توہین عدالت کیس: فوجداری توہین پر صرف نظر نہیں کر سکتے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد ہائی کورٹ میں خاتون جج کو دھمکی دینے پر توہین عدالت کیس کی سماعت کا آغاز ہوا تو بنچ کے سربراہ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عمران خان کے وکیل حامد خان کو دلائل دینے کی دعوت دی۔
حامد خان نے موقف اختیار کیا کہ عمران خان کے نئے جواب کی روشنی میں توہین عدالت کا مقدمہ بند کر دیا جائے۔
حامد خان نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے سپریم کورٹ کے توہین عدالت کیسز کا جائزہ لینے کا حکم دیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ طلال چوہدری اور دانیال عزیز کیسز عمران خان کیس سے بہت مختلف ہیں۔
حامد خان نے کہا کہ ہم اس معاملے کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔
چیف جسٹس نے حامد خان کو دلائل سے روک کر کہا کہ یہ کریمینل توہین ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ توہین عدالت تین طرح کی ہوتی ہے۔ دانیال عزیز اور طلال چودھری کے خلاف کریمنل توہین عدالت کی کارروائی نہیں تھی، ان کے خلاف عدالت کو سکینڈلائز کرنے کا معاملہ تھا۔
چیف جستس نے ریمارکس دیے کہ عمران خان کی کریمنل توہین ہے۔ آپ کا جواب پڑھ لیا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے ہم پر بائنڈنگ ہیں۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ فوجداری توہین پر صرف نظر نہیں کر سکتے، فوجداری توہین بڑی سنگین ہوتی ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ماتحت عدلیہ کا وقار ضروری ہے، مجروح کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
انھوں نے ریمارکس دیے کہ کریمنل توہین بہت حساس معاملہ ہوتا ہے، اس میں آپ کوئی توجیہ پیش نہیں کرسکتے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ ہم اظہار رائےکی آزادی کے محافظ ہیں لیکن اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

