آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

آئی ایم ایف پروگرام آن ٹریک ہے، معطلی یا تاخیر کی خبروں میں صداقت نہیں: وزیرخزانہ

پاکستان کے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کا پروگرام ملتوی ہونے کے خبروں کی تردید کرتے ہوئے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام آن ٹریک ہے، پروگرام ملتوی یا تاخیر کا شکار ہونے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!

  2. مریم نواز کا انتخابی جلسے میں چوہدری نثار کی نواز شریف کے حق میں گواہی کا ذکر

    سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کا نام لیے بغیر مریم نواز نے کہا کہ جو نواز شریف کو چھوڑ کر گیا، اس نے نواز شریف نے سیاسی اختلاف تو کیا مگر اس نے نواز شریف کی امانت اور دیانت کی گواہی دی ہے۔

    لاہور میں صوبائی اسمبلی کے حلقے پی پی 170 میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شاید ہی ایسا مشکل فیصلہ زندگی بھر کیا ہو جو تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ آئی ایم ایف کے ساتھ عمران خان ہی کر کے گئے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ ڈونلڈ لو کو دن رات بدنام کیا جاتا رہا اور پھر اپنا نمائندہ ان کے پاس بھیجا اور کہا کہ ہمیں معاف کر دیں، ماضی کو بس جانے دیں۔ یہ مذاق انھوں نے پاکستان کے ساتھ کیا ہے، ہمارے ساتھ نہیں۔

    دوسری جماعتوں کے لوگوں کو غدار کہتا رہا۔ مجھے کہتا رہا کہ میں نے سوشل میڈیا پر مہمات چلائی ہیں۔ میرے خلاف کوئی ایک چیز بھی سامنے نہیں آ سکی مگر اب ان کے اپنے گھر کی ویڈیو سامنے آ گئی ہیں۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ جتنے بڑے سکینڈلز عمران خان کے دور میں آئے ہیں اتنے 75 برسوں میں سامنے نہیں آئے ہیں۔ گھر کے بھیدی لنکا ڈھاتے ہیں جن میں سے عون چوہدری، علیم خان یا عظمیٰ کاردار شامل ہیں۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کو جو چھوڑ کر آتا ہے وہ ایسی داستانیں سناتا ہے کہ کانوں کو ہاتھ لگاتا ہے۔

  3. کراچی کے صارفین کے لیے بجلی 9.42 روپے فی یونٹ مہنگی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں بجلی کے ریگولیٹر ادارے نیپرا نے کراچی کے صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 9.42 روپے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی۔

    کے الیکٹرک کی جانب سے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں نیپرا سے اضافے کی درخواست کی گئی تھی ۔ نیپرا نے یہ اضافہ عوامی سماعت میں کے الیکڑک کو مئی کے مہینے کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں کیا ہے۔

  4. آئی ایم ایف پروگرام آن ٹریک ہے: مفتاح اسماعیل

    پاکستان کے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کا پروگرام ملتوی ہونے کے خبروں کی تردید کرتے ہوئے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام آن ٹریک ہے۔

    انھوں نے لکھا کہ پروگرام ملتوی یا تاخیر کا شکار ہونے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

    مفتاح اسماعیل نے اپنی ٹوئٹ کے ساتھ ایک ویب سائیٹ کی خبر بھی شیئر کی جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ تازہ ترین معلومات کے مطابق پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام ایک مرتبہ پھر معطل کردیا گیا ہے۔

    گوبل ولیج سپیس نامی ویب سائیٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آئی ایم ایف نے اس مرتبہ اپنا پروگرام ادارے کے انسداد بدعنوانی قانون اور بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافے کی بنیاد پر معطل کیا گیا ہے۔

    حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات میں دی جانے والی سبسڈی کے خاتمے اور معاہدے کے مطابق ٹیکس اور لیوی کے نفاذ لگانے کے اقدام کرکے آئی ایم ایف پروگرام بحال کرایا ہے۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ وہ ایسی تمام ٹویٹس اور خبروں کو مزے لے لے کر پڑھ رہے ہیں جن میں آئی ایم ایف کے پروگرام کی معطلی یا تاخیر کی بات کی گئی ہے اور وہ بھی کچھ انسداد بدعنوانی قوانین کے خلاف اقدامات کی وجہ سے۔

  5. پاکستان میں جون کے مہینے میں پٹرول و ڈیزل کی کھپت میں نمایاں کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے جون کے مہینے میں پٹرول اور ڈیزل کی کھپت بالترتیب دس اور آٹھ فیصد گر گئی۔

    پاکستان میں تیل کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جون کے مہینے میں ڈیزل کی کھپت 713000 ٹن رہی جو گزشتہ جون میں 776000 ٹن تھی۔

    اسی طرح جون میں پٹرول کی کھپت 702000 ٹن رہی جو گزشتہ جون کے مقابلے میں دس فیصد کم ہے جب اس کی کھپت 776000 ٹن تھی۔

    تاہم جون میں فرنس آئل کی کھپت میں 33 فیصد اضافہ ہوا تیل شعبے کے ماہرین کے مطابق پٹرول و ڈیزل کی کھپت میں کمی کی وجہ ان کی قیمتوں میں ہونے والا بے تحاشا اضافہ ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید سے دونوں مصنوعات باہر رہی ہیں جبکہ دوسری جانب ملک میں بجلی کی پیداوار کے لیے فرنس آئل زیادہ استعمال ہوا کیونکہ مہنگی درآمدی گیس کی وجہ سے ملک میں گیس کی کمی ہے اور اس سے بجلی نہیں پیدا کی جا سکی ہے۔

  6. گزشتہ مالی سال میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 55 فیصد شرح سے بڑھ کر 48 ارب ڈالر سے زائد رہا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کا تجارتی خسارہ 30 جون 2021 کو ختم ہونے والے مالی سال میں 48 ارب ڈالر سے زائد رہا۔ پاکستان میں ادارہ شماریات کے بیرونی تجارت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال میں 48 ارب ڈالر سے زائد کا تجارتی خسارہ اس سے پہلے والے مالی سال کے مقابلےمیں 55 فیصد زیادہ رہا۔

    مالی سال میں ملکی برآمدات میں 25 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو 31.76 ارب ڈالر رہیں جب کہ درآمدات کا حجم 80 ارب ڈالر رہا اور اس میں ہونے والا اضافہ 42 فیصد رہا تجزیہ کاروں کےمطابق تجارتی خسارے میں اضافے کی وجہ سے تیل و اجناس کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کا درآمدی بل بہت بڑھ گیا اور اس نے ملک کے تجارتی خسارے میں بے پناہ اضافہ کیا۔

  7. عمران خان کی حکومت نے بجلی کے کارخانے نہ لگا کر مجرمانہ غفلت کی: وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد حکومتی ٹیم کی بریفنگ

    وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ حکومت نے بجلی منصوبوں پر توجہ نہیں دی۔ چار سال سے یہ راگ الاپتے رہے کہ زیادہ معاہدے کیے گئے اور زیادہ بجلی سسٹم میں لائی گئی ہے۔

    قمرزمان کائرہ نے کہا کہ مہنگائی میں اضافے سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف نے اپنے دور میں جو کارخانے لگانے تھے وہ نہ لگا کر مجرمانہ غفلت برتی ہے۔ ان کے مطابق طلب کے مطابق یہ کارخانے نہیں لگائے گئے۔

  8. آئی ایس آئی نے ماضی میں بھی تسلیم کیا کہ وہ فون کالز ریکارڈ کرتی رہی ہے: شیریں مزاری

    سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ سنہ 2015 میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک فیصلہ تحریر کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس فیصلے میں ایک بہت دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر آپ 4 جون 2015 کا ڈان اخبار پڑھیں تو اس میں آئی ایس آئی نے مانا ہے کہ ہم نے صرف مئی کے مہینے میں 6 ہزار 856 فون کالز ریکارڈ کیں۔

    شیریں مزاری نے کہا کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں غیر قانونی طور پر فون ٹیپنگ کرتی ہیں کیونکہ حساس اداروں کے پاس فون ٹیپ کرنے کی ٹیکنالوجی ہے، میں پوچھتی ہوں کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود غیر قانونی فون ٹیپنگ کا یہ سلسلہ کیوں جاری ہے۔

    عمران خان کے گھر کی سیکیور لائن کو ٹیپ کیا گیا، سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینا چاہیے کہ کونسی ایجنسیاں ہیں جو عدالتی احکامات کے باجود یہ غیر قانونی اقدامات کر رہی ہیں اور عدالت عظمیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بتایا گیا ہے کہ ایک اور کوئی آڈیو لیک ہونے والی ہے جو کہ سیکیور لائن پر ہی عمران خان اور ان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے درمیان ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے، اگر یہ آڈیو پبلک ہوتی ہے تو یہ نہ صرف سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہوگی بلکہ یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی بھی خلاف ورزی ہوگی، ہم اس پر چپ نہیں رہیں گے۔

    شیریں مزاری نے کہا کہ اس طرح کی حرکتوں کا مقصد سازش کو چھپانا ہے، قوم نے امریکی سازش کی بات کو تسلیم کرلیا ہے اس لیے نیوٹرلز اور وہ جو ان کو لائے ہیں وہ اس طرح کی حرکتیں کر رہے ہیں تاکہ قوم کی توجہ اس معاملے سے ہٹ جائے۔

    خیال رہے کہ پاکستانی سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع ابلاغ پر گذشتہ رات سے ایک آڈیو ریکارڈنگ گردش کر رہی ہے جس کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے اس میں مبینہ طور پر ایک آواز سابق خاتون اول اور عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ہے۔

  9. فون ٹیپنگ بہت اہم معاملہ ہے، پاکستان میں فون ٹیپنگ کی جارہی ہے اور اس پر کوئی نگرانی نہیں ہے: فواد چوہدری

    سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ انھوں نے کہا کہ فون ٹیپنگ بہت اہم معاملہ ہے، پاکستان میں فون ٹیپنگ کی جارہی ہے اور اس پر کوئی نگرانی نہیں ہے، ان کالز کو ایڈٹ کیا جاتا ہے، فرانزک نہیں کیا جاتا، انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، لوگوں پر الزامات لگائے جارہے ہیں۔

    سابق وفاقی وزیر نے شیریں مزاری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کل بھی فرح گجر پر الزامات عائد کیے گئے کہ انھوں نے مارکیٹ ویلیو سے کم قیمت پر فیصل آباد انڈسٹریل زون میں پلاٹ حاصل کیا جبکہ ہمارے پاس موجود دستاویزات کے مطابق اسی جگہ پر ایاز صادق نے بھی 2 پلاٹ حاصل کیے، تو کیا ایاز صادق نے بھی عثمان بزدار کے ساتھ مل کر کرپشن کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ فرح گجر کے بارے میں کہا گیا کہ ان کے ریڈ وارنٹ جاری کیے جارہے ہیں، ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا تو وارنٹ کیسے جاری ہوں گے، مسلم لیگ (ن) کی جانب سے جاری ان جھوٹے الزامات کی مہم کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ملک میں اس وقت پیسوں کی ہوس سے عاری لیڈر عمران خان ہیں۔

  10. پنجاب میں جولائی میں سو یونٹ تک استعمال کرنے والوں کو مفت بجلی دینے کا اعلان

    وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اُن کی حکومت پنجاب کی عوام کو مفت بجلی کا ایک منصوبہ دینے جا رہی ہے جس کے لیے سو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    مسلم لیگ ن کے سیکریٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ ’صوبے کی عوام کے سب سے غریب ترین طبقے کو، جن کا ماہانہ بجلی کا بل سو یونٹ سے کم رہے گا، رواں ماہ جولائی میں مفت بجلی دی جائے گی۔‘

    اس منصوبے کے تحت مستحق گھروں کو سولر پینلز دیے جائیں گے۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ اس منصوبے سے نوے لاکھ خاندان مستفید ہوں گے اور بہت سے گھرانے اس منصوبے کے باعث اپنے پیروں پر کھڑے ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم غریب آدمی کو سولر پینلز دیں گے تاکہ آنے والے سالوں میں وہ خود کفیل ہو۔‘

    انھوں نے کہا کہ بجلی کا بل آتا ہے تو قیامت ڈھاتا ہے۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ انھوں نے کہا کہ اتحادی حکومت نے بہت دکھی اور بھاری دل سے پٹرول مہنگے کرنے کے فیصلے کیے۔ ’یہ سخت فیصلے ضرور ہیں مگر ہم دن رات محنت کریں گے۔‘

  11. عمران خان کا فون ٹیپ کرنے پر عدالت عظمیٰ کو ازخود نوٹس لینا چاہیے: شیریں مزاری

    پاکستان تحریک انصاف کی سینئر رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں غیر قانونی طور پر فون ٹیپنگ کرتی ہیں، عمران خان کا فون ٹیپ کرنے پر سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینا چاہیے۔

    سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے ہمراہ پیر کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیریں مزاری نے کہا کہ سابق خاتون اول کی ایک آڈیو ٹیپ گردش کر رہی ہے، اس بارے میں صوررتحال فرانزک ٹیسٹ کے بعد ہی سامنے آسکتی ہے۔

    ان کے مطابق اس آڈیو کی بنیاد پر سابق خاتون اول پر الزامات لگائے جارہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اصل معاملہ فون ٹیپنگ کا ہے، سنہ 1997 میں بینظر بھٹو کی حکومت کو فون ٹیپنگ کے معاملے پر ختم کیا گیا تھا، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ فون ٹیپنگ آئین کے آرٹیکل 8 اور 14 کے تحت غیر قانونی ہے، عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ سرکاری یا ذاتی گفتگو ریکارڈ نہیں کی جاسکتی۔

  12. عمران خان فرح خان کو پاکستان واپس لے کر آئیں، مسلم لیگ ن کا مطالبہ

    مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف چیئرمین عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فرح گوگی اور ان کے شوہر کو پاکستان واپس لے کر آئیں تاکہ وہ تحقیقات کا سامنا کریں۔

    صوبائی وزیر ملک احمد خان اور عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’فرح گوگی اور ان کے شوہر کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور اگر عمران خان ان کو واپس لے آئیں تو وہ وعدہ معاف گواہ بن جائیں گے۔‘

    ن لیگ رہنماؤں نے دعوی کیا کہ ’عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف بھی کرپشن کے کافی کیسز ہیں جن میں ثبوت موجود ہیں۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’فرح گوگی کو بیرون ملک فرار کروایا گیا کیوں کہ یہ جانتے ہیں کہ وہ پاکستان آئیں تو دو منٹ میں وعدہ معاف گواہ بن جائیں گی۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’عمران خان کی اہلیہ اور ان کے سابق شوہر کے علاوہ ان کے بچے بھی ارب پتی بن چکے ہیں اور آنے والے دنوں میں شواہد سامنے لائے جائیں گے۔‘

  13. آئی ایم ایف کہتا ہے عمران خان نے جو کیا اس کی وجہ سے پاکستان پر اعتبار نہیں: مریم نواز

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے کہا کہ آج آئی ایم ایف پاکستان کی امداد کے لیے ناک سے لکیریں لگوا رہا ہے اور آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ عمران خان نے جو کیا اس کی وجہ سے ہمیں پاکستان پر اعتبار نہیں ہے۔

    ضمنی انتخاب کے لیے مہم کے دوران لاہور کے علاقے گرین ٹاؤن میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئےمریم نواز نے کہا کہ آئل اور گیس کی قیمتیں آئی ایم ایف سے کیے معاہدے کی وجہ سے بڑھائی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا برا کیا پھر معاہدے کی خلاف ورزی کر کے اور برا کیا۔

    انھوں نے کہا کہ آج پاکستان کے پاس خزانے میں کچھ نہیں ہے۔

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ اگر خزانے میں کچھ ہوتا تو عوام پر نچھاور کیا جاتا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ خالی خزانے کے ساتھ شہباز شریف نے آٹے پر سبسڈی دی، شہباز شریف نے کہا تھا کہ آٹا مہنگا نہیں کرنا چینی مہنگی نہیں کرنی، دالیں مہنگی نہیں کرنی کیونکہ غریب کے گھر کا چولہا بند ہو جائے گا۔

    مریم نواز نے کہا کہ جو مسائل ہیں یہ ہمارے پیدا کردہ نہیں لیکن میں وعدہ کرتی ہوں آپ کو ان مصائب سے نکالنا ہماری ذمہ داری ہے۔

    انھوں نے کہا کہ `لاہور والوں نواز شریف اور شہباز شریف کا ساتھ دینا۔۔۔۔ پوری محنت پوری کوشش کے ساتھ دن رات ایک کر کے نواز شریف اور شہباز شریف آپ کو ان بحرانوں سے نکال کر لے جائیں گے۔'

    مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے چیلنجز میں حکومت لی اور اسے ان سے نمٹنا بھی آتا ہے۔

  14. عوام ان کے ساتھ نہیں، امپائر ان کے ساتھ ہیں پھر بھی ان کو شکست دینی ہے: عمران خان کے جلسے سے اختتامی کلمات

    پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پنجاب کا الیکشن یہ صرف دھاندلی سے جیتیں گے، عوام ان کے خلاف ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ وہ جب کپتان تھے تو انڈیا جا کر ان کے امپائروں کی موجودگی میں میچ جیتا تھا۔ ان کے مطابق وہ اب بھی ایسا ہی کریں گے۔

  15. ڈھائی سال آئی ایم ایف سے ڈیل کیا، مہنگائی نہیں ہونے دی: عمران خان

    ڈھائی سال سے آئی ایم ایف کے ساتھ ہم ڈیل کر رہے تھے۔ ان کے مطابق جب انھوں نے ہمیں قیمتوں کا کہا تو ہم نے دس روپے قیمت کم کی اور اہم نے اپنے لوگوں کو بچایا۔ ان کے مطابق ابھی مہنگائی اور ہوگی کیونکہ مہنگائی ان کا ایشو نہیں ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ اتنا خطرہ کسی دشمن سے بھی پاکستان کو نہیں ہے جتنا ان حکمرانوں سے ہے۔ انھوں نے کہا میں نے کبھی کسی کی غلامی نہیں مانی اور کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکا۔

  16. ایاز امیر ایک سچا آدمی ہے، وہ قوم کا اثاثہ ہیں، ان پر تشدد کی مذمت کرتا ہوں: عمران خان

    عمران خان نے کہا کہ ایاز امیر وہ آدمی ہے کہ جو اپنی تحریر سے پوری کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح میری قوم کی اصلاح ہو جائے۔ انھوں نے کہا آج اس پلیٹ فارم سے ایاز امیر پر تشدد کی مذمت کرتا ہوں۔

    سابق وزیراعظم نے کہا اس غلط فہمی میں نہ رہنا کہ اس طرح وہ ڈر جائیں گے۔ ان کے مطابق جو آج صحافیوں کے ساتھ ہو رہا ہے اس سے ملک میں کیا پیغام دیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا صابر شاکر ملک سے باہر گیا ہوا ہے، عمران ریاض پر مقدمات درج کیے ہیں۔ انھوں نے کہا میرے اوپر بھی کوئی 14 مقدمات درج کرائے گئے ہیں۔

    ان کے مطابق دو ماہ میں معیشت کا جو حال کیا ہے کہ معیشت نیچے اور مہنگائی اوپر چلی گئی ہے۔

  17. اداروں سے پوچھتا ہوں کہ ملک میں کرپشن کے خلاف کیا میں نے ٹھیکہ لیا ہوا ہے: عمران خان

    میں اپنے اداروں سے یہ پوچھتا ہوں کہ کیا اس ملک میں کرپشن کے خلاف میں نے اکیلے ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔ کیا آپ کا یہ کام نہیں ہے۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ جب خزانے پر ڈاکؤں کو بٹھایا ہو تو وہ ملک تباہ ہو جاتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ کیا یہ آپ کا پاکستان نہیں ہے۔ کیا یہ صرف میری ذمہ داری ہے۔ انھوں نے کہا کہ رول آف لا کو یقینی بنایا عدلیہ کا کام ہے۔ عمران خان نے کہا وزیراعظم شہباز شریف پر 16 ارب روپے کے مقدمات ہیں اور وہ ایف آئی اے کے اوپر بیٹھ گیا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ اللہ پوچھے نیوٹرلز سے کہ بڑی اچھی بات ہے کہ آپ نیوٹرل رہنا چاہتے ہو لیکن طاقت آپ کے پاس ہے اور کیوں آپ نے ان چوروں کو ملک پر مسلط ہونے دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں چھوٹے چور جیل میں ہیں جبکہ بڑے چوک ہمارے اوپر مسلط کر دیے ہیں۔

  18. ہمیں آگے فوج کی ضرورت ہے: عمران خان

    سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انھوں نے اس وجہ سے دھرنا نہیں دیا کہ کیونکہ ان کا جینا مرنا پاکستان میں ہے اور آگے فوج ہماری ضرورت ہے۔ ہم پولیس کے خلاف بھی لڑنا نہیں چاہتے ہیں۔

    عمران خان کے مطابق سب پولیس ایسی نہیں ہے۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ اگر پولیس چھاپے نہ مارتی اور ظلم نہ کرتی تو اسی طرح اسلام آباد میں عوام کا سمندر آنا تھا اور یہ نعرہ لگانا تھا کہ امپورٹڈ حکومت نامنظور۔ ان کے مطابق یہ ہمارا جمہوری حق تھا اور انھوں نے ہمیں یہ احتجاج نہیں کرنے دیا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ یہ پرامن احتجاج یہ آپ کو پیغام دے رہا ہے کہ ان چوروں سے ملک کو بچا لو۔

  19. عمران کا پریڈ گراؤنڈ جلسے سے خطاب: اتحادی حکومت چاہتی ہے کہ میں فوج اور عدلیہ کے سامنے کھڑا ہو جاؤں

    سابق وزیراعظم عمران خان نے پریڈ گراؤنڈ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے دھرنا اس وجہ سے نہیں دیا تھا کیونکہ عوام میں رینجرز اور پولیس کے خلاف غصہ تھا کیونکہ انھوں نے خواتین اور بچوں پر بھی شیلنگ کی۔

    عمران خان نے کہا کہ خوف سب سے بڑا بت ہے۔

    ان کے مطابق وہ رینجرز اور پولیس والے جنھوں نے عورتوں اور بچوں پر شیلنگ کی انھوں نے اپنی نوکری کو اپنے ضمیر پر مقدم رکھا۔ عمران خان نے کہا کہ ان اہکاروں کو یہ خوف تھا کہ ان کی نوکری نہ چلی جائے۔ اپنی نوکری بچانے کے لیے وہ اپنا ضمیر بیچتے ہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ وہ اس وجہ سے نکلے تھے کہ امپورٹڈ حکومت نامنظور ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں تمام اداروں کو پیغام دینا چاہتا تھا کہ قوم کدھر کھڑی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں اپنے ملک کے اداروں کے خلاف جنگ کرنے نہیں نکلا، میں اپنے اداروں کا نقصان کرنے نہیں نکلا تھا۔

    عمران خان نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم یہ چاہتے ہو کہ ہم اپنی فوج اور عدلیہ سے لڑ پڑیں اور ان کے سامنے کھڑے ہو جائیں تو پھر سن لو کہ ہمارا جینا مرنا پاکستان میں ہے۔

  20. عمران خان نے آئی ایم ایف کو آنکھیں دکھائیں: پرویز خٹک

    سابق وفاقی وزیر پرویز خٹک نے کہا کہ اپنے دور میں عمران خان نے تیل اور بجلی سستی کی اور آئی ایم ایف کو آنکھیں دکھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب یہ مہنگائی پاکستان کی تباہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ہمارا مقابلہ طاقتور لوگوں کے ساتھ ہے مگر ہم ان کی طاقت کو نہیں مانتے اور ان کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ یہ ہمارے خلاف کیسز بنا رہے ہیں۔

    پرویز خٹک نے کہا یہ حکمران چوری بچانے آنے ہیں، انھوں نے نیب کو ختم کیا، یہ ملک بچانے نہیں بلکہ اپنی چوری بچانے آئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ چور حکمران ترقی نہیں دے سکتا۔ ان کے مطابق پاکستان ترقی کرے گا اور یہ چور ڈاکو دیکھتے رہ جائیں گے۔

    پرویز خٹک نے کہا کہ عوام سے کہتا ہوں کہ عمران خان کو دو تہائی اکثریت سے کامیاب کرائیں، عمران خان دوتہائی اکثریت سے دوبارہ آئیں گے تو مضبوط قانون سازی کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان کی اگلی کال کا انتظار کریں۔ انھوں نے کہا کہ جب بھی عمران خان کال دیتے ہیں تو پورا ملک نکل آتا ہے۔