نیوٹرلز کو بتایا تھا کہ ملک سیاسی عدم استحکام کی بڑی قیمت ادا کرے گا: عمران خان
سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انھوں نے نیوٹرلز کو بتایا تھا کہ اگر آپ نیوٹرل رہنا چاہتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے مگر ملک سیاسی عدم استحکام کی بڑی قیمت ادا کرے گا کیونکہ اُن کی (حریف سیاسی جماعتوں) سے ملک نہیں سنبھالا جائے گا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی یہ بات آج سچ ثابت ہو رہی ہے کیونکہ گذشتہ دو ماہ میں پاکستان جس تیزی سے نیچے گیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔
سابق وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بجائے لوگوں کے حالات ٹھیک کرنے کے انھوں نے حکومت میں آ کر صرف اپنے اوپر 1100 ارب روپے کے کرپشن کیسز ختم کروائے اور اب وہ ان تمام اداروں کو تباہ کرنے کے درپے ہیں جو ان کی کرپشن پکڑ سکتے ہیں جیسا کہ ایف آئی اے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ان تمام پارٹیوں کے اکھٹے ہونے کا مقصد صرف اپنے آپ کو این آر او دینا تھا۔‘
’آج لوگوں میں غصہ ہے کہ آپ نے انھیں پہلے مہنگائی اور معیشت کا نام لے کر اکھٹا کیا مگر اب کچھ اور کر رہے ہیں۔ عوام پوچھ رہے ہیں کہ دو ماہ میں ایسا کیا ہوا ہے کہ سب کچھ ہی نیچے چلا گیا۔ سٹاک مارکیٹ بیٹھ گئی، مہنگائی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی اور روزگار کے ذرائع ختم ہو گئے۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ آج کراچی میں عوام سڑکوں پر نکلی ہوئی ہے اور انھیں پولیس تشدد کا سامنا ہے۔
’ایک سیاسی اور جمہوری حکومت لوگوں کو مسائل پر احتجاج کرنے پر ڈنڈے نہیں مارتی بلکہ انھیں آگاہ کرتی ہے کہ حکومت کن مسائل کا شکار ہے اور اس کا حل کیا ہے۔ کراچی میں لوڈ شیڈنگ جاری ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بجلی گھروں میں بجلی نہیں بن پا رہی کیونکہ دو ہی ماہ میں آج ان کے پاس نہ کوئلے کے پیسے ہیں نا ایل این جی کے۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’ہم بھی آئی ایم ایف کے ساتھ ساڑھے تین سال پروگرام میں رہے۔ ہمیں بھی کہا جاتا تھا کہ پیٹرول کی قیمت اتنی کرو یا ڈیزل کی اتنی بڑھاؤ۔ مگر ہم نے پریشر برداشت کیا۔ ہم نے پیٹ کاٹ کر بجلی اور پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھنے دی کیونکہ ہمیں پتا تھا کہ لوگوں کے حالات کیا ہیں۔‘
’موجودہ حکومت نے دو ماہ میں جتنی قیمتیں بڑھائیں اتنی ہمارے ساڑھے تین سال میں نہیں بڑھیں۔
بجائے لوگوں کے دکھ درد سننے کے اور ذہن استعمال کرنے کے لوگوں کے دکھ کیسے کم کریں یہ ان پر آنسو گیس پھینک رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ڈنڈے سے کبھی جمہوریت نہیں چلتی۔ انھوں نے دو جولائی کو اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں پرامن احتجاجی ریلی کا اعلان کرتے ہوئے تمام شہریوں کو اپنے اپنے شہروں میں احتجاج کرنے کی اپیل کی ہے۔