مریم نواز کووڈ سے متاثر ہو گئیں

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کووڈ سے متاثر ہو گئی ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خاں نے سابق وزیراعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کو 17 جولائی کے دن پنجاب میں ضمنی انتخابات کے موقع پر دنگا فساد سے باز رہنے کی وارننگ ‏‎جاری کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. آئی ایم ایف کا پاکستان میں احتساب کے نظام اور گورننس بہتر کرنے پر تبصرہ, تنویر ملک، صحافی

    آئی ایم ایف کے پاکستان کے ساتھ قرض پروگرام کی بحالی کے اعلامیے میں 1.17 ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے کے ساتھ پاکستان میں احتساب اور گڈ گورننس کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں کرپشن کم کرنے اور اچھی حکمرانی کے لیے حکام ایک فعال الیکٹرانک اثاثوں کے ظاہر کرنے کے نظام کو قائم کر رہے ہیں۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’پاکستان انسداد بدعنوانی کے اداروں بشمول قومی احتساب بیورو کے بارے میں جامع نظر ثانی کر رہا ہے تاکہ کرپشن کیسوں میں تفتیش اور پراسیکیوشن کو مزید مؤثر کیا جا سکے۔‘

  2. پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ: پاکستان کی معیشت میں عالمی مالیاتی فنڈ کا کردار کیا رہا؟

  3. پاکستان، آئی ایم ایف معاہدے کے بعد سٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان, تنویر ملک، صحافی

    stock

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ قرض پروگرام کی بحالی کا معاہدہ طے پانے کے بعد پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔

    سٹاک مارکیٹ مسلسل کئی روز سے فروخت کے دباؤ کا شکار تھی تاہم جمعرات کے روز آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی خبر آنے کے بعد سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور کاروبار کے آغاز کے پہلے چند منٹوں میں سٹاک مارکیٹ کے 100 انڈیکس میں 250 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    سٹاک مارکیٹ تجزیہ کاروں نے آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کے بعد مزید بین الاقوامی فنانسنگ کا راستہ کھل جائے گا جو سٹاک مارکیٹ کے لیے بھی بہتر ہو گا۔

  4. ٓآئی ایم ایف پروگرام بحالی میں تاخیر سے معیشت کیسے متاثر ہوئی؟, تنویر ملک، صحافی

    IMF

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں اس سال کے شروع میں تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں پروگرام بحالی تعطل کا شکار ہوئی جو موجودہ حکومت کے دور میں بھی التوا کا شکار ہے۔

    نئی حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے میں تاخیر سے معاشی اشاریے شدید متاثر ہوئے۔ پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے درآمدی مصنوعات مہنگی ہوئیں جن میں پٹرول، ڈیزل، گیس، خوردنی تیل، دالیں وغیرہ شامل ہیں جو پاکستان ملکی ضرورت کے لیے باہر سے درآمد کرتا ہے۔

    ماہر معیشت خرم شہزاد نے کہا کہ ’اس پروگرام کی بحالی میں تاخیر کس سب سے منفی اثر روپے کی قیمت پر پڑا جو اس وقت ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں 212 کی سطح پر پہنچ گئی جس کا معیشت اور تجارت دونوں پر شدید منفی اثر ہوا۔

    خرم نے بتایا کہ ’آئی ایم ایف کی فنڈنگ اپنے ساتھ دوسرے بین الاقوامی اداروں اور ملکوں سے بھی فنڈنگ لاتی ہے جس کی وجہ سے گذشتہ دو تین مہینوں سے پاکستان میں کوئی نہیں فنڈنگ نہیں آئی جس کا منفی اثر زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑا جو اس وقت نچلی سطح پر موجود ہیں۔‘

    ان کے مطابق ’پاکستان ایسی صورت میں بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ میں بانڈز جاری کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں رہا کیونکہ ان بانڈز پر پاکستان کو 20 سے 25 فیصد سود ادا کرنا پڑتا جو بہت زیادہ ہے۔‘

    خرم نے کہا کہ ’سب سے بڑا مسئلہ پاکستان کی کریڈیبلٹی کا بن گیا کیونکہ آئی ایم ایف کے پروگرام نہ بحال ہونے کی وجہ سے فنڈنگ نہیں مل رہی تھی کیونکہ یہ ساری فنڈنگ آئی ایم ایف پروگرام سے مشروط ہوتی ہے۔

  5. آئی ایم ایف معاہدے سے پاکستان کے کون سے معاشی مسائل حل ہونے کا امکان ہے؟, تنویر ملک، صحافی

    russia

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں معیشت کے ماہرین اور تجزیہ کار آئی ایم ایف معاہدے سے معیشت کو لاحق مسائل کے حل ہونے کے بارے میں ُپرامید ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ روپے کی گرتی ہوئی قدر اور ڈالر کی قیمت میں ہونے والا پے پناہ اضافہ ہے۔

    پاکستان میں اس سال 11 اپریل سے لے کر جون کے تیسرے ہفتے تک روپے کے مقابلے میں ایک ڈالر کی قیمت میں ساڑھے اٹھائیس روپے تک کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    صرف چالیس دن میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں ہونے والے اس اس بے پناہ اضافے نے ملک کے ذمے واجب الادا قرضوں میں 3600 ارب کا اضافہ کر دیا۔

    ڈالر کی قیمت میں ہونے والے اضافے نے مقامی صارفین کے لیے تیل، گیس اور کھانے پینے کی اشیا کو مہنگا کر دیا کیونکہ پاکستان ان چیزوں کی مقامی سطح پر ضرورت پورا کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔

    ڈالر کی قیمت میں ہونے والے اضافے کی سب سے بڑی وجہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے معاہدہ ہونے میں تاخیر کو قرار دیا جاتا ہے جس نے پاکستان کے لیے بیرونی فنڈنگ کو روک رکھا ہے۔

    paisay

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    معاشی امور کے صحافی اور پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کی رپورٹنگ کرنے والے سینیئر صحافی شہباز رانا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہونے سے سب سے بڑا فائدہ غیر یقینی صورتحال کے خاتمے کی صورت میں نکلے گا جو پاکستان میں معاشی اشاریوں میں گراوٹ پیدا کر رہا ہے۔‘

    شہباز رانا نے کہا کہ ’سب سے بڑا فائدہ تو روپے کو حاصل ہو گا اور اس کی گرتی ہوئی قدر کو اس سے سہارا ملے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کو اگلے مالی سال 41 ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ چاہیے جس میں قرضوں کی ادائیگی، جاری کھاتوں کے خسارے وغیرہ کو پورا کرنا ہے۔

    ’آئی ایم ایف پروگرام سے دوسرے عالمی مالیاتی اداروں اور ملکوں سے فنڈنگ کا راستہ کھل جائے گا۔‘

    ان کے مطابق اگر 41 ارب ڈالر کی مکمل نہیں تو بڑی حد تک فنانسنگ حاصل ہو سکتی ہے۔

    ماہر معیشت ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا ’آئی ایم ایف معاہدے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ ہونے سے بچ گیا ہے۔ اگر آئی ایم ایف سے معاہدہ نہ ہوتا تو پاکستان کے تیس جون 2022 تک ڈیفالٹ کر جاتا۔‘

  6. آئی ایم ایف کی کن شرائط کو تسلیم کیا گیا ہے؟, تنویر ملک، صحافی

    pak

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آئی ایم ایف کے قرضہ پروگرام کی بحالی کے لیے پاکستان نے عالمی ادارے کی جانب سے متعدد شرائط کو تسلیم کیا ہے۔

    • اس کے تحت آمدن زیادہ کرنے اور بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے محصولات کا ہدف 7000 ارب روپے سے 7400 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔
    • نظرِثانی اضافی ہدف کو حاصل کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے 60000 روپے سے ایک لاکھ ماہانہ آمدنی والے افراد پر ٹیکس کی شرح 2.5 فیصد کر دی گئی ہے۔
    • آئی ایم ایف کی جانب سے انکم گروپ پر ٹیکس صرف 100 روپے تھا۔ تاہم آئی ایم ایف کے مطالبے پر اس پر اب ٹیکس کی نئی شرح 2.5 فیصد لگا دی گئی ہے۔
    • آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پرائمری بجٹ کو 152 ارب روپے پر رکھا جائے گا جس کے لیے محصولات زیادہ اکٹھا کرنا پڑیں گے۔
    • آئی ایم ایف کی جانب سے ٹیکس کا ہدف 7400 ارب پورا کرنے کےلیے مختلف ٹیکسوں کی مد میں اضافی پیسے اکٹھے کیے جائیں گے جس میں سے ایک پٹرولیم لیوی بھی ہے۔ حکومت کی جانب سے اگلے مالی سال کے بجٹ میں پٹرولیم لیوی 30 روپے فی لیٹر رکھی گئی تھی تاہم آئی ایم ایف کی شرط کے تحت اس کی شرح 50 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔
  7. آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد ’قرض پروگرام کی کل مالیت سات ارب ڈالر ہو سکتی ہے‘, تنویر ملک، صحافی

    آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف پاکستان کے لیے اس پروگرام کو جون 2023 تک توسیع دینے پر بھی غور کرے گا اور اگر اس کی منظوری آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ دیتا ہے تو اس پروگرام کے تحت پاکستان کو ملنے والے قرض کی مالیت سات ارب ڈالر ہو جائے گی جو پہلے چھ ارب ڈالر تھی۔

    خیال رہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے لیے قرضہ پروگرام کی بحالی حکومت کی جانب سے عالمی ادارے کی کچھ شرائط پر عمل کرنے کے بعد ممکن ہوئی جس کے تحت اگلے مالی سال کے بجٹ میں تخمینوں پر نظر ثانی کی گئی ہے۔

  8. ساتویں اور آٹھویں قسط کی مد میں ایک ارب 17 کروڑ ڈالر جلد پاکستان کو مل جائیں گے: مفتاح اسماعیل

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ آئی ایم ایف پاکستان کو ساتویں اور آٹھویں قسط کی مد میں ایک ارب 17 کروڑ ڈالر فراہم کرے گا۔

    انھوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ طے کرنے کے لیے کاوشوں پر وزیراعظم، ساتھی وزرا، سیکریٹریز اور فنانس ڈویژن کا شکریہ ادا کیا۔

  9. بریکنگ, آئی ایم ایف پاکستان کو ایک ارب 17 کروڑ ڈالر فراہم کرے گا، معاہدہ طے پا گیا

    imf

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان قرض پروگرام کی بحالی کا سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ای ایف ایف کے تحت ساتویں اور آٹھویں جائزے کے معاملات طے پا گئے ہیں تاہم آئی ایم ایف بورڈ معاہدے کی حتمی منظوری دے گا جس کے بعد پروگرام کے تحت دی جانے والی رقم چار اعشاریہ دو ارب ڈالر ہو جائے گی۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کو طلب و رسد پر مبنی ایکسچینج ریٹ کا تسلسل برقرار رکھنا ہو گا، اس کے ساتھ مستعد مانیٹری پالیسی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا ہو گی۔‘

    آئی ایم ایف اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’عالمی مہنگائی کے باعث بڑھتی قیمتوں اور اہم فیصلوں میں تاخیر سے پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر کم ہوئے، زائد طلب کے سبب معیشت اتنی تیز تر ہوئی کہ بیرونی ادائیگیوں میں بڑا خسارہ ہوا۔‘

    عالمی مالیاتی فنڈ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کو ایک ارب 17 کروڑ ڈالر دستیاب ہوں گے تاہم پاکستان کو حالیہ بجٹ پر سختی سے عمل کرنا ہو گا اور صوبوں نے بجٹ خسارے کو محدود رکھنے کے لیے یقین دہانی کروائی ہے۔‘

  10. پنجاب کے ضمنی انتخابات مستقبل کی سیاست پر کس طرح اثر انداز ہوں گے؟

  11. ڈپٹی سپیکر کی رولنگ: عدالتیں ٹھوس شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں، قیاس آرائیوں پر نہیں، سپریم کورٹ

  12. ’کوشش ہے پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کا اطلاق کل سے ہوجائے گا‘

    مفتاح اسماعیل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق وزیر اعظم کا حکم ہے کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی عوام کو پاس آن کرنی ہے۔

    انھوں نے جیو نیوز کے شو میں گفتگو کے دوران کہا کہ ’عوام کی خاطر ریلیف دیا جائے گا۔ عالمی منڈی میں جتنی قیمتیں گریں گی اتنا فائدہ عوام کو دیا جائے گا۔‘

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ’کوشش ہے کل سے اطلاق ہوجائے۔ یہ وزیر اعظم کا فیصلہ ہوگا۔‘

    ایک سوال پر ان کا جواب تھا کہ ’عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں تو کیا ضمنی انتخاب کی وجہ سے بڑھ رہی ہیں۔ اس کا الیکشن سے تعلق نہیں۔‘

    ’جو وعدے شہباز شریف کی حکومت کرے گی انھیں پورا کیا جائے گا۔۔۔ میں نے ایک دن میں 30، 30 روپے پیٹرول پر بڑھایا تھا۔ جس وقت میں آیا تھا ہمیں دنیا کو بہت زیادہ پیسے واپس کرنے تھے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں توانائی کی درآمدات کو کم کرنا ہے۔۔۔ آج سری لنکا میں 470 روپے فی لیٹر پیٹرول ہے۔ ہم نے مشکل فیصلے لیے، آج پاکستان کو ایسا کوئی ڈر نہیں ہے۔‘

  13. ’عمران خان بتائیں 2018 کا مسٹر ایکس کیا کرتا تھا‘

    رانا ثنا اللہ

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    عمران خان کے ’مسٹر ایکس‘ سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے ان سے سوال کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم ’بتائیں 2018 (کے عام انتخابات) کا مسٹر ایکس کیا کرتا تھا۔‘

    وہ جیو نیوز کے ایک شو پر گفتگو کے دوران کہتے ہیں کہ ’اس وقت کوئی مسٹر ایکس یا مسٹر وائے نہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر آن ریکارڈ ہیں کہ ثبوت لائیں ہم تحقیقات کریں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی مسٹر ایکس کے پاس کسی ایک مخصوص جماعت کی میٹنگ ہوتی ہے تو بتائیں۔ 2018 میں سب عمران خان کی مرضی سے ہوتا رہا۔‘

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ’ہمیں کسی مسٹر ایکس سے مسئلہ نہیں ہے۔ اس الیکشن میں کوئی مداخلت نہیں ہو رہی۔ اگر مداخلت ہوتی تو کوئی جماعت اس طرح اپنی انتخابی مہم نہ چلاتی۔ یہ اپنی ہار کا بیانیہ بنا رہے ہیں۔‘

    ’چیف الیکشن کمشنر کو گالیاں دے کر ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔‘

    انھوں نے وضاحت دی کہ کوئی وزیر پریشانی کی وجہ سے استعفے نہیں دے رہے اور چھاپے صرف لا اینڈ آرڈر کی صورت میں مارے جاتے ہیں۔

  14. اب عوام کے رونے کے دن ختم اور عمران خان کے رونے کے دن شروع: مریم نواز

    مریم نواز

    ،تصویر کا ذریعہPMLN

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجاب کے ضمنی انتخابات میں شیر کا مقابلہ گیدڑ سے ہے اور اب عوام کے رونے کے دن ختم اور عمران خان کے رونے کے دن شروع ہوگئے ہیں۔

    لیہ میں جلسے سے خطاب کے دوران مریم نواز نے کہا ہے کہ 17 جولائی کو ضمنی انتخابات میں ’شیر، شیر، شیر کی آواز آئے گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’شیر کا مقابلہ کسی گیدڑ سے اور اس کی لائی ہوئی مہنگائی اور کرپشن سے ہے۔‘

    انھوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو ’فتنہ خان‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابقہ حکومت نے پنجاب میں تباہی کے منصوبے لگائے۔ ’عمران خان نے گوگی پنکی اکنامک کوریڈور بنایا جس کے ذریعے بنی گالا منی گالا بن گیا۔‘

    ’کل جلسے میں عمران خان آنسوؤں سے رو رہا تھا۔ جب لوگ آٹے کے لیے ترستے رہے تمھیں رونا نہیں آیا۔‘

    مریم نواز نے کہا کہ اب اچھے دن دستک دے رہے ہیں۔ ’آنے والے چند گھنٹوں میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمتیں کم ہوں گی۔‘

    ’حمزہ شہباز نے اعلان کیا ہے کہ پنجاب بھر میں 100 یونٹ بجلی استعمال کرنے والوں کو بجلی کا بل نہیں آئے گا۔‘

  15. ہمارا مقابلہ الیکشن کمیشن سے ہے جو ان کے ساتھ ملا ہوا ہے: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سابق وزیر اعظم عمران خان کا الزام ہے کہ 17 جولائی کو پنجاب کے ضمنی انتخابات میں ن لیگ کے حق میں دھاندلی کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

    تحریک انصاف کے اٹھارہ ہزاری جلسے سے خطاب کے دوران عمران خان نے کہا کہ ’انھیں الیکشن جتانے کے لیے لاہور میں مسٹر ایکس اور ملتان میں مسٹر وائے کو بٹھایا ہوا ہے‘ مگر ’ساری قوم ہمارے ساتھ کھڑی ہے۔‘

    انھوں نے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’جس کو آپ نے (تحریک انصاف کے نام پر) ووٹ دیا وہ لوٹا ہوگیا ہے۔‘

    ’یہ لوٹے وہ لوگ ہیں جو آئین کے خلاف جاتے ہیں، امریکی سازش کا حصہ بن کر پیسے لے کر ملک سے غداری کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ ملک کے میر جعفر اور میر صادق مل جاتے ہیں۔ اور سب سے بڑے ڈاکوؤں کو مسلط کر دیتے ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’اتوار کو جو الیکشن آرہا ہے وہ ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔ ملک کے مستقبل کے لیے الیکشن جیتنا ہے، ملک کو چوروں سے بچانا ہے۔‘

    ان کا دعویٰ ہے کہ ’یہ خاص طور پر عورتوں کے پولنگ سٹیشنز پر دھاندلی کرتے ہیں۔ ہم آج سوچ رہے ہیں کہ کیسے ہم نے اپنے ووٹوں کو نون لیگ کی دھاندلی سے کیسے بچانا ہے۔ پولنگ ایجنٹس کو بتا رہے ہیں کہ آپ نے دھاندلی کیسے روکنی ہے۔ یہ ریٹرننگ آفیسر کو پیسے دیتے ہیں۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’ن لیگ نے کبھی کوئی چیز ایمانداری سے نہیں کی۔ ہمارا مقابلہ الیکشن کمیشن سے بھی ہے جو ن لیگ کے ساتھ ملا ہوا ہے۔‘

    انھوں نے زور دیا کہ ان کے امپائر ہونے کے باوجود ان کی جماعت کو جیتنا ہوگا۔

  16. نیب کے 13 افسران کے تبادلوں کا نوٹیفیکیشن جاری

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (نیب) نے 13 افسران کے تبادلوں کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے۔

    رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری کے ایک ری ٹویٹ کے مطابق نیب میں اتحادی حکومت کی جانب سے اہم افسران کا تبادلہ کیا گیا جو سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ اعلامیے کے مطابق تبدیل ہونے والے افسران میں نیب لاہور کے ڈائریکٹر انٹیلیجنس محمد اصغر، آفتاب احمد، خاور الیاس اور نیب لاہور کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن ندیم شاہ کے نام شامل ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    صحافی امیر عباسی نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا ہے کہ ’سپریم کورٹ کے احکامات کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے حکومت نواز ایکٹنگ چیئرمین نیب نے نیب لاہور کے اہم ترین افسران کا تبادلہ کر دیا ہے۔

    ’یہ افسران شہباز شریف، رانا ثنا اللہ، علیم خان، خواجہ آصف اور مریم نواز سمیت اہم ترین شخصیات کے کیسز پر کام کر رہے تھے۔ اب تو قانون جوتے کی نوک بن چکا ہے۔‘

  17. ’پیپلز پارٹی اور ن لیگ مل کر بگاڑ کو ٹھیک کریں گے‘

    حمزہ شہباز

    ،تصویر کا ذریعہPMLN

    وزیر اعلیٰ پنجاب اور پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم احمد محمود نے بدھ کو ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

    اس دوران مخدوم احمد محمود نے کہا کہ آج ن لیگ اور پیپلز پارٹی ساؤتھ پنجاب کے رہنما اکھٹے ہوئے۔ ’سترہ جولائی کے ضمنی انتخابات کے حوالے سے بھی لائحہ عمل پر بات ہوئی۔

    ’پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کی قیادت آئی ہوئی ہے۔ ہماری انتخابی مہم بہت اچھی چل رہی ہے۔ ہم نے سوچا پچھلے تین چار سال میں جو بگاڑ پیدا کیا گیا اس کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ پی پی پی اور ن لیگ مل کر اس بگاڑ کو ٹھیک کریں گے۔ جو مشکل فیصلے کیے وہ پاکستان کے استحکام کے لیے کیے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ آئندہ بھی جو بھی فیصلے ن لیگ اور اس کے اتحادی کریں گے وہ پاکستان کو دیکھ کر کریں گے۔

    اس موقع پر حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اور پنجاب کے عوام کو کہنا چاہتا ہوں ملک و قوم کے لیے یہ جماعتیں اکٹھی ہوئی ہیں۔ چار سال کوڑے کے ڈھیر سڑکوں پر ملتے تھے۔

    ’میرے پاس کابینہ نہیں تھی، میں نے عمران نیازی کی طرح نہیں کہا چھ مہینے اور دے دیں۔۔۔ ہم نے عمران نیازی کی طرح انتقام کی سیاست نہیں کرنی۔ عمران نیازی کی طرح نہیں کرنا ایک طرف آئی ایم ایف سے ڈیل کی اور دوسری طرف تیل کی قیمت کم کردی۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں اور عوام کو اب اس کا فائدہ پہنچایا جائے گا۔

  18. اب تک کی اہم خبریں:

    بارش

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    • اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستانی فوج کے ویٹینری اور فارمز ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے اسلام آباد کے مارگلہ ہلز نیشنل پارک ایریا میں 8068 ایکڑ اراضی پر کیا گیا ملکیتی دعویٰ مسترد کر دیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ای ایٹ میں پاکستان نیوی کے زیر انتظام چلنے والے گالف کورس کی تعمیر کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
    • عید تعطیلات کے بعد پہلے کاروباری روز ڈالر کی قیمت میں دو روپے اور انیس پیسے کا اضافہ ہوا اور قیمت 207.91 سے 210.10 روپے پر بند ہوئی۔ کرنسی ڈیلروں کے مطابق عید تعطیلات کے دوران بیرون ملک سے کم ڈالر آئے جبکہ کاروبار کے پہلے روز درآمدی چیزوں کے لیے ڈالر کی ڈیمانڈ تھی جس نے ڈالر کی قیمت میں اضافہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے ڈیل میں تاخیر نے بھی ڈالر کی قیمت پر منفی اثر ڈالا ہے۔
    • تحریک انصاف نے پنجاب میں 17 جولائی کو ضمنی انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی ہے جس میں پولنگ سے قبل دھاندلی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
    • جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں بدھ کو موسلادھار بارش سے کئی علاقے زیر آب آئے اور پانی گھروں میں بھی داخل ہوا جس کے بعد حکام کی جانب سے نکاسی آب کے خصوصی اقدامات کیے گئے۔
    • محکمہ موسمیات نے آئندہ تین سے چار روز میں کراچی میں موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز نے کہا کہ اندرون سندھ میں کل صبح سے بارشیں ہوسکتی ہیں جبکہ کراچی سمیت سندھ بھر میں اگلے تین سے چار دن میں بارشیں متوقع ہیں۔
    • وزیر اعظم شہباز شریف نے عالمی قیمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا عندیہ دیا تھا اور اس حوالے سے اعلان آج متوقع ہے۔
  19. بی بی سی اردو کے خصوصی لائیو پیج میں خوش آمددید!

    بی بی سی اردو کے اس خصوصی لائیو پیج میں خوش آمدید جہاں پاکستان کی سیاسی و معاشی صورتحال سے متعلق تازہ اطلاعات دی جاتی ہیں۔

    یہاں آپ کو پاکستان کی بدلتی سیاسی و معاشی صورتحال پر دن بھر کی نئی سرگرمیوں سے آگاہ کیا جاتا رہے گا۔

    اس سے قبل دی جانے والی خبروں، تجزیوں اور تبصروں کے لیے آپ ہمارے پرانے لائیو پیج پر جاسکتے ہیں۔

  20. مریم نواز کووڈ سے متاثر ہو گئیں