آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور شہباز گل کے خلاف مزید دو مقدمات درج

سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کے خلاف مزید دو مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے پی ڈی ایم قیادت کے خلاف مقدمات درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے خاتون جج کے بارے میں ’دھمکی آمیز‘ بیان دینے پر عمران خان کو توہینِ عدالت کے مقدمے میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 اگست کو طلب کر لیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, پولیس کا پارلیمنٹ لاجز میں شہباز گل کے کمرے پر چھاپہ

    اسلام آباد پولیس ایس ایس پی کی سربراہی میں پارلیمنٹ لاجز میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کے زیر استعمال کمرے پر چھاپہ مارا ہے۔

    چھاپے کے دوران شہباز گل بھی پولیس ک ہمراہ تھے۔ پولیس کے مطابق ان کے کمرے سے برآمد ہونے والے اشیا میں ایک پستول، تھورایا سیٹلائٹ فون اور یو ایس بیز ملی ہیں۔

    شہباز گل نے اس موقعے پر پستول سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کا نہیں اور چونکہ یہاں ان کے دو گارڈز بھی رہتے تھے اس لیے ممکن ہے کہ یہ ان میں سے کسی کا ہو۔

    میڈیا کی موجودگی میں اس چھاپے کے دوران شہباز گل نے بتایا کے ان کے پاس صرف دو لائسنس یافتہ رائفل ہیں۔

    نجی ٹی وی چینل جیو نیوز پر نشر ہونے والے مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس دوران ایک صحافی نے شہباز گِل سے سوال کیا گیا کہ عمران خان نے الزام لگایا ہے کہ آپ کے ساتھ دورانِ حراست جنسی تشدد کیا گیا ہے کیا یہ سچ ہے تو ان کا جواب تھا ’جی ہاں یہ سچ ہے‘۔

    انھوں نے کہا کہ ’جب ہم گرفتار کیے گئے تو یہاں پر بہت ساری چیزیں ایسے نہیں تھیں، میرے کمرے میں جہاں میں رہتا تھا وہاں چیزیں بدلی ہوئی ہیں میرا پاسپورٹ وہاں نہیں تھا جہاں اسے ہونا چاہیے۔ اس سب سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں کوئی آیا تھا۔‘

  2. شہباز گل پر تشدد سے متعلق اسلام آباد پولیس پر مبینہ الزامات لگانے پر جمیل فاروقی کراچی سے گرفتار

    یوٹیوبر اور اینکرپرسن جمیل فاروقی کو تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل پر تشدد سے متعلق اسلام آباد پولیس پر مبینہ الزامات لگانے پر کراچی سے گرفتار کر کے اسلام آباد لایا گیا ہے۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق اسلام آباد پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمیل فاروقی نے اپنے وی لاگ میں اسلام آباد پولیس کی جانب سے شہباز گل پر جسمانی اور جنسی تشدد کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

  3. جب عمران خان عدلیہ کی بالادستی کی بات کر رہے ہیں اس وقت ان کو توہینِ عدالت کا نوٹس دے دیا گیا: فیصل واوڈا

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فیصل واوڈا نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے فیصلے پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’کمال ہے، جس وقت عمران خان آزاد عدلیہ اور انصاف کے نظام پر سیمنار سے خطاب کر رہے ہیں، عدلیہ کی بالا دستی کی بات کر رہے، اسی وقت ان کو توہین عدالت کا نوٹس دے دیا گیا۔‘

  4. ’جب عمران خان کہتے ہیں کہ تشدد کی تحقیقات نہ کروانا غیر قانونی عمل ہے تو اس پر فل بینچ بن جاتا ہے؟‘: فواد چوہدری

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ حیران کن بات یہ ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ ایک طرف ٹارچر کے الزامات پر جوڈیشل انکوائری کرانے کا کہہ رہی ہے دوسری طرف جسمانی ریمانڈ دیا جا رہا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب عمران خان کہتے ہیں کہ ٹارچر کی تحقیقات نہ کروانا غیر قانونی عمل ہے اور جج کے خلاف انکوائری ہونی چاہیے اس پر فل بینچ بن جاتا ہے؟‘

  5. بریکنگ, عمران خان کے ایڈیشنل سیشن جج کے خلاف بیان پر توہینِ عدالت کی کارروائی کا فیصلہ

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کے خلاف مبینہ توہین آمیز بیان دینے پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس ضمن میں تین رکنی بیچ تشکیل دیا گیا ہے جو آئندہ روز عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کرے گا۔ اس بینچ میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب اور جسٹس بابر ستار شامل ہیں۔ توہین عدالت کی کارروائی کا فیصلہ ہائیکورٹ کے تمام ججز کی مشاورت سے ہوا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے عمران خان کے بیان سے متعلق ایک نوٹ لکھ کر ججز کو بھیجا تھا۔

    خیال رہے کہ عمران خان کی جانب سے سنیچر کو اسلام آباد میں ریلی کے دوران ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کے خلاف مبینہ توہین آمیز زبان استعمال کی تھی۔

    عمران خان نے اس دوران اسلام آباد پولیس کے آئی جی اور ڈی آئی جی کے علاوہ مجسٹریٹ (ایڈیشنل سیشن جج) کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    انھوں نے کہا تھا کہ ’اسلام آباد کے آئی جی، ڈی آئی جی اور مجسٹریٹ کو ہم نے نہیں چھوڑنا، ان پر کیس کرنا ہے۔ آپ سب کو شرم آنی چاہیے۔ ہم ان پر کیس کرنے لگے ہیں۔ اگر گل پر کیس ہوسکتا ہے تو ان سب پر ہم کیس کرنے لگے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجسٹریٹ صاحبہ، زیبا آپ بھی تیار ہو جائیں، آپ کے خلاف بھی ہم ایکشن لیں گے۔‘

  6. شہباز گل پر مبینہ تشدد کی تحقیقات ہائی کورٹ کے کسی سابق جج کے زیرِ نگرانی کروائی جائیں: اسلام آباد ہائی کورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے بغاوت کے مقدمے میں زیرِ حراست تحریکِ انصاف کے رہنما شہباز گل پر مبینہ تشدد کی تحقیقات ہائی کورٹ کے کسی سابق جج کے زیرِ نگرانی کروانے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت کی جانب سے یہ حکم شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست نمٹاتے ہویے دیا گیا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے شہباز گل پر تشدد کے معاملے پر وفاقی حکومت اور سیکرٹری داخلہ کو حکم دیا کہ وہ کوئی انکوائری افسر مقرر کریں جو کہ کسی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج ہوں۔

    عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ شہباز گل کے موجودہ جسمانی ریمانڈ کے دوران ایس ایس پی رینک کا افسر نگرانی کرے، اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ریمانڈ کے دوران شہباز گل ہو کوئی تشدد نہ ہو۔

  7. سٹیٹ بینک کو موجودہ مالی سال میں زرمبادلہ ذخائر 16 ارب ڈالر ہونے کی توقع، شرح سود 15 فیصد پر برقرار, تنویر ملک، صحافی

    سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں شرحِ سود کو موجودہ 15 فیصد پر رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے زری پالیسی بیان میں کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر فروری کے 16.4 ارب ڈالر کی نسبت 12 اگست کو نصف یعنی 7.9 ارب ڈالر رہ گئے ہیں، کیونکہ سرکاری رقوم کا انخلا سرکاری رقوم کی آمد سے بڑھ گیا ہے۔

    سٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ اگلے آئی ایم ایف جائزہ پروگرام کی متوقع تکمیل اور دوست ممالک سے اضافی اعانت کے حصول سے مالی سال 23 کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر پیش گوئی کے مطابق تقریباً 16 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے جو روپے کی قدر کو مضبوط کرے گا۔

    سٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ ’جولائی میں مہنگائی کا دباؤ شدید ہو گیا اور پیش گوئی ہے کہ موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مہنگائی عروج پر پہنچ جائے گی تاہم پھر مالی سال کے بقیہ حصے کے دوران بتدریج کم ہو گی۔‘

  8. عمران خان کو راہداری ضمانت ملنے کے بعد بنی گالہ کی صورتحال

  9. ڈالر کی قیمت میں دو روپے کا اضافہ، سٹاک مارکیٹ میں تقریباً 450 پوائنٹس کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں پیر کے روز نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت میں دو روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    ایک ڈالر کی قیمت میں 216.66 پر بند ہوئی جو جمعے کے روز 214.65 روپے پر بند ہوئی تھی کرنسی ڈیلروں کے مطابق ڈالر کی قیمت میں اضافہ اس کی طلب میں اضافے کی وجہ سے ہوا ہے۔

    فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق حکومت کی جانب سے لگژری اشیا کی درآمد پر پابندی کے خاتمے کے بعد ڈالر کی ڈیمانڈ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    سٹاک مارکیٹ میں پیر کے روز 445 پوائنٹس کمی ریکارڈ کی گئی۔ تجزیہ کاروں نے مندی کے رجحان کی وجہ سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی توقع کو قرار دیا۔

  10. بریکنگ, شہباز گل کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور، ”میرا کوئی بیان آیا تو وہ میرا نہیں ہوگا‘‘: شہباز گل

    بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے شہباز گل کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر اسلام آباد پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے اور انھیں چوبیس اگست کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کے سوال پر سماعت کے دوران شہباز گل نے عدالت کو بتایا کہ ان کی زبردستی شیو کردی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پانچ روز سے ہسپتال میں میری تفتیش ہو رہی ہے اور میں تشدد کا نشانہ نہیں بننا چاہتا۔

    انھوں نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو تشدد کیا جا رہا ہے شاید وہ آپ کی سوچ سے بھی زیادہ ہے۔

    شہباز گل نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے مجھے زندہ دیکھنا ہے یا نہیں!

    انھوں نے کہا کہ میں کوئی بہانے نہیں کر رہا اور پمز میں مجھے کوئی ڈاکٹر سارا سارا دن نہیں دیکھتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ یہ سب خانہ پوری ہو رہی ہے۔

    اس پر عدالت نے شہباز گل سے استفسار کیا کہ کون سا وقت آپ کے لیے ٹھیک ہوتا ہے، جس پر شہباز گل کا کہنا تھا کہ میں تو سارا دن ہی بیٹھا ہوتا ہوں، میری عینک چھین لی گئی نا گھر سے آیا چشمہ مجھے دیا گیا۔

    شہباز گل کا کہنا تھا کہ مجھ پر پریشر ڈالا جا رہا ہے کہ عمران خان کے خلاف بیان دوں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے پی ٹی آئی یا عمران خان کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا، ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ اس کے بعد بھی میرا کوئی بیان آئے تو میرا نہیں ہو گا، میرا تحریری بیان بھی آئے تو وہ میرا نہیں ہو گا وہ تشدد سے لیا ہوگا۔

  11. شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ، ’چار دن سے نہایا نہیں ہوں‘: شہباز گل

    آج پیر کے روز شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کے معاملے پر جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان نے سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    سماعت کے دوران شہباز گل کے وکلا کی جانب سے عدالت میں دعویٰ کیا گیا کہ میجسٹریٹ کے آخری آرڈر میں ملزم پولیس کو نہیں دیا گیا بلکہ عدالت نے ملزم شہباز گل کو پمز ہسپتال کو دینے کا حکم دیا تھا۔ پی ٹی ائی کے وکلا کا کہنا تھا کہ شہباز گل پمز ہسپتال میں جسمانی ریمانڈ پر ہی تھے اور اسلام آباد پولیس نے پمز میں جسمانی ریمانڈ کیا۔

    سماعت کے دوران شہباز گل نے روسٹرم پر آ کر بولنا شروع کردیا تھا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ پچھلے پانچ دن سے کپڑے نہیں دیے گئے اور پانچ دنوں سے میں نہایا نہیں ہوں، میرے گھر سے کپڑے دے کر گئے تھے جو کہ چھین لیے گئے۔

    شہباز گل نے عدالت کو بتایا کہ پچھلے چار روز سے وہ بھوک ہڑتال پر ہیں۔

  12. ہمیں تو معلوم نہیں کہ شہباز گل کو کہاں رکھا گیا ہے، شہباز گل سے برآمد کیا کرنا چاہیے ہیں؟: بابر اعوان, شہزاد ملک، بی یی سی اردو

    پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری نے عدالت میں استدعا کی ہے کہ پندرہ دن ہو گئے مقدمہ درج ہوئے، تاہم ابھی تک عبوری چالان بھی نہیں جمع کروایا گیا۔

    ملزم کے ایک اور وکیل بابر اعوان کا کہنا تھا کہ 13 دن سے شہباز گل اسلام آباد پولیس کی حراست میں ہے، تاہم انھیں یہ معلوم نہیں کہ ان کے موکل کو ان 13 دنوں میں کہاں رکھا گیا ہے۔

    شہباز گل کے وکلا کی جانب سے عدالت میں دعویٰ کیا گیا کہ میجسٹریٹ کے آخری آرڈر میں ملزم پولیس کو نہیں دیا گیا بلکہ عدالت نے ملزم شہباز گل کو پمز ہسپتال کو دینے کا حکم دیا تھا۔ پی ٹی ائی کے وکلا کا کہنا تھا کہ شہباز گل پمز ہسپتال میں جسمانی ریمانڈ پر ہی تھے اور اسلام آباد پولیس نے پمز میں جسمانی ریمانڈ کیا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ انتظامیہ نے خاردار تاریں لگا کر ہسپتال میں پولیس کھڑی کر دی، اور پمز ہسپتال کے اندر ویڈیو بنتی رہی۔

  13. عمران خان اور دیگر رہنماؤں کی سکیورٹی کے لیے ہر طرح کے انتظامات کریں گے: پرویز الہی

    وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور دیگر رہنماؤں کی سکیورٹی کے حوالے سے ہر طرح کے انتظامات کریں گے۔

    بنی گالا میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائش گاہ پر ملاقات کرتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی نے تحریک انصاف کے خلاف ہونے والی انتقامی کارروائیوں کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا۔

    وزیر اعلیٰ پرویز الہی نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو یقین دہانی کروائی کہ پنجاب حکومت ہر طرح سے تحریک انصاف کے ساتھ کھڑی ہے۔ اور عمران خان اور دیگر رہنماؤں کی سکیورٹی کے حوالے سے ہر طرح کے انتظامات کیے جائیں گے۔

    اس ملاقات میں چوھدری مونس الہیٰ بھی ملاقات میں شریک تھے۔

    دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا، وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب کی سیاسی اور انتظامی صورتحال سے متعلق عمران خان کو آگاہ کیا۔

  14. عمران خان پر پابندیاں لگانا عوام سے دور رکھنے کی ناکام کوشش ہے، فواد چوہدری

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت پی ٹی آئی چیئرمین اور سابق عمران خان پر پابندیاں لگا کر عوام سے دور رکھنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ بہتر حل یہ ہی ہے کہ حکومت ضد نہ کرے، انتخابات کروائے اور عمران خان کی راہ میں رکاوٹیں حائل نہ کریں۔

    اس موقع پر پی ٹی آئی کے سنیئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ عمران خان پر درج ایف آئی آر کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

    جس طرح سے حکومت نے عمران خان ے خطاب کو نشر کرنے پر پابندی لگائی اور گذشتہ روز لیاقت باغ میں تقریر کے دوران انٹرنیٹ میں خلل ڈالنے کی کوشش کی یہ ماضی کے ہتھکنڈے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ قوم اب عمران خان کے ساتھ جڑ چکی ہے اور اس کی واضح مثال کراچی میں ضمنی انتخاب کے نتائج ہیں۔

    پی ٹی آئی کے رہنما اور وکیل بابر اعوان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمے کے لیے ہم انسداد دہشت گردی کی عدالت سے بھی رجوع کریں گے۔

  15. بریکنگ, ’شہباز گل پر پولیس کی حراست میں تشدد کے الزامات درست نہیں‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    شہباز گل پر مبینہ تشدد کے سلسلے میں آئی جی اسلام آباد کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہباز گل پر پولیس کی حراست میں تشدد کے الزامات درست نہیں ہیں۔

    آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان کی رپورٹ کے مطابق پولیس کی حراست یا جیل میں جسمانی، ذہنی یا جنسی تشدد کے الزامات کے حوالے سے کوئی ٹھوس ٹبوت پیش نہیں کیا گیا۔

    خیال رہے کہ اسی رپورٹ میں شہباز گل کا جو بیان موجود ہے اس میں دعثیٰ کیا گیا ہے کہ انھیں بےلباس کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق ’ریکارڈ پر موجود شواہد، پولیس اور جیل حکام کے علاوہ تحریکِ انصاف کے ارکان اور عوام کے بیانات، ویڈیو کلپس، تصاویر اور طبی رپورٹس کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ شہباز گل پر ان کی گرفتاری سے 12 اگست کو اڈیالہ جیل بھیجے جانے تک کوئی تشدد نہیں ہوا۔‘

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جیل حکام اور پمز ہسپتال میں 11، 17 اور 18 اگست کو ہونے والے طبی معائنے میں ملزم کے جسم پر تشدد کے کوئی نشانات موجود نہیں تھے۔

  16. بریکنگ, عمران خان کو تین دن کی راہداری ضمانت مل گئی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل ڈویژن بنچ نے تھانہ مارگلہ میں درج دہشتگردی کے مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی راہداری ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں 25 اگست تک متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔

    عمران خان کے وکلاء بابر اعوان اور فیصل چوہدری کے ذریعے اتوار کو دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ عمران خان جب عدالت کہے گی مقدمے میں شامل تفتیش ہونے کو تیار ہیں، ماضی میں ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں اور نہ ہی انھیں کبھی سزا ہوئی۔ اس کے علاوہ ان کے فرار ہونے یا پراسیکیوشن کے شواہد خراب کرنے کا امکان تک نہیں اس لیے ان کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی جائے۔

    رجسٹرار آفس نے اس درخواست پر عمران خان کا بائیومیٹرک نہ ہونے کا اعتراض عائد کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ عمران خان انسداد دہشتگردی عدالت جانے کی بجائے ہائیکورٹ کیوں آئے۔

    پیر کو سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ عمران خان کی درخواست ضمانت پر اعتراض ہے جس پر بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کہا کہ پولیس نے عمران خان کے گھر کا گھیراؤ کر رکھا ہے سو ایسے میں وہ کیسے یہاں آ سکتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ٹرائل کورٹ میں پیش ہونا چاہتے ہیں، حفاظتی ضمانت منظور کی جائے اور وہ انسداد دہشت گردی کی عدالت سے رجوع کریں گے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آپ بائیو میٹرک کرانے کے لیے حفاظتی ضمانت چاہتے ہیں، ابھی تو پٹیشن انٹرٹین نہیں ہوئی، اس پر اعتراض ہے۔

    اس پر بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج چھٹی پر ہیں اور ان کی چھٹی کے باعث ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا۔

    اس پر عدالت نے اعتراض ختم کرتے ہوئے عمران خان کی تین روز کے لیے راہداری ضمانت منظور کر لی اور پولیس کو گرفتاری سے روکتے ہوئے عمران خان کو 25 اگست تک انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔

    خیال رہے کہ راہداری ضمانت حفاظتی ضمانت کے ہی ذمرے میں آتی ہے یعنی متعلقہ عدالت میں اگر ملزم ہیش ہونا چاہتا ہے تو اسے راستے میں گرفتار نہ کیا جائے اور متعلقہ عدالت میں ہیش ہونے کی رسائی دی جائے۔

  17. بریکنگ, شہباز گل سخت حفاظتی انتظامات میں عدالت میں پیش

    بغاوت کے مقدمے میں زیرِ حراست تحریکِ انصاف کے رہنما شہباز گل کو پیر کی دوپہر اسلام آباد کی مقامی عدالت میں ہیش کر دیا گیا ہے۔

    پولیس اہلکار جب شہباز گل کو عدالت میں لے کر آئے تو ان پر سفید چادر ڈالی گئی تھی جبکہ اس موقع پر ضلع کچہری میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔

    شہباز گل کو سخت حفاظتی حصار میں عدالت میں پیش کیے جانے پر عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملزم ہے قاتل نہیں ہے اسے کون لے کر آیا ہے۔

    عدالت پیشی کے موقع پر شہباز گل سے پانچ وکالت نامہ دستخط کروایے گئے ہیں۔

    جج نے شہباز گل کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ ملزم کی طرف سے ہے، مقدمے کی فائل کدھر ہے۔

    وکیل شہباز گل نے جواب دیا کہ ریکارڈ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہے وہاں پر فیصلہ محفوظ ہوا ہے۔

    شہباز گل کے وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس کی سماعت میں وقفہ کیا جائے۔

    اس موقع پر ملزم شہباز گل نے عدالت میں بولتے ہوئے کہا کہ ایس پی نوشیروان مجھے لے کر آیا ہے اور کہا آپ کی ضمانت ہو گئی، مجھے سکرین شارٹ دکھایا گیا اور کہا گیا ضمانت ہو گئی مچلکے جمع کرانے ہے۔

    انھوں نے عدالت کو بتایا کہ مجھے پرائیوٹ گاڑی میں بٹھایا گیا اور ادھر لے آئے۔ انھوں نے عدالت سے کہا گذشتہ رات سے دیکھیں میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

    انھوں نے عدالت سے کہا کہ ’کل رات سے میں بھوک ہڑتال پر ہوں مجھ سے کسی سے نہیں ملنے دیا جا رہا۔ کل رات 12 بندے میرے کمرے میں آئے مجھے پکڑا اور زبردستی کیلا اور جوس پلایا۔

    انھوں نے عدالت کو بتایا کہ گذشتہ رات تین بجے پھر چھ سات لوگ مجھے کھانا کھلانے کی کوشش کرنے آئے تھے۔ مجھے زبردستی باندھ کر دس 12 بندوں نے میری شیو کی، میں مونچھیں نہیں رکھتا میری مونچھیں چھوڑ دی گئیں۔ مجھے زبردستی ناشتہ دینے کی کوشش کی گئی۔‘

    جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں تشدد کیا گیا ہے، ملزم کو ہتھکڑی نہیں لگائی، پولیس والے ان کے ساتھ نہیں ہیں۔

    اس پر جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کا یہ مطلب تو نہیں آپ بھوک ہڑتال پر چلے جائیں، کیا آپ نے ڈاکٹرز کو دکھایا ہم تو میڈیکل نہیں بتا سکتے۔

    اس موقع پر شہباز گل کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ وکلا سے ملنے کی اجازت دی جائے مگر شہباز گل سے نہیں ملنے دیا جا رہا۔

    مقامی عدالت کے جج نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم نامہ کدھر ہے اس کو دیکھ کر حکم دوں گا۔

    جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس کی فائل کدھر ہے، بغیر ریکارڈ کے ملزم کو میں نے کیا کرنا ہے نہ میں نے ملزم کو دیکھنا ہے نہ اس نے مجھے دیکھنا ہے۔

    جج کی ہدایت دی کہ شہباز گل کو کمرۂ عدالت میں بیٹھا دیا جائے اور شہباز گل کے وکلا کے آنے تک سماعت میں وقفہ کر دیا گیا۔

  18. بریکنگ, رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے باوجود عمران خان کی درخواست سماعت کے لیے مقرر

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران کی ضمانت کی درخواست رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے باوجود آج ہی سماعت کے لیے مقرر کردی ہے۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق اس درخواست کی سماعت کریں گے

  19. پی ٹی آئی کی خالی کردہ نو نشستوں پر الیکشن رکوانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامرفاروق کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے ممبران قومی اسمبلی کے استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کے خلاف مقدمے میں نو نشستوں پر الیکشن رکوانے کی متفرق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ ان کے تمام استعفے پہلے ہی منظور ہو چکے ہیں،ہم نے آپ سے پوچھا تھا کہ بتا دیں استعفے منظور ہوئے تھے یا نہیں۔

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے وکیل عرفان قادر نے استدعا کی کہ ہم پیرا وائز کمنٹ جمع کرانا چاہتے ہیں اپنے پیراوائز کمنٹس میں عدالت کو بتائیں گے کہ اس وقت صورتحال کیا تھی جب یہ سب ہوا۔

    انھوں نے کہا کہ ،اگر سپیکر ممبران سے تصدیق کر لیں تو اس میں غلط کیا ہے۔

    قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ پہلے قائم مقام سپیکر نے استعفے منظور کر لیے تھے، ایک قائم مقام سپیکر نے آرڈر کیا تو اس میں کیا مسئلہ ہے؟

    اس پر عرفان قادر ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’یہ اتنا سیدھا نہیں ہے جتنا آپ کو بتایا جا رہا ہے، تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی تو پہلے سپیکر، پھر ڈپٹی سپیکر نے روڑے اٹکائے، ڈپٹی سپیکر نے تحریک عدم اعتماد مسترد کر دی جسے سپریم کورٹ نے خلاف قانون قرار دیا، اسمبلیاں بھی جلد بازی میں توڑ دی گئیں اسے بھی سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیا، سپریم کورٹ کے ایک جج نے نوٹ لکھا کہ یہ غداری کے مرتکب ہوئے۔‘

    عدالت نے کہا کہ جو بھی ہو حلقے کو ان کی نمائندگی کے بغیر نہیں رہنا چاہیے جس پر عرفان قادر ایڈووکیٹ نے کہا کہ ان کو دیکھیں کہ ایک شخص نو نشستوں پر اکیلا الیکشن لڑ رہا ہے، یہ بار بار عدالت کو سیاسی معاملات میں گھسیٹ رہے ہیں۔

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس کی تو آئین اجازت دیتا ہے، کوئی بھی جماعت جیتے عوام کو فیصلہ کرنے دیں۔

    اس موقع پر پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم کل کراچی میں بھی جیت گئے ہیں یہ ہم سے ڈر رہے ہیں۔ عدالت نے سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

  20. اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامرفاروق کی عدالت نے شہباز گل کا مزید جسمانی ریمانڈ منظور کرنے سے متعلق مجسٹریٹ احکامات کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    گذشتہ روز شہباز گل کے ریمانڈ کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران آئی جی اسلام آباد، اڈیالہ جیل انتظامیہ اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔

    اس موقع پر ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے عمران خان کے بیانات کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک زیر التوا معاملہ ہے عمران خان نے خاتون مجسٹریٹ پر بات کی۔

    شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے کہا کہ عمران خان کے بیان پر دہشتگردی کا مقدمہ درج ہوا ہے۔

    ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون کی جانب سے عمران خان کے بیان پر نوٹس لینے کی استدعا پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ وہ ایک الگ معاملہ اس پر ہم دیکھیں گے کیا کرنا ہے، وہ پورے پاکستان کو پتہ ہے ہمارے ذہن میں ہے، کیس کا تفتیشی کہاں ہے؟

    عدالت نے سوال کیا کہ کیس کا ریکارڈ لائے ہیں؟ آئی جی اسلام آباد سے رپورٹ کا کہا تھا وہ رپورٹ کہاں ہے؟

    اس موقع پر شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر ایڈووکیٹ نے دلائل شروع کرتے ہوئے کہا کہ شہباز گِل پر پولیس حراست میں بدترین تشدد کیا گیا۔

    اس پر عدالت نے کہا کہ یہ پورے ملک کا واحد کیس نہیں ہے، اس سے پہلے بھی کیسز تھے بعد میں بھی کیسز چلتے رہیں گے، ریمانڈ کے کیسز میں ایسی مثال نہ بنائیں۔

    سلمان صفدر ایڈووکیٹ نے کہا کہ شہباز گِل کی گاڑی کے شیشے توڑے گئے، جس پر عدالت نے کہا کہ میں اس میں نہیں جا سکتا، کیا میں اب ٹی وی لگوا کر وہ ویڈیو دیکھوں؟

    سماعت کے دوران شہباز گل کے وکیل نے کہا کہ تشدد کے اثرات صرف پانچ سے چھ دن رہتے ہیں، میڈیکل بورڈ نے قرار دیا کہ شہباز گل کے جسم پر کچھ نشانات ہیں، شہباز گل کے پرائیویٹ پارٹس پر تشدد کیا گیا، عدالت ڈاکٹرز کو بلا کر پوچھ لے وہ شہباز گل تشدد کے عینی شاہد ہیں۔

    انھوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درجنوں مثالیں ہیں پولیس ایسے تشدد کرتی ہے جس کو ٹریس کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، 12 دن بعد تو بڑے سے بڑا تشدد ٹھیک ہو جاتا ہے، مجسٹریٹ نے خود آبزرویشن دی کہ ملزم کی کنڈیشن سیریس ہے۔

    وکیل نے عدالت سے کہا کہ مجھے وکالت نامہ دستخط کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی،اب ان کی طبیعت بہتر ہو رہی تو کل ان کی ویڈیوز لیک کی گئیں۔

    سلمان صفدر ایڈووکیٹ نے کہا کہ بیان آٹھ اگست کو دیا، نو اگست کو گرفتار کر لیا گیا اور 10 اگست کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ جس دن گرفتار کر لیا گیا اسی دن مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جاسکتا تھا۔

    اس موقع پر قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کا واحد کیس نہیں، اسلام آباد میں اتنا نہ ہو مگر لاہور میں تو ایسے کیسز ہیں، میں ریمانڈ میں نہیں جا رہا، یا اس کے لیے مجھے یہاں ٹی وی لگانا ہو گا، شواہد منگوانے ہوں گے۔

    سلمان صفدر ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ شہباز گل کو جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر جوڈیشل کر دیا گیا، جس بھی ملزم کو جب جیل بھیجتے ہیں تو پہلے اس کا میڈیکل کیا جاتا ہے، شہباز گل کو جب اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تو ان کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے، ٹارچر پاکستان میں ایک قانون بنا ہوا ہے۔

    عدالت نے سلمان صفدر ایڈووکیٹ سے کہاکہ آپ کے پاس جو میڈکل رپورٹ ہیں وہ میں آپ سے نہیں لوں گا،میڈیکل رپورٹ اڈیالہ کے میڈکل افسر سے لوں گا۔

    دوران سماعت شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری بھی عدالت میں موجود تھے۔

    شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد کی رپورٹ کی کاپی ہمیں فراہم کی جائے۔

    ایڈووکیٹ جنرل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس درخواست میں بابر اعوان وکیل نہیں، دلائل نہیں جا سکتے۔

    عدالت نے کہا کہ آپ کی استدعا ہے کہ پرائیویٹ ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔

    ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ نہ یہ شہباز گل کے وکیل اور نہ اسد عمر کی جانب سے پیش ہونے کا حق دعوی حاصل ہے

    بابر اعوان نے استدعا کی کہ آپ اس درخواست کو زیر التوا رکھ لیں۔ عدالت نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔