ملک
میں تباہ کُن بارشوں اور سیلاب کے باعث فصلوں کی تباہی اور راستوں کی بندش کی وجہ سے
سبزیوں اور پھلوں کی قیمت میں سو سے دو سو فیصد اضافہ ہو گیا۔
ڈیمانڈ
اور سپلائی کے فرق کی وجہ سے قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے تاہم اس
کے ساتھ ریٹیلرز کی جانب سے ناجائز منافع خوری بھی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنی۔
کراچی
، لاہور اور کوئٹہ سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق اس وقت صارفین مہنگی سبزیاں خریدنے
پر مجبور ہیں اور اس وقت کوئی سبزی دو سو روپے فی کلو سے کم نہیں مل رہی ۔
کچھ
ہفتے پہلے 60 سے 80 روپے والا پیاز 200 سے
300 روپےفی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ جبکہ ٹماٹر 240، پالک 300، توری 300، ٹینڈے/بھنڈی
350، لوکی/ کدو/ بینگن/کریلا 200 روپےفی کلو مل رہے ہیں۔
کراچی
سبزی منڈی میں ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین زاہد اعوان نے اس سلسلے میں بی بی سی
کو بتایا سبزی اور فروٹ کی قیمت میں بڑے اضافے کی اصل وجہ تو سیلاب کی وجہ سے فصلوں
کی تباہی ہے ۔
جن
علاقوں میں سبزیاں اور فصلیں بچ بھی گئیں وہاں سے ان کی ترسیل میں اس وقت بڑی مشکلات
حائل ہیں۔
انھوں
نے بتایا کہ سبزیوں اور فروٹ کی قیمت میں کم از کم اضافہ سو فیصد ہے۔ انھوں نے کہا
ریٹیلرز کی جانب سے بھی ناجائز منافع کمایا جا رہا ہے تاہم بلیک مارکیٹ کا کام سبزی
اور فروٹ میں بہت کم ہو سکتا ہے۔ آلو اور سیب کے علاوہ، سبزی اور فروٹ کو زیادہ عرصہ
گوداموں میں نہیں رکھا جا سکتا۔
لاہور
میں مقیم صحافی محمد مظہر اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ لاہور میں بھی اس وقت قیمتوں
میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔
انھوں نے لاہور میں سبزی کی سپلائی جنوبی پنجاب اور
سندھ سے ہوتی ہے اور وہاں سیلاب کی وجہ سے سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے۔ اسی طرح پھل
سوات اور کوئٹہ کے راستے آتا ہے جو اس وقت سیلاب کی زد میں ہیں
کوئٹہ میں سبزی و پھل کے بیوپاری سلمان نے شہر میں سبزی اور پھل کی قیمت میں
اضافے کے بارے بتاتے ہوئے کہا کہ قیمتوں میں پچاس فیصد سے زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔