آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

آئی ایم ایف پروگرام آن ٹریک ہے، معطلی یا تاخیر کی خبروں میں صداقت نہیں: وزیرخزانہ

پاکستان کے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کا پروگرام ملتوی ہونے کے خبروں کی تردید کرتے ہوئے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام آن ٹریک ہے، پروگرام ملتوی یا تاخیر کا شکار ہونے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

لائیو کوریج

  1. فوج کی طرح اب عمران خان بھی پورے ملک کی آواز ہے: شیخ رشید

    سابق وفاقی وزیرشیخ رشید نے پریڈ گراؤنڈ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے اپنے تمام دوستوں کو اسلام علیکم کہہ دیا ہے، عمر کے اس حصے میں اب میں عمران خان کے ساتھ ہوں۔ جس طرح پاکستان کی فوج پورے ملک کی آواز ہے اسی طرح اب عمران خان پورے ملک کی آواز ہے۔

    شیخ رشید نے کہا کہ جو جذبہ آج راولپنڈی میں انھوں نے دیکھا ہے ایسا پوری زندگی کی سیاست میں انھوں نے نہیں دیکھا۔ شیخ رشید نے کہا کہ وہ ایسا عمران خان کو خوش کرنے کے لیے نہیں کہہ رہے ہیں۔

    شیخ رشید نے کہا کہ لیڈر روز روز نہیں پیدا ہوتے۔ انھوں نے کہا کہ میں تمام حساس اداروں، مقتدر حلقوں اور اسٹیبلشمنٹ سے یہ کہتا ہوں کہ جلد الیکشن کا اعلان کرائیں کیونکہ یہ (موجودہ حکومت) ملک نہیں چلا سکتے۔

  2. عمران خان پریڈ گراؤنڈ جلسے میں پہنچ گئے

    پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان پیریڈ گراؤنڈ جلسے میں پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ تھوڑی دیر میں شرکا سے خطاب کریں گے۔ جلسے کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے اور اس وقت تحریک انصاف کے رہنما جلسے سے خطاب کر رہے ہیں۔

  3. پی ٹی آئی کا مہنگائی کے خلاف جلسہ، قافلے پریڈ گراؤنڈ پہنچنا شروع

    پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف سابق وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں موجودہ حکومت اور ملک میں جاری مہنگائی کی لہر کے خلاف احتجاج اور جلسہ کر رہی ہے۔

    اس جلسے میں ملک کے مختلف شہروں سے قافلوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور کچھ قافلے پریڈ گراؤنڈ کے جلسہ گاہ پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔

    اس کے علاوہ ملک کے مختلف شہروں میں عمران خان کے خطاب کو بڑی سکرینوں پر دکھایا جائےگا۔

    پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان راولپنڈی سے ایک سیاسی ریلی کی قیادت کرتے ہوئے پریڈ گراونڈ جلسہ گاہ پہنچیں گے۔

  4. ایک ارب ڈالر کے لیے آئی ایم ایف تگنی کا ناچ نچا رہا ہے، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ

    پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ ’حکومت آئی ایم ایف سے مذاکرات کر رہی ہے اور ایک ارب ڈالر کے لیے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) ہمیں تگنی کا ناچ نچا رہا ہے۔

    سنیچر کو پولیس لائن میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر تیل کی قیمتیں بڑھانے کے بجائے ہم انتخابات میں جاتے تو ملک کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ تھا اس لیے معاشی صورتحال کے پیش نظر مشکل فیصلے کیے۔

    انھوں نے کہا کہ پچھلے ایک مہینے کے دوران ہم نے ہر ممکن کوشش کی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت نہ بڑھانی پڑے اور عام آدمی کو مہنگائی سے بچایا جا سکے۔

    ’مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور ہماری حکومت قیمتوں میں اضافہ کسی صورت نہیں چاہتی تھی اور ہم ایک سے زائد بار یہ بھی سوچا کہ یہ کام کرنے کے بجائے ہمیں الیکشن میں چلے جانا چاہیے۔‘

    وزیر داخلہ نے کہا کہ عمران خان کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا لیکن اس پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے حالیہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ماضی کے حکمرانوں کی خامیوں کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔

  5. وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کا معاملہ: پی ٹی آئی کی لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کےخلاف اپیل کا تفصیلی حکمنامہ جاری

    پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب پر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر اپیل کا تفصیلی حکمنامہ جاری کر دیا گیا ہے۔

    سپریم کورٹ کے تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب کے انتخاب کے لیے 22 جولائی شام چار بجے پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیا گیا تحریری حکمنامہ 10 صفحات پر مشتمل ہے۔ اسے جسٹس اعجازالاحسن نے تحریر کیا ہے۔

    تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہےکہ حمزہ شہباز نے کہا سترہ جولائی کے بعد ووٹنگ کرانے پر انھیں کوئی اعتراض نہیں ہے، اور وزیر اعلیٰ کے انتخاب کی تاریخ پر تحریک انصاف، مسلم لیگ لیگ اور مسلم لیگ ق میں اتفاق رائے پایا گیا ہے۔

    حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ حمزہ شہباز نے اپنی اور کابینہ کی طرف سے یقین دہانی کرائی کہ امور کی انجام دہی قانون کے مطابق کریں گے۔ حکمنامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حمزہ شہباز نے یقین دہانی کرائی کہ پنجاب کا ضمنی انتخاب آزادانہ اور شفاف ہوگا اور آئینی خلاء پیدا نہیں کیا جائے گا۔

    سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک ہفتے میں پانچ مخصوص نشستوں پر کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری کرے، پنجاب میں ضمنی انتخاب کے بعد اگر کوئی تنازعہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے لیے قانونی فورمز موجود ہیں، اور وفاقی، صوبائی اسمبلیاں، آرکین،الیکشن کمیشن، وزراء، معاونین ضمنی انتخاب کے دوران انتخابی قوانین کی پاسداری کریں۔

    سپریم کورٹ کے تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ تحریکانصاف کی درخواست نمٹائی جاتی ہے

    وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن کےخلاف اپیل میں لاہور ہائیکورٹ کے حکمنامے میں ترمیم کی گئی ہے، تحریک انصاف کے علاوہ کسی نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج نہیں کیا۔

    سپریم کورٹ کے تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں آٹھ نکات تک ترامیم کرتے ہیں۔

  6. آصف زرداری کی لاہور آمد، مسلم لیگ ق کے چوہدری شجاعت سے ملاقات

    پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے لاہور میں مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت سے ملاقات کی ہے۔

    آصف علی زرداری سنیچر کی صبح لاہور پہنچے ہیں اور انھوں نے چوہدری شجاعت کے گھر جا کر ان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کی ہے۔

  7. بلوچستان کے آٹھ اضلاع میں ری پولنگ جاری

    الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے آٹھ اضلاع میں ری پولنگ کا عمل ’پُرامن طریقے سے شروع ہوچکا ہے۔‘

    ایک بیان میں ادارے نے کہا ہے کہ ’چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی ہدایت پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سینیئر افسران مرکزی کنٹرول روم الیکشن کمیشن سکرٹریٹ اسلام آباد جبکہ صوبائی الیکشن کمشنر اپنے دفتر کوئٹہ میں قائم کردہ صوبائی کنٹرول روم سے پولنگ کے عمل کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔‘

    کمیشن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ’پولنگ کے عمل کے دوران کسی بھی خلاف ورزی پر فوری ایکشن لیا جائے۔ عوام بے خوف و خطر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں۔ خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘

    واضح رہے کہ آج 2 جولائی کو بلوچستان کے آٹھ اضلاع (دکی، قلعہ عبداللہ، زیارت، لورلائی، پنجگور، سبی، نوشکی، کیچ) کے 13 وارڈز کے 15 پولنگ سٹیشنز میں پولنگ ہوگی۔ پولنگ کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ پولنگ صبح 8 سے شام پانچ بجے تک بغیر وقفے کے جاری رہے گی۔

  8. عمران خان آج راولپنڈی سے پریڈ گراؤنڈ اسلام آباد تک ریلی کی قیادت کریں گے

    پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف سابق وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں موجودہ حکومت اور ملک میں جاری مہنگائی کی لہر کے خلاف احتجاج اور جلسہ کرے گی۔

    اسلام آباد میں تحریک انصاف کے مختلف رہنما اپنے علاقوں سے ریلیاں نکالیں گے جن کا رُخ پریڈ گراؤنڈ کی طرف ہوگا جبکہ اس جلسے کی سکرینگ لاہور، کراچی، کوئٹہ اور پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں کی جائے گی۔ خود عمران خان سنیچر کو راولپنڈی سے پریڈ گراؤنڈ تک ریلی کی قیادت کریں گے۔

    ادھر جمعے کی شام اسلام آباد میں پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ایک ویبینار سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ گذشتہ دو ماہ میں جتنی مہنگائی ہوئی ہے، اتنی ان کے ساڑھے تین سالہ دور میں نہیں ہوئی تھی، اس کے باوجود کہ ملک آئی ایم ایف پروگرام میں تھا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہمارے دورمیں معیشت بہتر ہو رہی تھی۔۔۔ زراعت، انڈسٹری (اور) دیگر شعبوں میں بہتری آرہی تھی۔‘

    عمران خان نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حالات میں قومی سلامتی کو خطرہ درپیش ہے۔ ’سب کو خوف ہے کہ ہماری معیشت سری لنکا کے حالات کی طرف جا رہی ہے۔

    ’اگر ایسا ہوا تو سب سے بڑا مسئلہ نیشنل سکیورٹی کے لیے ہوگا۔ ملٹری سکیورٹی ایک طرف ہے، معاشی سکیورٹی اتنی ہی اہم ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ اگر معیشت گرتی ہے تو نیوٹرلز کو بھی اس سے نقصان پہنچے گا۔

    خیال رہے کہ پریڈ گراؤنڈ جلسے کے لیے اسلام آباد کی انتظامیہ نے تحریک انصاف کو جی ایچ کیو سے اجازت لینے کا کہا تھا۔ جلسے کی اجازت ملنے کے بعد گذشتہ رات عمران خان نے پریڈ گراؤنڈ کا دورہ کیا اور تیاریوں کا جائزہ لیا۔

  9. آج الحمداللہ انصاف کے حوالے سے بڑا اچھا فیصلہ ہوا ہے: پرویز الٰہی

    سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی نے سپریم کورٹ میں پیش ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج الحمدللہ بڑا اچھا فیصلہ ہوا ہے انصاف کے حوالے سے۔ ان کے مطابق جو چیزیں ہم چاہتے تھے وہ مانی گئی ہیں۔

    پرویز الٰہی نے کہا کہ چیف جسٹس نے خود کہا ہے کہ جو بحران کئی ماہ سے چل رہا تھا وہ بہتر انداز میں حل ہوا ہے۔

    ان کے مطابق اب پولیس کے ذریعے کسی کو ہدف نہیں بنایا جا سکے گا۔

    سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ الیکشن جمعے والے دن 22 تاریخ کو ہوگا۔ ان کے مطابق اس سے پہلے والے نوٹیفیکیشن ہو جائیں گے اور ضمنی انتخابات کے بعد بھی جو منتخب ہو کر اراکین آئیں گے وہ بھی انتخاب میں حصہ لے سکیں گے۔

    انھوں نے بتایا کہ آج دوران سماعت مجھے کہا گیا ہے کہ آپ اچھے دوستانہ ماحول کو یقینی بنائیں۔ میں نے کہا کہ یہ پوچھ لیں حمزہ شہباز سے کہ میں ہی ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرتا رہا۔

  10. 22 جولائی کو الیکشن کا فیصلہ قابل قبول ہے: وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز

    پنجاب کے وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے سپریم کورٹ پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں جتنے آئینی بحران گذشتہ تین ماہ میں آئے ہیں اگر میں گنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ سے رابطہ کروں تو ہمارا پہلا نمبر آئے گا۔

    انھوں نے کہا کہ کابینہ نہ ہونے کے باوجود گندم کی خریداری یقینی بنائی۔ ان کے مطابق انھوں نے کبھی کوئی بہانہ نہیں بنایا بلکہ کام کرنا شروع کر دیا۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ صوبے کی عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے لیے دن رات ایک کیا۔

    تحریک انصاف کا مؤقف الگ تھا، امیدوار کا مؤقف الگ تھا اور ان کا آپس میں بھی سوچ کا ربط نہیں تھا۔ ان کے مطابق بار بار عدالت ان سے پوچھتی رہی۔

    حمزہ شہباز کے مطابق میں نے نے 27 سال کی جدوجہد کی ہے اور قیدوبند کی صعوبتیں کاٹیں ہیں۔

    انھوں نے کہا 17 جولائی کو ضمنی انتخابات ہوں گے اور عوام جس کو اکثریت دیں گے اسے ہی آگے آنے کا حق ہے۔ ان کے مطابق اب دیکھنا ہو گا کہ جو آج عدالت میں زبان دی گئی ہے وہ اس پر قائم بھی رہتے ہیں یا نہیں۔

  11. وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب 22 جولائی کو ہوگا، حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ پر پرویزالٰہی کے بعد عمران خان کی بھی مشروط رضامندی

    سپریم کورٹ نے پنجاب کے وزیراعلیٰ کے انتخاب سے متعلق سماعت مکمل کر لی ہے اور اب یہ انتخاب 22 جولائی کو ہوگا۔

    سپیکر پنجاب اسمبلی اور ق لیگ کے سینیئر رہنما پرویزالٰہی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی اس پر مشروط رضامندی ظاہر کر دی ہے کہ وزیراعلیٰ کے نئے انتخاب تک حمزہ شہباز ہی وزارت اعلیٰ کی کرسی پر براجمان رہیں گے۔

    عدالت تحریری حکمنامہ بعد میں جاری کرے گی۔

    اس پیشرفت کے بعد پی ٹی آئی کے سینیئررہنما اسد عمر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز کبھی بھی منتخاب وزیراعلیٰ نہیں رہے ہیں۔ ان کے مطابق کرسی پر تو حمزہ بیٹھیں گے مگر غیرقانونی طور پر حکومتی مشینری استعمال کرنے کی انھیں اجازت نہیں دی جائے گی۔

    سابق وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ حمزہ شہباز محدود احتیارات کے ساتھ کام جاری رہیں گے۔ ان کے مطابق پرویزالٰہی کی رضامندی ظاہر کر دی تھی تو اس وجہ سے ہم نے اس پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ان کے مطابق مجموعی طور تحریک انصاف کے بیانیے کی فتح ہوئی ہے۔

    صحافیوں کے سوالات کے جواب میں تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ وہ حمزہ شہباز کے لیے ایک نیا عنوان ڈھونڈ رہے ہیں تاہم ان کے مطابق حمزہ شہباز ایک غیرآئینی مشکوک وزیراعلیٰ کے طور پر کام جاری رکھیں گے۔

  12. حمزہ شہباز کو نگران وزیراعلیٰ ماننے پر پرویزالٰہی اور تحریک انصاف کے وکیل کے درمیان اختلاف

    سپریم کورٹ میں وقفے کے بعد دوبارہ کارروائی شروع ہوئی تو عدالت نے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کو روسٹرم پر بلایا۔

    چیف جسٹس نے چوہدری پرویز الٰہی سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو حمزہ شہباز پر اعتماد ہے۔ پرویزالٰہی نے جواب دیا کہ مجھے حمزہ شہباز پر اعتماد نہیں ہے۔ پرویزالٰہی نے عدالت کو بتایا کہ ابھی ہاؤس بھی مکمل نہیں ہے، انتخابات کے لی وقت درکار ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ اگر عدالت خود وقت دیتی ہے تو حکومت کون چلائے گا؟ چیف جسٹس نے کہا کہ آئین کے مطابق صوبہ وزیر اعلیٰ کے بغیر نہیں چلایا جا سکتا ہے۔

    پرویزالٰہی نے کہا کہ عدالت نے جو فرمانا ہے عدالت کے حکم کو بجا لانا ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئینی بحران بڑھتا جا رہا ہے۔ اس بحران کو اچھے طریقے سے آئین کے مطابق حل کیا جائے۔

    جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ یہاں پہ کہا گیا ارکان دستیاب نہیں ہیں، کہا گیا کہ پانچ مخصوص نشتوں پر نوٹیفیکیشن نہیں ہوا، کہا گیا کہ ضمنی الیکشن تک آپ کو حمزہ شہباز پر اعتراض نہیں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پاکستان میں موجود اراکین کے آنے تک دوسری صورت میں وقت دیا جا سکتا ہے۔ پرویز الٰہی نے کہا کہ ایسی صورتحال میں ان پر اعتماد نہیں کر سکتا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے پرویز الٰہی سے کہا کہ آپ کے وکیل نے کہا ضمنی الیکشن ہائوس مکمل ہونے تک حمزہ پر اعتراض نہیں، ہاؤس مکمل ہونے کے بعد جس کی اکثریت ہوگی وہ وزیراعلیٰ بن جائے گا،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر آپ اتفاق رائے دے دیں کہ ضمنی انتخاب ہوجائے، پانچ نشستوں پر نوٹیفیکیشن جاری ہوجائے حمزہ شہباز اپنا کام جاری رکھیں۔ عدالت نے کہا کہ ملک کو بحران کا شکار نہیں کرسکتے، بحران کا نقصان عوام کو ہوتا ہے۔

    اسمبلی ہوتی ہو تو جس کی اکثریت ہو وہی وزیر اعلیٰ بن جائے

    جسٹس اعجاز الاحسن سترہ جولائی کے بعد وزیر اعلٰی کے انتخاب کیلئے ووٹنگ کرائی جائے۔ پرویز الٰہی نے کہا کہ ہم حمزہ شہباز کو تسلیم نہیں کررہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پھر ہم قانون کے تحت فیصلہ کر لیتے ہیں، جس کو نقصان ہونا ہے، ہوتا رہے، جو آپ کے کان میں بول رہے ہیں انھیں کہیں کہ بیٹھ جائیں۔

    پرویزالٰہی نے عدالت سے کہا کہ آپ حکم یہ فرما دیں کہ دونوں سیاسی جماعتیں بیٹھ کر طے کر لیں۔ جسٹس جمال چان مندوخیل نے کہا کہ جمہوریت میں مذاکرات ہی ہوتے ہیں۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ سپریم کورٹ کا احترام ہے، نظام کو چلتے رہنا چاہیے، جو ماضی میں ہوا اس کو دہرانا نہیں چاہتا۔ انھوں نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر پر حملہ ہوا جو شرم ناک ہے۔

    دوران سماعت حمزہ شہباز نے کہا کہ کوئی نظام کے لیے ناگزیر نہیں ہوتا، آج الیکشن ہونے دیا جائے، ہمارے بھی لوگ ہیں جو حج پر جانا چاہتے تھے لیکن نہیں گئے، سپریم کورٹ الیکشن ہونے دے۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ اگر 17 جولائی کے بعد کسی کے پاس اکثریت ہوئی تو وہ عدم اعتماد لے آئے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آج کا دن تو گزر گیا، ہم مشاورت کے بعد فیصلہ دیتے ہیں۔ آپس میں بیٹھ کر معاملات طے کر لیں۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ تین ماہ میں جو کچھ ہوتا رہا، حلف برداری میں تاخیر ہوئی، میں غلط بیانی نہیں کرنا چاہتا کہ ہم اتفاق رائے پر پہنچ جائیں۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ آج رات 12 بجے تک الیکشن کرا لیتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے لیے 17 جولائی تک انتظار کرنا ضروری نہیں ہے۔

    پرویز الٰہی نے کہا کہ اگر حمزہ شہباز 17 جولائی تک رہنا چاہتے ہیں تو وہ اپنے اختیار کو طے کرلیں، وہ 17 جولائی تک وزیر اعلٰی رہیں مگر ارکان کو ہراساں نہ کیا جائے۔ جسٹسن اعجازالحسن نے کہا کہ اگر پکڑ دھکڑ ہوتی ہیں تو عدالتیں کھلی ہیں۔

    پرویز الہیٰ کی مشروط رضامندی کے بعد تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنی قیادت سے مشاورت کے بعد جواب دیں گے۔

    پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ میں نے تجویز تحریک انصاف کے سینیئر رہنما محمود الرشید کے ساتھ مشورہ کرکے دی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ پرویزالٰہی ان کے اتحادی ہیں۔ بابراعوان کی درخواست پر عدالت نے کارروائی میں آدھے گھنٹے کا وقفہ کر لیا ہے۔ یہ تیسری بار عدالتی کارروائی میں وقفہ کیا گیا ہے۔

  13. حمزہ اور پرویز الہیٰ عدالت میں، سماعت دوبارہ شروع

    پنجاب کے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے معاملے پر وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری سے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت کا حصہ بن گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ اس مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔

  14. پاکستان میں جون میں مہنگائی کی شرح 21 فیصد سے زائد کی بلند سطح پر پہنچ گئی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں جون کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 21.3 فیصد کی بلند سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ملک میں مہنگائی کی شرح کے اعداد و شمار ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔

    جون کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 13 برس میں بلند ترین سطح پر ہے۔ فروری 2009 میں ملک میں مہنگائی کی شرح 21.07 ریکارڈ کی گئی تھی۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں جون کے مہینے میں مہنگائی کی بلند شرح کی وجہ ملک میں پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ ہے جس کا اثر ٹرانسپورٹ کے کرایوں، کھانے پینے اور دوسری چیزوں کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

    پاکستان میں مئی کے 27 تاریخ سے لے کر 30 جون تک ایک لیٹر پٹرول کی قیمت 99.15 روپے اور ڈیزل کی قیمت 132.39 روپے بڑھائی گئی ہے۔ مٹی کا تیل اس عرصے میں 104.26 روپے فی لیٹر بڑھا۔

  15. سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ اور سپیکر پنجاب اسمبلی کو طلب کر لیا

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف اور سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی کو عدالت عظمیٰ کی لاہور رجسٹری میں طلب کر لیا ہے، جہاں سے وہ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی کارروائی میں شریک ہو سکیں گے۔

    عدالت نے کہا ہے کہ فریقین اگر کسی حل پر پہنچ جاتے ہیں تو بہتر ہوگا ورنہ پھر عدالت آرٹیکل 130 کے تحت انتخابات کا حکم دے سکتی ہے جو فریقین کے لیے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

    خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج شام بجے ہونا تھا۔

    دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ سپیکر پنجاب اسمبلی کو بتائیں عدالتی کاروائی چل رہی ہے، امید ہے ہم پونے چار بجے عدالتی کاروائی میں کوئی حل نکال لیں گے۔

    چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ہم ابھی سیشن روکنے کا کوئی حکم نہیں دے رہے لیکن ابھی رک جائیں۔

  16. بریکنگ, سپریم کورٹ میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب انتخاب کا معاملہ: پی ٹی آئی نے الیکشن کے لیے سات دن کا وقت مانگ لیا

    جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ جس جج نے اختلافی نوٹ دیا ہے، وہ ایک نکتے پر متفق بھی ہوئے ہیں، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جنھوں نے 197 ووٹ لیے ہیں، ان میں سے25 ووٹ نکال دیے ہیں۔

    بابر اعوان نے کہا کہ ‏ہماری استدعا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ ممبران کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے۔

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کی درخواست میں یہ بات نہیں، ہم آپ کی درخواست کو پڑھ کر آئے ہیں، بنیادی طور پر اپ یہ مانتے نہیں کہ فیصلہ آپ کے حق میں ہوا ہے، جس پر بابر اعوان نے کہا کہ اصولی طور پر ہم اس فیصلے کو مانتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا فیصلے میں لاہور ہائیکورٹ کےچار ججز نے آج کی اور ایک جج نے کل کی تاریخ دی ہے، کیا آپ کل کی تاریخ پر راضی ہیں؟

    جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ جو ممبران کہیں گئے ہوئے ہیں وہ 24 اور 48 گھنٹوں میں پہنچ سکتے ہیں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دوسری سائیڈ کا کہنا ہے انھوں نے 197 ووٹ لیے، عدالت نے کہا ہے کہ دوسری پول میں جو اکثریت حاصل کر لے وہ منتخب ہوگا۔

    لاہور ہائیکورٹ نے ان 25 ووٹو ں کا نکال کر گنتی کا حکم دیا تھا، عدالت نے پہلے ووٹوں کی گنتی کا حکم دیا ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ آپ کہتے ہیں آپ کے بندے کچھ دستیاب نہیں ہیں، موجودہ کا مطلب ہے اس وقت جتنے لوگ ایوان میں دستیاب ہوں، وہ ووٹ دیں، میں اپ سے اتفاق نہیں کرتا جو ارکان دستیاب نہیں ان کا انتظار کیا جائے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے مزید ریمارکس دیےکہ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ 197 میں سے 25 نکال دیں، 25 ووٹ نکالنے کے بعد حمزہ شہباز کا انتخابات درست نہیں رہتا۔

    انتخاب کے دوسرے راؤنڈ میں سادہ اکثریت یعنی 186 کی ضرورت نہیں۔ آپ کا مؤقف ہے کہ ہمارے ارکان بیرون ملک ہیں۔

    بابر اعوان نے مؤقف اپنایا کہ میں یہ نہیں کہتا، ارکان کا انتظار کیا جائے، مناسب وقت ملنا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ ارکان ووٹنگ میں شامل ہوں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ تسلیم کرتے ہیں کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ آپ کے حق میں ہے، ہم کس طرح سے اجلاس کی تاریخ میں مداخلت کریں، کیا اختلافی جج والی دو جولائی کی تاریخ ووٹنگ کے لیے مقرر کردیں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے ارکان کو صوبائی اسمبلی پہنچنے میں کتنے گھنٹے لگیں گے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ اختلافی نوٹ میں ووٹنگ کی تاریخ کل کی ہے، کیا آپ کل ووٹنگ پر تیار ہیں؟ انھوں نے کہا کہ ملک کے اندر موجود ارکان ایک دن میں پہنچ سکتے ہیں۔

    دوران سماعت پی ٹی آئی نے دوبارہ انتخابی عمل کے لیے سات دن کا وقت مانگ لیا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ سات دن کا وقت دینا مناسب نہیں، آپ کے ارکان کو اسمبلی میں پہنچنے میں 24 گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں لگے گا۔

    بابر اعوان نے کہا کہ ہمارے ارکان کا نوٹیفیکیشن الیکشن کمیشن نے جاری نہیں کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں پنجاب سات دن تک وزیر اعلیٰ کے بغیر رہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین میں کیا لکھا ہے کہ وزیر اعلیٰ دستیاب نہ ہو تو صوبہ کون چلائے گا، وزارت اعلیٰ کا جب الیکشن ہوا 63 اے واضع نہیں تھا۔

    بابر اعوان نے کہا کہ میرے ذہن میں دس دن کا وقت تھا لیکن سات دن کا عدالت سے مانگا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پہلے مناسب وقت پر بات مکمل کریں پھر دوسرا نقطہ سنیں گے۔

    جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ قانونی طریقے سے منتخب وزیر اعلیٰ کو گورنر کام جاری رکھنے کا کہہ سکتا ہے، جب وزیر اعلیٰ نہیں ہوگا تو کابینہ بھی موجود نہیں رہے گی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ہائیکورٹ چاہتی ہے صوبہ میں حکومت قائم رہے۔ نگران وزیر اعلیٰ تب ہو سکتا ہے جب الیکشن ہو رہا ہو، تحریک انصاف نے اپنی اکثریت ثابت کرنی ہے، حمزہ شہباز کو ملے 25 ووٹ نکل گئے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 25 نکال کر تحریک انصاف کے کتنے ارکان باقی ہیں۔

    اس موقع پر پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ 25 ووٹ نکال کر ہمارے ارکان 169 بنتے ہیں۔

    جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اس کا مطلب ہے آپکے پاس اکثریت نہیں ہے، ایوان میں کسی کے پاس اکثریت نہیں ہے۔

    دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ گورنر صوبہ کے معاملات کو چلائے یہ غیر آئینی ہوگا، 17 جولائی کو عوام نے 20 نشستوں پر ووٹ دینے ہیں۔ ضمنی الیکشن تک صوبے کو چلنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟

    عوام خود فیصلہ کرے تو جمہوریت زیادہ بہتر چل سکتی ہے، گورنر کو صوبہ چلانے کا اختیار دینا غیرآئینی ہوگا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آئین کے تحت منتخب نمائندے ہی صوبہ چلا سکتے ہیں، ہم آپ کو آدھا گھنٹا دیتے ہیں سر جوڑیں اور سوچیں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اسمبلی تحلیل ہونے پر ہی نگران حکومت بن سکتی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ گورنر کو صوبہ چلانے کا اختیار دینا غیرآئینی ہوگا، آئین کے تحت منتخب نمائندے ہی صوبہ چکا سکتے ہیں۔

    اس موقع پر چیف جسٹس نے کیس کی مزید سماعت دن 2.45 تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ اس نقطے پر تیاری کریں، آدھے گھنٹے میں دوبارہ سماعت ہوگی۔

  17. بریکنگ, سپریم کورٹ میں سماعت کا آغاز

    سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کی جانب سے دائر وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت شروع ہوچکی ہے۔

  18. ’انصاف کا تقاضہ ہے کہ الیکشن سے پہلے سپریم کورٹ کا فیصلہ آجائے‘

    پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب کا معاملے پر مسلم لیگ ق کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ ’انصاف کا تقاضہ ہے کہ الیکشن سے پہلے سپریم کورٹ کا فیصلہ آ جائے۔‘

    لاہور میں پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی کے انتخاب کے بائیکاٹ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ پارلیمانی پارٹی کرے گی۔

    آج اسمبلی میں ووٹنگ کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ ’آج ایک ہی ووٹنگ ہوگی یہی ہمیں سمجھ آ رہی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اکتیس ارکان کو زبردستی الیکشن سے باہر رکھا جا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ہر رکن کو صاف و شفاف ووٹ کا حق ملنا چاہیے۔

    جبکہ پنجاب اسمبلی میں جھنگ سے رکن اسمبلی اور راہ حق پارٹی کے رہنما معاویہ اعظم کا کہنا تھا کہ اب اس سیاسی بحران کو ختم ہونا چاہیے لوگ پہلے ہی پریشان ہیں۔

    انھوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حیرت ہے بعض لوگ ڈپٹی سپیکر کو متنازع کہہ رہے ہیں، یہ جمہوری عمل ہے اس میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ حکومتی اتحاد کو اپوزیشن پر اکثریت حاصل ہے۔

    جبکہ لاہور میں مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی میاں عبدالرؤف نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کے ارکان حمزہ شہباز کی قیادت میں متحد ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ وزیر اعلی کے آج رن اپ الیکشن میں حمزہ شہباز ایک بار پھر وزیراعلی پنجاب منتخب ہوں گے۔ پی ٹی آئی اور ق لیگ کو اپنی شکست واضع نظر آ رہی ہے اس لیے وہ الیکشن سے بھاگنا چاہتے ہیں۔انھوں نے بھی انتخاب میں مقررہ نمبرز پورے ہونے کا دعویٰ کیا۔

  19. مالی سال 22-2021 میں ایک ڈالر کی قیمت میں 47.31 روپے کا ریکارڈ اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں 30 جون 2022 کو ختم ہونے والے مالی سال میں ایک ڈالر کی قیمت میں 47.31 روپے کا ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔

    یکم جولائی 2021 کو شروع ہونے والے مالی سال میں ایک ڈالر کی قیمت 157.54 روپے تھی جو مالی سال کے اختتام یعنی 30 جون 2022 کو 204.85 روپے پر بند ہوئی۔

    پورے مالی سال میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں 47.31 روپے یعنی 30 فیصد کا اضافہ ہوا۔

    گذشتہ مالی سال کے دوران 22 جون ، 2022 کو ایک ڈالر کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 211.93پر بند ہوئی تھی تاہم اس کے بعد چینی بینکوں سے ملنے والے قرضے اور آئی ایم ایف کے ساتھ جلد کسی ممکنہ ڈیل کی خبروں کی وجہ سے ڈالر کی قیمت میں کمی دیکھی گئی۔

    کرنسی ڈیلروں کے مطاابق گذشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں ملک میں سیاسی بحران کے ساتھ بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں اور تیل، گیس ، کوئلے اور اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ڈالر کی قیمت میں بے تحاشا اضافہ دیکھا گیا تھا۔

  20. پی ٹی آئی کو پریڈ گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت جی ایچ کیو سے مشروط، اسلام آباد انتظامیہ پر تنقید

    اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف کے دو جولائی کو اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں جلسے کرنے کی اجازت کو جی ایچ کیو کی اجازت سے مشروط کر دیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے پی ٹی آئی کے جلسے سے متعلق جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں اس کی اجازت کو پاکستان کی فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹر کی اجازت سے مشروط کر دیا ہے۔

    اسلام آباد انتطامیہ کی جانب سے اس اقدام کے بعد پی ٹی آئی کی رہنما شریں مزاری نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ بہت مضحکہ خیز ہے، کچھ عرصہ قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد انتظامیہ سے کہا تھا کہ اسلام آباد میں سیاسی جلسوں کے لیے جگہ مختص کی جائے اور اسلام آباد انتظامیہ نے پریڈ گراؤنڈ کا انتخاب کیا تھا۔ ہمارے پاس اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس عدالتی فیصلے کے کاپی موجود ہے۔ اس کے بعد سے وہاں ڈی سی کے این و سی کے ساتھ وہاں بہت جلسے ہوئے ہیں۔ اب ڈی سی اسلام آباد چاہتے ہیں جی ایچ کیو اس کی اجازت دے۔‘

    انھوں نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ ’ سوال یہ ہے کہ پریڈ گراؤنڈ کا انتظام کس کے پاس ہے؟ اگر اسلام آباد انتظامیہ نے کبھی اس کا انتظام نہیں سنبھالا تو کس اختیار کے تحت انھوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بتایا تھا کہ یہ جگہ سیاسی ریلیوں اور جلسوں کے لیے مختص ہے۔ کسی کو اس کی وضاحت دینے کی ضرورت ہے۔ کیا اسلام آباد انتظامیہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے غلط کہا تھا کیونکہ تب تو جی ایچ کیو کی اجازت کے متعلق نہیں کہا گیا تھا۔

    اس پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت بابر نے بھی اسلام آباد انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ زمین وفاقی حکومت کی ہے اور جی ایچ کیو اس زمین کو ایک خاص مدت کے لیے خاص مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ کسی عوامی اجتماع کی اجازت جی ایچ کیو کی اجازت سے مشروط کرنا زمین کے صارف کو زمین کا منتظم بنانے کے مترادف ہے۔ یہ ایک غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے جس کے سنگین نتائج نکلیں گے۔