بریکنگ, لاپتہ افراد کیس: وزیراعظم شہبام شریف کی ہائی کورٹ آمد, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف لاپتہ افراد کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے ہیں۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے سماعت کے موقع پر کہا کہ بہت مہینوں سے لاپتہ افراد کے کیسز عدالت میں زیر سماعت ہیں، اس اہم مسئلے پر ریاست کا وہ رویہ نظر نہیں آتا جو نظر آنا چاہیے۔
انھوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ لگتا ہے کہ لوگوں کو لاپتہ کرنا ریاست کی غیر اعلانیہ پالیسی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ `اس عدالت نے آپ کو تکلیف اسی لیے دی کیوں کہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ آپ منتخب وزیر اعظم ہیں، آپ پہلی بار اس عدالت آئے، سٹیٹ کے اندر سٹیٹ نہیں ہوسکتی، اس عدالت نے اس معاملے کو کئی بار وفاقی کابینہ کو بھیجا، عدالت نے آپ کو معاملہ بھیجا آپ نے کمیٹی بنائی۔
تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ وزیر اعظم صاحب یہ معاملہ کمیٹی کا نہیں ہے۔
عدالت نے وزیراعظم سے کہا کہ آئین اور قانون کے مطابق تمام ذمہ داری چیف ایگزیکٹو پر آتی ہے، آپ کا لاپتہ افراد کیسز میں کمیٹی بنانا خوش آئند ہے۔ لاپتہ افراد کمیشن میں لواحقین کی تکالیف مزید بڑھائی گئی۔
چیف جسٹس نے وزیراعظم کو مخاطب ہو کر کہا `یا تو آپ کو کہنا پڑے گا کہ آئین اپنی حالت میں بحال نہیں، اگر یہ بات ہے کہ تو پھر اس عدالت کو کسی اور کو بلانا پڑے گا، اس عدالت کو اچھا نہیں لگتا کہ منتخب وزیراعظم کو بلائے، آپ سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد بحالی سے متعلق کاموں میں مصروف ہوں گے۔`


