جسٹس
اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ جس جج نے اختلافی نوٹ دیا ہے، وہ ایک نکتے پر متفق
بھی ہوئے ہیں، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جنھوں نے 197 ووٹ لیے ہیں، ان میں سے25 ووٹ
نکال دیے ہیں۔
بابر اعوان نے کہا کہ ہماری استدعا ہے
کہ ہم چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ ممبران کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے
کہا کہ آپ کی درخواست میں یہ بات نہیں، ہم آپ کی درخواست کو پڑھ کر آئے ہیں،
بنیادی طور پر اپ یہ مانتے نہیں کہ فیصلہ آپ کے حق میں ہوا ہے، جس پر بابر اعوان نے
کہا کہ اصولی طور پر ہم اس فیصلے کو مانتے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا فیصلے میں لاہور ہائیکورٹ
کےچار ججز نے آج کی اور ایک جج نے کل کی تاریخ دی ہے، کیا آپ کل کی تاریخ پر راضی
ہیں؟
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ جو ممبران
کہیں گئے ہوئے ہیں وہ 24 اور 48 گھنٹوں میں پہنچ سکتے ہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دوسری سائیڈ
کا کہنا ہے انھوں نے 197 ووٹ لیے، عدالت نے کہا ہے کہ دوسری پول میں جو اکثریت
حاصل کر لے وہ منتخب ہوگا۔
لاہور ہائیکورٹ نے ان 25 ووٹو ں کا نکال کر گنتی کا حکم
دیا تھا، عدالت نے پہلے ووٹوں کی گنتی کا حکم دیا ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ آپ
کہتے ہیں آپ کے بندے کچھ دستیاب نہیں ہیں، موجودہ کا مطلب ہے اس وقت جتنے لوگ
ایوان میں دستیاب ہوں، وہ ووٹ دیں، میں اپ سے اتفاق نہیں کرتا جو ارکان دستیاب نہیں
ان کا انتظار کیا جائے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے مزید ریمارکس دیےکہ
ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ 197 میں سے 25 نکال دیں، 25 ووٹ نکالنے کے بعد حمزہ شہباز کا
انتخابات درست نہیں رہتا۔
انتخاب کے دوسرے راؤنڈ میں سادہ اکثریت یعنی 186 کی
ضرورت نہیں۔ آپ کا مؤقف ہے کہ ہمارے ارکان بیرون ملک ہیں۔
بابر اعوان نے مؤقف اپنایا کہ میں یہ نہیں
کہتا، ارکان کا انتظار کیا جائے، مناسب وقت ملنا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ ارکان
ووٹنگ میں شامل ہوں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ تسلیم کرتے ہیں کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ آپ کے حق میں ہے، ہم کس طرح سے اجلاس کی تاریخ میں مداخلت
کریں، کیا اختلافی جج والی دو جولائی کی تاریخ ووٹنگ کے لیے مقرر کردیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پنجاب
اسمبلی کے ارکان کو صوبائی اسمبلی پہنچنے میں کتنے گھنٹے لگیں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اختلافی نوٹ میں
ووٹنگ کی تاریخ کل کی ہے، کیا آپ کل ووٹنگ پر تیار ہیں؟ انھوں نے کہا کہ ملک کے اندر
موجود ارکان ایک دن میں پہنچ سکتے ہیں۔
دوران سماعت پی ٹی آئی نے دوبارہ انتخابی
عمل کے لیے سات دن کا وقت مانگ لیا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ سات
دن کا وقت دینا مناسب نہیں، آپ کے ارکان کو اسمبلی میں پہنچنے میں 24 گھنٹے سے
زیادہ وقت نہیں لگے گا۔
بابر اعوان نے کہا کہ ہمارے ارکان کا
نوٹیفیکیشن الیکشن کمیشن نے جاری نہیں کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں
پنجاب سات دن تک وزیر اعلیٰ کے بغیر رہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین میں
کیا لکھا ہے کہ وزیر اعلیٰ دستیاب نہ ہو تو صوبہ کون چلائے گا، وزارت اعلیٰ کا جب
الیکشن ہوا 63 اے واضع نہیں تھا۔
بابر اعوان نے کہا کہ میرے ذہن میں دس دن
کا وقت تھا لیکن سات دن کا عدالت سے مانگا ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پہلے مناسب
وقت پر بات مکمل کریں پھر دوسرا نقطہ سنیں گے۔
جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ قانونی
طریقے سے منتخب وزیر اعلیٰ کو گورنر کام جاری رکھنے کا کہہ سکتا ہے، جب وزیر اعلیٰ نہیں ہوگا تو کابینہ بھی موجود نہیں رہے گی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہائیکورٹ چاہتی ہے
صوبہ میں حکومت قائم رہے۔ نگران وزیر اعلیٰ تب ہو سکتا ہے جب الیکشن ہو رہا ہو،
تحریک انصاف نے اپنی اکثریت ثابت کرنی ہے، حمزہ شہباز کو ملے 25 ووٹ نکل گئے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 25 نکال کر
تحریک انصاف کے کتنے ارکان باقی ہیں۔
اس موقع پر پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری
نے کہا کہ 25 ووٹ نکال کر ہمارے ارکان 169 بنتے ہیں۔
جس
پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اس کا مطلب ہے آپکے پاس اکثریت نہیں ہے، ایوان
میں کسی کے پاس اکثریت نہیں ہے۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ گورنر
صوبہ کے معاملات کو چلائے یہ غیر آئینی ہوگا، 17 جولائی کو عوام نے 20 نشستوں
پر ووٹ دینے ہیں۔ ضمنی الیکشن تک صوبے کو چلنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟
عوام خود
فیصلہ کرے تو جمہوریت زیادہ بہتر چل سکتی ہے، گورنر کو صوبہ چلانے کا اختیار دینا
غیرآئینی ہوگا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آئین کے تحت
منتخب نمائندے ہی صوبہ چلا سکتے ہیں، ہم آپ کو آدھا گھنٹا دیتے ہیں سر جوڑیں اور
سوچیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اسمبلی
تحلیل ہونے پر ہی نگران حکومت بن سکتی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ گورنر کو صوبہ چلانے
کا اختیار دینا غیرآئینی ہوگا، آئین کے تحت منتخب نمائندے ہی صوبہ چکا سکتے ہیں۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے کیس کی مزید
سماعت دن 2.45 تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ اس نقطے پر تیاری کریں، آدھے گھنٹے میں
دوبارہ سماعت ہوگی۔