بجلی کی بندش کے خلاف کراچی کے علاقے ماڑی پور روڈ پر احتجاج کرنے والے شہریوں پر پولیس نےلاٹھیاں برسائیں ہیں اور شیلنگ کی۔
پولیس شیلنگ کے بعد رینجرز اور پولیس نے لاٹھی چارج کرکے لوگوں سے بندرگاہ جانے والی سڑک ماڑی پور روڈ کو خالی کروا لیا۔
کراچی کے علاقے ماڑی پور پر بجلی کی طویل بندش کے خلاف شہری گزشتہ روز سے سراپا احتجاج ہیں جبکہ بندرگاہ کو جانے والی اہم شاہراہ ماڑی پور روڈ 20 گھنٹوں سے ٹریفک کے لیے بند ہے۔
انتظامیہ سے مذاکرات ناکام ہونے پر مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور بجلی کی فراہمی تک احتجاج ختم کرنےسے انکار کر دیا۔
اس ضمن میں شدید احتجاج لیاری کے علاقوں میں دیکھا گیا جہاں شہر کی غریب مزدور آبادی رہتی ہے، تنگ گلیوں میں چھوٹے چھوٹے مکانات میں یہ لوگ آباد ہیں، اسحاق ہنگورو نامی شہری نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کو چار بجے انھوں نے احتجاج کا آغاز کیا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’چودہ سے پندرہ گھنٹے بجلی نہیں ہے اعلانیہ لوڈشینگ کے مطابق تین تین گھنٹے یعنی نو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ تھی لیکن اب یہ سلسلہ برداشت سے باہر ہوگیا ہے، نہ صبح، نہ شام اور نہ رات کا خیال کیا جاتا ہے لوگ گھر میں سو نہیں پاتے جبکہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پینے کا پانی تک دستیاب نہیں ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ پہلے جب بجلی کی عدم دستیابی پر وہ ماڑی پور روڈ بند کرتے تھے تو کے الیکٹرک بجلی بحال کردیتی تھی لیکن اس بار اس نے بالکل ہی پرواہ نہیں کی، پولیس، اسٹنٹ کمشنر اور رینجرز نے مذاکرات کرکے سڑک تو کھول دی ہے لیکن کے الیکٹرک کا کوئی افسر نہیں آیا۔
کے الیکٹرک کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ معلومات جمع کر رہے ہیں اس کے بعد اپنا موقف بیان کریں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ بیس گھنٹوں سے احتجاج جاری ہے۔
کراچی میں درجے حرارت منگل کو بھی 36 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے، اس سے قبل کراچی کی بندرگاہ کو ملک سے جوڑنےوالی سڑک ماڑی پور پر احتجاج کی وجہ سے گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں تھیں اور کئی ٹرالر اور کنٹینرز کے علاوہ عام شہری بھی ٹڑیفک میں پھنس گئے تاہم پولیس اور رینجرز نے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور شیلنگ کا سہارا لیا۔
سندھ کے وزیر توانائی امتیاز شیخ کا کہنا ہے کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے امن وامان کی صورتحال خراب ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نیپرا سے منظور شدہ سبسیڈیذ کی رقم کی فوری ادائیگی کرے۔
صوبائی وزیر توانائی کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کے پاس فرنس آئل خریدنے کی رقم نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو لوڈشیڈنگ کے عذاب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کے الیکٹرک ہنگامی بنیادوں پر غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرے۔
امتیاز شیخ نے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ سے کے الیکٹرک کے بقایا جات کی ادائیگی کی اپیل کی ہے۔