آئی ایم ایف پروگرام آن ٹریک ہے، معطلی یا تاخیر کی خبروں میں صداقت نہیں: وزیرخزانہ

پاکستان کے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کا پروگرام ملتوی ہونے کے خبروں کی تردید کرتے ہوئے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام آن ٹریک ہے، پروگرام ملتوی یا تاخیر کا شکار ہونے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب پر لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج، سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ آج ہی سماعت کرے گا

    Hamza

    ،تصویر کا ذریعہPMLN

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب پر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست منظور کرتے ہوئے آج ہی سماعت کے لیے مقرر کر دی ہے۔

    سپریم کورٹ نے اس معاملے پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ قائم کر دیا ہے جو جمعے کو دن ڈیڑھ بجے سماعت کرے گا۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بننے والے تین رکنی بنچ میں ان کے علاوہ جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہیں۔

    SC

    ،تصویر کا ذریعہSC

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی ہے کہ حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ کے عہدہ سے ہٹایا جائے تاکہ صاف شفاف الیکشن ہوسکیں اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کی کامیابی کا نوٹس فیکیشن معطل کرتے ہوئے درخواست پر فیصلے تک وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب روکا جائے۔

  2. پنجاب میں حکومت سازی کے لیے کتنے ارکان درکار ہیں؟

    Punjab Assembly

    پنجاب میں حکومت سازی کے لیے 186 ارکان کی سادہ اکثریت ضروری ہے جبکہ اس وقت ایوان میں کسی بھی جماعت کے پاس سادہ اکثریت نہیں ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے گذشتہ روز کے فیصلے کے مطابق آج ہونے والے اجلاس میں دوسری گنتی میں جس جماعت کے پاس ایوان میں موجود ممبران کی تعداد زیادہ ہوگی وہ قائد ایوان منتخب ہوگا۔

    پنجاب اسمبلی کے ایوان میں کل اراکین کی تعداد 371 ہے۔ ایوان میں مسلم لیگ ن کے اراکین کی کل تعداد 165 تھی جن میں سے ایک منحرف رکن فیصل نیازی نے اپنا استعفی سپیکر پنجاب اسمبلی کو پیش کر رکھا ہے۔ جنھوں نے اس استعفی کو ابھی تک الیکشن کمیشن کو نہیں بھجوایا۔

    یوں اس وقت پنجاب اسمبلی کے ایوان میں پاکستان مسلم لیگ ن کے اراکین کی تعداد 164 ہے۔

    جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سات، آزاد ارکان چار اور راہ حق پارٹی کے ایک رکن کا تعلق موجودہ حکومتی اتحاد سے ہے جس کے بعد یہ کل تعداد 176 بنتی ہے۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کی کل تعداد 183 تھی۔ جن میں سے 25 منحرف اراکین ڈی سیٹ ہوئے ہیں۔ جس کے بعد پی ٹی آئی کے باقی اراکین کی تعداد 158 بنتی ہے۔

    اتحادی مسلم لیگ ق کے اراکین کی تعداد 10 ہے۔ اور اسمبلی میں اس وقت اپوزیشن اتحاد کے اراکین کی کل تعداد 168 ہے۔

    ایک آزاد رکن چوہدری نثار نے ابھی تک حکومتی و اپوزیشن اتحاد میں سے کسی کی حمایت کا فیصلہ یا اعلان نہیں کیا ہے۔

    حمزہ شہباز کو اس وقت آٹھ ممبران کی برتری حاصل ہے۔ قائد ایوان کے انتخاب میں نمبر گیم حمزہ شہباز کے حق میں ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ان کے چھ ارکان حج کے لیے گئے ہیں جبکہ پانچ ارکان ملک سے باہر ہیں۔ اس طرح 11 ارکان کی کمی سے اپوزیشن کی عددی طاقت مزید کم ہو جائے گی۔

  3. وزیر اعلی پنجاب کے انتخاب کے لیے صوبائی اسمبلی کا اجلاس آج چار بجے ہو گا

    Punjab Assembly

    وزیر اعلی پنجاب کے انتخاب کے لیے صوبائی اسمبلی کا اجلاس آج چار بجے ہوگا۔ پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے شیڈول اورایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے۔

    اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر سردار دوست مزاری کریں گے۔ لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق یہ صوبائی اسمبلی کا 40 واں اجلاس ہوگا جس میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے عمل کو مکمل کیا جائے گا۔

    وزیر اعلی پنجاب کے لیے مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کے امیدوار حمزہ شہباز ہیں جبکہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے امیدوار چوہدری پرویزالہی ہیں۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے صاف و شفاف انتخاب کے انعقاد کے لیے اسمبلی سیکرٹریٹ نے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا۔

    سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی کی جانب سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کے مطابق اراکین اسمبلی اور اسمبلی عملے کے مہمانوں کے داخلے پر مکمل پابندی ہو گی۔

    سپیکر باکس ، آفیسر باکس اور مہمانوں کی گیلریز مقفل ہوں گی۔ جبکہ میڈیا پریس گیلری کے ذریعے وزیر اعلیٰ پنجاب کے الیکشن کی کوریج کرے گا۔

    ایوان میں موبائل فون لے جانے پر پابندی ہو گی۔

  4. بریکنگ, وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب: پاکستان تحریک انصاف نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    Supreme Court

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف نے گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب پر فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے کے لیے الیکشن کے حوالے سے دوبارہ گنتی کروانے کا حکم دے دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ دوبارہ گنتی میں منحرف ارکان کے ووٹوں کو شمار نہ کیا جائے۔

    پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ سے استدعا کی گئ ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل منظور کی جائے۔

    پی ٹی آئی نے دائر درخواست میں استدعا کی ہے کہ حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ کے عہدہ سے ہٹایا جائے تاکہ صاف شفاف الیکشن ہوسکیں اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کی کامیابی کا نوٹس فیکیشن معطل کرتے ہوئے درخواست پر فیصلے تک وزیراعلیٰپنجاب کا انتخاب روکا جائے۔

    Hamza Shahbaz

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پی ٹی آئی نے درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں وزارت اعلیٰ کا الیکشن فوری معطل کیا جائے اور ہائیکورٹ کے فیصلہ کو تبدیل کرکے اجلاس بلانے کا مناسب وقت دیا جائے۔

    پی ٹی آئی نے یہ بھی استدعا کی ہے کہ پی ٹی آئی اراکین پنجاب اسمبلی کو اجلاس میں شرکت کے لیے مناسب وقت دینا ضروری ہے۔ فریقین کو صاف اور شفاف الیکشن کا آئینی حق حاصل ہے۔

    درخواست پاکستان تحریک انصافکے وکیل فیصل چوہدری اور امتیاز صدیقی کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ تحریک انصاف نے اپیل آج ہی سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا بھی کی ہے۔

    تحریک انصاف کے وکیل فیصل چوہدری نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے غیر قانونی فیصلے کیخلاف اپیل دائر کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں کئی ابہام ہیں،

    انھوں نے کہا کہ حمزہ شہباز کو وزرات اعلیٰ سے ہٹا دینا چاہیے تھا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کے حقوق سلب کیے گئے ہیں۔ اگر پہلا الیکشن غلط تھا تو دوسرا راؤنڈ کیسے ہوسکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے کچھ ارکان اسمبلی عمرے کی ادائیگی کے لیے گئے ہوئے ہیں، اگر وزیر اعلی کا انتخاب کرانا ہے تو مناسب وقت دیا جائے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا اتنا جلدی الیکشن کرانے کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ اور انھیں سپریم کورٹ سے امید ہے کہ آج ہی اس اہم معاملے پر سماعت کی جائے گی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر متنازعہ شخصیت ہیں۔

  5. چینی قرضے سے ملکی زرمبادلہ ذخائر 16 ارب ڈالر کی حد عبور کر گئے, تنویر ملک، صحافی

    چینی قرضے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مسلسل کمی کا رجحان چینی قرض کی وصولی کے بعد رُک گیا ہے جب ملکی زرمبادلہ ذخائر سولہ ارب ڈالر کی حد عبور کر گئے۔

    پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں بڑھتی درآمدات اور بیرونی قرضے کی ادائیگی کی وجہ سے گذشتہ کئی ہفتوں سے کمی دیکھی جا رہی تھی۔

    چین بینکوں کی جانب سے پاکستان کے لیے گذشتہ دنوں 2.3 ارب ڈالر قرض کی منظوری اور اس کی وصولی کے بعد سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر 14.120 ارب ڈالر سے بڑھ کر 16.196 ارب ڈالر ہو گئے۔

    تاہم تجارتی بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر میں کمی دیکھی گئی جو 5.973 ارب ڈالر کی سطح سے گر کر 5.887 ارب ڈالر ہوگئے ہیں۔

  6. پی ٹی آئی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد کر دیا

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو مسترد کر دیا ہے۔

    سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی اسد عمر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ جب پی ڈی ایم اپوزیشن میں تھی تو اُنھیں پیٹرول کی قیمتوں پر تکلیف ہوتی تھی لیکن اپنے دور میں یہ عوام پر ’پیٹرول بم‘ گرا رہے ہیں۔

    اسی طرح سے پی ٹی آئی رہنما اظہر مشوانی نے لکھا کہ مسلم لیگ (ن) نے عوام سے وعدہ کیا تھا پیٹرول 100 روپے فی لیٹر سے بھی سستا کریں گے مگر اب تک یہ حکومت پیٹرول پر 100 روپے اور ڈیزل پر 133 روپے بڑھا چکی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. مفتاح اسماعیل: آئی ایم ایف معاہدے کے تحت پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی عائد کی گئی

    مفتاح اسماعیل

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد وفاقی وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس کی۔ اُنھوں نے کہا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے آئی ایم ایف سے وعدہ کیا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کی مد میں ہر ماہ چار چار روپے کا اضافہ کیا جائے گا۔

    اُنھوں نے کہا کہ اس طرح فروری تک 21 روپے نافذ کر دیے گئے تھے مگر پھر اُنھوں نے تحریکِ عدم اعتماد کی وجہ سے آئی ایم ایف سے کیا گیا معاہدہ توڑ دیا گیا، جس کے باعث ملک ’دیوالیہ پن کے قریب‘ پہنچ گیا تھا۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اب موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ بحال کر لیا ہے اور اس لیے حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات پر پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی عائد کرنی پڑی۔

    اُنھوں نے کہا کہ قیمتوں میں موجودہ اضافے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے فرق کے ساتھ ساتھ پی ڈی ایل بھی شامل ہے۔

    نئی قیمتوں میں پیٹرول پر 10 روپے اور ڈیزل پر پانچ روپے پی ڈی ایل لگائی گئی ہے۔

  8. پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پھر اضافہ: پیٹرول 14.85 جبکہ ڈیزل 13.23 روپے مہنگا

    حکومت نے ایک مرتبہ پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 14.85 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 13.23 روپے کا اضافہ کر دیا ہے۔

    حالیہ اضافے کے بعد فی لیٹر پیٹرول کی قیمت 233.89 روپے سے بڑھ کر 248.74 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت 263.31 روپے سے بڑھ کر 276.54 روپے ہو گئی ہے۔

    اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت 18.83 روپے کے اضافے کے بعد 230.26 روپے ہو گئی ہے۔

    نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہو گا۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اعلان کے بعد پیٹرول پمپوں پر بہت زیادہ رش دیکھا جا رہا ہے۔

    لاہور سے نمائندہ بی بی سی عمر دراز کے مطابق سی ٹی او لاہور منتظر مہدی نے شہر کے مصروف پیٹرول پمپوں کے باہر پٹرولنگ آفیسر تعینات کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ سرکل افسران کو مصروف سڑکوں کے دوروں کی ہدایت کی ہے تاکہ سڑکوں پر ٹریفک میں خلل واقع نہ ہو۔

    پیٹرول

    ،تصویر کا ذریعہFinance Ministry

  9. بریکنگ, حمزہ شہباز کا وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب: لاہور ہائیکورٹ کا دوبارہ گنتی کا حکم، جمعے کو اسمبلی اجلاس بلانے کی ہدایت

    Hamza Shahbaz

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لاہور ہائی کورٹ نے حمزہ شہباز کے بطور وزیراعلٰی پنجاب انتخاب کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ گنتی کا حکم دیا ہے۔

    لاہور ہائی کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے جمعرات کے روز سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت نئےانتخانات کا حکم نہیں دے سکتی۔

    پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان مسلم لیگ ق کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ پریزائیڈنگ افسر کے نوٹیفیکشن کو کالعدم کرنے کا بھی نہیں کہا جا سکتا۔

    عدالت نے حکم دیا کہ منحرف اراکین کے 25 ووٹ نکال کر دوبارہ گنتی کی جائے۔ دوبارہ رائے شماری میں اکثریت لینے والا امیدوار کامیاب قرار پائے گا۔

    عدالت نے دوبارہ گنتی کے لیے جمعہ کے روز پنجاب اسمبلی کا اجلاس چار بجے طلب کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    عدالت نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہےکہ نئے الیکشن کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔دوبارہ الیکشن کا حکم سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہو گا۔

    عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ’ہم پریزائڈنگ افسر کے نوٹیفکیشن کو کالعدم کرنے کا بھی نہیں کہہ سکتے۔ عدالت پریزائڈنگ افسر کا کردار ادا نہیں کر سکتی۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ منحرف ارکان کے 25 ووٹ نکال کر دوباری گنتی کی جائے، دوبارہ رائے شماری میں جس کی اکثریت ہو گی وہ جیت جائے گا۔

    عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی کو مطلوبہ اکثریت نہیں ملتی تو آرٹیکل 130 چار کے تحت سیکنڈ پول ہو گا۔

  10. لوڈشیڈنگ بحران تحریک انصاف حکومت کی غفلت کی وجہ سے پیدا ہوا، احسن اقبال

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے ملک میں جاری لوڈشیڈنگ بحران کا ذمہ دار تحریک انصاف حکومت کو قرار دیا ہے۔

    اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ’میں نے ماضی میں کہا تھا کہ گرمیوں میں ملک میں گیس کا بحران پیدا ہونے جا رہا ہے۔‘

    ’اس وقت کی حکومت گیس کو حاصل کرنے اور لانگ ٹرم کنٹریکٹ کرنے میں ناکام رہی جب گیس سستی تھی۔ اسی وجہ سے ساڑھے تین ہزار میگا واٹ سے زیادہ گیس سے چلنے والے منصوبے بند پڑے ہیں۔ ملک میں گیس نہیں ہے۔‘

    احسن اقبال نے کہا کہ ’گیس خریدنے کے لیے چھ آٹھ ماہ پہلے کارروائی کی جاتی ہے۔ جب معاہدے کرنے چاہیے تھے، اس وقت گذشتہ حکومت نے غفلت کی جس کی سزا آج پاکستان کی عوام بھگت رہی ہے۔‘

  11. میرا پارٹی کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں، اختلاف کی خبریں محض پراپیگنڈا ہیں: شاہ محمود قریشی

    شاہ محمود قریشی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ملتان میں صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 217 میں ہونے والے ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران اپنے ایک خطاب میں کہا ہے کہ سنہ 2018 کے عام انتخابات میں وہ ملتان سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر الیکشن ہارنے کی وجہ ان کی اپنی پارٹی تحریک انصاف تھی۔

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ اُن کے خلاف ان کی اپنی پارٹی نے سازش کی تھی۔

    اس بیان کے بعد بی بی سی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود نے وضاحت کی ہے کہ وہ اپنے بیان میں تحریک انصاف کے ان سابق رہنماؤں کی جانب اشارہ کر رہے تھے جو آج پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ ن کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں اس طرح کی خبریں کہ میرا پارٹی کے ساتھ آج کل کوئی اختلاف چل رہا ہے ’محض پراپیگنڈا ہیں۔‘

    بدھ کو ملتان کے حلقہ پی پی217 میں ہونے والے ضمنی الیکشن کی مہم کے دوران ایک کارنر میٹنگ سے خطاب میں شاہ محمود قریشی نے کہا `کہ سال 2018 کے جنرل الیکشن میں میری پارٹی نے ہی میرے خلاف سازش کرتے ہوئے مجھے صوبائی اسمبلی کی سیٹ سے ہروایا۔‘

    تاہم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اس سازش سے انھیں کوئی فرق نہیں پڑا، وہ تو وزیر خارجہ بن گئے، مگر ملتان کو فرق پڑا اور جنوبی پنجاب کو فرق پڑا۔

    انھوں نے کہا کہ ’برملا کہہ رہا ہوں اور خان کو بھی کہا ہے کہ آج پنجاب کی یہ کیفیت نہ ہوتی اگر شاہ محمود یہاں سے جیت گیا ہوتا۔‘

    کارنر میٹنگ سے خطاب میں شاہ محمود نے کہا کہ لوگوں نے انھیں کہا کہ ضمنی الیکشن اپنے بیٹے کو مت ہرائیں، لوگ کہیں گے وائس چئیرمین کا بیٹا ہار گیا تو بے عزتی ہو گی۔

    وہ کہتے ہیں کہ `میں نے ان سے کہا کہ کچھ جنگیں صرف جیتنے کے لیے نہیں لڑی جاتیں۔‘

    واضح رہے کہ 2018 میں شاہ محمود قریشی کو پی پی 217 سے تحریک انصاف ہی سے تعلق رکھنے نوجوان آزاد امیدوار محمد سلمان نے شکست دی تھی جو پارٹی ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اترے تھے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود نے کہا کہ محمد سلمان کو پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیا تھا اور طے تو یہ پایا تھا کہ جسے پارٹی ٹکٹ نہیں دے گی وہ ٹکٹ ملنے والے کے حق سے دستبردار ہو گا تاہم سلمان دستبردار نہیں ہوئے تھے اور تحریک انصاف کے ہی لوگوں نے انھیں سپورٹ کیا جو آج ن لیگ کے ساتھ ہیں۔

  12. اسلام آباد انتظامیہ جلسے کی اجازت دینے سے گریز کر رہی ہے: اسد عمر

    پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل اسدعمر کا کہنا ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے جلسے کی اجازت دینے سے گریز کیا جا رہا ہے۔

    ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ عمران خان کی عوام میں مقبولیت سے خوفزدہ ہو کر حکومت 2 جولائی اسلام آباد جلسے کے منظوری دینے میں حیلے بہانے کر رہی ہے۔

    اسد عمر کا کہنا تھا کہ ’یہ الیکشن سے بھاگ رہے ہیں، جلسوں سے ڈر رہے ہیں۔‘

  13. بریکنگ, ڈالر کی قیمت میں 1.75 روپے کی بڑی کمی, تنویر ملک، صحافی

    ڈالر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں بدھ کے روز 1.75 روپے سے زائد کی بڑی کمی دیکھی گئی۔

    سٹیٹ بینک کے مطابق انٹر بینک میں گذشتہ روز206.87 روپے پر بند ہونے والی ایک ڈالر کی قیمت بدھ کے روز 205.12 روپے تک گر گئی۔

    ڈالر کی قیمت گذشتہ بدھ کو 211.93 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی اس میں سب تک تقریباً سات روپے کی کمی دیکھی گئی جو کرنسی ڈیلرز کے مطابق ملک کے بیرونی معاشی فرنٹ پر آنے والی کچھ مثبت خبریں ہیں۔

    ان کے مطابق پہلے چینی بینکوں کی جانب سے 2.3 ارب ڈالر کا قرضہ پاکستان کو ملا تو سب آئی ایم ایف کے پروگرام پر پیش رفت کی توقع پر ڈالر کی قیمت میں کمی دیکھی گئی۔

  14. پاکستان میں کووڈ کے نئے ویرینٹ کا پھیلاؤ: رش والی جگہوں پر کووڈ ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت

    کووڈ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں کووڈ کی صورتحال پر جائزہ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزرا عبدالقادر پاٹیل، رانا ثناء اللہ، شیری رحمن، چیئرمین این ڈی ایم اے سیکرٹری اطلاعات، سیکرٹری نیشنل ہیلتھ سروسز اور متعلقہ اعلی افسران کے علاوہ چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکٹریز کی وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

    اس دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف نے رش والی جگہوں پر COVID ایس او پیز یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں۔

    ہدایت کے مطابق مکمل ویکسینیشن، بوسٹر ڈوز، ماسک، سینیٹائزر کا استعمال اور سماجی فاصلے کا خیال رکھنا ضروری ہوگا۔ عید الاضحی پر مویشی منڈیوں، شادیوں اور نجی محافل میں ماسک اور سینیٹائزر کا استعمال یقینی بنائیں۔

    وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ چیف سیکرٹریز صوبوں میں تمام اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

    اجلاس کو پاکستان سمیت عالمی سطح پر اس وقت کووڈ کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ دنیا بھر میں کووڈ کے کیسسز کی تعداد میں مجموعی طور پر کمی کا رجحان ہے۔

    گذشتہ اومیکرون کی لہر کے بعد اومی کرون کا نیا ویرینٹ حال ہی میں پاکستان میں کووڈ کیسز میں اضافے کا باعث بن رہا ہے جس کی وجہ سے 28 جون کو قومی شرح 3 فیصد سے تجاوز کر گئ۔ نئے ویرینٹ میں ہاسپٹلائیزیشن کی شرح پہلی تمام کووڈ لہروں سے کم ریکارڈ کی گئی ہے۔

    اجلاس کو ملک میں ویکسینیشن کی موجودہ صورتحال پر بھی آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک کی اس وقت 12 سال سے زائد 86 فیصد آبادی مکمل طور پر ویکسینیٹڈ ہے جبکہ 93 فیصد کو کم از کم ایک ڈوز لگ چکی ہے۔ پاکستان میں اس وقت ویکیسنیشن لگانے کی استعداد 2 لاکھ یومیہ سے زیادہ ہے۔

    اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ سندھ میں اس وقت تک پوری آبادی کو مکمل طور ویکسینیٹ کر لیا گیا ہے. جبکہ پنجاب اور دیگر صوبوں میں بھی ویکسینیشنن کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ بارڈر پر بیرونِ ملک آمدو رفت کی بھی کڑی نگرانی کے لیے اقدامات اور فاسٹ ٹریک ایپ کو صارفین کیلئے آسان اور بہتر بنایا جا رہا ہے۔

    وزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام کو نہ صرف کووڈ ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے بلکہ اس حوالے سے عوامی آگاہی بڑھانے کی بھی ہدایات جاری کیں۔

  15. پی ٹی اے کا انڈیا میں پاکستان کے سرکاری ٹوئٹر اکاؤٰنٹس کی بحالی کے لیے ٹوئٹر سے رابطہ

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اس نے پاکستانی سفارت خانوں کے سرکاری اکاؤنٹس کی بحالی کے لیے ٹوئٹر سے رابطہ کیا ہے۔

    پی ٹی اے کی پریس ریلیز کے مطابق انڈیا میں پاکستانی سفارت خانوں اور دیگر اہم شخصیات کے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹس بلاک کیے گئے ہیں جس کے بعد یہ معاملہ ٹوئٹر کے ساتھ اٹھایا گیا ہے۔

    پی ٹی اے نے پلیٹ فارم پر زور دیا کہ وہ اپنے متعصبانہ رویے پر نظر ثانی کرے اور انڈیا میں سرکاری پاکستانی اکاؤنٹس کی بحالی کے حوالے سے قدم اٹھائے۔

  16. حکومت نے روس سے خام تیل کی درآمد کے لیے تجاویز طلب کر لیں, تنویر ملک، صحافی

    oil

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حکومت نے ملک کے تیل کے شعبے سے روس سے خام تیل کی درآمد کے لیے تجاویز طلب کی ہیں۔

    پاکستان کی وزارتِ توانائی کی جانب سے ملک میں کام کرنے والی ریفائنریوں کو لکھے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ وہ حکومت کو روس سے خام تیل کی درآمد کے لیے تجاویز دیں۔

    وزارت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں قابلِ عمل تجاویز فراہم کریں۔

    خیال رہے کہ روس سے خام تیل کی درآمد پاکستان میں تحریک انصاف کی سابقہ حکومت اور موجودہ حکومت جس کی سربراہی پاکستان مسلم لیگ نواز کر رہی ہے کے درمیان بحث کا موضوع رہا ہے۔

    سابق وزیر توانائی حماد اظہر نے روس سے تیل کی درآمد کے لیے لکھے گئے خط کو سوشل میڈیا پر جاری کیا تھا جبکہ موجودہ حکومت کے مطابق روس نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

    پاکستان اس وقت عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے مالی مشکلات کا شکار ہے اور اسے اس کا بوجھ مقامی صارفین کو منتقل کرنا پڑا جبکہ سابقہ حکومت کے دعوے کے مطابق روس 30 فیصد رعایتی نرخوں پر خام تیل دینے کے لیے تیار تھا۔

  17. بریکنگ, پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 15 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا, تنویر ملک، صحافی

    reserve

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    موجودہ مالی سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 15 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔

    یہ گذشتہ مالی سال کے گیارہ مہینوں کے مقابلے میں 131 فیصد زیادہ ہے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق گذشتہ مالی سال کے ان مہینوں میں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر تھا تاہم موجودہ مالی سال کے آغاز سے ہی اس میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا جو گیارہ مہینوں میں 15.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

    ملک کے بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی وجہ درآمدات کا بڑھتا ہوا بل ہے جس کی وجہ تیل، گیس اور اجناس کی عالمی مارکیٹ میں ریکارڈ قیمتیں ہیں اور ملک کو مقامی ضرورت پورا کرنے کے لیے ان اشیا کی درآمد پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی وجہ سے ملکی زرمبادلہ ذخائر بھی کم ترین سطح تک پہنچ چکے ہیں کیونکہ ملک میں برآمدات اور ترسیلات زر سے آنے والے ڈالر درآمدات کی صورت میں باہر جانے والے ڈالروں سے بہت کم ہیں۔

  18. لاہور ہائی کورٹ کا وزیرِ اعلٰی پنجاب کے انتخاب، حلف برداری کے بارے میں دائر درخواستوں پر فیصلہ آج متوقع, عمر دراز ننگیانہ، نامہ نگار بی بی سی اردو لاہور

    lahore high court

    ،تصویر کا ذریعہlhc.gov.pk

    پنجاب کے وزیراعلٰی کے انتخاب اور حلف برداری کے خلاف پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ ق اور سپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں پر لاہور ہائی کوrٹ کا پانچ رکنی بنچ بدھ کے روز متوقع طور پر فیصلہ سنائے گا۔

    پانچ رکنی بنچ کی سربراہی کرنے والے جسٹس صداقت علی خان نے منگل کے روز سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلا اور حکومتی وکیل سے اس نقطے پر رائے طلب کی تھی کہ اگر وزیراعلٰی کا انتخاب دوبارہ پرانی پارٹی پوزیشن پر کروا دیا جائے تو کیا بحران کا حل نکل سکتا ہے۔

    سپیکر پنجاب اسمبلی سمیت پی ٹی آئی اور ق لیگ نے لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ کے ان فیصلوں کو چیلنج کر رکھا تھا جن کے تحت وزیرِاعلٰی پنجاب کے عہدے کے لیے انتخاب اور بعد ازاں حلف برداری کی تقریب منعقد کروائی گئی تھی۔

  19. شہباز شریف: آئی ایم ایف دو ارب ڈالر دے گا، مگر خود انحصاری اصل منزل ہے

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کو دو ارب ڈالر دینے پر رضامند ہے۔ منگل کو اسلام آباد میں وزارتِ منصوبہ بندی کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اُنھیں مفتاح اسماعیل نے یہ بات بتائی ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کو ایک نہیں بلکہ دو ارب ڈالر دینے کے لیے تیار ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ اصل مقصد خود انحصاری ہے جو کہنا آسان ہے لیکن حاصل کرنا مشکل ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ خود انحصاری ہی کسی قوم کی معاشی و سیاسی آزادی کی ضمانت ہو سکتی ہے۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ مالدار طبقے کی اکثریت نے سپر ٹیکس کو قبول کر لیا ہے جس سے حکومت کو 230 ارب روپے کی آمدن ہو گی۔

    اُنھوں نے کہا کہ یہ پیسے جاری اخراجات پر نہیں بلکہ معاشی ترقی کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ شہباز شریف نے کہا کہ ان ترقیاتی منصوبوں کے متعلق بہت جلد پالیسی وضع کر لی جائے گی۔

  20. کراچی میں بجلی کی بندش کے خلاف شہریوں کا احتجاج، ماڑی پور روڈ میدان جنگ بن گیا, ریاض سہیل، نامہ نگار بی بی سی، کراچی

    کراچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بجلی کی بندش کے خلاف کراچی کے علاقے ماڑی پور روڈ پر احتجاج کرنے والے شہریوں پر پولیس نےلاٹھیاں برسائیں ہیں اور شیلنگ کی۔

    پولیس شیلنگ کے بعد رینجرز اور پولیس نے لاٹھی چارج کرکے لوگوں سے بندرگاہ جانے والی سڑک ماڑی پور روڈ کو خالی کروا لیا۔

    کراچی کے علاقے ماڑی پور پر بجلی کی طویل بندش کے خلاف شہری گزشتہ روز سے سراپا احتجاج ہیں جبکہ بندرگاہ کو جانے والی اہم شاہراہ ماڑی پور روڈ 20 گھنٹوں سے ٹریفک کے لیے بند ہے۔

    انتظامیہ سے مذاکرات ناکام ہونے پر مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور بجلی کی فراہمی تک احتجاج ختم کرنےسے انکار کر دیا۔

    اس ضمن میں شدید احتجاج لیاری کے علاقوں میں دیکھا گیا جہاں شہر کی غریب مزدور آبادی رہتی ہے، تنگ گلیوں میں چھوٹے چھوٹے مکانات میں یہ لوگ آباد ہیں، اسحاق ہنگورو نامی شہری نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کو چار بجے انھوں نے احتجاج کا آغاز کیا تھا۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’چودہ سے پندرہ گھنٹے بجلی نہیں ہے اعلانیہ لوڈشینگ کے مطابق تین تین گھنٹے یعنی نو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ تھی لیکن اب یہ سلسلہ برداشت سے باہر ہوگیا ہے، نہ صبح، نہ شام اور نہ رات کا خیال کیا جاتا ہے لوگ گھر میں سو نہیں پاتے جبکہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پینے کا پانی تک دستیاب نہیں ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ پہلے جب بجلی کی عدم دستیابی پر وہ ماڑی پور روڈ بند کرتے تھے تو کے الیکٹرک بجلی بحال کردیتی تھی لیکن اس بار اس نے بالکل ہی پرواہ نہیں کی، پولیس، اسٹنٹ کمشنر اور رینجرز نے مذاکرات کرکے سڑک تو کھول دی ہے لیکن کے الیکٹرک کا کوئی افسر نہیں آیا۔

    کے الیکٹرک کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ معلومات جمع کر رہے ہیں اس کے بعد اپنا موقف بیان کریں گے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ بیس گھنٹوں سے احتجاج جاری ہے۔

    کراچی میں درجے حرارت منگل کو بھی 36 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے، اس سے قبل کراچی کی بندرگاہ کو ملک سے جوڑنےوالی سڑک ماڑی پور پر احتجاج کی وجہ سے گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں تھیں اور کئی ٹرالر اور کنٹینرز کے علاوہ عام شہری بھی ٹڑیفک میں پھنس گئے تاہم پولیس اور رینجرز نے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور شیلنگ کا سہارا لیا۔

    سندھ کے وزیر توانائی امتیاز شیخ کا کہنا ہے کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے امن وامان کی صورتحال خراب ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نیپرا سے منظور شدہ سبسیڈیذ کی رقم کی فوری ادائیگی کرے۔

    صوبائی وزیر توانائی کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کے پاس فرنس آئل خریدنے کی رقم نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو لوڈشیڈنگ کے عذاب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کے الیکٹرک ہنگامی بنیادوں پر غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرے۔

    امتیاز شیخ نے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ سے کے الیکٹرک کے بقایا جات کی ادائیگی کی اپیل کی ہے۔