آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور شہباز گل کے خلاف مزید دو مقدمات درج

سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کے خلاف مزید دو مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے پی ڈی ایم قیادت کے خلاف مقدمات درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے خاتون جج کے بارے میں ’دھمکی آمیز‘ بیان دینے پر عمران خان کو توہینِ عدالت کے مقدمے میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 اگست کو طلب کر لیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, عمران خان کی نااہلی سے متعلق درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی نااہلی کے لیے دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    گذشتہ روز اسلام آباد کے شہری محمد ساجد کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے انھوں نے الیکشن کمیشن سے معلومات چھپائیں وہ کون سی معلومات ہیں؟

    جس پر درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ عمران خان نے بیٹی ٹائیریان کو کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کیا۔

    عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کے دلائل کے بعد درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    واضع رہے کہ درخواست میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ عمران خان پہلے ٹائیریان سے متعلق تردید کرتے تھے ،عمران خان اب ٹائیریان سے متعلق سوال کا جواب نہیں دیتے، عمران خان جانتے ہیں ان کے خلاف ثبوت موجود ہیں، عمران خان پبلک آفس یا پارٹی سربراہ کا عہدہ نہیں رکھ سکتے۔

    عمران خان سے پوچھا جائے ان پر آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق کیوں نہ ہو؟‘

  2. بریکنگ, عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست، اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعتراضات لگا دیے, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر اعتراضات لگا دیے ہیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس کی طرف سے عمران کی ضمانت کی درخواست پر اعتراضات لگائے ہیں کہ ’عمران خان کی بائیو میٹرک تصدیق نہیں کی گئی ہے۔‘

    رجسٹرار آفس نے یہ بھی اعتراض لگایا کہ ’انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہونے کی بجائے اسلام آباد ہائی کورٹ سے کیسے رجوع کر لیا گیا۔‘

    واضح رہے کہ پیر کی صبح سابق وزیر اعظم عمران خان نے دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمے میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پی ٹی آئی کے وکلا بابر اعوان اور فیصل چوہدری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی تھی۔

    پی ٹی آئی کے وکلا بابر اعوان اور فیصل چوہدری کے ذریعے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت جب کہے مقدمے میں شامل تفتیش ہونے کو تیار ہوں، ماضی میں کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں نہ ہی کبھی سزا ہوئی، فرار ہونے یا پراسیکوشن کے شواہد خراب کرنے کا امکان تک نہیں، ضمانتی مچلکے جمع کرانے کو تیار ہوں، ضمانت منظور کی جائے۔

    ادھر اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے درخواست میں عمران خان کا بائیومیٹرک نہ ہونے کا اعتراض عائد کر دیا ہے اور بتایا گیا کہ عمران خان انسداد دہشتگردی کی عدالت جانے کی بجائے ہائیکورٹ کیسے آگئے اور دہشتگردی مقدمہ کی مصدقہ نقل بھی فراہم نہیں کی گئی۔

    یاد رہے کہ اتوار کو پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں مجسٹریٹ علی جاوید کی مدعیت میں انسدادِ دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

  3. پنجاب اسمبلی ہنگامہ آرائی کیس: مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی حفاظتی ضمانت منظور

    پنجاب اسمبلی ہنگامہ آرائی کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہاکستان مسلم لیگ ن کے 13 رہنماؤں کی 14 دن کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس، جسٹس عامر فاروق نے لیگی رہنماؤں کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔

    عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد پنجاب اسمبلی ہنگامہ آرائی کیس میں عطا تارڑ، رانا مشہود، سیف الملک کھوکھر اور اویس لغاری سمیت 13 لیگی رہنماؤں کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی 14 روزہ حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں 25، 25 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

    یاد رہے کہ دو روز قبل 13 لیگی رہنماؤں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

  4. بریکنگ, عمران خان نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کر دی, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمے میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کر دی ہے۔

    یہ درخواست پی ٹی آئی کے وکلا بابر اعوان اور فیصل چوہدری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی۔

    اس سے قبل پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری نے تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی جائے گی۔

    یاد رہے کہ اتوار کو پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں مجسٹریٹ علی جاوید کی مدعیت میں انسدادِ دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

  5. بریکنگ, شہباز گل کو ساڑھے 12 بجے اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کرنے کا حکم

    اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے الزام میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے آج ساڑھے 12 بجے تک عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    پیر کو اسلام آباد کی مقامی عدالت کے ڈیوٹی جج جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان نے شہبازگل کے ریمانڈ سے متعلق مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے انھیں ساڑھے 12 بجے عدالت مںی پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کی سماعت میں پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ پر فیصلہ کیا جائے گا۔

    سماعت کے آغاز میں شہباز گل کے وکیل فیصل چوھدری اور بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے۔ فیصل چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ وہ شہباز گل کے وکیل کے طور پر پیش ہوئے ہیں۔

    فیصل چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ آج شہباز گل کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت کیس میں پیش کرنا ہے، اگر ایک بجے تک کیس کی سماعت کریں ہم ہائیکورٹ سے ہو کر آ جائیں گے۔

    جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ ’ریمانڈ کو ایک بجے تک نہیں لٹکا سکتے تھوڑا انتظار کر لیں۔‘

    جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’سپیشل پراسیکیوٹر اگر آجاتے ان کو بھی آگاہ کر دیتے ہیں۔‘

    اس پر شہباز گل کے وکیل نے کہا کہ ’ہم ساڑھے 9 بجے تک انتظار کر لیتے ہیں۔‘

    جج نے شہباز گل کے وکیل سے کہا کہ ’آپ ابھی پتہ کر لیں کس وقت شہباز گل کو لے کر آئیں گے۔‘

  6. پی ٹی آئی رہنماؤں کی بنی گالہ آمد جاری

    پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے ٹویٹر پر پیغام میں کہا ہے کہ عمران خان بنی گالہ میں موجود ہیں۔

    ’پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی بنی گالہ آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ فواد چوہدری اور مراد سعید کے علاوہ پرویز خٹک بھی بنی گالہ پہنچ گئے ہیں۔

  7. بنی گالہ کے بعد لاہور میں پی ٹی آئی کے کارکنان لبرٹی چوک پر جمع

    پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے کارکنان کو گھروں سے نکلنے کی کال دی گئی جس کے بعد بنی گالہ کے علاوہ لاہور میں بھی پی ٹی آئی کے کارکنان باہر نکلے اور لبرٹی چوک پہنچے۔

  8. بریکنگ, عمران خان کی گرفتاری کے لیے نہ تو پولیس بنی گالہ گئی ہے اور نہ ابھی ایسا کوئی حکم ملا ہے: پولیس

    سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تھانہ مارگلہ میں اتوار کو مقدمہ درج کیا گیا تاہم متعلقہ تھانے کے مطابق عمران خان کی گرفتاری کے لیے نہ تو پولیس ان کی رہائش گاہ گئی ہے نہ ہی اس کا کوئی حکمنامہ ملا ہے۔

    یاد رہے کہ عمران خان کے خلاف مقدمہ سیون اے ٹی اے کے تحت تھانہ مارگلہ میں درج کیا گیا ہے اور یہ ناقابلِ ضمانت ہے۔

    تھانے کے ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ `عمران خان کی گرفتاری کے لیے نہ تو پولیس فورس بنی گالہ گئی ہے اور نہ ہی ہمیں ابھی ایسا کوئی حکم ملا ہے اگر حکم ملا تو اس پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے۔‘

    پولیس کا کہنا ہے کہ بنی گالہ میں معمول کی سکیورٹی کے لیے نفری پہلے سے ہی موجود ہے اور جو خبریں چلائی جا رہی ہیں وہ میڈیا کی اپنی اڑائی ہوئی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ان خبروں کو سن کر ہی بہت سے پی ٹی آئی کارکنان بنی گالہ پہنچ رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے کارکنان کو بنی گالہ پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے اور اس وقت چند کارکنان بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ کی جانب جانے والے راستے پر بنی پولیس کی چوکی کے گرد موجود ہیں۔

    پولیس کی جانب سے قائم اس چوکی پر سکیورٹی پہلے ہی سخت تھی اور غیر متعلقہ افراد کو یہ گزرگاہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

    اس سے قبل اسلام آباد پولیس کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ عمران خان کی سکیورٹی واپس نہیں لی گئی تھی تاہم پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ ان کی سکیورٹی واپس لے لی گئی تھی۔

  9. پی ٹی آئی نے کارکنان کو بنی گالہ پہنچنے کی ہدایت کر دی

    پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے کارکنان کو عمران خان کی بنی گالہ میں موجود رہائش گاہ کے باہر پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔

    فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر یہ پیغام ایک ایسے وقت جاری کیا ہے جب اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں عمران خان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کا مقدمہ درج ہوا ہے۔

    اسلام آباد میں یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ ممکنہ طور پر عمران خان کو گرفتار کیا جا سکتا ہے تاہم پولیس نے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی۔

    دوسری جانب بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ کو جانے والے راستے کو عام افراد کے لیے پولیس نے بند کر رکھا ہے تاہم وہاں سے موصول ہونے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کے کچھ کارکنان وہاں پولیس کی چوکی پر موجود ہیں۔

  10. سندھ میں بارشیں اور سیلابی صورتحال: صوبائی حکومت کا 23 اضلاع کو ’آفت زدہ‘ قرار دینے کا فیصلہ

    پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت کی جانب سے حالیہ بارشوں کے بارشوں کے باعث پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کے باعث صوبے کے 23 اضلاع کو آفت زدہ قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ان اضلاع میں حیدرآباد، نواب شاہ، ٹھٹھہ، بدین، دادو، جامشورو اور ٹنڈوالہیار سمیت دیگر اضلاع شامل ہیں۔

  11. بریکنگ, نہیں چاہتا تھا کہ امریکہ افغانستان میں ہمارے ملک کے اوپر سے کوئی کارروائی کرے: عمران خان کا دعویٰ

    پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کا راولپنڈی میں لیاقت باغ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ جب تک میں اپنی قوم کو حقیقی آزادی نہیں دلواؤں گا تب تک میں سڑکوں پر ہوں گا۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان کی رجیم چینج کیوں کی گئی، کیونکہ وہ امریکہ کی نوکری نہیں کرنا چاہتا تھا، اور اب پی ٹی آئی کو کرش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نہیں چاہتا تھا کہ امریکہ افغانستان میں ہمارے اوپر سے کوئی کارروائی کرے تو میں نہیں چاہتا تھا کہ ہمارا ملک ملوث ہو اس میں۔ میں ایسی خارجہ پالیسی چاہتا تھا جس میں میرے لوگوں کا فائدہ ہو۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہاں تھوڑے صاحبِ اقتدار بیٹھے ہوئے تھے، جنھوں نے تھوڑے سے ڈالرز کے لیے ملک کو وہ نقصان پہنچایا جس سے ابھی بھی ملک نہیں نکل سکا۔‘

    عمران خان نے اپنی تقریر کے دوران اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں بتایا۔

    انھوں نے کہا کہ ’جب عام سفید پوش لوگوں کے پاس بجلی کے بل آئے تو انھیں سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ بل کہاں سے دیں۔

    ’ان کے پاس حل یہ ہے کہ آرمی چیف کبھی سعودی عرب، متحدہ ارب عمارات اور امریکہ کو فون کر رہا ہے کہ قرضے دے دو۔ ملک کو دلدل سے نکالنے کا ایک ہی طریقہ ہے وہ ہے، صاف اور شفاف الیکشن۔‘

  12. بریکنگ, پولیس اور الیکشن کمیشن سے پتا چلتا ہے کہ ہم کچھ نہیں کر رہے ہم پر نیوٹرلز کا پریشر ہے: عمران خان کا دعویٰ

    پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا ہے کہ ’جب 25 مئی کو ہم پر تشدد کیا گیا تو پولیس کی طرف سے ہمیں بتایا گیا کہ یہ پیچھے سے ہمیں حکم تھا، یعنی نیوٹرلز کا دباؤ تھا کہ ان کو پھینٹا لگاؤ۔‘

    عمران خان نے لیاقت باغ میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا جینا مرنا یہاں ہے، میں کہیں باہر نہیں بھاگوں گا۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’چیف الیکشن کمشنر ہر فیصلہ ہمارے خلاف دے رہا ہے، اندر سے پیغام آتا ہے کہ وہ تو کچھ نہیں کر رہا، پیچھے سے پریشر ہے بوٹ کا۔‘

    عمران خان نے اس حوالے سے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ابھی یہ جو پولیس والا ہوا شہباز گل سے، ہم نے پولیس سے پوچھا کہ تشدد ہوا تو انھوں نے کہا پیچھے سے ہوا ہے کچھ۔ جو بھی اس ملک میں غلط ہوتا ہے آپ کا نام لگ جاتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں یہ سوال پوچھتا ہوں کہ کون کس کو بدنام کر رہا ہے، میرے گھر کوئی ملنے آتا ہے تو ان کو ایجنسیوں کا فون آتا ہے کہ آپ کیوں ملنے گئے تھے۔

    ’میرے گھر کوئی آئے تو اس کے جوتے اتارے جاتے ہیں اور پولیس بتاتی ہے کہ نیوٹرلز کا پریشر ہے ہم پر۔ میں آج پوچھتا ہوں، کیا آپ نیوٹرل ہیں یا نہیں ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگر نہیں ہیں تو کیوں اس ملک کو اتنا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ میں آج سب کچھ اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ مجھے پتا ہے کہ کیا منصوبہ بن رہا ہے۔

    ’جو مسٹر وائے آیا ہے وہ مجھے پتا ہے کیا پلان بنا کر آیا ہے، میڈیا کو دباؤ، شہباز گل کو اٹھاؤ، عمران خان کو جیل میں ڈالو۔ عمران خان کو جیل سے فرق نہیں پڑے گا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جو بھی آپ کریں گے، آپ قوم کو نقصان پہنچائیں گے، اس پارٹی کو کمزور کرنے کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔

    ’اگر آپ ہمیں دیوار سے لگائیں گے، تو یہاں سری لنکا والا حال ہو جائے گا۔‘

  13. بریکنگ, اسلام آباد میں عمران خان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف مجسٹریٹ علی جاوید کی مدعیت میں انسدادِ دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق یہ مقدمہ 7اے ٹی اے کے تحت درج کیا گیا ہے جو ناقابلِ ضمانت ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق مجسٹریٹ علی جاوید نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گذشتہ روز عمران خان کی ریلی میں چند پولیس اہلکاروں کے ہمراہ موجود تھے جب عمران خان نے پولیس کے اعلیٰ افسران اور ایک ایڈیشنل سیشن جج صاحبہ کو ڈرانا، دھمکانا شروع کر دیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق ’عمران خان کا مقصد پولیس اور عدلیہ میں دہشت پیدا کرنا تھا تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کر سکیں۔

    ’عمران خان کی جانب سے اس انداز اور ڈیزائن میں کی گئی تقریر سے عوام میں خوف و حراس پھیل گیا ہے اور عوام الناس میں بدامنی، بے چینی اور دہشت پھیلی ہے۔ اس لیے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔‘

  14. این اے 245 کے ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کی واضح برتری: ابتدائی غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج

    کراچی کے حلقے این اے 245 کے ضمنی الیکشن میں 263 میں سے 100 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے امیدوار محمود مولوی 10471 ووٹوں کے ساتھ آگے ہیں۔

    جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کے معید انور 3875 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر ہیں اور ٹی ایل پی کے محمد احمد رضا کو 3058 ووٹ ملے ہیں۔

    آزاد حیثیت سے کھڑے فاروق ستار 1117 ووٹوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں۔ اب تک 10.94 فیصد ٹرن آؤن ریکارڈ کیا گیا ہے۔

  15. عمران خان سے پولیس سکیورٹی تاحال واپس نہیں لی: اسلام آباد پولیس

    اسلام آباد کیپیٹل پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے عمران خان سے پولیس سکیورٹی تاحال واپس نہیں لی ہے۔

    ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد پولیس سکیورٹی واپس لینے سے متعلق جھوٹے پروپیگنڈے کی مذمت کرتی ہے۔ ’چند افراد کی طرف سے ایک جھوٹی مہم جاری ہے۔ عوام سے گزارش ہے کہ کسی بھی خبر کو بغیر تصدیق کے شئیر نہ کریں۔ اسلام آباد کیپیٹل پولیس اپنے فرائض منصبی نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دے رہی ہے۔‘

  16. عمران خان کے خلاف ایڈیشنل سیشن جج، اسلام آباد پولیس کو دھمکیاں دینے کے الزام میں اندراج مقدمہ کی درخواست

    وفاقی دارالحکومت ‏اسلام آباد میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری، آئی جی اور ڈی آئی جی پولیس کو دھمکیاں دینے کے الزام میں اندراج مقدمہ کی درخواست تھانہ رمنا میں جمع کرائی گئی ہے۔

    ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ضیا الرحمان گوندل کی جانب سے دائر کردہ اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف ’فوج، عدلیہ اور اسلام آباد پولیس کے افسران کے خلاف نفرت انگیز تقریر کے ذریعے عوام کو بغاوت پر اُکسا‘ رہے ہیں اور ’اداروں کی ساکھ متاثر کر‘ رہے ہیں۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ ان کا مقصد پبلک پریشر کے ذریعے اپنی پارٹی کے حق میں فیصلے کروانا ہے۔ ’معزز جج صاحبان کو دھمکی دی گئی جو توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ جج کو دھمکی دینا یا کام سے روکنے کی کوشش دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے۔‘

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ملزم کو گرفتار کیا جائے اور سزا دلوائی جائے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ روز اپنی تقریر کے دوران عمران خان نے ان اہلکاروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا تھا۔

  17. بریکنگ, کراچی این اے 245: ضمنی الیکشن میں پولنگ کا وقت ختم اور ووٹوں کی گنتی جاری

  18. پیپلز پارٹی کا عمران خان کو حراست میں لینے کا مطالبہ

    پاکستان پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو حراست میں لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    سیکرٹری جنرل پیپلز سید نیر بخاری نے عمران خان کی تقریر کے ردعمل میں کہا ہے کہ فارن فنڈنگ سے ملک میں انتشار پھیلانے کے خدشے پر عمران خان کو فوری حراست میں لیا جائے۔ ’قومی سلامتی کے ریاستی اداروں کی تضحیک کرنے والا مودی یار تو ہو سکتا ہے حب الوطن نہیں ہو سکتا۔‘

    انھوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’معززخاتون جج کے خلاف نفرت انگیر الفاظ توہین عدالت کے زمرے میں آتے ہیں اور معزز خاتون جج کو دھمکی دینا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے اور نفرت انگیز دھمکی دینا لوگوں کو اکسانا دہشت گردی مقدمہ لاگو ہوتا ہے۔‘

    ’اسلام آباد ہائی کورٹ خاتون جج کو دھمکیاں دینے پرعمران خان کے خلاف نوٹس دے، قانونی کی حکمرانی عمل میں لائی جائے۔‘

    نیر بخاری نے مزید کہا ہے کہ ملک دشمن شہریوں کے فنڈز پر پارٹی چلانے والے کا مکروہ چہرہ اور گھناؤنا کردار کھل کر سامنے آگیا ہے۔

    ان کے مطابق ’افواج پاکستان کو تقسیم اور بغاوت پر اکسانے کے مجرم سے سڑکوں پر اظہار یکجہتی خطرناک ایجنڈہ ہے۔ غیور پاکستانی ملک دشمن عوام دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔‘

  19. کراچی این اے 45 الیکشن میں ہم جیت کی جانب گامزن ہیں: عمران خان کا دعویٰ

    پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت کراچی کے این اے 245 انتخاب میں جیت کی جانب گامزن ہے۔

    عمران خان نے ٹویٹ میں لکھا کہ ’ہمارے کیمپ ووٹروں سے بھرے ہوئے ہیں جبکہ مخالفین کے کیمپ خالی پڑے ہیں۔ میں اپنے تمام ووٹروں سے کہوں گا کہ اگر انھوں نے ابھی تک ایسا نہیں کیا تو وہ فوری طور پر ووٹ ڈالیں۔‘

  20. تصدیق کرتا ہوں کہ شہباز گل پر پولیس کی حراست میں کوئی تشدد نہیں ہوا، رانا ثنا اللہ

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا کہ بطورِ وزیرِ داخلہ ذمہ داری سے تردید کرتا ہوں کہ شہباز گل پر پولیس کی حراست میں تشدد ہوا۔

    ان کا کہنا ہے کہ میں نے اپنے طور پر تصدیق کی ہے چھ دن میں کسی فورم پر شہباز گل نے شکایت نہیں کی کہ ان پر تشدد ہوا۔ سترہ تاریخ کو ان کی حالت خراب ہوئی، اس کی وجہ تشدد نہیں تھی۔ ڈھائی دن وہ پولیس کسٹڈی میں رہے۔ اس دوران ان پر تشدد نہیں ہوا۔

    ان کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کسی بھی قسم کے جسمانی اور ذہنی تشدد کی سخت مخالف ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ تشدد پاکستانی آئین کی خلاف ورزی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بہت سے سیاستدانوں نے اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت پر بیانات دیے ہوں گے لیکن کوئی ایک ایسا شخص بھی نہیں جس نے کہا ہو کہ آپ اپنے اوپر کے افسران کا حکم نہ مانیں۔

    یہ ایک ایسی سازش اور بیانیہ ہے جسے کوئی ریاست نہ برداشت کر سکتی ہے نہ معاف کر سکتے ہیں اور نہ ہی ادارہ ایسی باتیں برداشت کرے گا۔

    وزیر داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان کی تقریر پر مقدمہ درج کرنے کے لیے مشاورت ہو رہی ہے۔