سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت شہباز گل کے ساتھ مبینہ تشدد پر اسلام آباد کے آئی جی، ڈی آئی جی اور مجسٹریٹ کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس کرے گی۔
انھوں نے اسلام آباد میں جلسے سے خطاب کے دوران کہا کہ شہباز گل پر اس لیے تشدد کیا گیا تاکہ وہ بتا سکیں ’ہم قانون سے اوپر ہیں۔ لوگوں کو غلام بنانے کے لیے دہشت پھیلائی جا رہی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’شہباز گل پر ظلم اس لیے نہیں ہوا کہ اس نے کیا کہا۔ اس سے زیادہ نواز شریف، مریم نواز، خواجہ آصف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان کہہ چکے ہیں جس سے فوج کے ادارے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔‘
’شہباز گل پر اس لیے پکڑ کر تشدد کیا گیا کہ بتایا جاسکے ہم قانون سے اوپر ہیں، ہم جو چاہے کر سکتے ہیں۔ یہ ڈرانے کی کوشش تھی کہ سب دیکھ کر ڈریں۔ اے آر وائے کو اس لیے بند کیا گیا کہ وہ سچ بتا رہا تھا، عوام کا موقف سامنے لا رہا تھا۔ باقی چینلز کو وارننگ دی گئی۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’چیلنج دیتا ہوں کہ آپ جو مرضی کریں، آپ عوام کے سمندر کو، جو آزادی چاہتا ہے، نہیں روک سکتے۔ شہباز گل کو جس طرح اٹھایا، دو دن تک تشدد کیا گیا۔ ایسے پکڑا جیسے کوئی بہت بڑا غدار پکڑا ہے۔‘
’نیوٹرلز، کیا آپ واقعی نیوٹرل ہیں؟‘
انھوں نے اسلام آباد پولیس کے آئی جی اور ڈی آئی جی کے علاوہ مجسٹریٹ کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اسلام آباد کے آئی جی، ڈی آئی جی اور مجسٹریٹ کو ہم نے نہیں چھوڑنا، ان پر کیس کرنا ہے۔ آپ سب کو شرم آنی چاہیے۔ ہم ان پر کیس کرنے لگے ہیں۔ اگر گل پر کیس ہوسکتا ہے تو ان سب پر ہم کیس کرنے لگے ہیں۔
’قوم قانون کی حکمرانی سے آزاد ہوتی ہے۔ انھوں نے قانون کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔‘
چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ’ہم سپریم کورٹ جا رہے ہیں۔ بڑے ادب سے سپریم کورٹ کو کہتا ہوں کہ ساری قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ آئین و قانون کی حکمرانی آپ کا کام ہے۔ طاقتور نے دکھایا کہ وہ قانون سے اوپر ہے۔‘
’جب اسلام آباد پولیس سے پوچھا تو انھوں نے کہا ہم نے کچھ نہیں کیا، ہمیں پیچھے سے بوٹ لگا تھا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’آج اپنے نیوٹرلز سے سوال کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے یہ بتائیں، کیا واقعی آپ نیوٹرل ہیں؟ آپ نے ہمیں کہا کہ ہم تو نیوٹرل ہیں، باہر کی سازش ہوئی تو ہم پیچھے ہٹ گئے تھے۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’پنجاب میں بھی کہتے ہیں کہ ہمیں تو پیچھے سے حکم آیا تھا۔ اپنے نیوٹرلز کو کہنا چاہتا ہوں کہ یہ ملک کا مسئلہ ہے، پاکستان کا مسئلہ ہے۔ آپ کے لیے بڑا ضروری ہے کہ عوام و انصاف کے کھڑے ہوں، ان چوروں کے ساتھ نہ کھڑے ہوں۔‘
ان کی قیادت میں تحریک انصاف نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں زیرو پوائنٹ سے ایف نائن پارک تک ریلی نکالی۔
اداروں کو بغاوت پر اکسانے کے مقدمے کے ملزم شہباز گل پر مبینہ تشدد کے خلاف اور ان سے اظہار یکجہتی کے لیے ملک کے دیگر شہروں میں بھی پی ٹی آئی کی جانب سے ریلیاں نکالی گئی ہیں۔