مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کووڈ سے متاثر ہو گئی ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خاں نے سابق وزیراعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کو 17 جولائی کے دن پنجاب میں ضمنی انتخابات کے موقع پر دنگا فساد سے باز رہنے کی وارننگ جاری کی ہے۔
لائیو کوریج
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر میں کمی, تنویر ملک ، صحافی
،تصویر کا ذریعہState Bank of Pakistan
پاکستان کے مرکزی بینک کے پاس موجود
زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران تقریباً دس کروڑ ڈالر کی کمی دیکھی گئی جو
تقریباًکم ہو کر نو ارب 72 کروڑ ڈالر رہ
گئے ہیں۔
سٹیٹ بینک کے مطابق زرمبادلہ ذخائر
میں کمی کی وجہ بیرونی قرضے کی ادائیگی کی وجہ سے ہوئی۔
ملک کے پاس موجود مجموعی زرمبادلہ کا
حجم پندرہ ارب 61 کروڑ ڈالر رہا۔
ملک کے تجارتی بینکوں کے پاس زرمبادلہ
ذخائر کی مالیت تقریباً پانج ارب نوے کروڑ ڈالر رہی۔
وزیراعظم شہباز شریف: ’جیسے ہی مزید معاشی گنجائش پیدا ہو گی ہم عوام تک ریلیف پہنچاتے رہیں گے‘
پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کے اعلان کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ جیسے ہی مزید معاشی گنجائش پیدا ہو گی، عوام تک ریلیف پہنچاتے رہیں گے۔
انھوں نے اپنی ٹویٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’میں عوام سے ہمیشہ سچی بات کرنے پر یقین رکھتا ہوں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پنجاب کے ضمنی انتخابات: کیا مذہبی جماعتیں ’تیسری قوت‘ بن کر نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہیں؟
’پیٹرول کی قیمت میں کمی کو ریلیف کہیں یا ضمنی الیکشن سے قبل سیاسی فیصلہ‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی شیئر کردہ تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔
پنجاب کے ضمنی الیکشن میں بدامنی کا خطرہ بڑھ گیا، فوج کی تعیناتی یقینی بنائی جائے: الیکشن کمیشن
،تصویر کا ذریعہGetty Images
الیکشن کمیشن نے 17 جولائی کو پنجاب کے 20 حلقوں میں ضمنی انتخابات میں سکیورٹی خدشات کے حوالے سے وزارت داخلہ کو ایک مراسلہ لکھا ہے جس میں الیکشن میں بدامنی کے خطرے کے پیش نظر کوئیک ریسپانس فورس کی تعداد اور فلیگ مارچ بڑھانے کی درخواست کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے ہدایت دی ہے کہ لاہور کے چار اور ملتان کے ایک حلقے میں فوج کی پولنگ سٹیشن کے باہر تعیناتی یقینی بنائی جائے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ رینجرز کی تعیناتی پر اتفاق ہوا تھا البتہ حالیہ رپورٹس کے مطابق بدامنی و تشدد کا خطرہ بڑھ چکا ہے۔ ’دیگر حلقوں میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چوکس رہنے، الیکشن سے پہلے یا دوران تشدد کے واقعات کے سدباب کی ہدایت دی جائے۔‘
الیکشن کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت کے بڑھنے اور پولرائزیشن کی وجہ سے یہ اقدامات ضروری ہیں۔ ’اگر قبل از وقت پُرتشدد واقعات کا سدباب نہ کیا گیا تو حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔‘
ادھر الیکشن کمیشن نے آئی جی پنجاب کو لکھے خط میں کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنے کی ذمہ داری ہے اور حقلوں میں جرائم پیشہ کارروائیوں کو روکنے کے لیے شرپسندوں کو گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے۔
پاکستانی ایوانِ بالا میں عمران خان اور عارف علوی کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کی قرارداد
قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی رولنگ کے بارے میں سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر افنان اللہ خان نے سینیٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان، صدرِ پاکستان عارف علوی، قاسم سوری اور فواد چوہدری کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کے لیے قرارداد جمع کروا دی ہے۔
افنان اللہ نے ٹوئٹر پر قرارداد کی کاپی شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے سینیٹ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قرارداد جمع کروا دی ہے، جن لوگوں نے پاکستان کے آئین کے خلاف سازش کی ہے انھیں آرٹیکل چھ کے تحت سزا دینی چاہیے۔‘
جمع کروائی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’سپریم کورٹ نے فیصلے کے مطابق عمران خان، عارف علوی، قاسم سوری اور فواد چوہدری نے آئین سے تجاوز کیا۔‘
قرارداد میں حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ صدرعارف علوی کے مواخذے کی کارروائی شروع کرے کیونکہ وہ مبینہ غدار ہیں اور انھیں منصب صدارت پر نہیں رہنا چاہیے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کتنی کمی کی گئی؟
،تصویر کا ذریعہFinance Division
فنانس ڈویژن کا کہنا ہے کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں گراوٹ اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے۔
14 جولائی کو جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق سب سے زیادہ کمی ہائی سپیڈ ڈیزل میں 40.54 روپے کی کمی کی گئی ہے۔
بریکنگ, ڈیزل 40 روپے جبکہ پیٹرول 18 روپے فی لیٹر سستا کرنے کا اعلان
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اچھا وقت ضرور آئے گا۔
انھوں نے خطاب کے آخر میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا۔
انھوں نے بتایا کہ ڈیزل کی قیمت میں 40 روپے 54 پیسے فی لیٹر کی کمی، پیٹرول 18 روپے 50 پیسے فی لیٹر کی کمی کی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں آئندہ چند ماہ میں تبدیلی لانی ہے۔ اس کے لیے ٹاسک فورس کی میٹنگ ہو گی اور بہترین فیصلے کیے جائیں گے۔
بریکنگ, تیل کی قیمتیں کم کر رہے ہیں امید ہے آئی ایم ایف سے آخری معاہدہ ہو گا: شہباز شریف
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا قوم سے خطاب میں کہنا تھا کہ حکومت کو تباہ شدہ معیشت ملی۔
ان کا کہنا تھا ’دنیا میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں لیکن پچھلی حکومت نے آئی ایم ایف سے سخت ترین شرائط پر جو معاہدہ کیا تھا جاتے جاتے سابق حکومت نے اس کی دھجیاں بکھیر دیں اور ہمارے لیے باروی سرنگیں بچھا دیں۔‘
ان کا کہنا تھا ’تیل کی قیمتوں میں اچانک کمی کر دی۔ جس کے لیے خزانے میں پیسے موجود نہیں تھے۔ اور یہ کام اس لیے کیا تاکہ ہماری حکومت مشکلات میں گھر جائے۔ دوسری طرف سابق حکومت نے جب دنیا میں گیس کی قیمتیں بہت کم ہو چکی تھیں نہ صرف سٹاک مارکیٹ سے فائدہ حاصل کیا بلکہ گیس کے کم قیمت پر ممکنہ طویل المدتی معاہدے نہیں کیے۔ جس کا خیمازہ قوم بھگت رہی ہے۔‘
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’میں نے وعدہ کیا تھا کہ غلط بیان نہیں کروں گا، ہم نے دل پر پتھر رکھ کر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافہ کیا جس کا یقیناً عام آدمی پر بوجھ ہڑا ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سخت فیصلے کرنے پڑے۔ مگر آج عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں تیزی سے گر رہی ہیں اور آج ہم ان قیمتوں میں کمی کرنے کا موقع ملا ہے۔‘
آئی ایم ایف سے کوشش کے بعد معاہدہ ہو چکا ہے جس کا شہرا وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے۔ امید ہے کہ یہ آئی ایم ایف کے ساتھ آخری معاہدہ ہو۔
بریکنگ, حکومت کوشش کر رہی ہے کہ تحریک انصاف اور فوج کی لڑائی ہو: عمران خان
،تصویر کا ذریعہPTI
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا ملتان میں جلسے سے خطاب میں کہنا تھا کہ حکومت کوشش کر رہی کہ انھیں غدار ثابت کیا جائے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کوشش کر رہی ہے کہ تحریک انصاف اور فوج کی لڑائی ہو۔ ‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری فوج سے لڑائی نہیں ہوگی، وہ ہمارے محافظ ہیں، ہماری لڑائی آپ (حکومت) سے ہوگی۔‘
عمران خان کا کہنا تھا ’غدار وہ ہیں جو اس ملک کا پیسہ چوری کر کے ملک سے باہر محلات خریدتے ہیں۔ غدار وہ نہیں جو سب کچھ بیچ کے اپنے ملک آ جائیں اور ان کا جینا مرنا یہاں ہوں جو کرپشن کے خلاف جنگ لڑتے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں آخری دم تک ان سے لڑوں گا۔ میر صادق اور میر جعفر جیسے لوگوں کو پاکستان کی تاریخ ان کو کبھی معاف نہیں کرے گی جو جو اس سازش میں شامل تھے۔‘
انھوں نے ایک بار پھر سپریم کورٹ سے کہا کہ وہ سازش کے سارے معاملے کی تحقیقات کرے۔
عمران خان پہلا بدقسمت سیاستدان ہے جسے سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ جھوٹا بھی ہے اور آئین شکن بھی: مریم نواز
،تصویر کا ذریعہPMLN
پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ ’دل پر پتھر رکھ کر مشکل فیصلے کیے اور مسلم لیگ نے پاکستان کو بچا لیا ہے اور مشکل دور ختم ہو گیا۔ آنے والے دن خوشخبری لے رک آئیں گے۔‘
کلر سیداں میں جلسے سے خطاب میں مریم نواز کا کہنا تھا شام کو وزیر اعظم شہباز شریف قوم سے خطاب کریں گے۔
مریم نواز کا کہنا تھا ’سپریم کورٹ نے عمران خان کی جھوٹی سیاست کو اڑا کر رکھ دیا۔ یہ پہلا بدقسمت سیاستدان ہے جسے سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ جھوٹا بھی ہے اور آئین شکن بھی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ آئین توڑنے کا مرتکب ہوا۔‘
انھوں نے مطالبہ کیا کہ ان سیاستدانوں کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت غداری کے مقدمے چلنے چاہئیں۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ نے سازش والے بیانیے کو بھی مسترد کر دیا ہے اور کہا کہ سازش کا کوئی ثبوت نہیں دیا۔‘
انھوں نے کہا سپریم کورٹ میں جلسوں کی طرح الزام نہیں لگتے وہاں ثبوت دینا پڑتا ہے۔
انھوں نے عمران خان کی جانب سے دھاندلی کے الزامات کے جواب میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کو چیلنج کیا کہ آکر انتخابات میں شیر کا مقابلے کریں۔
انھوں نے عمران خان کو پنجاب دشمن قرار دیتے ہوئے جلسے کے شرکا سے کہا انھیں اٹھا کر پنجاب سے باہر پھینک دیں۔
رات 12 بجے عدالتیں کھلتی ہیں، سوموٹو لیے جاتے ہیں کیا مراسلے کی تفتیش ضروری کام نہیں تھا: عمران خان
،تصویر کا ذریعہPTI
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ محترم سپریم کورٹ میں سوال پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب صدر عارف علوی نے اعلیٰ عدلیہ کے پاس مراسلہ بھیجا تھا تو کیا سپریم کورٹ کو اس کی تفتیش نہیں کرنی چاہیے تھی۔
پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے کہا سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ سائفر (مراسلے) کے معاملے پر کوئی تفتیش نہیں کی گئی۔
’میں ادب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ سوموٹو لیتے ہیں، رات 12 بجے عدالتیں کھول لیتے ہیں، کیا یہ بڑا کام نہیں تھا جس کی تفتیش ہونی چاہیے تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میرا سوال ہے کہ کروڑ لوگوں کے لیے اس سے بڑی توہین کیا ہو سکتی ہے کہ ایک امریکی انڈر سیکرٹری لوگوں کے منتخب وزیر اعظم کو دھمکی دے رہا ہے کہ اگر اس کو نہیں ہٹواؤ گے میں نے پہلے کابینہ کے سامنے وہ مراسلہ رکھا جس کے میٹنگ منٹس موجود ہیں۔‘
’مراسلہ صرف عمران خان کی توہین نہیں تھی پوری قوم کی توہین تھی۔ میں اس مراسلے کو لے کر کابینہ گیا، قومی سلامتی کمیٹی اور پارلیمان کے سامنے رکھا۔ وہ مراسلہ چیف جسٹس کو بھجوایا گیا تاکہ انکوائری ہو۔ کمیشن بنایا مگر پھر ہماری حکومت چلی گئی۔ اس سے زیادہ میں کیا کر سکتا تھا؟‘
انھوں نے کہا کہ ’میں چاہتا تھا کہ آپ پتا لگاتے کہ ڈونلڈ لو نے کس کو پیغام دیا، کیونکہ سفارت کار تو میرے نیچے تھا، تو پیغام کس کو دیا گیا، اس کی تفتیش کروائیں۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ اگر آپ اس کے اوپر انکوائری نہیں کروائیں گے تو آئندہ کوئی پاکستانی وزیر اعظم سٹینڈ نہیں لے گا، گھٹنوں کے بل امریکہ کے آگے بیٹھ جائے گا۔‘
انھوں نے چیف الیکشن کمشنر کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’سکندر سلطان قوم آپ کو معاف نہیں کرے گی، آپ کس حیثیت میں ہفتے میں سے چار دن لاہور میں موجود رہتے ہیں۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن نے جس طرح صوبوں میں مقامی حکومتوں کا الیکشن کروایا اس میں ہر طرح کی دھاندلی ہوئی۔
’چیف الیکشن کمیشن کی ذمہ داری صاف اور شفاف الیکشن کروانا تھا مگر ہر جگہ انتظامیہ نے مداخلت کی۔‘
اپنے خطاب کے دوران سابق وزیر اعظم نے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی قیادت پر بھی کڑی تنقید کی۔
اس موقعے پر انھوں نے کہا کہ مسٹر ایکس کو حکم ملا ہوا کہ کرپٹ جماعتوں کو الیکشن جتوانا ہے۔ ’مسٹر ایکس کون ہے یہ جلد پتا چل جائے گا۔‘
ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ: اضافی نوٹ کی بنیاد پر کیا آرٹیکل چھ کی کارروائی ممکن ہے؟
بریکنگ, حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں آرٹیکل چھ کی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے: رانا ثنا اللہ
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کے معاملے پر سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ نہ صرف بہت واضح ہے بلکہ حکومت اس پر عملدرآمد کی بھی پابند ہے اور اسی لیے وفاقی حکومت نے آرٹیکل چھ کے تحت ریفرنس دائر کرنے پر کام شروع کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اس پورے معاملے میں آئین کی کھلی خلاف ورزی کی گئی۔
’اس فیصلے کی رو سے صدر، وزیر اعظم، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر نے نہ صرف آئینی طور پر تفویض کردہ مقدس امانت میں خیانت کی بلکہ آئین کے ساتھ بھی فراڈ کیا، جو سب سے بڑا جرم ہے اور اس کی سزا آئین کے آرٹیکل پانچ اور چھ میں درج ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں مطالبہ کرتا ہوں کہ اس فیصلے کے بعد ایوان صدر میں بیٹھے شخص کو اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ فیصلے سے یہ ثابت ہوا کہ عمران خان اپنے ذاتی اور سیاسی مفاد کے لیے قومی مفاد کو داؤ پر لگایا اور آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا۔‘
سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں ممکنہ حکومتی کارروائی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہ فیصلے میں سوال کیا گیا ہے کہ کیا وفاقی حکومت اور پاکستان کی پارلیمان آئین کے خلاف ورزی کے راستے کو کُھلا رکھے گی یا اس کا سدباب کرے گی؟
’ہم نے اس راستے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
’اس معاملے میں آرٹیکل چھ کا قانون کی رو سے ریفرنس بنتا ہے اور دوسرا راستہ یہ اختیار کیا جا سکتا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی اس فیصلے کے تحت ملوث افراد کے خلاف نااہلی کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجا جائے اور الیکشن کمیشن ان کو نہ صرف ڈی سیٹ کرے بلکہ قانون کے مطابق ان کو نااہل قرار دے اور آگے کی کارروائی کا فیصلہ کرے۔‘
آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کرنے کا اختیار عدالت نے پارلیمان اور حکومت پر چھوڑا ہے: اعظم نذیر تارڑ
،تصویر کا ذریعہNational Assembly
سپریم کورٹ کی جانب سے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی رولنگ پر تفصیلی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اور مسلم لیگ ن کے رہنما اعظم نذیر تارڑ نے اسلام آباد میں جمعرات کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی فیصلہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے سازش کے بیانیے میں آخری کیل ثابت ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلے اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل کے اضافی نوٹ میں لکھا گیا کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ بدنیتی پر مبنی تھی، غیر شفاف تھی اور عدم اعتماد کے عمل کو غیر جمہوری طریقے سے متاثر کیا اور اس سلسلے میں آئین کے آرٹیکل پانچ کی خلاف ورزی ثابت شدہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس حوالے سے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کرنے کا اختیار عدالت نے پارلیمنٹ اور حکومت وقت پر چھوڑا ہے کہ وہ جیسے چاہیں اس پر کارروائی کر سکتے ہیں۔‘
اس موقع پر مشیر امور کشمیر قمر الزمان کائرہ نے پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے مقدمے کے بعد شاید ہی یہ پہلا مقدمہ ہے جس میں عدالت نے آرٹیکل چھ لگانے کی بات کی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’آرٹیکل چھ کا مقدمہ صرف حکومت وقت قائم کر سکتی ہے نہ کوئی ادارہ نہ کوئی فرد قائم کر سکتا ہے۔‘
بریکنگ, ہمارے ہاں اسٹیبلشمنٹ کے منھ کو لہو لگا ہوا ہے کہ انھوں نے سیاسی فیصلے کرنے ہیں: فواد چوہدری
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان
کے سابق وزیرِ اطلاعات و نشریات اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے
گذشتہ روز سپریم کورٹ کی جانب سے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی رولنگ پر تفصیلی فیصلے پر
تنقید کی ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری نے ججوں اور جنرلز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمارے ہاں اسٹیبلشمنٹ کے منھ کو لہو لگا ہوا ہے کہ انھوں نے سیاسی فیصلے کرنے ہیں۔ یہ بدقسمتی سے پاکستان کی تاریخ ہے جو بدل جائے گی، پاکستان کے عوام کو حق کو فیصلوں کا حق دینا ہو گا۔‘
فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ نہیں ہو سکتا کہ ہمارے کچھ جنرلز اور ججز بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کر دیں کہ آج سے ہماری پالیسی یہ ہو گی اور اگلے دن ہم بدل جائیں۔
’ایک ہم فیصلہ کر لیں کہ آٹھ سال ہم نے افغانستان میں لڑائی لڑنی ہے وہاں پر ہم ہزاروں لوگ شہید کروا لیں اگلے دن ہم بدل جائیں کہ نہیں وہ ہماری پالیسی غلط تھی آج سے ہم دوسری طرف ہو گئے ہیں ہم پھر اپنے ہزاروں بندے مروا لیں۔ پاکستان میں جس طرح سے پالیسیاں بن رہی ہیں یہ تو مذاق ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے سیاسی فیصلے سیاسی میدان میں ہی ہونے چاہییں۔ ججوں اور جنرلز نے ایک کریئر چنا ہے اور اس کے وقار کے مطابق فیصلے ہونے چاہییں یہ نہیں ہو سکتا کہ کرنی ہم نے ججی ہے، ہم نے فوج میں کمیشن لیا ہو لیکن کرنی ہم نے سیاست ہے۔‘
انھوں نے فیصلے میں سائفر سے متعلق تذکرے پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ ’اٹارٹی جنرل خالد جاوید، اس کے بعد علی ظفر اور پھر امتیاز صدیقی کی جانب سے بار بار سائفر پر زور دیا جا رہا تھا لیکن ججوں کی جانب سے کہا گیا کہ نہیں سائفر کے بارے میں تفصیل سے بات نہ کریں۔
’ایک طرف آپ تحقیقات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اور دوسری طرف یہ کہہ رہے ہیں کہ تحقیقات نہیں کی گئیں اور بات نہیں ہوئی۔ بہت لوگوں کو پتا ہے کہ آپ سائفر کی تحقیقات کیوں نہیں کرنا چاہ رہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جان بولٹن نے کل اعتراف کیا ہے کہ امریکہ دنیا میں اقتدار کی تبدیلیوں میں ملوث رہا ہے، لیکن ہماری سپریم کورٹ کہہ رہی ہے کہ نہیں نہیں اس میں نہ جائیں۔‘
الیکشن کمیشن کا ’ووٹوں کے بدلے موٹر سائیکل‘ کی مبینہ پیشکش کرنے پر زین قریشی کے خلاف انکوائری کا حکم, ترہب اصغر، نامہ نگار بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہTwitter/@PTIOfficialMTN
الیکشن کمیشن پنجاب کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار
برائے صوبائی اسمبلی زین قریشی کی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا ہے۔
الیکشن کمیشن پنجاب کے مطابق 17 جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں پی پی 217 ملتان سے تحریک انصاف کے امیدوار زین قریشی پر سوشل میڈیا پر چلنے والی ایک ویڈیو کے بعد انکوائری کا حکم دیا گیا ہے جس میں وہ مبینہ طور پر ’10 ووٹوں کے بدلے ایک موٹر سائیکل دینے کی پیشکش کر رہے ہیں۔‘
انکوائری رپورٹ آج شام تک متوقع ہے جس کے بعد ہی الیکشن کمیشن کی جانب سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی پر آئی ایم ایف کو اعتراض نہیں، قیمتوں میں کمی کا اطلاق آج ہی کیا جائے گا: مفتاح اسماعیل
پاکستان کے وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے اسلام آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی پر آئی ایم ایف کو کوئی اعتراض نہیں ہے اور قیمتوں میں کمی کا اطلاق آج ہی کیا جائے گا۔
مقامی میڈیا پر نشر ہونے والی خبروں کے مطابق مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم عوام کو فوری ریلیف دینا چاہتے ہیں اس لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے لیے 15 جولائی تک کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔
بریکنگ, آئی ایم ایف معاہدے کے بعد ڈالر کی قیمت میں ایک گھنٹے میں ایک روپے کی کمی, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہVITORIA HOLDINGS LLC
پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے اور اس کے تحت 1.17 ارب ڈالر کی اگلی قسط کے جلد جاری ہونے کی پیش رفت کے بعد پاکستانی روپے کی قدر میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
انٹر بینک میں جمعرات کے روز کاروبار کے آغاز پر ڈالر کہ قیمت میں کمی دیکھی گئی اور کاروبار کے پہلے گھنٹے میں ایک ڈالر کی قیمت میں ایک روپے کی کمی دیکھی گئی۔
گذشتہ روز ایک ڈالر کی قیمت 210.10 روپے پر بند ہوئی تھی جو جمعرات کے روز 209 کی حد تک گر گئی ہے۔
کرنسی ڈیلروں کے مطابق ڈالر کی قیمت کی کمی کی وجہ پاکستان کا آئی ایم ایف سے ہونے والا معاہدہ ہے جس کی وجہ سے سے ملک کے زرمبادلہ ذخائر پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے جو مسلسل کم ہو رہے ہیں۔