لاپتہ افراد کیس: وزیراعظم کہہ دیں جبری گمشدگی پر بے بس ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے صحافی مدثر نارو اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام حکومتیں آئین اور اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہی ہیں اور کیا یہ اچھا لگے گا کہ عدالت ملک کے چیف ایگزیکٹیو کو اس بارے میں سمن کرے۔
انھوں نے کہا کہ یا تو وزیر اعظم کہہ دیں کہ وہ جبری گمشدگی کے معاملے میں بے بس ہیں اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر قانون انھیں ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کوششیں نہیں کی جا رہیں۔
بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عدالت جبری گمشدگیوں کا ذمہ دار کس کو ٹھہرائے یا پھر عدالت کو یہ واضح طور پر بتا دیں کہ ریاست کے اندر ریاست موجود ہے۔
انھوں نے کہا کہ مسلح افواج، پولیس اور خفیہ اداروں پر جبری گمشدگیوں کا الزام لگایا جاتا ہے۔
عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ وہ بتا دیں کہ آج تک جتنے لوگ جبری طور پر گمشدہ ہوئے ہیں ان میں سے کسی ایک کیس کے بارے میں بتا دیں کہ اس معاملے میں کون ملوث ہے۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل خوجہ امتیاز نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ افراد سے متعلق کمیٹی تشکیل دی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو کمیٹیوں میں نہ الجھائیں۔ وفاقی حکومت یہ بتائے کہ انھوں نے اب تک کیا ایکشن لیا ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آج بھی لوگ غائب ہو رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ لاپتہ افراد کہاں ہیں۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے گذشتہ سماعت کا حکمنامہ پڑھنے کی ہدایت کی جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل خواجہ امتیاز نے گزشتہ سماعت کا حکمنامہ پڑھ کر کہا کہ عدالت نے اپنے حکمنامہ میں سابق صدر پرویز مشرف اور سابق وزرائے اعظم کو نوٹس جاری کیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آئینی عدالت کے سامنے بہت ہی سنجیدہ نوعیت کا کیس زیر سماعت ہے، عدالتی حکم پر کیا عملدرآمد ہوا ہے؟
ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں وزیر قانون بھی شامل ہیں۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا آپ نے عدالتی حکم پر عمل درآمد کیا اور کیا سابق چیف ایگزیکٹیو کو نوٹسز جاری کیے گئے؟ انھوں نے کہا کہ عدالت اپنے ایک ایک حکم پر عمل درآمد چاہتی ہے اور کیا یہ اچھا لگے گا کہ عدالت ملک کے چیف ایگزیکٹو کو طلب کر لے؟
انھوں نے کہا کہ 25 مئی کے اس حکمنامے کے بعد کتنے لوگ اٹھائے گئے اور اس معاملے پر اب تک ٹی وی چینلز پر کتنے پروگرام ہو چکے ہیں۔
لاپتہ افراد کے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ بہت واضح تھا۔ انھوں نے کہا کہ وہ لاپتہ افراد کی بات کرتے ہیں، اس لیے انھیں ٹی وی پر آنے کی اجازت نہیں۔
انھوں نے کہا کہ ملک کی تمام ہائی کورٹس لاپتہ افراد سے متعلق احکامات جاری کررہی ہیں اور حکمران ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں، عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل خواجہ امتیاز کا کہنا تھا کہ بعض لوگ خود بھی چلے جاتے ہیں جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ریاست تفتیش کر کے بتا دے کہ لوگ خود گئے ہیں۔
چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل 25 مئی کے عدالتی آرڈر پر عمل درآمد سے متعلق مطمئن نہیں کر سکے اور عدالتی حکم پر عمل درآمد نا کرنے کی وجہ سے بادی النظر میں حکومت ناکام رہی۔
انھوں نے کہا کہ اس سٹیج پر عدالت پر ظاہر ہوا ہے کہ وفاقی حکومت نے لاپتہ افراد کا معاملہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔
بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وزرات داخلہ 25 مئی کے اس عدالت کے حکم پر عمل درآمد یقینی بنائے، اس کیس میں مزید کوئی التوا نہیں دیا جائے گا۔
عدالت نے موجودہ وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید سے بیان حلفی طلب کرتے ہوئے ان درخواستوں کی سماعت 4 جولائی تک ملتوی کر دی۔