وزیر ملکت خارجہ امور حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ پاکستان کا ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے سفر کا آغاز کسی فرد یا سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ پاکستان کی جیت ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ میں پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے حنا ربانی کھر نے کہا کہ ’سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ہم نہیں چاہیں گے کہ پاکستان پھر کبھی بھی ایسی کسی لسٹ کا حصہ بنے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ پاکستان کی ریاست کی کوشش تھی۔ حکومتیں آتی جاتی رہیں گی۔ یہ کام بہت سال سے ہو رہا تھا اس لیے ہم ہر کسی کو کریڈٹ دینے کے حق میں ہیں جنھوں نے اس پر کام کیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس وقت پاکستان کی کوشش ہے کہ اکتبر میں فیٹف اجلاس سے قبل وفد کا دورہ مکمل ہو اور پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے۔
پاکستان ایسی پوزیشن میں ہے کہ آئندہ نا صرف خود بھی اس کام کو جاری رکھے گا بلکہ دیگر ممالک کو مشورہ بھی دے سکے گا تاکہ ہم ایک ماڈل ملک کے طور پر کام کریں۔‘
’اگر آپ ہمیں بین الااقوامی معیار کے حساب سے پرکھیں تو ہم کئی مغربی ممالک سے بھی آگے ہیں۔ دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ روکنا سب سے اہم اقدامات تھے۔
اب فیٹف کا وفد پاکستان کا دورہ کرے گا اور ہمیں امید ہے کہ ہم گرے لسٹ سے باہر نکل آئیں گے۔
ہماری کوشش ہے کہ ہم ایسا معیار بنا لیں کہ ہمیں کسی اور کو جواب دہ نہ ہونا پڑے بلکہ ہم خود کو جواب دہ ہوں۔‘
حنا ربانی کھر نے کہا کہ ’پاکستان فیٹف کی تاریخ میں واحد ملک تھا جس کو دو ایکشن پلان پر ایک ہی وقت میں عمل درآمد کرنا تھا جو بہت محنت طلب کام تھا جس میں سسٹم بنانا تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ابھی خوشی منانا جلد بازی ہو گی۔ ماضی میں خبر میں پہل کرنے کی کوشش نے ہمیں نقصان پہنچایا۔ اس سے گریز کرنا چاہیے۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’پاکستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ فیٹف غیر سیاسی اور غیر جانب دار ہو صرف تیکنکی فورم ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ ایک ایسا ملک تھا جس نے کوشش کی کہ سیاسی معاملہ بنایا جائے اور اسی لیے ہمیں زیادہ کام کرنا پڑا۔‘
ایک اور سوال کے جواب میں حنا ربانی کھر نے جواب دیا کہ ’فیٹف قانون سازی پر بائیکاٹ کے معاملے سے پہلے وہی قانون سازی ہم نے کمیٹی میں مل کر پاس کی۔ ہمیں طریقہ کار سے مسئلہ تھا۔‘
حنا ربانی کھر نے کہا کہ ’جو بھی ماضی میں ہوا، اس کو بھول جانا چاہیے۔ ہمیں آگے پر فوکس کرنا چاہیے۔ یہ غیر ضروری بحث ہے۔ میں جب کریڈٹ دوں گی تو میں ہر ٹیم کے ممبر کو دوں گی جو نظر آ رہے ہیں اور وہ بھی جو نظر نہیں آ رہے کیوں کہ بہت سی ایجنسیز نے اس پر کام کیا۔ اور ابھی دورہ ہونا ہے۔ اس کے بعد بھی ہمارا سفر جاری رہے گا تاکہ ہم قوانین اور نظام کو مذید مضبوط بنائیں۔‘
حنا ربانی کھر نے بتایا کہ ’پاکستان کو اب فیٹف وفد کے دورے تک کچھ نیا نہیں کرنا۔ دورے میں پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا تکنیکی جائزہ لیا جائے گا جن کے بارے میں تسلیم کر لیا گیا کہ پاکستان نے ایکشن پلان پر عمل کیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم کسی اور کے لیے کچھ نہیں کر رہے بلکہ پاکستان کے لیے کر رہے ہیں جس سے ہماری معیشت کو بھی مدد ملے گی۔‘