تو سوال یہ ہے ’کسی کا حق چھینا نہیں جا سکتا‘ والا اصول کہاں گیا؟‘

  17. شہباز شریف کل لندن سے امریکہ روانہ ہوں گے

    وزیرِ اعظم اقوامِ متحدہ اجلاس میں شرکت کے لیے کل امریکہ روانہ ہوں گے وزیرِ اعظم شہباز شریف اس وقت لندن میں موجود ہیں اور کل ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات میں شرکت کرنے کے بعد وہ امریکہ جائیں گے جہاں وہ جنرل اسمبلی کے 77 ویں اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    یہ اجلاس 19 سے 23 ستمبر تک منعقد ہو گا۔

    دفترِ خارجہ کے مطابق اس موقع پر پاکستان کو درپیش موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز اور سیلابی صورتحال پر توجہ دی جائے گی جبکہ وہ جموں و کشمیر تنازعے پر بھی پاکستان کا مؤقف دنیا کے سامنے رکھیں گے۔

    اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور امریکہ کے صدر کے دیے گئے استقبالیوں میں شرکت کریں گے تاہم یہ واضح نہیں کہ ان کی امریکی صدر سے کوئی باضابطہ ملاقات ہو گی یا نہیں۔

    اس دورے میں وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔

  18. سٹیٹ بینک کے پاس موجود سعودی رقم مزید ایک برس تک رہے گی

    سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ سٹیٹ بینک میں رکھے ہوئے تین ارب ڈالر مزید ایک سال اس کے پاس رکھے گا۔

    بینک کے مطابق یہ رقم پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کا حصہ ہے اور سٹیٹ بینک کے پاس موجود ہے۔

    بینک کا کہنا ہے کہ مدت میں ایک سال کی توسیع پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجود مضبوط اور خصوصی تعلق کی عکاس ہے۔

  19. شہباز شریف کی لندن میں نواز شریف سے ملاقات

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے لندن میں مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف سے ملاقات کی ہے۔

    مسلم لیگ (ن) کے مطابق اس ملاقات میں ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    واضح رہے کہ شہباز شریف ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے لندن میں ہیں جس کے بعد وہ اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جائیں گے۔

    شہباز شریف کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں خواجہ محمد آصف، طارق فاطمی، مریم اورنگزیب اور احد چیمہ نے بھی نواز شریف سے ملاقات کی۔

    اس ملاقات میں سینیٹر اسحاق ڈار، حسن نواز شریف اور سلیمان شہباز شریف بھی موجود تھے۔

  20. حکومت نے عوام کو مایوسی کے سوا پانچ ماہ میں کچھ نہیں دیا ہے: رہنما تحریک انصاف