پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کے لیے ملنے والی امداد کی
ایک ایک پائی میں شفافیت کا خیال رکھا جائے گا۔
وہ اسلام آباد میں بین الاقوامی
میڈیا کے صحافیوں سے بات کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جو بھی امداد آئے گی اسے
ضرورت مند افراد تک پہنچایا جائے گا اور وہ شفافیت کو یقینی بنانے کے ذمہ دار
ہوں گے۔
’میں یہ عہد کرنا چاہتا ہوں کہ امداد کے لیے ملنے والی ہر پائی
شفافیت کے ساتھ خرچ کی جائے گی۔ ہر پائی ضرورت مند تک پہنچے گی، کچھ بھی ضائع نہیں
ہو گا۔ نہ کوئی سفارش نہ کوئی سیاسی اثر و رسوخ کام کرے گا۔ یہ میری پاکستان کی
قوم، خدا، ہمارے ڈونرز ار بین الاقوامی کمیونٹی سے کمٹمنٹ ہے۔‘
خیال رہے کہ آج اقوام متحدہ اور پاکستانی حکومت نے ملک میں تباہ کن سیلاب سے
نمٹنے میں مدد کے لیے 16 کروڑ ڈالر کی ہنگامی اپیل کی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر ممالک
جیسا کہ ترکی، متحدہ عرب امارات، کینیڈا، آسٹریلیا اور چین سمیت دیگر ممالک سے
امدادی سامان پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے ملنے والے سولہ کروڑ ڈالرز ملٹی پلائی
ہونے چاہیئں کیونکہ پاکستان کو ایک بہت بڑی آفت اور نقصان کا سامنا ہے۔
ان کے
مطابق پاکستان پہلے ہی معاشی بدحالی کا شکار تھا، یہ بوجھ اب بڑھ گیا ہے۔
انھوں نے
کہا کہ ابھی ہم ریسکیو کے مرحلے میں ہیں جبکہ بحالی کا مرحلہ کئی گنا زیادہ مشکل
ہو گا۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اب پاکستان کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔ ہمیں خوراک کی بعض اشیا کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ جیسا کہ پیاز اور ٹماٹر۔ ان
کی قیمتیں آسمان کو پہنچ چکی ہیں۔
’میں نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے کہ وہ جائزہ لیں
کہ کہاں سے یہ چیزیں درآمد کی جائیں۔ فصلیں تباہ ہو گئی ہیں اور ہمیں اب گندم کی
فصل کا بیچ بونے میں مسئلہ ہو گا کیونکہ زمین نم ہو گئی ہے۔ اب ہمیں گندم بھی
درآمد کرنے پڑے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ ہماری مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ مگر ہم یہ سب
لوگوں کے لیے کریں گے۔‘